سوئے اتفاق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچپن سے میری خواہش رہی ہے کہ کسی طرح نئی جگہیں دیکھوں، نئے نظریات سے آشنا ہو جاؤں، نئے لوگوں سے ملوں اور ان سے زندگی کے تجربات کے بارے میں پوچھ گچھ کر کے بہت ساری باتیں سیکھوں۔ میرا خیال ہے کہ یہ ایک مثبت شوق ہے۔ ایسا کرنے سے بہت ساری ایسی باتوں سے واقفیت ہو جاتی ہے جو کتابوں میں نہیں پائی جاتیں۔ اللہ کا کرم ہے کہ ہر جگہ میری اس خواہش کا سامان ہو ہی جاتا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی میں شام کا وقت ہو اور چائے نہ پی جائے، یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ہاسٹل کے کینٹین میں اپنے نئے دوست فراز کے ساتھ چائے پینے بیٹھا تھا۔ فراز سے پہلی ملاقات ایک ہفتہ پہلے یونیورسٹی کی مرکزی لائبریری میں ہوئی تھی اور پہلی ہی ملاقات میں دوستی ہو گئی۔ وہ بلوچستان کے ایک خوبصورت لیکن پس ماندہ علاقے سے ہے اور پنجاب یونیورسٹی سے نفسیات میں بی ایس کر رہا ہے۔ کچھ گپ شپ کے بعد میں نے فراز سے پوچھا:

یار مجھے اپنے علاقے اور اس کے حالات و واقعات کے بارے میں بتا دیں۔ کیسی جگہ ہے، لوگ کیسے ہیں اور وہاں زندگی کیسی ہوتی ہے؟

فراز شاید اس سوال کی توقع نہیں کر رہا تھا۔ بولا: یار تم تو جانتے ہی ہو بلوچستان کے حالات۔ کیوں نہ کسی تفریحی موضوع پر بات ہو جائے۔

ان کا جواب سن کر میرا اشتیاق مزید بڑھ گیا اور کہا کہ مجھے کچھ خاص معلومات نہیں ہیں، آپ ہی بتا دیں، کچھ۔ شروع میں وہ ٹال رہے تھے، لیکن مسلسل اصرار پر آخر کار بول ہی پڑے۔

فراز: ظہیر، میں بلوچستان کے ایک انتہائی خوبصورت علاقے سے ہوں۔ مجموعی طور پر یہ ایک پہاڑی لیکن زرخیز علاقہ ہے۔ ہر سو سرسبز پہاڑوں کا ایک سلسلہ پھیلا ہوا ہے۔ رنگ برنگ پھل، پھول، پودے اور درخت ایک جنت نظیر وادی کا منظر پیش کرتے ہیں۔ فطرت اپنی آغوش میں دل کش حسن، مستی اور ادا سمیٹے ہر صاحب ذوق کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ پرند اور چرند کی بہتات ہے۔ تتلیوں کا رقص، جگنوؤں کی چمک دمک، بے خودی طاری کرنے والا بہتے پانیوں کا سرور اور زمان و مکان سے بے نیاز کرنے والے سکوت کے علاوہ انسان کو کسی اور دنیا میں لے جانے کے لیے کافی سامان موجود ہے۔ ہر منظر دل ربائی، موسیقیت اور رعنائی سے لبریز ہے۔ یہاں چاروں موسموں کا مزاج معتدل رہتا ہے۔ موسم میں ہر نئی تبدیلی نئے خمار کو جنم دیتی ہے۔

لوگ سیدھے سادہ ہیں اور مل جل کر رہتے ہیں۔ دیہی زندگی اپنی فطری خوبصورتی کے ساتھ رواں دواں ہے۔ صدیوں پرانی ثقافت کے آثار اب بھی موجود ہیں۔ مہمان نوازی، ننگ و غیرت، بزرگوں کی تعظیم و تکریم، مذہب سے بے پناہ محبت اور ایک دوسرے کی خوشی اور غمی میں شرکت یہاں کی زندگی کے لازمی جزو ہیں۔

میں : واہ! کیا بات ہے۔ مجھے تو آپ کا علاقہ بھا گیا۔ دل فوراً اس جنت کی طرف اڑ جانے کے لیے مچل رہا ہے۔ اگر میں ایک بار گیا تو شاید وہاں کا ہو کر رہوں۔ آپ نے تو بالکل میرے خیالوں کی جنت کی منظر کشی کر دی۔

فراز: یار، ہمارا علاقہ واقعی بہت خوبصورت ہے لیکن جو کچھ تم نے سنا وہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے۔ کہانی ابھی پوری نہیں ہوئی۔

(فراز کے اس نئے انکشاف سے میرے دل کو بہت ٹھیس پہنچی اور میں اس کی پوری بات سننے کے لیے بے تاب ہو گیا)

میں : کیا مطلب؟ اب یہ دوسرا رخ بیچ میں کہاں سے آ گیا؟

فراز: خان صاحب! ایک عرصے سے ہمارا گلستاں کچھ الوؤں کے نرغے میں ہے۔ ان کی نحوست پورے گلستاں پر چھائی ہوئی ہے۔ ایک ایک شاخ ان کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ روز ایک شاخ ٹوٹ جاتی ہے۔

کیسا شعر ہے وہ۔ ہاں!
دیوار چمن پر زاغ و زغن مصروف ہیں نوحہ خوانی میں
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہو گا

گلستان کے باسی گل و بلبل کی حفاظت کی ذمے داری، بار بار پرانے روایتی مالیوں کو تفویض کرتے ہیں اور خود کو بری الذمہ سمجھ کر تماشا کرنے یا یوں کہیے خود تماشا بننے آرام سے بیٹھ جاتے ہیں۔ جو مالی باغ کی رکھوالی پر مامور ہیں، وہ خود اس کی سلامتی کے لیے خطرہ بن گئے ہیں۔ بے حسی چار سو پھیلی ہوئی ہے۔ مکمل خاموشی ہے۔

کوئی بھی پوچھنے والا نہیں۔

میں : یار ایسے کیسے ہو سکتا ہے؟ کون اپنی جنت ویران کرنے کے لیے خود اس کو دوسروں کے ہاتھ میں دے گا! کیا وہاں کے لوگ اتنے بے حس بن گئے ہیں؟ کیا وہاں رکھوالی کے لیے صرف خود غرض اور لالچی لوگ بچے ہیں؟ پورا معاشرہ کیوں کر کھرے اور کھوٹے میں فرق کرنے سے قاصر ہو سکتا ہے! مجھے کھل کے بتا دو کیا ماجرا ہے یہ سارا؟

فراز: یار دنیا کافی آگے بڑھ گئی لیکن ہمارے لوگوں کی سوچ اب تک ویسی ہی فرسودہ اور دقیانوسی ہے۔ پہلے پہل لوگ سرداروں، خوانین اور وڈیروں کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہو جاتے تھے۔ اب بھی ویسا ہی ہے بس ان لوگوں نے سیاست دانوں کا روپ دھار لیا ہے۔ پہلے یہ لوگ بڑی حد تک ہماری مرضی کے بغیر ہم پر مسلط ہو جاتے تھے اور اب ہم خود ان کو وہی اختیارات دیتے ہیں۔ ہمارے ذہنوں میں اب بھی عزت، دانائی اور بزرگی کا معیار پیسہ، شہرت، بنگلا اور جائیداد یا اس کے علاوہ کسی کی نام نہاد پارسائی ہے۔ اس لیے اب بھی ہم انہی لوگوں سے متاثر ہوتے ہیں، انہی لوگوں کو پوجتے ہیں اور انہی لوگوں کو اپنا زمام قیادت تھما دیتے ہیں، خواہ ان کی علمی، اخلاقی اور قائدانہ رتبہ بالکل صفر ہی کیوں نا ہو۔

گنتی کے چند لوگ جو طویل عرصے سے ہمارے خدا بنے بیٹھے ہیں، بھی ہمارے لوگوں کی اس جاہلانہ نفسیات سے پوری طرح واقف ہیں اور اس سے بھر پور استفادہ بھی کرتے ہیں۔ اسی لیے تو انتخابات کے قریب کبھی کسی کی شادی میں وارد ہوتے ہیں تو کبھی کسی کے یہاں جنازے یا تعزیت کے لیے نازل ہو جاتے ہیں۔ کسی کو اپنی بڑی سی گاڑی میں بیٹھے ہوئے دور سے سلام پھینکا، تو کسی کے لیے اپنے مبارک ہونٹوں پر مسکراہٹ سجا دی۔ کسی کے سامنے اپنی پارسائی اور اپنے سفر حج کے کشف و کرامات کا ذکر چھیڑا تو کسی کے سامنے تسبیح کی نمائش کرلی۔

جہالت، اوچھے پن اور کم ظرفی کی انتہا دیکھ لو، بجائے ان لوگوں کی اصلیت پہچاننے کے، لوگ سیاست دانوں کا یہ رویہ دیکھ کر الٹا خوش ہو جاتے ہیں۔ وہ خود کو بڑے خوش نصیب سمجھ لیتے ہیں کہ دیکھو فلاں نے از راہ کرم مجھے سلام کیا تھا، مسکرا دیے تھے، تعزیت کے لیے آئے تھے۔ فلاں تو دن رات وضو میں رہتے ہیں، ذکر و فکر کرتے رہتے ہیں۔ اس بار تو ووٹ پکا اسی کا ہے۔ ارے بابا، ان لوگوں کو ہم اسمبلی میں اس لیے نہیں بھیجتے کہ کل کو یہ ہمارے جنازے پڑھائیں، ہمیں سلام کریں یا ہمیں اپنی نیکیوں کی داستانیں سنائیں۔ یہ ان کا اور خدا کا ذاتی معاملہ ہے۔ ان کو اس لیے بھیج دیتے ہیں کہ ان کو حکومت ہمارے محصولات سے اخذ شدہ رقم میں سے جو رقم دیتی ہے، اس کے ذریعے ہمارے مسائل حل کر دیں اور ہمارے مذہب، ثقافت اور ضروریات کے مطابق مناسب قانون سازی کر لیں۔

لیکن جب لوگ اس قدر جاہل ہوں تو ہمیں ہمارا حق کیوں ملے۔ قوم کے پیسوں سے سیاستدان خوب عیاشی کرتے ہیں، بڑے شہروں میں نت نئے بنگلے تعمیر کرتے ہیں، نئے کاروباری مراکز بناتے ہیں، اپنے بچوں کو سامان عیاشی کے ساتھ ساتھ مہنگے اداروں میں تعلیم دلواتے ہیں تا کہ کل کلاں یہی بچے ہم پر مسلط کیے جائیں۔

میں : یار فراز، سارے لوگ تو ایسے نہیں ہوں گے۔ گنتی کے کچھ لوگ ہوں گے۔

فراز: نہیں ظہیر، گنتی کے لوگ ہوتے تو کیا خوب ہوتا۔ ہمارے یہاں تو چند ایک افراد کے علاوہ پوری آبادی بے شعور اور بے ضمیر ہے۔ عین انتخابات کے دنوں میں لوگ اتنی کم قیمت پر بک جاتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ مجھے آپ کو بتاتے ہوئے شرم آتی ہے، لیکن ہمارے یہاں نظریاتی لوگ ناپید ہیں۔ لوگ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ میلے میں کون ان کی قیمت زیادہ لگاتا ہے۔ کسی کی قیمت دس بیس ہزار روپے ہوتی ہے، کسی کا مول ایک موٹر سائیکل ہوتا ہے، کوئی پانی کے کنویں یا پانی کی ترسیل کے لیے مستعمل پائپ کے عوض بک جاتا ہے، تو کوئی اپنے جرم میں سیاست دان کی مدد کے ذریعے اپنی گلو خلاصی پر سر جھکا دیتا ہے۔ کچھ نمونے ایسے بھی ہیں جو بریانی کی ایک پلیٹ پر بھی دل و جان نثار کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔

ہمارے یہاں ایسے بہت سارے خاندان موجود ہیں جو سیاست دانوں کی کرم نوازی سے ملنے والی معمولی ملازمت کی وجہ سے عمر بھر کے لیے غلامی قبول کرلیتے ہیں اور ہر جگہ، ہر پلیٹ فارم پر اپنے آقاؤں کے لیے مرنے مارنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔

میں : یار آپ کا علاقہ تو پھر انتہائی حسین ہوتے ہوئے بھی ناقابل سکونت جگہ ہے۔ کسی بھی مقام کی خوبصورتی اور بد صورتی میں وہاں کے رہنے والوں کے زاویۂ فکر کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ اگر لوگ سیاسی طور پر اتنے بدھو ہیں تو پھر تو آپ کی یہ جنت بہت جلد ویران ہو جائے گی اور سیاستدانوں کا کیا ہے، وہ تو بڑے بڑے شہروں میں موجود اپنے بنگلوں میں منتقل ہو جائیں گے لیکن آپ لوگوں کا کیا بنے گا۔ مجھے یہ بتا دو کہ جن لوگوں کے دلوں میں اپنی قوم اور علاقے کے لیے تھوڑی بہت ہم دردی باقی ہے، وہ باقی لوگوں کو سمجھاتے کیوں نہیں ہیں یا وہ خود میدان سیاست میں کیوں نہیں آتے؟

فراز: یار ایسے لوگ بہت ہی تھوڑے ہیں اور اکثر سیاسی معاملات سے کنارہ کش رہتے ہیں۔ دوسروں کو اس معاملے میں سمجھانا ان کے نزدیک گناہ ہے۔ وہ لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر خود کو آزاد اور ل اتعلق سمجھتے ہیں۔ ان لوگوں میں سے جب کوئی کسی کو سمجھانے کی ہمت کر بھی لیتا ہے تو کوئی بھی اس کی باتوں کو اہمیت نہیں دیتا۔ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی اس قدر بگڑی سوچ کو بدلنا بڑے دل گردے کا کام ہے۔ خاص طور پر جب لوگ خود کو عقل کل سمجھ کر اپنی سوچ میں ذرا سی بھی تبدیلی لانے پر آمادہ نہ ہوں۔

رہی بات ایسے درد دل رکھنے والوں کا خود میدان سیاست میں قدم رکھنے کی تو اس کا تو ایسے معاشرے میں سوچنا بھی خود اپنا مذاق اڑوانا ہے کیوں کہ ہمارے معاشرے میں سیاست میں آنے کے لیے اچھا خاصہ پیسہ ہونا چاہیے، بڑے بڑے کاروباری مراکز ہونے چاہئیں، عوام الناس میں اچھا خاصا شہرہ ہونا چاہیے، کئی ایک بنگلے، گاڑیاں اور وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی جائیداد ہونی چاہیے، ایسی سرکاری ملازمت ہونی چاہیے جس سے ایک طرف لوگوں کو مرعوب کیا جا سکے، تو دوسری طرف اس کا سہارا لے کر لوگوں کے دل جیتنے کے لیے ہر جائز و نا جائز حربہ استعمال کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ آپ کو حاجی ہونے کا شرف حاصل ہونا چاہیے اور ساتھ ساتھ معاشرے میں مذہبی طور پر نیک سمجھے جانے والوں کے ساتھ نا چاہتے ہوئے بھی اپنی عقیدت کی اداکاری کرنی چاہیے تا کہ جو لوگ مذہب سے عقیدت رکھتے ہوں، ان کو مذہب کا چورن پیش کیا جا سکے۔

تب کہیں جا کر لوگ آپ کو سیاست کے لیے موزوں قرار دیں گے اور ظاہر ہے آپ کو ووٹ بھی عنایت فرمائیں گے۔ لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جن لوگوں کے دلوں میں بغیر کسی لالچ کے ملک و قوم کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ ہوتا ہے وہ اس قسم کی شاہانہ املاک نہیں رکھتے اور قدرت نے جن لوگوں کو اس قدر مال و متاع سے نوازا ہے وہ درد دل سے خالی فقط اپنی سرمایہ دارانہ سوچ کے ساتھ اپنے اثاثہ جات بڑھانے کی فکر میں رہتے ہیں۔

اس لیے ہمارے یہاں سیاست مڈل یا لور کلاس کے لوگوں کے بس کی بات نہیں ہے چاہے وہ اخلاقی، فنی اور علمی لحاظ سے سب سے زیادہ اہل کیوں نہ ہوں۔ یعنی سیاسی امیدوار کے لیے فنا فی القوم ہونے کی بجائے فنا فی المال ہونا چاہیے تب قوم آپ کے شانہ بشانہ کھڑی ہو گی۔ اس کے علاوہ ایک بڑی تعداد ایسوں کی ہے جو بظاہر تو خود کو مکمل غیر جانبدار ظاہر کر رہے ہوتے ہیں، ببانگ دہل اپنی دانشوری اور سیاسی بصیرت سے متعلق دھاک بٹھانے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہوتے ہیں، سیاست دانوں پر لعن طعن بھی کر رہے ہوتے ہیں اور بار ہا ہر سیاسی پارٹی سے اپنی لا تعلقی کا چیخ چیخ کر اظہار بھی کر رہے ہوتے ہیں لیکن پس پردہ وہ بھی مروج سیاستدانوں میں سے کسی نہ کسی کے گن گا رہے ہوتے ہیں اور مختلف مواقع پر ان کی اصلیت کھل ہی جاتی ہے۔

میں : اچھا چلو جو لوگ ان سیاسی بھیڑیوں پر ناقابل تسخیر حد تک ایمان لا چکے ہیں، ان کو تو چھوڑ ہی دیتے ہیں لیکن آپ کے یہاں تو بہت سارے اسکول اور کالج بھی ہوں گے جن میں ہزاروں طلبا و طالبات زیر تعلیم ہوں گے۔ ظاہر ہے وہ جدید سیاسی نظریات اور بین الاقوامی انسانی حقوق سے بھی واقف ہوں گے۔ وہ کیوں ان بد عنوان سیاستدانوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ ان کے سروں پر تو معاشرے کی صحیح سمت میں رہنمائی کرنے کا عظیم فریضہ ہے، وہ کیوں ریوڑ کی بھیڑ بکریوں کی طرح ہجوم کے سمندر میں بہے جا رہے ہیں؟ کیا ان میں بھی سیاسی بصیرت کی اس قدر قلت ہے؟

فراز: یار، آپ کی بات بالکل درست ہے۔ بہت سارے اسکول ہیں اور کالج بھی۔ لیکن وہاں طلبا و طالبات کی نظریاتی تربیت کی بجائے زیادہ تر توجہ مخصوص نصابی کتب میں موجود مشقی سوالات کے جوابات رٹوانے پر ہوتی ہے تا کہ بچے امتحانات میں اچھے نمبر حاصل کر کے، ادارے کا نام خوب روشن کریں اور اس طرح ادارے کے لیے اپنے اشتہارات میں آسانی ہو۔ اکثر اساتذہ طلبا پر اپنے نظریات ٹھونس دیتے ہیں، جو ان کے بھی ذاتی نظریات نہیں ہوتے بلکہ کسی اور سے نقل کیے ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں شاگرد کا استاذ کے کسی خیال سے اختلاف کرنا بہت بڑی بے ادبی ہے۔ اگر کسی طالب علم میں کسی طرح سیاسی بصیرت پیدا ہو جائے تو بھی اس کا کچھ خاص فائدہ نہیں ہے، کیوں کہ ہمارے یہاں اچھے خاصے نوجوان لڑکے بھی اپنی مرضی کے مطابق ووٹ نہیں ڈال سکتے۔ ان کا رہنما وہی ہوتا ہے جو ان کے آقا نما بڑوں کا ہوتا ہے۔ اگر کوئی لڑکا انحراف کر کے کسی اور پارٹی کے امیدوار کو چن لے تو اکثر اوقات اس کی بڑی شامت آ جاتی ہے۔

رہی بات لڑکیوں کی تو ان بے چاریوں کو تو پہلے اسکول اور خاص طور پر کالج جانے کی اجازت نہیں ملتی اور اگر بالفرض کسی خوش نصیب کو اجازت مل بھی جائے، تو ووٹ ڈالنے کی اجازت تو بالکل نہیں ملتی، کیوں کہ کسی لڑکی کے کالج جانے یا ووٹ ڈالنے سے اس کے ”غیرت مند“ باپ اور بھائیوں کی غیرت پر آنچ آتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ جب میراث میں ملی جائیداد کی تقسیم کا وقت آتا ہے اور یہی لڑکی اپنے آئینی و شرعی حصے کا مطالبہ کرتی ہے تو اس کے انتہائی غیرت مند باپ اور بھائیوں کی غیرت گھاس چرنے کہیں دور چلی جاتی ہے۔ اس ظلم میں خود کو بڑے انصاف پسند، جمہوری اور حقوق نسواں کے علم بردار ماننے والوں سے لے کر خود کو بڑے دانشور، فقیہ اور دیندار سمجھنے والے سب ملوث ہیں۔

منگوائی گئی چائے ختم ہو چکی تھی۔ ابھی فراز سے اور بہت کچھ سننا تھا، لیکن بغیر چائے کے ایسی موضوع پر مزید بحث کرنا میرے بس سے باہر تھا۔ اس لیے میں نے ویٹر کو مزید چائے لانے کے لیے آواز دی۔ چائے فوراً حاضر کر دی گئی۔ روح کو چھو لینے والی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ اندھیرا چھا جانے کے آثار آہستہ آہستہ بڑھ رہے تھے۔ ماحول میں خاموشی گہری ہوتی جا رہی تھی۔ چائے کی پہلی سپ لینے سے پہلے میں نے گفتگو دوبارہ جاری کر لی۔

میں : یار فراز، یہ تو بہت ہی برے حالات ہیں۔ ایسے میں اگر کسی میں ذرا سی بھی زندہ دلی ہو اور وہ مروج معاشرتی اقدار سے ہٹ کر کچھ کر گزرنے کا سوچتا ہو تو ایسے معاشرے میں رہنا اور اپنی آنکھوں سے یہ سب کچھ دیکھنا کس قدر گراں ہوگا۔

دقیانوسیت اور بے حسی کی اس وادی میں گنے چنے چند افراد کا نئے اور منفرد نظریات کے ساتھ جینا بالکل قید تنہائی جیسی زندگی ہوگی۔

ایک بات بتاو، میں نے کئی بار یہ بات نوٹ کی ہے کہ آپ سب حالات و واقعات جانتے ہوئے بھی اچھے خاصے پر امید نظر آتے ہیں۔ آخر آپ کس سے امید لگائے بیٹھے ہیں؟ آخر کون لوگ ہیں جو اس اندھیر نگری میں امید کا دیا جلا کر معاشرے میں ایک انقلابی سوچ کو جنم دے سکتے ہیں؟ کون ہیں جو اپنے ہم وطنوں کو ان کے حقوق اور ان کے ووٹ کی طاقت کے بارے میں بتا کر مسلط شدہ فراعین سے نجات دلا سکتے ہیں؟ کون ہیں جو اقتدار کے ایوانوں میں موجود خود غرض اور کرپٹ مافیا سے پائی پائی کا حساب لینے کے لیے کمر بستہ ہوسکتے ہیں؟ مجھے بتاو کچھ تا کہ میں بھی سکون سے کچھ سانس لے سکوں!

فراز: یار ظہیر، میں نے وادی کی نو خیز نسل کی آنکھوں میں ایک چمک دیکھی ہے۔ ایک ایسی چمک جس کی شدت معاشرے میں موجود گہری تاریکیوں کو مٹا دینے کی طاقت رکھتی ہے۔ میں نے ان آنکھوں میں ہر قسم کے ظلم، جبر اور جہالت کے خلاف ایک پرزور بغاوت دیکھی ہے۔ ان روشن، مستعد اور دیکھنے والی آنکھوں کے سامنے زمانے کا کوئی بھی فرسودہ نظام ٹھہرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ اس نسل کے خون میں ایک ترنگ، جوش اور جذبہ ہے۔ یہ جاگتے ہوئے خواب دیکھنے والی اور پھر ان خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے میں ہر دم مگن رہنے والی نسل ہے۔ نوعمر نسل جاہلیت، منافقت اور دقیانوسیت سے پاک ایک بالکل ترقی پسند، انقلابی اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نسل ہے۔ یہ نسل گونگی، بہری اور اندھی نہیں ہے بلکہ ہر دم ہوشیار رہنے والی، شاہین کی طرح بلند پرواز اور تیز نظر ہونے کے ساتھ ساتھ ہر لمحہ ایک نئے خواب کی تعبیر کی جستجو میں منہمک نسل ہے۔

میری تمام امیدوں کا محور نوجوان نسل میں سے موجود وہ گنے چنے چہرے ہیں جنہوں نے بھیڑ کے ساتھ چلنے سے انکار کیا ہے اور ان ہی انقلابی نوجوانوں کی رہنمائی میں چلنے والی موجودہ نونہال نسل ہے جس کی بدولت بہت جلد اپنی جنت جیسی وادی میں موجود ہر قسم کی برائی کی بیخ کنی ممکن ہو جائے گی۔ بس اب جدید تعلیم سے اس نئی فصل کی آبیاری کرنے کی دیر ہے۔ پھر آپ دیکھنا، چند سالوں میں فصل پک جائے گی اور پھر کوئی بھی گنوار یا تاریک خیال نو عمر نسل کو درست سمت پر چلنے سے نہیں روک سکے گا۔

ہم چند نوجوانوں نے اپنے علاقے میں بچوں اور بچیوں کے لیے ایک تنظیم بنائی ہے۔ اس تنظیم کا مقصد تعلیمی سفر میں پیش آنے والی ہر چھوٹی بڑی رکاوٹ کو دور کرنا ہے۔ ہم نے علاقے میں موجود ایک پرائیویٹ سکول، جو ہماری ہی تنظیم میں موجود ایک دوست کے والد کی ملکیت ہے، کی عمارت کو اپنا مرکز بنایا ہے۔ دوپہر کے بعد علاقے میں موجود ہم خیال دوست جمع ہو جاتے ہیں، طلبا و طالبات کو درپیش مسائل اور چیلنج پر بات کرتے ہیں۔ عصر کے قریب علاقے کے بچے اور بچیاں کتابیں بغل میں دبائے حاضر ہو جاتی ہیں۔ نصابی کتب میں موجود دشواریوں کو دور کرنے کے لیے ہر قسم کی ممکن کوشش کی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ بچوں اور بچیوں کو پڑھنے کے لیے بہت ساری غیر نصابی کتابیں بھی مہیا کی جاتی ہیں۔ ان کی اخلاقی اور نظریاتی تربیت پر بطور خاص توجہ دی جاتی ہے۔ اہل علاقہ کی اکثریت چوں کہ غریب ہے، اس لیے اکثر بچے گلی کوچوں میں مختلف چیزیں بیچ کر، حتیٰ کہ کبھی کبھی کراچی، لاہور اور دوسرے بڑے شہروں میں جا کر مزدوری کر کے مالی امور میں اپنے غریب والدین کی مدد کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اس لیے درس و تدریس کے ساتھ ساتھ ہم مختلف ذرائع سے طلبا و طالبات کو در پیش مالی مسائل کا بھی پتا کرتے رہتے ہیں اور پھر چند مخیر حضرات کی مدد سے ان غریب اور مستحق بچوں اور بچیوں کی مالی مدد کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی توجہ صرف تعلیم پر دیں۔

دو ہفتے قبل ہی ہماری تنظیم کے کچھ کارکن کوئٹہ گئے تھے اور وہاں کوئلہ کے کانوں میں مزدوری کرنے والے پانچ لڑکوں کو گاؤں واپس لاکر سکول میں مفت داخلہ دلوایا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ تنظیم کی طرف سے خفیہ طور پر ان کے خاندان کی مالی مدد بھی کی گئی تھی۔ اب تو ہم نے قرب و جوار میں بھی کچھ دوستوں کی مدد سے اپنی تنظیم کی شاخیں قائم کی ہیں۔ ہم خود بھی مہینے میں ایک دو بار وہاں جاکر ماحول اور حالات و واقعات کا معائنہ کرتے ہیں۔

فراز کا آخری جواب سننے کے بعد میرے پاس پوچھنے کے لیے مزید کچھ نہ تھا۔ جب ہم نے گفتگو شروع کی اور فراز اپنی وادی کی خوبصورتی بیان کرتے ہوئے رفتہ رفتہ وادی کو درپیش مسائل پر بات کرنے لگا تو شروع ہی سے مجھے فراز کی باتوں نے حیران و پریشان کر دیا تھا۔ اکثر اوقات میں وہاں موجود ہوتے ہوئے بھی غیر موجود ہوتا کیوں کہ فراز باتیں تو اپنی وادی کی کر رہا تھا لیکن اس کی وادی اور میری وادی ”شانگلہ“ میں اس قدر یکسانیت تھی کہ اکثر اوقات مجھے یوں لگتا جیسے میں گاؤں سے آئے ہوئے اپنے ہی کسی کلیوال (ایک ہی گاؤں کا رہنے والا) سے اپنی ہی شانگلہ کے بارے میں باتیں کر رہا ہوں۔

میں پانچ مہینوں سے گاؤں نہیں گیا تھا۔ فراز کی باتیں سننے کے بعد شدت سے شانگلہ کی یاد ستانے لگی اور جب مسائل پر بات شروع ہوئی تو دل مارے درد کے تڑپنے لگا اور یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے دل سینہ چیر کر باہر آنے کو ہے۔ میں نے اپنے محسوسات اور جذبات فراز سے مخفی رکھنے کی بھر پور کوشش کی۔ میں اس کو اپنے علاقے کی بالکل ویسی یا اس سے بھی بدتر روداد سنا کر خفا نہیں کرنا چاہتا تھا۔

آخر میں جب فراز نے ہم خیال دوستوں کی مدد سے بنائی گئی تنظیم کے بارے میں بات کی تو مجھے اس پر اور اس کے شانہ بشانہ کھڑے نوجوانوں کی سوچ، ہمت اور قربانیوں پر رشک آنے لگا۔ مجھے فراز ایک عالمی شہرت رکھنے والا عظیم سماجی مصلح نظر آنے لگا۔ اس کے چہرے میں مجھے کئی ایک عظیم انسانوں کے چہرے دکھائی دیے۔ خوشی اور غم کے ملے جلے جذبات سے دل معمور تھا۔ خوشی اس بات کی تھی کہ وطن عزیز میں فراز جیسے باہمت، نیک سیرت اور قوم کے غم میں ڈوبے نوجوان موجود ہیں اور غم اس بات کا تھا کہ مجھے اپنی وادی یاد آ رہی تھی جس کی حالت فراز کی وادی سے بھی زیادہ ابتر تھی اور وہاں ایسی کسی تنظیم کا کوئی وجود بھی نہیں تھا۔

خاص طور پر جب فراز نے کوئٹہ میں موجود کوئلہ کے کانوں سے لائے گئے طالب علموں کی بات کی تو مجھے اپنے گاؤں کے ان طالب علموں کی یاد آ گئی جنہوں نے کچھ ہی عرصہ پہلے کوئٹہ میں ملبے تلے دب کر جانیں دی تھیں۔ مجھے اپنے گاؤں کے وہ سفید ریش یاد آنے لگیں جو انہی کانوں میں کام کرنے کی وجہ سے اپنی ہڈیاں خراب کر کے چلنے پھرنے سے قاصر ہو گئے ہیں۔ اپنے گاؤں کا وہ نوجوان یاد آ گیا جو جب کبھی کوئلے کے کان میں کام کرنے والے دوستوں کے ساتھ لی گئی سیلفی اپلوڈ کرتا ہے تو چہرے پر کوئلہ مل جانے کی وجہ سے اس کو پہچانا نہیں جاسکتا۔ اس کے ساتھ ساتھ مجھے اپنے علاقے کے سیاست دانوں کے شانگلہ اور ملک کے دوسرے علاقوں میں موجود بڑے بڑے بنگلے، ان کی بے شمار بڑی بڑی گاڑیاں، ملک کے مہنگے ترین تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم اور پیسوں سے کھیلتے ان کے موٹے تازہ بچے بھی یاد آ گئیں۔

شانگلہ میں معمولی سی آپریشن کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے سوات کی طرف جاتے ہوئے ان مریضوں کو کیسے بھول سکتا تھا جو اکثر اوقات راستے ہی میں اللہ کو پیارے ہو جاتے ہیں۔ مجھے ان سیاستدانوں کے چہروں پر موجود رعونت اور زندہ باد مردہ باد کے فلک شگاف نعرے لگانے والے ان کے وہ چاپلوس بھی یاد آ گئیں جو مٹھی بھر ذاتی منفعت کے لیے اپنا ضمیر بیچ دیتے ہیں۔

یہ وہی لوگ ہیں جو سیاست میں آنے سے پہلے انتہائی معمولی سرکاری ملازم تھے اور یا کچھ عام سے ٹھیکے دار تھے لیکن آج اپنی بے نظیر بدعنوانی کی بدولت کروڑوں میں کھیل رہے ہیں۔ یہ لوگ شانگلہ جیسی جنت نظیر وادی کو لوٹ کھسوٹ کے ذریعے اتنا تباہ حال کرچکے ہیں کہ شانگلہ سے باہر کسی کے سامنے یہ بھی نہیں کہ سکتے کہ ان کا تعلق اسی پسماندہ ضلع سے ہے۔ آج اپنی شانگلہ ملک کے پسماندہ ترین اضلاع میں سے ایک ہے۔

بے شمار تلخ باتیں ذہن میں تھیں اور ان گنت مسائل کے تخلیق کار کئی ایک چہرے آنکھوں کے سامنے ناچ رہے تھے۔

چونکہ مزید کچھ پوچھنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی اس لیے میں نے فراز کو اس کی پر امید سوچ اور ”رات کے اندھیروں میں سیاست دانوں کی نفسانی تنظیم سازی“ کے بر خلاف دن دیہاڑے حقیقی اور ترقیاتی تنظیم سازی کرنے پر دل کھول کر داد دی۔ اس کی کاوشوں کو خوب سراہا اور اگلی شام کو ملاقات کا وعدہ کر لیا۔ رخصت لینے کے بعد بہت ساری الجھنوں کو ذہن میں لیے اپنے کمرے کی طرف روانہ ہوا۔ چلتے ہوئے جب کامن روم کے پاس سے گزر رہا تھا تو سات بجے کی ہیڈ لائنز کی آواز نے سماعتوں کو چھو لیا:

”شانگلہ میں طویل عرصے سے مرکزی روڈ کی بر وقت مرمت نہ ہونے کی وجہ سے ایک فلائنگ کوچ کھائی میں گر گیا۔ نو افراد ہلاک، چار زخمیوں کی ’سوات‘ منتقلی“ ۔

” کوئٹہ میں کوئلہ کے کان میں جان بحق ہونے والوں کی شناخت مکمل۔ پانچ کا تعلق شانگلہ سے جب کہ دو بونیر سے ہیں۔ مرنے والوں میں جماعت دہم کا طالب علم بھی شامل“.

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ظہیر الاسلام شہاب کی دیگر تحریریں