نوشابہ کی ڈائری 25 ادھر لیاری․․․․․ادھر کٹی پہاڑی․․․عمران فاروق شہید انقلاب قرار پائے!
آج چائے بناتے ہوئے ہاتھ جل گیا۔ جلن کی اذیت جھیلتے ہوئے خیال آیا، ان پر کیا گزر رہی ہوگی جن کے پورے جسم شعلوں میں گھرے تھے۔ بلدیہ ٹاؤن کی گارمنٹ فیکٹری کے سانحے کے بارے میں سوچ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، اپنے ارد گرد تپش محسوس ہونے لگتی ہے۔ ڈھائی سو سے زیادہ مزدور زندہ جل گئے۔ زندہ جلنا! تصور بھی کتنا خوف ناک ہے، اسی لیے سب سے زیادہ جہنم کی آگ سے ڈرایا گیا ہے۔ لیکن یہ ڈراوا بھی دوسروں کی زندگی جہنم بنا کر اپنے لیے جنت تعمیر کرنے والوں کو ان کے ارادوں سے نہیں روک پاتا۔
میرا شہر بھی تو ایک جہنم ہے، مسلسل خوف کا عذاب۔ سوچتی ہوں کیا دوزخ میں اس سے بڑھ کر اذیتیں ہوں گی جو اس شہر کے باسی جھیل رہے ہیں؟ کیا باپ کے سامنے بیٹے کی سر کٹی لاش لائی جائے گی؟ یہ اطلاع کسی کا دل کرب سے بھر دے گی کہ اس کے پیارے کا جسم ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا، کوئی ماں گم شدہ بیٹے کے انتظار میں تڑپنے کی تکلیف جھیلے گی اور کیا کسی جہنمی کو یہ سوال ستائے گا کہ ”جانے کس جرم کی پائی ہے سزا؟“ خدا کتنا مہربان ہے، اس کی تو سزائیں بھی اس کے رحم کی دلیل ہیں، اور انسان کس قدر سفاک۔
اس شہر میں ہر کچھ عرصے بعد سفاکی کی ایک نئی تاریخ رقم ہوتی ہے۔ شہر کے لوگ کھجی گراؤنڈ کا ’مذبح‘ بھولے ہی تھے کہ لیاری گینگ وار کی صورت میں ایک نیا مقتل سامنے آ گیا۔ فاروق دادا، نعیم شری، ریحان کانا، ارشد کے ٹو اور فہیم کمانڈو کی جگہ رحمٰن ڈکیت، بابا لاڈلا، ارشد پپو اور عزیر بلوچ کے ناموں نے لے لی۔ پورا شہر جل رہا تھا، مگر لیاری میں زندگی رواں دواں تھی، جادو بن کر جسموں کو متحرک کرتی ڈھول کی تھاپ پر لیوا ناچتے، گھونگریالے گچھے سے بھرے سروں سے فٹبال کو ٹکر مارتے، مکے بازی کر کے پسینے میں نہاتے حال مست بلوچ۔
مجھے کالج کا دور یاد ہے۔ ملیر کو دن بھر لیاری سے ملاتی ”پی ون“ کا مکرانی کنڈیکٹر بس میں سوار کراتے ہوئے کتنے پیار کتنی اپنائیت سے مخاطب ہوتا تھا، ”آ جا گڑیا آ جا“ ٹارزن کی طرح بس کی کھڑکیوں پر پاؤں رکھتا کس پھرتی سے ادھر سے ادھر جاتا تھا، ہنستا مسکراتا، مسافروں سے مذاق کرتا۔ آج ان ہنستے کھیلتے لوگوں کا لیاری خود جل رہا ہے، پورے شہر کو جلا رہا ہے۔ ”پیپلز امن کمیٹی“ کا ڈول ڈال کر پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کے مقابل اپنا لشکر کھڑا کیا تھا، جس کی کمان رحمٰن ڈکیت کے ہاتھ میں تھی۔
رحمٰن ڈکیت لوٹ کے مال سے خدمت خلق کرتا سلطانہ ڈاکو اور رابن ہڈ کی روایت کا امین یا پیپلز پارٹی کا ہرکارہ۔ امن کمیٹی نے لیاری اور شہر کی دیگر بلوچ بستیوں میں اپنی دہشت کا سکہ بٹھانے کے بعد ایم کیو ایم کی زیرنگیں بستیوں کا رخ کیا۔ اور پھر قتل و غارت گری کا ایک نیا باب کھل گیا۔ یہ شہر پر تسلط کی لڑائی تھی یا بھتا وصولی کی جنگ، مگر زبان اور قومیت کے نام پر لڑی گئی۔ ایم کیو ایم کے کارکن اور عام اردو بولنے والے نوجوان شہر کے مختلف علاقوں سے اغوا کر کے بے دردی سے مارے جاتے رہے۔
متحدہ کے ایک کارکن کی لاش کے کئی حصے لیاری کے الگ الگ علاقوں سے ملے تھے۔ امن کمیٹی کے کارکن ہتھے نہ چڑھتے تو بدلے میں کسی عام بلوچ کی بلی چڑھائی جاتی۔ رحمٰن ڈکیت کے قتل کے بعد لیاری کی صورت حال مزید سنگین ہو گئی، عزیر بلوچ اور ارشد پپو میں جانشینی کے لیے چھڑنے والی جنگ نے کتنی ہی جانیں لے لیں۔ ساتھ ہی لیاری میں جنم لینے والا عفریت پورے شہر میں پھیلتا گیا۔ لیاری کے مسلح جتھوں کی کارروائیوں کا امن سے زندگی کرتے کچھی بھی شکار ہوئے اور ردعمل میں ایم کیو ایم کے زیرسایہ ”کچھی رابطہ کمیٹی“ قائم ہوئی اور لیاری میں کچھی، بلوچ تصادم کے واقعات روز جنم لینے لگے۔
طاقت کے لیے اسلحہ چاہیے اور اسلحے کے لیے پیسہ، سو اغوا برائے تاوان کی وارداتیں بڑھتی گئیں اور بھتے کی پرچیوں نے تاجروں صنعت کاروں کا جینا حرام کر دیا۔ بیتے برس بھتے کی اضافہ شدہ رقم نہ دینے کی پاداش میں شیرشاہ مارکیٹ پر قیامت ڈھا دی گئی، انکار کی قیمت بارہ زندگیوں نے ادا کی۔ اب پیپلز پارٹی کی حکومت لیاری میں آپریشن کے ذریعے جن کو بوتل میں بند کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیاری میں راکٹ چل رہے ہیں، ہینڈ گرینڈ تباہی مچا رہے ہیں، پولیس اور گینگسٹرز کے مقابلوں میں عام لوگوں کی جانیں بھی جا رہی ہیں۔ پھٹتے بموں اور برستی گولیوں نے شہر کی اس قدیم ترین بستی کے کتنے ہی مکینوں کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا۔
شہریوں کی جان و مال بچانے کے لیے آپریشن کرنا ہوتا تو بہت پہلے کر لیا جاتا، لیکن مصیبت یہ ہوئی کہ پیپلز پارٹی کا گڑھ لیاری عزیر بلوچ کی سلطنت بن گیا تھا، جو اپنے نام کے ساتھ ”سردار“ کا سابقہ لگا کر معزز شخصیت بننے کے لیے پر تول رہا تھا۔ پی پی پی کے انتخابات کے لیے نام زد امیدوار عزیر بلوچ سے وفاداری کا حلف اٹھا کر ہی کام یابی کی طرف قدم بڑھا سکتے تھے۔ منشیات اور بھتوں کے پیسے سے جدید ترین اسلحہ حاصل کرنے والے لیاری کے یہ جنگجو شہریوں کو دہشت کے وہ منظر دکھا رہے تھے جو وحشت کے شب و روز کے عادی کراچی والوں کا بھی دل دہلا دیتے تھے۔
نوجوانوں کو قتل کرتے ہوئے وڈیو بنانے اور یوٹیوب پر لانے کا عمل محض درندگی ہی نہیں دلوں میں اپنا ڈر بٹھانے کا حربہ بھی تھا۔ حالاں کہ خوف زدہ کرنے کے لیے وہ اسلحہ ہی کافی تھا جس کے بارے میں ابتدائی آپریشن کی پسپائی پر آئی جی نے کہا تھا ”آپریشن اس لیے ناکام ہوا کیوں کہ گینگسٹرز کے پاس پولیس سے زیادہ جدید اسلحہ ہے۔“ آخر شدید مزاحمت اور درجنوں جانوں کے نقصان کے بعد لیاری گینگ وار کی کہانی اختتام کی طرف بڑھتی نظر آتی ہے۔
سندھ کی قوم پرست جماعتوں نے لیاری کے آپریشن کو یک طرفہ قرار دیتے ہوئے یہ کارروائی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سندھی قوم پرستی ہو یا مہاجر سیاست ان کے ڈانڈے جرم سے کیوں جا ملتے ہیں؟ کیا اپنے خواب ہارے ہوئے لوگ آدرشوں کی بلندی سے بہت نیچے گر کر مجرمانہ سرگرمیوں میں تعبیر ڈھونڈنے لگتے ہیں؟
”مہاجر، بلوچ“ کی سرخی کے ساتھ سرخ ہوتا کراچی مہاجر پختون تصادم کے نام پر گرائی جانے والی لاشیں بھی اٹھاتا رہا ہے۔ یہ سلسلہ 2008 سے شروع ہوا اور پھیلتا اور وقت کے راستے کو خون سے رنگتا چلا گیا۔ ہر کچھ روز بعد کوئی واقعہ ہوتا پھر زندگیاں چھیننے کا مقابلہ شروع ہوجاتا۔ اکثر فساد کے شعلے اورنگی سے بھڑکتے۔ دو مرتبہ خون کے دریا پار کر کے آنے والے غصیلے بہاریوں کے اس علاقے کو شہر سے ملاتے راستے پختون آبادیوں سے ہوتے گزرتے ہیں، جن میں سے پہاڑ کاٹ کر بنائی جانے والی راہ گزر تو موت کی دہلیز کو جاتی سڑک سمجھی جانے لگی تھی۔
”کٹی پہاڑی“ ۔ خوف کی علامت بن گئی، جہاں پٹھان پہاڑوں پر اور اطراف میں بستے ہیں۔ یہاں بسوں اور دیگر سواریوں کو روک کر لوٹ مار کی جاتی مسافروں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا۔ پھر اشتعال کی لہر اٹھ کر پورے شہر کو لپیٹ میں لے لیتی۔ اردو میں ہر طرح کے مجرم کے لیے لفظ موجود ہے، لیکن کراچی کی اردو سے گویا یہ الفاظ خارج ہو گئے، یہ نہیں کہا جاتا کہ راہ زن نے لوٹ لیا، لٹنے کے واقعے کی تفصیل ”پٹھانوں نے موبائل چھین لیا“ جیسے فقروں سے ہوتی ہے۔ جرم اور تعصب کے تال میل لوٹ مار کے ساتھ مار دھاڑ کا روپ بھی دھار لیتا۔ تشدد کا ایک نیا طریقہ سامنے آیا، کانوں میں ایلفی ڈال دی جاتی۔ ایم کیو ایم اور اے این پی کے کارکن ایک دوسرے کا شکار ہوتے رہے، عام مہاجر اور پٹھان مرتے رہے۔
”ماما! سارے موچی غائب ہیں“ سارنگ نے میری ٹوٹی سینڈل لاکر کمرے کے کونے میں پھینک دی تھی۔ ”اور پٹھان کا یہ والا ہوٹل اور سڑک والا بھی بند ہیں۔ لڑکے کہہ رہے تھے اب کوئی پٹھان یہاں نظر نہیں آئے گا۔ آگے شادی ہال کہ پاس ایک پٹھان کو مار دیا تھا نا کل۔ صحیح کیا۔“ کتنی نفرت تھی اس کے لہجے میں، کیا میری تربیت ہار رہی ہے؟ کتنا تکلیف دہ احساس تھا۔ ”بیٹا یہ مزدور، چوکی دار، موچی، رکشے والے، چائے کے ہوٹل چلاتے پٹھان ان کا کیا قصور ہے؟“
میں سمجھاتی رہی مگر وہ ”ارے چھوڑیں ماما آپ کو نہیں پتا پٹھان کتنا ظلم کر رہے ہیں۔“ میرے انیسویں سال سے گزرتے بیٹے کا گرم خون سینہ در سینہ پہنچتے قصوں نے کھولا رکھا تھا۔ اس سب کی ذمے دار ایم کیو ایم اور عوامی نیشنل پارٹی دونوں حکم راں جماعت پیپلز پارٹی کی اتحادی ہیں۔ طالبان نے ایم کیو ایم اور اے این پی کو دھمکی دی تھی کہ اگر کراچی میں معصوم شہریوں کا قتل بند نہ ہوا تو وہ اپنے فدائین بھیجیں گے جو حکومتی عہدے داروں پر حملے کریں گے۔ اس بیان سے اندازہ ہوا کہ طالبان کو کسی اور کے ہاتھوں معصوم شہریوں کا قتل گوارا نہیں۔
نہ سندھ سے باہر پی پی پی کی کوئی امن کمیٹی ہے نہ اے این پی خیبرپختونخوا میں مجرموں کی پشت بان ہے نہ ایم کیو ایم کے باقی تینوں صوبوں میں قائم تنظیمیں اسلحے اور تشدد کی سیاست کر رہی ہیں، خدایا! ہمارا سندھ کیوں اتنا بدنصیب ٹھہرا؟ یہ کون پختون ہیں جو اپنے کرتوتوں سے کراچی میں آباد لاکھوں پختونوں کے کے روزگار کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ مہاجر علاقوں میں روزی کماتے محنت کش اور تجارت پیشہ پختون ان حالات سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ مہاجر پختون جنون کے اس دورے میں ایم کیو ایم کے ایم پی اے رضا حیدر کا قتل جلتی پر تیل کا کام کر گیا۔ اس قتل کے بعد کئی دن تک شہر میں لہو بہتا رہا۔ آخر یہ قتل فرقہ واریت کے کھاتے میں گیا۔ عجیب بات یہ ہوئی کہ جوں ہی دہشت کی علامت بنے طالبان نے کٹی پہاڑی کے علاقے اے این پی سے چھینے، یہاں امن ہو گیا۔
زبان کے ساتھ مذہب کے نام پر بھی جانیں لی جاتی رہیں۔ کتنے ہی شیعہ، سنی اور سپاہ صحابہ کے کارکن اس جنون کی بھینٹ چڑھا دیے گئے۔
اور ایک وہ دن بھی آیا تھا جس کی گزشتہ پانچ سال سے یاد منا کر کتنی ہی خوف ناک یادیں تازہ کردی جاتی ہیں۔ شام اتر رہی تھی جب کسی نے دروازہ پیٹ ڈالا، کتاب پڑھتے پڑھتے جانے کب میری آنکھ لگ گئی تھی، ہڑبڑا کر اٹھی اور دروازہ کھولا، ابو چہرے پر بدحواسی لیے تیزی سے یہ کہتے اندر داخل ہوئے، ”ارے بے نظیر کو مار دیا“ سنتے ہی دل دھک سے رہ گیا۔ ٹی وی کھولا تو ہر چینل یہی اندوہ ناک خبر دے رہا تھا۔ میں پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
امی اور ابو کی آنکھیں بھی چھلک رہی تھیں۔ بے نظیر بھٹو کی آمد کے منظر آنکھوں میں تھے۔ سبز کرتا، سفید دوپٹا، آنکھوں میں نمی لیے کبھی دور تک پھیلے مجمع کو دیکھتی کبھی نظریں خدا کا شکر ادا کرنے آسمان کی طرف اٹھ جاتیں۔ بے نظیر اس دن سے زیادہ خوب صورت کبھی نہیں لگی، اس کا چہرہ وقار اور تمکنت کی تصویر تھا۔ اور پھر شارع فیصل پر ہونے والا بم دھماکا، بے نظیر کا کارواں لٹ گیا لیکن وہ محفوظ رہی تھیں۔ اس دھماکے سے تو وہ بچ گئیں لیکن راول پنڈی میں کیا جانے والا وار خالی نہیں گیا۔
”سارنگ کہاں ہے“ اچانک ابو نے پوچھا تو مجھے یاد آیا وہ بڑی منتیں کر کے اجازت لینے کے بعد دوستوں کے ساتھ سی ویو گیا تھا۔ کچھ دیر بعد ہی غم و غصے سے بھرے غولوں کے ہاتھوں گاڑیاں اور عمارتیں جلانے کی خبریں آنے لگیں۔ میں بار بار سارنگ کا فون ملاتی مگر نمبر بند ملتا۔ ”بہت برا حال ہے، گاڑیاں جلا رہے ہیں لوٹ مار کر رہے ہیں، سیدھی گولیاں چلائی جا رہی ہیں“ صدیق بھائی نے بتایا تو میرا دل بیٹھ گیا۔ وہ رات دس بجے جوں ہی گلی میں داخل ہوئے مجھ سمیت اپنے پیاروں کی راہ تکتے مردوں اور عورتوں نے انھیں گھیر لیا تھا۔
باتونی صدیق بھائی کو اپنے سنسنی خیز سفر کی تفصیل بتاتا چھوڑ کر میں دوڑتے قدموں سے گھر آئی اور جانماز بچھا کر سجدے میں گر گئی۔ لبوں پر ”یا اللہ میرا بچہ“ کے ہچکیوں میں ٹوٹتے لفظ تھے اور آنکھوں سے بہتی فریادیں۔ بار بار دروازہ کھول کر دیکھتی، سنسان گلی میں دیر تک کسی سائے، کسی آہٹ کی تلاش میں ناکام ہو کر دوبارہ سجدے آ گرتی۔ لگتا تھا جنگلوں کا سارا اندھیرا اور صحراؤں کی ساری ویرانی نے شہر میں ڈیرے ڈال لیے ہیں۔
اتنا سناٹا تھا کہ سڑک پار بسے کچھیوں کے محلے کے ایک گھر سے کسی مرد کے دل دوز بین صاف سنائی دے رہے تھے، صرف ”بی بی“ کا لفظ سمجھ میں آ رہا تھا۔ بارہ بجے سارنگ کی مخصوص دستک میرے دل میں جلترنگ کی طرح بج اٹھی۔ بھاگ گر دروازہ کھولا اور سامنے کھڑے سارنگ کو گلے سے لگا لیا۔ ”ماما! گولی بالکل یہاں سے گزری“ جب اس نے اپنے ماتھے کے پاس سے تیزی سے ہاتھ گزارتے ہوئے بتایا تو میں نے بڑھ کر اس کی پیشانی چوم لی۔ آج برسوں بعد میں اسے نوالے بنا کر کھلا رہی تھی۔
”تھوڑا آگے بڑھے تو ’بلوچ پل‘ سے پہلے آٹھ دس بندوں نے روک لیا، سب کے ہاتھ میں اسلحہ تھا، موٹرسائیکل، موبائل اور پیسے سب کچھ چھین لیا“ سارنگ نے بتایا ہر طرف لوٹ مار ہو رہی تھی، لوگوں کی گاڑیاں جلائی جا رہی تھیں، مارا پیٹا جا رہا تھا۔ سہ پہر تک سڑکوں پر موجود رینجرز کا کہیں پتا نہیں تھا، پولیس غائب تھی۔ یہ سب تین دن تک ہوتا رہا، لگتا تھا کھلی چھوٹ دی گئی ہے کہ پیپلز پارٹی کے کارکن اور حامی سرکاری املاک تباہ کریں، شہریوں کی جان و مال کو جی بھر کے نقصان پہنچائیں اور اپنا غصہ ٹھنڈا کر لیں۔ یہ بے نظیر کے قتل کا انتقام لینے کی آزادی تھی، حساب پاک ہوا، اب نہ قاتل کی تلاش ضروری ہے، نہ مقدمہ نہ خوں بہا۔ اس یلغار نے بارہ مئی کی یادیں دھندلا دیں۔
”مہاجر اورنگی میں مریں، لیاری گینگ والے ماریں، یا ستائیس ستمبر جیسی قیامت مچے، یہ ایم کیو ایم والے اپنے اسلحے سمیت کہاں دفع ہو جاتے ہیں؟“ راشدہ باجی نے تند لہجے میں جو سوال کیا وہ شاید ہر مہاجر کے ذہن میں کلبلا رہا ہے۔ اس ردعمل کے باعث اورنگی ٹاؤن میں ”بہاری قومی موومنٹ“ بھی تشکیل پائی تھی، ”سنا ہے عمران فاروق اس تنظیم کی قیادت کرے گا، وہ بھی بہاری ہے نا“ ابو نے بہاری قومی موومنٹ بننے کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا تھا۔
اس تنظیم کا سربراہ آفتاب ملک مارا گیا، ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے تقریباً تین مہینے بعد۔ پھر یہ تنظیم یکایک جانے کہاں گم ہو گئی۔ راشدہ باجی کے سوال اٹھاتے ہی محلے کی دوسری عورتیں بھی ان تائید میں بولنے لگیں۔ ہم سب فریدہ آپا کے گھر میں بیٹھی تھیں۔ ان کی گارمنٹ فیکٹری میں کام کرنے والی بیٹی بے نظیر کے قتل پر ہونے والے ہنگامے کے دو دن بعد گھر پینچ پائی تھی۔ اس دن ایم کیو ایم کہیں بھی ہو الطاف حسین ہر چینل پر موجود تھے۔
وہ ہر چینل پر آ کر بلک بلک کر روتے، بولتے کم روتے زیادہ، کتنا مصنوعی لگ رہا تھا یہ رونا، کتنا برا لگ رہا تھا یوں وقار کھونا۔ بعد میں انھوں نے سندھیوں کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے گریے کا واضح طور پر حوالہ دیے بغیر کہا تھا، ”آپ نے کتنے راہ نماؤں کو تڑپتے اور آنسو بہاتے دیکھا؟“ اور وہ ان کا عمران فاروق کے قتل پر رونا ”کتنے اچھے تھے وہ“ کہہ کر کیمرے کی طرف دیکھتے ہوئے۔ ٹی وی چینلوں نے ان کا یہ رونا براہ راست نشر کیا تھا۔
ڈاکٹر عمران فاروق جب لندن میں چاقو کے واروں سے قتل کیے گئے تو وہ ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے کنوینر کے منصب سے ہٹائے اور غیر فعال کیے جانے کے بعد ایم کیو ایم اور سیاست سے دور اپنی زندگی جی رہے تھے، لیکن جان جاتے ہی وہ ایم کیو ایم کی طرف سے شہید انقلاب قرار پائے۔ ان کی میت کراچی لائی گئی تھی، ذیشان کی طرح عمران فاروق کا گہوارہ بھی ایم کیو ایم کے پرچم میں لپٹا تھا، کتنا بڑا جنازہ تھا۔ ہزاروں لوگ۔ ان کے قتل کو دو سال گزر چکے ہیں، مگر ایم کیو ایم نے اپنے شہید انقلاب سے کوئی عمارت، چوک، سڑک، ادارہ منسوب نہیں کیا، یہی سلوک شہید چیئرمین عظیم احمد طارق کے ساتھ بھی کیا گیا، ان کے نام کی کوئی تختی کہیں نصب نہیں۔
اس کے برعکس الطاف حسین کی والدہ اور والد کا نام جگہ جگہ نظر آتا ہے۔ ”وہ اپنا گروپ بنانے کی کوشش میں مصروف تھے“ ایک اخبار میں چھپنے والی خبر کی متحدہ نے بیان کے ذریعے تردید کردی۔ متبادل بیانیہ سامنے لے آیا گیا، ”عمران فاروق ایم کیو ایم کے دیے گئے ایک منصوبے پر کام کر رہے تھے، اس لیے انھیں شہید کر دیا گیا“ منور بھائی نے کتنے وثوق سے کہا تھا۔ چھوٹی خالہ کے بڑے داماد ایم کیو ایم کے خودساختہ ترجمان ہیں۔
”ایم کیو ایم بس انتظار کر رہی ہے کہ پٹھان انگلی کریں، پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے، اب ان کے پاس وہ وہ اسلحہ آ گیا ہے کہ الآصف اسکوائر یوں اڑا دیا جائے گا۔“ منور بھائی نے چٹکی بجاتے ہوئے خالو سے کہا تھا۔ انھوں نے ”انگلی کرنے“ جیسے بے ہودہ اور عامیانہ محاورے کا استعمال کرتے ہوئے یہ بھی نہ سوچا کہ سسر سے مخاطب ہیں اور سامنے عورتیں بھی بیٹھی ہیں۔ وہ زمانہ لد گیا جب اردو بولنے والے گھرانوں کے مرد باہر کچھ بھی بکتے رہیں عورتوں کے سامنے گالی دینے اور فحش محاورے بولنے سے گریز کرتے تھے۔
اب تو انگلی اور ڈنڈا کرنے جیسے محاورے عورتوں کی زبان پر بھی آ جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے مردوں عورتوں کو قریب بھی تو بہت کر دیا ہے۔ ہماری نئی نسل پرانی اقدار کو پیروں تلے روندتی ہوئی آگے بڑھ رہی ہے۔ اب لڑکے گلی محلوں میں یوں بہ آواز بلند ماں بہن کی گالیاں دیتے ہیں کہ ہر ماں بہن اپنے بارے میں خیالات گھر بیٹھے جان لیتی ہے۔ خیر ذکر تھا منور بھائی کی پیش گوئی کا ، یہ ”آسرے“ ، سپنے اور ایم کیو ایم کے سفر کی ابتدا میں لگائے جانے والے نعرے ”اب راج کرے گا مہاجر“ سے جڑے ہیں۔
”لشکر تیار ہو رہا ہے“ ، ”ایک آخری معرکہ ہوگا، ایم کیو ایم اس کی تیاری کر رہی ہے“ ، ”کراچی ہانگ کانگ جیسی ریاست بن جائے گا، فری پورٹ“ اور نتیجہ! ”ہانگ کانگ کا شوشہ کراچی کے پراپرٹی ڈیلرز نے چھوڑا تھا۔ کہا گیا آغا خانی کراچی میں دھڑادھڑ زمینیں خرید رہے ہیں، کیوں کہ شہر فری پورٹ بننے والا ہے۔ ان دنوں خراب حالات کی وجہ سے زمینوں کے دام زمین پر آگرے تھے، لیکن ہانگ کانگ کی افواہ نے کام دکھایا اور قیمتیں چڑھ گئیں۔“ نوشاد چچا کا انکشاف سن کر میں سوچنے لگی یہاں خوابوں اور جذبوں سے کیسے کیسے کھیلا جاتا ہے۔
خواب بکھرنا مہاجروں کا ہی نہیں جی ایم سید کے ہم نوا سندھیوں کا بھی مقدر بنا، ”میں ان دنوں کالج میں تھا۔ ہمارے پاس سندھ یونی ورسٹی سے جیے سندھ اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے راہ نما آتے تاریخ تک دے جاتے کہ اس دن سندھو دیش قائم ہو جائے گا۔ کبھی کہتے سائیں جی ایم سید کی اسٹیبلیشمنٹ سے بات ہو رہی ہے، رات تک سندھو دیش کے قیام کا اعلان ہو جائے گا۔ یہ خوش خبری سنا کر وہ ہم سے واپسی کا کرایہ لیتے اور چلے جاتے۔ ایک رات بتایا گیا کہ اسٹیبلیشمنٹ سے معاملہ طے پا گیا ہے، صبح سندھو دیش بن جائے گا۔ یہ سن کر ہم خوشی سے سرشار نوجوان آپس میں طے کرنے لگے کہ ضلع خیرپور سندھو دیش کا صوبہ ہوگا اور اس کی کابینہ میں کون کون شامل ہوگا۔ وزارت اعلیٰ میرے حصے میں آئی۔ اگلی صبح اٹھے تو سب کچھ ویسا ہی تھا۔ ہاہاہا۔“ فدا علی شاہ نے یہ بتا کر قہقہہ لگایا تو میں اور سحرش بھی ہنس پڑی تھیں۔ اسکول کی ملازمت کے دوران بننے والی میری دوست سحرش کا شوہر ایک مدت تک جیے سندھ تحریک کا سرگرم کارکن رہا، پھر وقت کے ساتھ بدلتے خیالات اسے جی ایم سید کی فکر سے بہت دور لے گئے تھے۔
سحرش کے گھر جاتی تو اس کا ملنسار شوہر ملائم سندھی لہجے باتیں شروع کر دیتا۔ کتنا اچھا لگتا تھا اس کے منہ سے ”ادی“ سننا۔ ”پاکستان بننے کے بعد جی ایم سید سندھ کی سیاست میں غیرمتعلق ہوچکے تھے۔ اناپرست اور با اصول سید، قائداعظم کی مخالفت کرنے کے بعد انھیں اور ان کے پاکستان کو کیسے تسلیم کرتا۔ انھوں نے خود سیاست میں زندہ رکھنے کے لیے سندھی قوم پرستی کا راستہ چنا، پھر سندھو دیش کا نعرہ لگاکر انتہا تک چلے گئے۔ نتیجتاً وہ مرتے دم تک سندھ کی سیاست اور اسٹبیلیشمنٹ کی نظروں میں اہمیت کے حامل رہے۔“
کیا ”مہاجر صوبہ“ الطاف حسین کا ”سندھودیش“ ہے؟
لیکن جی ایم سید ایک بار سندھو دیش کا نعرہ لگانے کے بعد ایک دن کے لیے بھی اس سے دست بردار نہیں ہوئے اور الطاف حسین کبھی سندھ دھرتی کو ماں کہتے ہیں کبھی سندھ کی تقسیم کی بات کرنے لگتے ہیں۔ لیکن کچھ عرصہ پہلے مہاجر صوبے کے نام پر جو کچھ ہوا وہ بڑا پراسرار تھا۔ اسی سال کی تو بات ہے، مہاجر رابطہ کونسل کے جنرل سیکریٹری ارشد صدیقی جیسا غیرمعروف شخص مہاجر صوبے کی تحریک چلارہا اور مظاہرے کر رہا تھا، شہر میں مہاجر صوبے کے حق میں چاکنگ ہی نظر نہیں آئی، بینر، بل بورڈز اور ہورڈنگز لگے تھے، لیکن ایم کیو ایم اس سب سے لاتعلقی کا اظہار کر رہی تھی۔
دوسری طرف ایم کیو ایم ہزارہ صوبے کی تحریک کی بڑے جوش وجذبے سے حمایت کر رہی ہے۔ اس نے ہزارہ اور جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لیے قومی اسمبلی میں بل بھی جمع کرائے، لیکن بات آگے نہیں بڑھی۔ ایم کیو ایم کا اب بھی موقف ہے کہ وہ سندھ کی تقسیم کی حامی نہیں۔ ایم کیو ایم الطاف حسین کا دوسرا نام ہے، اور الطاف حسین کا موقف کب کیا ہو جائے شاید وہ خود بھی نہیں جانتے۔ کل تک وہ فوج پر تنقید کر رہے تھے، پھر ان کے اس بیان نے ہلچل مچادی کہ ”محب وطن جرنیل بدعنوان سیاست دانوں اور جاگیردارانہ نظام سے ملک کو نجات دلانے کے لیے مارشل لا طرز کا کوئی قدم اٹھاتے ہیں تو ہم ساتھ دیں گے۔“
وہ تو خود بدعنوانوں اور جاگیرداروں کے قدم سے قدم ملا کر چلتے رہے ہیں۔ جب انھوں نے صدارت کے لیے سب سے پہلے آصف زرداری کا صدارت کے لیے نام پیش کیا تھا اس وقت زرداری بدعنوانی کی نشانی بن چکے تھے۔ کیا بدعنوانی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ایم کیو ایم کے راہ نما بچ پائیں گے؟ میری دوست لبنیٰ کی بہن کی شادی جس ہال میں ہوئی وہ ایم کیو ایم کے ایک ایسے راہ نما کی ملکیت تھا جو چند سال پہلے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں رہتا تھا۔
”چائنا کٹنگ کا کمال ہے“ ہماری میز پر بیٹھے ایک رشتے دار نے وسیع وعریض خوب صورت حال پر نظر دوڑاتے ہوئے تبصرہ کیا تھا۔ چائنا کٹنگ اور سرکاری مال کی لوٹ مار کی برکتیں ایم کیو ایم کے راہ نماؤں، منتخب نمائندوں اور عہدے داروں کی رہائش گاہوں اور کاروبار سے صاف جھلکتی ہیں۔ جس جاگیرداری اور سرداری نظام کو ایم کیو ایم برا بھلا کہتی رہی ہے وہ سیکٹرانچارجز کی صورت میں کراچی اور حیدرآباد میں کہیں زیادہ بدتر حالت میں مسلط ہے۔ سیکٹرانچارج کا مطلب ہے علاقے کا بے تاج بادشاہ، وہ اختلافات کے فیصلے کرتا ہے، تنازعات دور کرنے کے لیے عدالتیں لگا کر من مانے فیصلے صادر کرتا ہے، کسی سے ڈرنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ سیکٹرانچارج کا دوست یا رشتے دار ہے۔
بدعنوان سیاست داں کہہ کر کیا الطاف حسین نے زرداری کی طرف اشارہ کیا ہے؟ فی الحال تو یہ امکان نہیں کہ الطاف حسین کھل کر زرداری کو بدعنوان کہیں، دونوں جماعتوں کے تعلقات تھوڑے بہت اتار چڑھاؤ کے باوجود اچھے ہیں۔ ایم کیو ایم سندھ میں تو پیپلز پارٹی کی شریک اقتدار تھی ہی مسلم لیگ نون کے وفاقی حکومت سے نکلنے کے بعد وفاقی کابینہ میں بھی شامل ہو گئی۔ البتہ سندھ کے وزیرداخلہ ذوالفقار مرزا نے جب قرآن سر پر رکھ کر طویل پریس کانفرنس کی تو ہر طرف ہلچل مچ گئی تھی۔
انھوں نے کھل کر ایم کیو ایم پر تو تنقید کی، وہ سب کچھ کہا جو لوگ نجی محفلوں میں کہتے ہیں، وہ الزامات جو ایم کیو ایم پر لگتے رہے ہیں۔ انھوں نے اپنے وفاقی وزیر رحمٰن ملک کو بھی جھوٹا قرار دے کر آڑے ہاتھوں لیا۔ دس گیارہ دن بعد الطاف حسین جواب دینے ٹی وی کے اسکرین پر جلوہ افروز تھے۔ وہ یہ سوچ کر آئے تھے کہ ذوالفقار مرزا نے جتنے گھنٹے ٹی وی کیمروں کو مصروف رکھا اس سے زیادہ وقت لیں گے۔ وہ کوئی دس منٹ تک قرآنی آیات کی تلاوت کرتے رہے، کبھی قرآن لہرایا کبھی بڑی ادا سے اور پوری اداکاری کرتے ہوئے، اصل گانا بگاڑ کر ”برقعے میں رہنے دو برقع نہ اٹھاؤ“ گایا، کہا مجھے قتل کیا جاسکتا ہے کیوں کہ میں پاکستان توڑنے میں رکاوٹ ہوں، الزامات کی بھرمار کی، بے سروپا باتیں کیں، اپنا اور مہاجروں کا مذاق اڑواتے رہے۔ کچھ دن بیانات اور جوابی بیانات کا سلسلہ چلا پھر معاملہ ٹھنڈا ہو گیا۔
نصیراللہ بابر کے آپریشن کے بعد ایک دوسرے کی دشمن بن جانے والی ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے تعلقات میں نمایاں تبدیلی 2008 کے انتخابات کے بعد آئی۔ آصف زرداری کی زیرقیادت پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ تعلقات استوار ہوتے چلے گئے، جب بے نظیربھٹو کی جائے شہادت کی توہین کی گئی تو ایم کیو ایم نے اس کے خلاف کراچی میں مظاہرہ کیا اور اس کے کارکنوں نے راول پنڈی میں بینظیر کی جائے شہادت پر حاضر ہو کر پھول چڑھائے۔ اس سے پہلے پی پی پی ایم کیو ایم کے گورنر عشرت العباد کو اس منصب پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کرچکی تھی۔ 2008 میں پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے سے اب تک جب بھی الطاف حسین حکومت سے ناراض ہوتے ہیں رحمٰن ملک کبھی نائن زیرو آ کر کبھی لندن جاکر انھیں منا لیتے ہیں۔
روٹھنے مان جانے کی کہانی میں سب سے حیران کن قصہ عامرخان کی ایم کیو ایم میں واپسی کا ہے۔ یہاں معاملہ ناراض ہونے سے کہیں آگے کا تھا۔ عامر خان نے آفاق احمد کی سنگت میں الطاف حسین پر ملک دشمنی سے لڑکیوں سے زیادتی تک کون سا الزام نہیں لگایا تھا، اور الطاف حسین اور ان کے پیروکاروں نے عامر خان کو غدار اور موت کا حق دار قرار دینے کے ساتھ ایجنسیوؤں کا ایجنٹ، حقیقی دہشت گرد کے ناموں سے ہر روز پکارا تھا۔ زیادہ پرانی بات تو نہیں جب عامرخان کا گھر جلا اور عامر خان کی جماعت نے ایم کیو ایم پر ذمے داری ڈالی تھی۔
کیا کرشمہ ہوا، پہلے ”کلیان جی، آنند جی“ اور ”لکشمی کانت، پیارے لال“ کی طرح آپس میں جڑے ہوئے نام آفاق، عامر الگ ہوئے اور مہاجر قومی موومنٹ ان دونوں کی قیادت میں دو حصوں میں بٹ گئی۔ پھر ایک سے مقدمات میں قید آفاق اور عامر میں سے عامر کی ضمانت پر رہائی ہو گئی۔ اور ایک دن اس خبر نے سب کو ششدر کر دیا کہ عامر خان معافی مانگ کر دوبارہ اپنے الطاف بھائی کے سینے سے آلگے ہیں اور نئے سرے سے وفاداری کا عہد باندھ لیا ہے۔ انھیں ایم کیو ایم کے ان مقتولوں کے ورثا نے بھی ہاتھ کے ہاتھ معاف کر دیا جو حقیقی گروپ کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے۔
عامر خان کی واپسی پچھلے سال کا واقعہ ہے، 2011 کا ۔ جس سال سیکڑوں لوگ گھروں سے نکلے تو پھر کبھی واپس نہ آئے، خون سے لتھڑا سال۔ انسانی جانیں بس عدد بن کر رہ گئیں جن کی ہلاکت کی خبر موسم کے حال میں شامل درجۂ حرارت کی طرح پڑھی اور سنی جاتیں۔ آج پندرہ ہلاک، آج بیس، پچیس۔ ہندسے بڑھتے گھٹتے اگر چھے، سات تک بھی گرجاتے تو وہ دبے پاؤں گزرنے والا دن شمار ہوتا۔ لیکن سرفرازشاہ کی ہلاکت ”ایک“ ہونے کے باوجود بڑے ہندسوں کو پیچھے چھوڑ گئی۔
راہ زنی کے الزام میں رینجرز کے تھے چڑھنے والا یہ نوجوان تنی ہوئی بندوقوں کے سامنے روکر، گڑگڑاکر، ہاتھ جوڑکر جان بخشی طلب کرتا رہا مگر اس پر گولیاں برسادی گئیں، آنکھوں سے آنسو اور جسم سے خون بہہ رہا تھا، اب وہ اسپتال لے جانے کی التجا کر رہا تھا، اس امید پر کہ بہتا خون دیکھ کر پتھر۔ دل بن گئے ہوں گے۔ کسی نے نہیں سنی، وہ تڑپ تڑپ کر مرگیا۔ اور اس سے پچھلے سال کون سا امن کا راج تھا۔ اس عبداللہ شاہ غازی کے مزار کو بھی نہ بخشا گیا جو کراچی کو طوفان سے بچائے رکھنے کے لیے سمندر کے سامنے سینہ سپر ہے۔
شاہ غازی کے مزار پر ہونے والے دھماکے نے دو بچوں سمیت 8 جانیں لے لیں۔ 2009 کا اختتام عاشورہ کے جلوس میں دھماکے سے ہوا تھا، جلوس کے 43 شرکاء زندگی ہار گئے تھے۔ دھماکے ساتھ ہی ایم اے جناح روڈ کے اطراف حشر برپا ہو گیا تھا، لاتعداد دکانیں، دیگر عمارات اور گاڑیاں جلادی گئیں، پوری پوری مارکیٹیں جلادی گئی، بینکوں، ہوٹلوں اور رہائشی عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، اسلحے کی دکان، کرنسی اور بانڈز لوٹ لیے گئے۔
اس دہشت گردی کا بدلہ عام شہریوں سے لیا گیا۔ اور وکلاء کو جلا ڈالنے کا سانحہ اس سے پچھے برس کا واقعہ ہے۔ سٹی کورٹ میں ایم کیو ایم کے حامی وکیلوں کا دیگر وکلاء سے تصادم کچھ ہی دیر میں آگ اور خون کے کھیل میں بدل گیا تھا۔ وکلاء کو گستاخی کی سزا ملی، انھیں دل بھر کے ماراپیٹا گیا، وکلاء کے دفاتر پر مشتمل عمارت طاہرپلازہ جلا ڈالی گئی، ایک وکیل اور اس کے پانچ موکل زندہ جل گئے تھے۔
بارہ مئی کے بعد لگتا تھا ملک بھر میں پھیلتی ایم کیو ایم واپس سمٹ کر شہری سندھ تک محدود ہو جائے گی، لیکن یہ خدشہ غلط ثابت ہوا۔ کہتے ہیں سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا، غلط۔ سیاست کا دل تو بہت بڑا ہے، البتہ یہ دماغ کے تابع ہوتا ہے اور اسے سفید خون دھڑکائے رکھتا ہے۔ مفادات کی وسعت اس دل کی گنجائش بڑھادیتی ہے۔ بارہ مئی کو کارکنوں اور عام لوگوں کا خون رزق خاک ہوا تھا، انتخابات کے بعد کی سیاسی ضرورتوں نے بہت جلد اس خون کے دھبوں پر پانی پھیر دیا۔
ایم کیو ایم حکومت میں شامل ہوئی، پھلتی پھولتی رہی، گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں اس نے ایک نشست جیت لی اور پھر آزادکشمیر کے انتخابات میں دو نشستوں پر کام یابی اس کا مقدر بنی۔ 2009 میں انٹیلی جینس بیورو کے سابق ڈائریکٹرجنرل بریگیڈیئر امتیاز نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں یہ کہہ کر ایم کیو ایم پر لگا داغ دھودیا کہ بانوے کے آپریشن کے بعد سامنے آنے والے جناح پور کے نقشے جعلی تھے۔ نہ یہ سمجھ میں آیا کہ تب جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی اور نہ یہ کہ اب سچ بولنا کیوں ضروری ہو گیا تھا؟
ایم کیو ایم پر لگا دھبا دھلا ہی تھا کہ اگلے ہی برس متحدہ کے رکن قومی اسمبلی وسیم اختر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہہ دیا، ”پنجاب کے ہرگھر میں مجرے ہو رہے ہیں۔“ ٹی وی پر ان کی یہ گرواٹ لیے گفتگو سن کر میں متعجب تھی کہ پورے پنجاب کو گالی دینے کے بعد ایم کیو ایم کس منہ سے اس صوبے میں سیاست کرے گی۔ کیا یہ جملہ وسیم اختر کے اپنے اشتعال کا نتیجہ تھا؟ مجھے نہیں لگتا۔ مسلم لیگ نون کے چوہدری نثار نے الطاف حسین پر ذاتی حملہ کرتے ہوئے کہا تھا، ”اگر الطاف حسین نے اپنا لب ولہجہ درست نہیں کیا تو وہ ان کی طلاق یافتہ بیوی کی وہ باتیں سامنے لائیں گے جو انھوں نے الطاف کے متعلق عدالت میں کی تھیں۔“
کیمروں کے سامنے کھڑے حیدرعباس رضوی ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے نواز شریف کو نشانہ بنا رہے تھے، اچانک ان کے عقب سے جھانکتے وسیم اختر کے پاس کال آئی، وہ عباس حیدر کو پیچھے ہٹاکر آ گئے آئے اور وہ کچھ کہہ گئے جس پر پنجاب کے لوگ آج تک مشتعل ہیں۔ اگر اس بیان پر وسیم اختر کے خلاف ایم کیو ایم کارروائی کرتی تو اسے ان کا ذاتی فعل سمجھا جاسکتا تھا، لیکن لگتا ہے کہ انھیں لندن سے یہی کچھ کہنے کی ہدایت آئی تھی، ایسا ہے تو یقیناً الطاف حسین بہ طور انعام کسی منصب سے سرفراز کریں گے۔
الطاف حسین نے کس عمر جاکر میں شادی کی جو چند سال ہی میں ختم ہو گئی، افضاء الطاف کی صورت میں اس رشتے کی نشانی چھوڑ کر ۔ یہ رشتہ کتنا مضبوط لگتا تھا، الطاف حسین کا کوئی رشتے دار کسی عہدے پر نظر نہیں آیا، مگر ان کے سسر فیصل ملک ایم کیو ایم کی طرف سے صوبائی مشیر بنادیے گئے تھے۔ کاش طلاق کے بعد کراچی لوٹ آنے والی فائزہ گبول کچھ بول پاتیں، اپنے سابق شوہر کی ذات کی پرتیں کھول پاتیں، ایسا ہوتا تو ہم بھی جان لیتے کہ ہماری قسمت مٹھی میں دبائے شخص کون ہے؟ کیا ہے؟
قسمت پھر راہ میں حائل ہو گئی، ابو اور امی انڈیا نہیں جا پائے، 2008 کے آخر میں جانا تھا، لیکن ممبئی حملوں نے اپنا آبائی شہر دیکھنے کی ان کی خواہش بھی مار ڈالی۔ ”بس ایک بار دہلی دیکھ لیتے، اپنوں سے مل لیتے، اب اتنے لمبے سفر کی ہمت نہیں۔“ ابو کی آنکھوں میں ہارا ہوا خواب دیکھنا کتنا تکلیف دہ تھا۔ اور جب ممبئی حملوں کے بعد بھارت نے پاکستان کو نشانہ بنایا تھا تو ابو نے ٹی وی دیکھتے ہوئے کتنے غصے میں کہا تھا، ”بدمعاشوں نے خود سب کرایا ہے تاکہ پاکستان کو بدنام کیا جاسکے، بھارت بہت مکار ہے، خدا غارت کرے۔“ شہر سے محبت، ریاست سے نفرت۔ تقسیم نے ہمارے احساسات کا بٹواراکتنے بے ڈھنگے پن سے کیا تھا۔


