میاں بیوی کے محرومیوں کے سائے میں سلگتے ہوئے رشتے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تخلیق آدم ؑ کے بعد حضرت حواؑ کی تخلیق قدرت کی جانب سے اس بات کا ادراک تھا کہ انسان تنہا زندگی نہیں گزار سکتا، اسے ایک محبوب ساتھی کی ضرورت ہے اور یہ ضرورت آدم کی آدم سے نہیں بلکہ حوا یعنی ایک عورت سے پوری ہو گی۔ یہ اس بات کی جانب بھی ایک واضح اشارہ تھا کہ انسانی زندگی کو خوب صورت رنگوں اور خوشیوں سے صرف عورت کا وجود ہی بھر سکتا ہے۔ مرد اور عورت ایک دوسرے کی ازلی ضرورت ہیں، ہر مذہب اور معاشرے میں اسے ایک مربوط اور حلال رشتے کی ڈور سے باندھا گیا، جسے میاں بیوی کہتے ہیں۔

جو ایک دوسرے کے دکھ درد کے ساتھی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے ادھورے پن کو بھی پورا کرتے ہیں۔ سیکس مرد اور عورت دونوں کی ضرورت ہے مگر اس کو خوبصورت اور مضبوط ان کے مابین موجود رومانوی رویہ اور ہم آہنگی بناتا ہے۔ مگر ہمارے معاشرے میں اس وقت جو رشتہ سب سے زیادہ جذباتی اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہے وہ میاں بیوی کا یہ حلال رشتہ ہے۔

دو لوگ، گھر والوں کی مرضی سے شادی کریں یا اپنی پسند سے، دیکھا جا رہا ہے کہ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد دونوں میں سے ایک فریق اس رشتے سے بے زار ہونا شروع ہو جاتا ہے، وہ بیوی بھی ہو سکتی ہے اور شوہر بھی۔ اس کی وجہ یا وجوہات بہت ساری ہیں، کیونکہ ہمارے ہاں رشتے طے کرتے ہوئے لڑکی اور لڑکے کی رائے سے کہیں زیادہ اہم یہ بات مدنظر ہوتی ہے کہ آنے والی گھر کو کتنا سنبھالے گی اور داماد بیٹی کو کتنا معاشی خوشحالی دے گا۔

اس سارے مرحلے میں رشتے کی اصلی اساس کہیں بہت پیچھے رہ جاتی ہے اور وہ ہے دونوں کے جنسی رجحانات اور آسودگی، اگر سماجی اخلاقیات اور اقدار کے مطابق نکاح سے پہلے اس پہ بات کرنا نامناسب سمجھا جاتا ہے تو کم ازکم نکاح کے بعد ایک دوسرے سے بات چیت کا وقت دینا نہایت ضروری ہے اور اس سے بھی زیادہ ضروری ہے جسمانی تعلق استوار کرنے سے پہلے ایک دوسرے سے رومانوی اور جذباتی تعلق مضبوط کرنا، جس کی ہمارے کلچر میں کوئی گنجائش نہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ دونوں فریق بغیر ہچکچاہٹ جنسی تعلق کے حوالے سے اپنے ڈر، تحفظات، خواہشات اور ترجیحات ایک دوسرے کو بتا سکیں، جو غیر محسوس طور پراس رشتے کے استحکام میں اہم کردار ادا کرتا ہے کیونکہ اس سے عورت میں یہ احساس اجاگر ہوتا ہے کہ اسے احترام دیا جا رہا ہے اس کا شوہر اسے ایک انسان کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے اس کی پسند اور نا پسند کو سمجھنا چاہتا ہے۔ ہمیں رشتوں میں پنپنے والی گھٹن کو بچانا ہے تو فرسودہ روایات کے دائرے سے نکلنا ہو گا ورنہ طلاق، خلع اور غیر ازدواجی تعلقات کی شرح میں بڑھتا ہوا اضافہ خاندانی نظام کو نگل لے گا۔

مرد ہویا عورت انہیں اپنے پارٹنر کی محبت اور توجہ دونوں چاہیے اور جب یہ انہیں اپنے ساتھیوں سے نہیں ملتے تو وہ کسی تیسرے کی جانب رجوع کرلیتے ہیں، جبکہ بعض اوقات وہ تیسرا خود ہی ان کے درمیان آ جاتا ہے۔ میاں بیوی کے اہم موضوعات میں گھر اور بچے تو شامل ہوتے ہیں مگر ایک دوسرے کی خواہشات کا احترام شاید ایک غیر ضروری بحث سمجھا جاتا ہے۔ عورت ایک وجود ہے مکمل وجود، گھر سنبھالنے کے ساتھ ساتھ اس کی رومانوی خواہشات بھی ہیں جسے اکثر مرد نظر انداز کر دیتے ہیں اور وہ کسی تیسرے کی طرف راغب ہو جاتی ہے۔

ہمارے ہاں غیر ازدواجی تعلقات کی شرح ہماری سوچ سے بھی زیادہ ہے جس کی اہم ترین وجہ اس موضوع پہ پہلوتہی برتنا ہے۔ ہمارے معاشرے کا ایک منافقانہ چہرہ یہ بھی ہے کہ ایک فرد بیک وقت جنسی تسکین کے لیے کسی ایک سے رجوع کرتا ہے جذباتی تسکین کے لیے کسی دوسرے سے اور معاشرے میں نیک نامی کے لیے شادی کسی اور سے کرتاہے۔ وہ مرد ہو یا عورت کھل کر اپنے والدین کو اپنی خواہشات اور پسند کے بارے میں بات نہیں کرتے۔

ساٹھ ستر سال پہلے کی شادیوں میں شاید بہت کچھ نبھ جاتا تھا، لوگ جیسے تیسے ایک دوسرے کے ساتھ گزارا بھی کر لیتے تھے اور ایک دوسرے کے رنگ میں ڈھل بھی جاتے تھے اور ایک دوسرے کو قبول بھی کر لیتے تھے۔ اس وقت محبت کے معنی کچھ اور تھے، بڑے بزرگوں کے کردار گھر بنانے والے تھے۔ معاشرہ کچھ اور تھا اور معاشرتی تقاضوں اور گھریلو ذمہ داریوں کا بوجھ کچھ اس طرح سے تھا کہ سب کے پاس سب کے لیے وقت ہوتا تھا۔ میاں بیوی کے مابین پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی بھر پور کوششیں کی جاتی تھیں جبکہ تب مرد اور عورت، میاں بیوی نہیں بلکہ ماں باپ بن کر سوچا جاتا کرتے تھے اور فیصلے لیتے تھے، ان کے پیش نظر اپنی ذات سے زیادہ اہم اولاد تھی۔

مگر آج کل یہ بہت کم ہو رہا ہے، رشتوں میں پیدا ہونے والی معمولی سے بیزاری دوسرے کی جانب سے نظر اندازی سے اتنی بڑی ہو جاتی ہے کہ کوئی تیسرا بڑی خاموشی سے اس دائرے میں شامل ہو جاتا ہے۔ یوں بے وفائی جو شاید تکمیل ذات کی خواہش کی پیروی ہوتی ہے کے تعاقب میں رشتوں کو گرہن لگ جاتے ہیں جس کا سب سے زیادہ اثر بچوں پر ہوتا ہے۔ جس کا احساس والدین کو نہیں ہوتا کیونکہ وہ اب مرد اور عورت ہیں جن کی اپنی ضروریات، خواہشات اور ترجیحات ہیں اور وہ ان سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔ غلط مرد اور عورت سے الگ ہونے کا شرعی اور قانونی راستہ موجود ہے جو ہر طرح کی دھوکہ دہی سے بندے کے دامن کو محفوظ رکھتا ہے۔ ظلم سہنے، ناپسندیدہ ہستی کے ساتھ زندگی گزارنے اور پھر بے وفائی اور دھوکہ دہی سے کہیں بہتر وہ شرعی راستہ ہے جس کو اختیار کرتے ہوئے لوگ ڈرتے ہیں، کتنا منافق معاشرہ ہے ہمارا۔

میاں بیوی ایک مکمل ادارے کا نام ہے جس کی شروعات نکاح کے قول و قرار سے ہوتی ہے، پھر ایک خاندان تشکیل پاتا ہے۔ یہ ادارہ تب ہی مضبوط اور دیر پا ہو گا جب اس میں اعتماد کا دیا روشن رہے گا۔ اگر دونوں میں دوریاں یا اختلافات جنم لے رہے ہیں اور اس کی وجہ کوئی دوسرا تیسرا فرد ہے تو اس بیوفائی خاص طور پر عورت کی بے وفائی کو دنیا کا کوئی بھی معاشرہ معاف نہیں کرتا، خاص طور پر شادی شدہ عورت کی بے راہ روی اور بے وفائی کو جبکہ دنیا بھر میں قتل ہونے والے واقعات کے پس منظر میں اہم ترین وجہ عورت کی بے وفائی ہے۔ اس لیے شوہر سے پیدا ہونے والی دوریوں کو اگر عورت حل نہیں کر پا رہی تو حدود پار کرنے سے بہتر ہے کہ وہ قانونی راستہ اختیار کرے جس میں ذلت کی اذیت کم ہو گی اور یہی مشورہ مردوں کے لیے بھی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •