ناری شکتی زندہ باد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

” مکیش بھیا، کل فادرز ڈے تھا۔ آپ نے اپنے پاپا کو کیا دیا؟“ میں نے اپنے ٹیوٹر سے پوچھا، جو مجھے اور میری بہن رفعت کو ہندی اور حساب پڑھانے ہمارے گھر آیا کرتے تھے۔
”زور کا ایک طمانچہ“۔ مکیش بھیا نے تیز آواز میں کہا۔
مکیش بھیا سے اس قسم کی گفتگو کی بالکل توقع نہیں تھی۔ وہ تو بڑے ہی خوش مزاج اور مہذب انسان تھے۔ ان کا برتاؤ ہمارے ساتھ بڑا مشفقانہ تھا۔ لیکن آج تو معاملہ ہی عجیب تھا۔ درشت لہجہ، خشمگیں آنکھیں اور خشونت زدہ چہرہ۔ یہ ہمارے والے مکیش بھیا تو نہ تھے۔
اپنے اپنے خیالوں میں گم ہم دونوں بھائی بہن سہمے ہوئے اپنی اپنی کاپیوں کے صفحات کو یونہی الٹ پلٹ رہے تھے۔
”سچ میں کل میں نے اپنے پاپا کو ایک طمانچہ مارا تھا۔“ مکیش بھیا بولے۔
پہلے تو ہم سمجھ بیٹھے تھے کہ مکیش بھیا نے ہم لوگوں کے سوال سے چڑ کر اس طرح کی بات کہی تھی۔ اب جب کہ پتا چلا کہ ایسا نہیں ہے تو ہمیں ذرا اطمینان ہوا۔ مگر ہمیں تعجب اس بات پر ہو رہا تھا کہ ایسا شخص اپنے باپ پر ہاتھ کیسے اٹھا سکتا ہے۔

مکیش بھیا انوگرہ نارائن کالج سے گریجویشن کر رہے تھے۔ جس اسکول میں میرے والد پڑھاتے تھے، وہیں مکیش بھیا طالب علم رہ چکے تھے۔ اسی بنا پر میرے والد سے ان کی مراسم تھے۔ میرے والد، ان کی بڑی تعریفیں کیا کرتے تھے۔ اور ان کے لئے ہونہار اور خود دار جیسے الفاظ استعمال کرتے تھے۔

”میں اپنے دکھ تم لوگوں کے علاوہ کسی اور سے بیان نہیں کر سکتا۔ لوگ تو مجھے ہی غلط سمجھتے ہیں۔ مجھے پتا ہے اس دفعہ بھی لوگ مجھے ہی لعنت ملامت کا نشانہ بنائیں گے۔“ مکیش بھیا ایک مغموم لہجے میں بولے۔ اور پھر اپنا قصہ یوں شروع کیا: میں اپنے ماں باپ کے ساتھ نہیں رہتا ہوں۔ میرا باپ بری طرح شراب میں ڈوبا رہتا ہے۔ میرا پورا بچپن اپنے باپ کی مار کھاتے اور اپنی ماں کو پٹتے ہوئے دیکھتے گزرا ہے۔ آج سے دو سال قبل کی بات ہے ایک روز میرا باپ نشے میں دھت دیر رات گھر آیا۔ میری ماں نے اسے کھانے کو دیا تو اس نے کھانا پھینک دیا اور اسے گالی دینا اور مارنا شروع کر دیا۔ وہ میری ماں کو مارتا رہا یہاں تک کہ وہ بے ہوش ہو گئی۔

اس دن میں نے اپنی ماں سے کہا کہ ”پانی سر سے اوپر جا چکا ہے۔ اب ہم لوگوں کو پاپا سے الگ ہو جانا چاہیے۔“ ماں نے میری تجویز کو یکسر مسترد کر دیا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ ”تیرے نانا بھی خوب شراب پی کر آتے تھے اور تیری نانی کے ساتھ مارپیٹ کرتے تھے۔ تو کیا تیری نانی نے انہیں چھوڑ دیا؟“
تعلقات کو بہر صورت استوار رکھنے کی اس روایت پہ مجھے بہت غصہ آیا۔ میں نے چڑ کر اپنی ماں سے پوچھا: ”آخر کتنی نسلوں تک یہ سلسلہ جاری رہے گا؟“
میری ماں نے پیار بھری نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے کہا: ”مجھے تو بس یہ یقین ہے کہ تو ایک اچھا شوہر ثابت ہوگا کیوں کہ تو ایک برے شوہر سے متنفر ہے۔“

میں نے کہا: ”نہیں ماں، ہونا تو یہی چاہیے لیکن اکثر ایسا ہوتا نہیں ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ مظلوم ظالم کے رنگ میں رنگ جاتا ہے۔ اس کی روشن مثال ایک انتہائی ظالم ملک ہے جس کو تشکیل دینے والے اور وہاں آباد ہونے والے خود یورپ میں بد ترین قسم کے مظالم اور غیر انسانی سلوک کا شکار ہوئے تھے۔“
ماں نے کہا کہ ”تیری بھاری بھرکم باتیں میرے پلے تو نہ پڑے ہیں۔“

میں نے عرض کیا ”آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ اپنے باپ سے مار کھانے والا ہر بچہ جب باپ بنتا ہے تو اپنے بچے کو اسی طرح مارتا ہے۔ کیا وجہ ہے؟ در اصل اسے لگتا ہے کہ کام کروانے کا، اپنی بات منوانے کا، ناراضگی ظاہر کرنے کا یہی ایک طریقہ ہے۔ ہاں، وہ لوگ اس مذموم سلسلے کو توڑنے میں کامیاب ہوتے ہیں جو حساس طبیعت کے مالک ہوتے ہیں اور خود احتسابی کے عمل سے گزرتے ہیں۔ ہمیں نہ صرف ظالم بن جانے سے بلکہ مظلومیت کی حالت میں پہنچ جانے سے بھی پناہ مانگنی چاہیے۔“

ہونا کیا تھا؟ میری ماں اپنے شوہر سے الگ رہنے پر رضا مند نہیں ہوئی۔ لیکن میں الگ ہو گیا۔ میں نے چھوٹا سا ایک کمرا کرایہ پر لے لیا اور ٹیوشن پڑھا کر اپنا گزارہ کرنے لگا۔ مجھے اپنے باپ سے ملاقات کرنے میں ذرا بھی دل چسپی نہیں تھی۔ البتہ، میں ہر ہفتہ ماں سے ملاقات کرنے جایا کرتا تھا۔

کل شام میں اپنی ماں کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ میرا باپ ہمیشہ کی طرح نشے میں دھت گھر پہنچا۔ مجھے دیکھتے ہی وہ پاگلوں کی طرح چیخنے لگا۔ ”یہ حرامی کیا کر رہا ہے اس گھر میں؟“
اس نے میرے ماں کو گالی دینا شروع کر دی اور پھر تڑاخ سے ایک طمانچہ جڑ دیا۔ اچانک میرا دماغ خراب ہوا اور میں نے اپنے باپ کو ایک ہاتھ دے مارا۔ معاً میری ماں نے زور کا ایک تھپڑ مجھے رسید کیا اور کہا کہ ”باپ پر ہاتھ اٹھاتا ہے، نا لائق“ ۔
”حامد، تم مسکرا کیوں رہے ہو؟“ مکیش بھیا نے مجھے ٹوکا۔

در اصل بھیا مجھے ملا نصیر الدین کا ایک واقعہ یاد آ گیا۔ اس کی بیٹی کو ایک روز اس کے داماد نے ایک تھپڑ لگا دیا۔ وہ اپنے باپ کے پاس شکایت لے کر پہنچی تو اس کے باپ نے بھی اسے ایک طمانچہ رسید کیا اور بولا کہ اپنے شوہر سے جا کر کہہ دینا کہ ”جب جب میری بیٹی پٹے گی، تب تب اس کی بیوی پٹے گی۔“
مکیش بھیا مسکرا دیے اور پھر ہماری پڑھائی شروع ہو گئی۔

پندرہ سال بعد ابھی اچانک مجھے مکیش بھیا یاد آئے، جب میں دہلی کے کستوربا گاندھی مارگ پر واقع برٹش کونسل میں ایک ڈسکشن میں شامل ہوں۔ اس کا موضوع ہے ڈومیسٹک وائلینس یا گھروں میں ہونے والا تشدد۔ انگریزی سیکھنے کی غرض سے میں نے یہاں ایک کورس میں داخلہ لیا ہے اور اس مباحثے کا اہتمام اسی کورس کا ایک حصہ ہے۔
اس مباحثے کی شروعات ہماری ٹیچر نے امریکی گلوکار ٹریسی چیمپئن کا گیت ’بی ہائنڈ دی وال‘ (پس دیوار) سنوا کر کیا۔ اس گیت میں گھریلو تشدد کی ایک واردات اور اس کے نتائج کے دل خراش مناظر بیان کیے گئے ہیں۔

”گزشتہ شب پس دیوار مجھے ایک چیخ سنائی دی، اور تیز آوازیں۔
اور یوں مزید ایک رات بے خوابی کی نذر ہو گئی
پولس کو بلانا لا حاصل تھا کیوں کہ اگر وہ آتے بھی ہیں تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے
اور جب وہ آتے ہیں تو فرماتے ہیں کہ میاں بیوی کے خانگی جھگڑے میں وہ دخیل ہونا نہیں چاہتے
اور جب وہ انہیں دروازہ سے باہر جاتے ہوئے دیکھتی ہے تو اس کی آنکھیں اشک بار ہو جاتی ہیں
گزشتہ شب مجھے اس کی چیخ سنائی دی
چیخ کے بعد کی خاموشی نے میری روح کو منجمد کر دیا
میں دعا گو تھی کہ یہ سب خواب میں وقوع پذیر ہو رہا ہو
تبھی میں نے ایمبولنس کو دیکھا
ایک پولس والا کہہ رہا تھا: ’میں امن بحال کرنے آیا ہوں۔ مجمع منتشر ہو جائے۔ میرے خیال میں ہم سب تھوڑی بہت نیند اور لے سکتے ہیں۔

یہ اندوہ ناک گیت اختتام کو پہنچا تو شرکا نے اپنے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ مباحثے کا با ضابطہ آغاز ہوتے ہی ارنب بھومک حسب عادت میدان میں سب سے پہلے کود پڑے۔ ارنب ایک سرکاری ملازم تھے اور بڑی چابک دستی کے ساتھ ہندی الفاظ اور محاورے کو انگریزی جملوں کا جامہ پہناتے تھے اور اس روانی کے ساتھ انہیں بروئے اظہار لاتے تھے کہ برطانیہ سے تعلیم حاصل کر کے آئی ہوئی ہماری ٹیچر کے آنکھوں کے ڈھیلے باہر آ جاتے اور منہ دیر تک پھٹا کا پھٹا رہتا۔ ارنب کی پر پیچ اور گنجلک باتیں سن کر میرے دماغ میں ٹی ایس ایلیٹ کی ایک لائن ناچنے لگتی: ’گلیاں یوں وارد ہوتی ہیں، جیسے دغا بازی کی نیت سے شروع کی گئی کوئی تھکا دینے والی بحث۔‘

ارنب نے منہ کھولتے ہی کہا کہ ”گاؤں دیہات کے ان پڑھ اور اجڈ لوگ اپنی بیویوں کو مارا کرتے ہیں۔“
یہ سنتے ہی تین شیرنیوں نے ان پر یلغار کر دیا اور وہ سٹپٹا کر بھیگی بلی بن گئے۔

تینوں میں سے ایک گرمہر غرائی: ”کیا اناپ شناپ بول رہے ہیں آپ؟ میں چنڈی گڑھ کی رہنے والی ہوں۔ بنگلور اور مسوری میں بھی میرا قیام رہا ہے۔ اب میں دو سال سے دلی میں مقیم ہوں۔ ہر جگہ میں نے اپنے اڑوس پڑوس میں اور اپنے رشتہ داروں کے گھروں میں عورتوں کو پٹتے ہوئے دیکھا ہے۔ اپنی بیویوں پر دست درازی کرنے والوں میں سول سروس کے ملازمین، پروفیسر صاحبان، ڈاکٹر اور انجینئر سب شامل ہیں۔ یہ ایک لغو بات ہے کہ صرف ان پڑھ اور دیہاتی لوگ اپنے گھر میں تشدد کرتے ہیں۔“
ارنب کو کاٹو تو خون نہیں۔ اس مباحثے میں دوبارہ لب کشائی کے لئے وہ ہمت نہ جٹا پائے۔ نتھنے پھلائے، بت بنے بیٹھے رہے۔

تینوں لڑکیوں نے پورے جوش اور ولولے کے ساتھ اپنی آپ بیتی، آنکھوں دیکھی اور کانوں سنی بیان کرنا شروع کیا۔ انہوں نے جس طرح سے تقدیس مشرق اور علم مغرب کی دھجی اڑائی وہ متوسط طبقہ کے شرفا اور یونیورسٹی کے طلبا کے لئے نا قابل سماعت تھا۔

ان لڑکیوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مشرق کے مذاہب اور فلسفے اور مغرب کی روشن خیالی اور عقلیت پرستی دونوں، انسان کو بحیثیت فرد اور اجتماعیت صحیح معنوں میں معتدل اور مہذب بنانے میں نا کام رہے ہیں۔

مباحثے میں شامل انکت نے بتایا کہ اس کے بہنوئی نے ایک مرتبہ اس کی بہن کو ایسا مارا کہ اس کے سر میں متعدد ٹانکے لگے۔ خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے اسے اتنی نقاہت ہو گئی تھی کہ ایک ہفتہ تک وہ بستر سے لگی رہی۔ ”اس وقت ہم لوگوں کو پتا چلا کہ اسے برابر زد و کوب کیا جاتا تھا۔ میری بہن ہم لوگوں کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی لہٰذا وہ ہم لوگوں سے یہ بات چھپاتی رہی۔ اسے یہ توقع تھی کہ اس کا شوہر آج نہ کل اپنی حرکت سے باز آ جائے گا۔ میری بہن کو اس بات نے بھی دبدھے میں ڈال رکھا تھا کہ وہ کرے تو کیا کرے۔ چوں کہ اس کا شوہر اسے آئس کریم کھلانے اور فلم دکھانے بھی لے جاتا تھا اور ساتھ ہی اسے ذلیل اور زد و کوب بھی کرتا تھا۔“

شیفالی بولی: ”ارے یہ ایک مکر جال ہے۔ وہ شخص پہلے اپنی بیوی کو مار دھاڑ کرے گا، اس کے جذبات اور نفسیات کو مجروح کرے گا اور اس کے بعد بڑا میٹھا اور خوشامدی بن جائے گا۔ یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہے گا تاوقتیکہ لڑکی بہادری کا ثبوت دے اور سختی کے ساتھ کہے کہ وہ اپنی حرکت سے باز آ جائے ورنہ یہ رشتہ نہیں چل سکتا۔“

ابھی تک خاموش بیٹھی بہجت بول اٹھی: ”سچ تو یہ ہے کہ ان باتوں کو عمل میں لانا نہایت مشکل ہے۔ وجہ صاف ہے۔ ہماری گھٹی میں یہ بات پلائی جاتی ہے کہ سسرال میں بہت ساری باتوں اور رویوں کو برداشت کرنا ہے تا کہ ہم اپنے شوہر اور اس کے گھر والوں کے ساتھ ایڈجسٹ کر سکیں۔ شوہر سے علیحدگی کی صورت میں دوسری شادی انتہائی مشکل امر ہے۔ مزید یہ کہ آج بھی اکثریت ایسی لڑکیوں پر مشتمل ہے جو شادی ختم ہونے کی صورت میں اپنی کفالت کرنے سے قاصر ہیں۔ اچھی تعلیم جو اچھے روزگار کی ضمانت ہوتی ہے لڑکیوں کی پہنچ سے باہر ہے۔“

شیفالی بولی: ”مگر مسئلہ یہ ہے کہ جو عورتیں ملازمت کرتی ہیں انہیں بھی یہی سب مسائل در پیش ہیں۔ نوکری کرنے کے علاوہ وہ گھر کا کام بھی کرتی ہیں، اور تنخواہ اکثر اوقات شوہر یا سسرال والوں کے حوالہ کر نی پڑتی ہے۔“

بہجت بولی: ”میں تو دیکھ رہی ہوں کہ لڑکیاں انجینئرنگ اور میڈیکل پڑھ رہی ہیں مگر سسرال والے ان کو اپنے پروفیشن کو برتنے نہیں دے رہے ہیں۔ ہاں، محفل میں۔ ضرور لوگوں سے کہتی پھرتی ہیں کہ میری بہو ڈاکٹر ہے یا انجینئر ہے یا کانونٹ میں پڑھی ہوئی ہے۔“

انکت نے کہا کہ ”پدر شاہی ذہنیت اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتی جب تک ہم اپنی زبان کا تنقیدی جائزہ نہ لیں، جب تک ہم یہ نہ دیکھیں کہ عورتوں کے تعلق سے ہم کس قسم کے الفاظ اور محاورے استعمال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ دیکھیے کہ شادی کی تقریب کے دعوت نامے میں دولہا کو ہم ’ور‘ لکھتے ہیں اور دولہن کو ’کنیا‘ ۔ لفظ ’ور‘ ’ورشٹ‘ سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے بر تر یا اعلیٰ۔ اور لفظ ’کنیا‘ ’کنشٹ‘ سے ہے جس کے معنی ہیں کمتر یا ادنی۔ در اصل زبان ذہنیت کی آئینہ دار ہوتی ہے اور ہماری ذہنیت ہماری زبان کی مرہون منت۔“

بہجت بولی: ”آج بھی ہمارے گھروں میں ’ساٹھا پاٹھا۔ بیسی کھیسی‘ جیسے محاورے بولے جاتے ہیں۔ ایک دل چسپ بات بتاؤں۔ چوں کہ میرے والد اس دنیا میں نہیں ہیں لہٰذا کسی کے یہاں سے میری امی کے نام شادی کا کارڈ آتا ہے تو اس پہ لکھا رہتا ہے ’اہلیہ جناب سلیم احمد مرحوم‘ یا ’والدہ اسلم پرویز‘ ۔ کسی شادی کارڈ کے مضمون کو پڑھیے تو لڑکا اور لڑکی دونوں کے والد کا نام ہوتا ہے لیکن والدہ کا نہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کو ان دیکھا کرنے کی ایک روایت چلی آ رہی ہے۔ ہاں، یہ اور بات ہے کہ اس پر ملمع یہ چڑھایا گیا ہے کہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کا نام لینا ایک معیوب بات ہے۔“

شیفالی بولی: ”ذرا ہم اپنی زبان میں موجود گالیوں کا بھی معائنہ کریں۔ ہمارا سارا غصہ اور بھڑاس عورتوں کا کاندھا، بلکہ اس کی شرم گاہ، استعمال کر کے یا اسے اپنے تصور میں پامال کر کے نکلتا ہے۔ ہمارے یہاں عصمت دری، زنا بالجبر، دختر کشی، جنین کشی وغیرہ کے واقعات کی کثرت کے پیچھے ہماری گندی زبان اور متعصب سوچ کا ہاتھ ہے۔

میں نے کہا: ”جب تک لوگوں کا رویہ نہیں بدلے گا کچھ نہیں ہو سکتا ہے۔“
گرمہر کور نے کرخت آواز میں کہا: ”غلط۔ جب تک عورت نہیں بدلے گی، تب تک کچھ نہیں ہو سکتا ہے۔ اسے دنیا کو بتانا ہو گا کہ وہ کیا چاہتی ہے اور کیا نہیں۔ اسے اپنے حقوق بڑھ چڑھ کر لینے ہوں گے۔ زندہ رہنے کا حق، اپنی پسند کا لباس پہننے کا حق، اپنا جیون ساتھی چننے کا حق، پڑھنے کا حق، کھیلنے کودنے کا حق، دیر رات تک لائبریری میں پڑھنے کا حق، نوکری کرنے کا حق، اپنی تنخواہ اپنے حساب سے خرچ کرنے کا حق، شادی کرنے کا حق، شادی نہ کرنے کا حق، بچے پیدا کرنے کا حق، بچے نہ پیدا کرنے کا حق، کتنے بچے پیدا کرنے ہیں یہ طے کرنے کا حق، شوہر کے جبراً ہم بستر ہونے پر احتجاج کرنے اور عدالت جانے کا حق، حکومتوں کی پالیسیوں کی مخالفت کرنے کا حق، باپ، بیٹے اور شوہر کے ساتھ رہتے ہوئے ان کے سیاسی اور اجتماعی نظریے سے اختلاف رکھنے کا حق۔“

شیفالی بولی: ”اگر ہم معاشی اعتبار سے مستحکم ہوں اور اپنے جیون ساتھی کا انتخاب خود کریں تو بڑی حد تک یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔“
گرمہر نے کہا: ”لیکن ایک ایسے ملک میں جہاں اتنے بڑے پیمانے پر غربت ہے، تعلیم کا نظام چوپٹ ہے اور حکومتوں کی ترجیحات کچھ اور ہیں، تمہیں لگتا ہے کہ عورتوں کی اکثریت کا معاشی اعتبار سے مستحکم ہونے کا خواب مستقبل قریب میں شرمندۂ تعبیر ہو سکتا ہے؟ رہی دوسری بات کہ اپنے جیون ساتھی کا خود انتخاب کر لیا جائے تو مسئلہ حل ہو جائے گا ایسا بالکل نہیں ہے۔ مرد اپنی پسند کا ہو یا باپ کی پسند کا، ہے تو وہی مرد سالا۔ یہ کہ کسی نے کوشش کر کے اپنے کو مہذب بنایا ہو۔“
مباحثے کا وقت ختم ہو ا۔ ٹیچر بولی: ”ویل ڈن! اب ہم لوگ آئندہ ہفتے ملیں گے۔“

میں کونسل کے احاطے سے باہر نکلا اور میٹرو اسٹیشن کی جانب قدم بڑھانے لگا۔ میں ابھی بیس پچیس قدم چلا تھا کہ میری نظر سات سے دس برس کے بیچ کی تین ایسی لڑکیوں پر پڑی جنہیں لوگ اسٹریٹ چلڈرن کہتے ہیں۔ ان میں سے ایک کے گود میں ایک شیر خوار بچہ تھا۔ ان بچیوں کے گرد سے اٹے اور یہاں وہاں سے پھٹے کپڑے، جھلسے ہوئے چہرے، چپل سے محروم پیر اور سینے کا غیر معمولی ابھار اس بات کا غماز تھا کہ وہ بیک وقت سخت موسم، گرسنہ جنسی بھیڑیے اور بھوک کا شکار ہیں۔ وہیں پہ موجود میک ڈونلڈ کے بازو والی دکان کے اوپر کپڑے کا ایک بڑا سا بینر لگا ہوا تھا، جس پہ لکھا تھا: ’بیٹی پڑھاؤ، بیٹی بچاؤ‘۔

اگلے موڑ پہ پہنچا، تو چند عورتیں دھرنا دے کر بیٹھی ہوئی تھیں اور وقفے وقفے سے ’ناری شکتی زندہ باد‘ کے نعرے لگا رہی تھیں۔ ان کی مانگ تھی کہ پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی بڑھنی چاہیے۔ ان خواتین کے جلو میں دو چار مرد حضرات بھی تھے، جن میں سے ایک ششی ٹھاکر تھے۔ ششی پر ایک عدالت میں اپنی گرل فرینڈ کو قتل کرنے کے الزام میں مقدمہ چل رہا ہے۔

میں میٹرو ٹرین پہ سوار ہو گیا۔ سیٹ پہ بیٹھے بیٹھے مجھے نیند آ گئی۔ چند منٹوں بعد ایسا شور مچا کہ میں چونک کر اٹھ گیا۔ اور غور کرنے لگا کہ یہ شور کیسا ہے۔ ایک لڑکی اور کچھ لوگ شور مچا رہے تھے کہ ’فلیش کیا، فلیش کیا‘۔ وہ لڑکی ٹرین سے اتر گئی۔

اگلے روز صبح میں نے اخبار میں پڑھا کہ ’نوکری سے واپس آ رہی ایک لڑکی نے میٹرو ٹرین میں جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کی شکایت درج کرائی ہے۔‘ دو دنوں بعد اخباروں کی سرخی تھی کہ ’پولیس نے گڑ گاؤں کے ایک اٹھائیس سالہ انجینئر مرد کو میٹرو ٹرین میں ایک لڑکی کے سامنے اپنی شرم گاہ کی نمائش کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔‘

اسی بیچ میں مجھے برطانوی اخبار ’دی انڈیپنڈنٹ‘ کا برسوں پرانا اداریہ یاد آیا، جس کی سرخی تھی کہ نسوانی حقوق کی لڑائی، ہنوز ایک نا مکمل پراجیکٹ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
فیصل ہاشمی، بہار، ہندوستان کی دیگر تحریریں