میں واپس نہیں جانا چاہتی۔ ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں عورت ہوں، اپنی ذمہ دار خود ہوں، کوئی میری وکالت نہ کرے، مجھے وہ وقت بھی یاد ہے جب دنیا کے کسی کونے میں میری کوئی وقعت نہیں تھی، جو مرد آج کل ”حقوق“ کا چارا ڈال کر مجھے شکار کرنا چاہتے ہیں میں ان کی نظر میں فقط ایک ”کھلونا“ تھی، میں دن رات ان کی خدمت کرتی تھی، اگر مزدوری سے کچھ ملتا تھا تو وہ بھی انہیں دینے پر مجبور تھی، اس کے باوجود مجھے مارا پیٹا جاتا تھا، بسا اوقات ذرا ذرا سی بات پر میرے کان ناک اور نازک اعضا کاٹ لیے جاتے تھے، کبھی قتل کر دیا جاتا اور کبھی زندہ دفن کر دیا جاتا، باپ کے مرنے کے بعد اس کی وراثت فقط میرے بھائی لے اڑتے تھے جیسے میں کسی اور کی بیٹی ہوں، بلکہ کئی دفعہ تو وہ اپنے باپ کی بیویوں کے مالک بھی بن جاتے تھے، مجھے بہن بھائی یا ماں باپ کی وراثت سے کچھ بھی نہیں ملتا تھا۔

اگر میں بیوہ ہو جاتی تو مجھے گھر سے نکال کر ایک سال کے لیے کسی چھوٹی سی کھولی میں ڈال دیا جاتا تھا، اس دوران میں غسل کر سکتی تھی اور نہ ہی کپڑے بدل سکتی تھی، ایک سال اور چھوٹا سا قید خانہ، میں تو گھٹ گھٹ کر مر جاتی تھی، بدقسمتی سے اگر زندہ بچ بھی جاتی تو ایک سال کے بعد جب میں باہر نکلتی تھی تو میرے آنچل میں اونٹ کی مینگنیاں ڈال دی جاتیں اور مجھے مجبور کیا جاتا کہ میں کسی جانور کے بدن سے اپنے بدن کو رگڑ کر پاک کروں، اس کے بعد میں اسی گندے لباس میں شہر کا چکر لگاتی تھی اور اپنی جھولی میں پڑی ہوئی اونٹ کی وہ مینگنیاں پھینکتی چلی جاتی تھی، یہ اس بات کا اعلان ہوتا تھا کہ میری عدت ختم ہو گئی ہے، صرف یہی نہیں بلکہ اسی طرح کی کئی دوسری غیر انسانی اور تکلیف دہ رسمیں بھی ہوتی تھیں جو میرے نصیب کا حصہ بنا دی گئی تھیں۔

میرے ساتھ ایسا دردناک اور ظالمانہ سلوک روا رکھا جاتا تھا کہ سوچ کر کلیجہ منہ کو آ جائے، اگر میرا شوہر زندہ ہوتا تو پتی پوجا (خاوند کی پوجا) مجھ پر فرض تھا اور اگر شوہر مر جاتا تو مجھے بھی ستی کر دیا جاتا تھا، موم بتی ہاتھ میں پکڑ کر حجاب کو میرے لیے قید خانہ کہنے والی آنٹیوں کو کیا خبر کہ ”ستی“ کی رسم کتنی دردناک ہوتی تھی؟ میرے شوہر کی میت کو جلانے کے لیے آگ جلائی جاتی، جب آگ بھڑک اٹھتی تو مجھے چتا کے اوپر لٹا دیا جاتا، یوں مردہ خاوند کے ساتھ مجھے بھی زندہ جلنا پڑتا، معاصر مذاہب عالم میں تو مجھے برائی کی جڑ، دوزخ کا دروازہ اور شیطان کی آلہ کار کہا جاتا تھا، فریڈرک ولیم نطشے کے بقول مرد جب بھی میرے پاس آتا تھا ہاتھ میں ڈنڈا لیے ہوئے آتا تھا، مجھے ایک معمہ کہا جاتا تھا۔ جس کا واحد حل حمل تھا، جو میرے حقوق کی بات کرتا تھا اسے احمق کہا جاتا تھا، تمہیں یاد ہے کرائی سوسٹم میرے بارے میں کیا کہتا تھا؟ اس کے مطابق میں ایک پیدائشی اور ناگزیر برائی تھی۔

ترتولیاں کے مطابق برائی کی طرف لے جانے میں ہی ہے، اگر مجھے اپنے شوہر کے ساتھ خلوت میسر آ جاتی تھی تو اگلے دن مجھے چرچ جانے کی اجازت نہیں تھی، بقول کلور ٹنکو میری تو ازدواجی زندگی ہی غیر قانونی تھی، یونان، روم، ایران اور مصر جنہیں اس دور میں تہذیب کا نشان سمجھا جاتا ہے وہاں تو مجھے تار تار کیا جاتا تھا اور میری تذلیل کو انتہا تک پہنچایا دیا گیا تھا، میری حیثیت ان تہذیبوں میں بہت ہی گری ہوئی تھی، مجھے جنسی تسکین کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، اس دور کے ادیبوں، مفکروں اور شاعروں کا دستیاب کلام اٹھا کر دیکھ لیں، جب بھی میرا تذکرہ آئے گا شہوت کے ساتھ ہی آئے گا،

بقول ڈاکٹر گنتالی یونان میں مجھے ایک کم درجے کی مخلوق سمجھا جاتا تھا، روم میں تو شوہر کو مجھے قتل کرنے کا اختیار بھی حاصل تھا، فلور نامی ایک کھیل بھی کھیلا جاتا تھا جس میں مجھے ننگا دوڑایا جاتا تھا اور میرے باپ اور بھائیوں سمیت تمام مرد لطف اندوز ہو کر تالیاں بجایا کرتے تھے، انسائیکلو پیڈیا آف برطانیہ کے مطابق میرے تمام حقوق مرد کے حوالے کر دیے جاتے تھے، میرے باپ یزد گرد ثانی (فارس کا بادشاہ ) نے مجھ سے زبردستی نکاح کیا اور جب ہوس کی آگ بجھ گئی تو مجھے قتل کر دیا تھا۔

تمہیں مزدک کی تعلیمات یاد ہیں؟ اس نے تو مجھے پوری قوم کا مشترکہ ورثہ قرار دیا تھا، جب جس کا دل چاہتا مجھے کسی بھی چوک میں پکڑ لیتا تھا، جب مجھے بازنطینہ کے بازار میں بیچنے کے لیے لایا جاتا تھا تو خریدار مجھے الف ننگا کر کے دیکھا کرتے تھے، اگر کسی نے ادھار لینا ہوتا تھا تو مجھے بڑے بڑے ساہوکاروں کے پاس گروی رکھ دیتا تھا، اگر کسی کے گھر میں پیدا ہو جاتی تو وہ مجھے قتل یا زندہ درگور کر دیتا تھا، اگر ایسا نہ بھی کرتا تو شرم کے مارے کئی کئی مہینے گھر سے نہیں نکلتا تھا۔

احتجاج کی ضرورت تو تب تھی جب میرے ساتھ اس طرح کا سلوک روا رکھا جا رہا تھا، لیکن آج جب باپ میرا قلعہ، بھائی میرا محافظ، شوہر میری ڈھال بن چکا ہے، اولاد بیچنے کی بجائے میرے قدموں میں جنت تلاش کر رہی ہے، لوگ منڈیوں سے خریدنے کی بجائے مہذب طریقے میرا رشتہ مانگ رہے ہیں، باپ مارنے کی بجائے باعزت طریقے سے مجھے رخصت کر رہا ہے تو کوئی مجھے یہ درس نہ دے کہ اسلام اور حجاب نے مجھے قیدی بنا دیا ہے، جس نے اس ”مہذب“ معاشرے میں جانا ہے شوق سے جائے، میں تو اسی ”غیر مہذب“ معاشرے میں ہی محفوظ ہوں جہاں میں شہزادیوں کی طرح گھر بیٹھ کر کھاتی ہوں اور میرے اپنے مجھے بچانے کے لیے ہمہ وقت مستعد ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •