تاریخ کی غلام گردشوں میں پاور پالیٹیکس اور اختیار کی جنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آئیے تاریخ کی غلام گردشوں میں گھومتے ہیں۔ ملک آزاد ہوا تو ہمیں بیوروکریسی بھی انگریزوں کی دی ہوئی ملی۔ ریاستی ڈھانچہ بھی انہی کا بنایا ہوا تھا۔ بیوروکریسی، سول اور ملٹری، دونوں ملکہ برطانیہ کی وفادار تھیں۔ پاکستان بننے کے فوری بعد اس بیوروکریسی نے اپنے پر پرزے نکالنا شروع کر دیے جب کہ پاکستان کے سیاست دان ابھی کمزور تھے۔ پاکستان بننے کے چند ہی سالوں میں اسی بیوروکریسی نے سیاست دانوں کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اقتدار پر کلی طور پر قبضہ کر لیا۔

ایک صاحب ہوا کرتے تھے ملک غلام محمد۔ آپ انڈیا کی وزارت خزانہ میں فانینشل اڈیٹر کے عہدے پر کام کرتے رہے۔ 1947 میں آپ انڈین ریلوے سروسز میں آ گئے۔ جو بیوروکریسی پاکستان کے حصے میں آئی اس کا حصہ آپ بھی تھے۔ 15 اگست 1947 کو پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے جو کابینہ بنائی اس میں آپ کو وزارت خزانہ کا قلم دان سونپ دیا گیا۔ محلاتی سازشوں کے ذریعے آپ 17 اکتوبر 1951 کو پاکستان کے گورنر جنرل بن گئے۔

موصوف کے گورنر جنرل کا چارج سنبھالنے سے ایک دن پہلے وزیر اعظم پاکستان لیاقت علی خان کا قتل ہو چکا تھا۔ قائد اعظم کی وفات کے بعد گورنر جنرل کا عہدہ خواجہ ناظم الدین نے سنبھالا تھا اور لیاقت علی خان کے قتل کے بعد خواجہ ناظم الدین نے گورنر جنرل کا عہدہ چھوڑ کر وزیر اعظم بننا پسند کیا یا اسے ایسا کرنے پر مجبور کیا گیا۔ خواجہ ناظم الدین کو کہا گیا تھا کہ چونکہ وزیر اعظم با اختیار ہونے والا ہے لہذا آپ گورنر جنرل کا عہدہ چھوڑ کر وزیر اعظم بن جائیں یہ ایک گہری چال تھی جسے خواجہ ناظم الدین سمجھ نا پائے۔

غلام محمد کو خواجہ ناظم الدین نے بطور وزیر اعظم، گورنر جنرل نامزد کیا تھا۔ 3 جون 1947 کے انڈیپینڈنٹ ایکٹ کے مطابق گورنر جنرل جو کہ ملکہ برطانیہ کا نمائندہ تھا کا تقرر ملکہ برطانیہ نے کرنا تھا اور اس کا تقرر ملکہ برطانیہ نے وزیر اعظم کی سفارش پر کیا۔ 1935 کے ایکٹ کے تحت جو اختیارات وائس رائے ہند کے تھے وہی اختیارات اب گورنر جنرل پاکستان کے تھے۔

17 اپریل 1953 کو غلام محمد نے خواجہ ناظم الدین کو معزول کر کے، ایک اور بیوروکریٹ، امریکہ میں پاکستان کے سفیر محمد علی بوگرہ کو پاکستان کا نیا وزیر اعظم بنا دیا۔ گورنر جنرل کے بعد یہ دوسرا بیوروکریٹ تھا جس نے وزیر اعظم کی کرسی سنبھال لی۔

اسٹیبلشمنٹ نے ایک طرح سے حکومت کا کنٹرول اسی وقت سنبھال لیا تھا جب غلام محمد گورنر جنرل بن گیا تھا۔ اس طرح اب بیوروکریٹ ہی سیاست دان بھی بن گئے تھے۔

24 اکتوبر 1954 کو جب دستور ساز اسمبلی کی ذیلی کمیٹی نے یہ فیصلہ کر لیا کہ گورنر جنرل کے اختیارات کو محدود کر دیا جائے گا تو رد عمل میں فوری طور پر غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی کو ہی برخاست کر دیا جب کہ وزیر اعظم محمد علی بوگرہ کو نئی کابینہ بنا کر کام جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی تا آنکہ الیکشن نہیں ہو جاتے۔ اس نئی کابینہ میں کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان وزیر دفاع جب کہ سیکریٹری ڈیفنس اسکندر مرزا وزیر داخلہ کے عہدوں پر براجمان ہو گئے۔ اب یہ ایک طرح سے بیوروکریٹس کی ہی حکومت تھی کہ گورنر جنرل اور وزیر اعظم سمیت تمام اہم عہدے سویلینز کے بجائے بیوروکریٹس کے پاس تھے۔ اسکندر مرزا وزیر داخلہ کی حیثیت میں مشرقی پاکستان کا گورنر بھی رہا۔

جسٹس منیر جو باؤنڈری کمشن کا ممبر بھی تھا اور بعد ازاں چیف جسٹس پاکستان بن گیا نے ”نظریہ ضرورت“ کے تحت اس بندوبست کو دوام بخشا۔ جسٹس منیر نے کہا تھا کہ پاکستان آزاد ملک نہیں ہے بلکہ اس کا سٹیٹس ڈومینین سٹیٹ یعنی ملکہ برطانیہ کے ماتحت ملک کا ہے اور گورنر جنرل اس کا نمائندہ ہے۔ اس طرح اس نے گورنر جنرل ملک غلام محمد کے دستور ساز اسمبلی کے توڑنے کے فیصلے کو درست قرار دیا اور اس طرح اسمبلی کو بحال نہیں کیا گیا۔

گورنر جنرل کے ایک آرڈر کے تحت 28 مئی 1955 کو دوسری آئین ساز اسمبلی کا چناؤ ہوا، یہ چناؤ صوبائی اسمبلیوں نے کیا تھا۔ اس کے ارکان کی تعداد 80 تھی۔ مشرقی پاکستان کی آبادی زیادہ ہونے کے باوجود مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان سے ارکان کی تعداد برابر رکھی گئی جو کہ 40 اور 40 تھی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مغربی پاکستان سے الیکٹ ہونے والے 40 ارکان میں سے 28 جاگیردار تھے جب کہ مشرقی پاکستان سے چنے گئے ارکان میں 20 وکیل جب کہ 9 ریٹائرڈ سرکاری ملازمین تھے۔

طاقت کے منبع، غلام محمد کو اسکندر مرزا نے 7 اگست 1955 کو معزول کر دیا اور خود گورنر جنرل بن گیا۔ موصوف اسکندر مرزا کے پڑدادا کا نام میر جعفر تھا۔ آپ کا تقرر 1946 میں انڈین سول سروس میں بحیثیت جائنٹ ڈیفنس سیکریٹری ہوا تھا اور پاکستان بننے کے بعد آپ پاکستان کے پہلے ڈیفنس سیکریٹری بنے۔ بطور انڈین ڈیفنس سیکریٹری فوجوں کی تقسیم کی ذمہ داری آپ کے کندھوں پر تھی۔ 23 مارچ 1956 کو دوسری قانون ساز اسمبلی نے 1956 کا آئین منظور کیا۔ اس آئین کے تحت گورنر جنرل کے عہدے کو صدر پاکستان کے عہدے سے تبدیل کر دیا گیا۔ اس طرح پہلے صدر پاکستان کا چارج جناب اسکندر مرزا نے سنبھالا۔

27 اکتوبر 1958 کو ایوب خان نے 51 سال کی عمر میں چیف اف آرمی سٹاف کا عہدہ چھوڑ کر جنرل موسی خان کو آرمی چیف کا عہدہ سونپ دیا جب کہ اسکندر مرزا کو معزول کر کے خود اس کی جگہ صدر پاکستان بن گیا۔ 25 مارچ 1969 تک موصوف پاکستان کے صدر رہے ان کو جناب چیف آف آرمی سٹاف یحیی خان نے معزول کر دیا اور خود صدر پاکستان کا عہدہ سنبھال لیا۔ موصوف 20 دسمبر 1971 تک صدر پاکستان اور آرمی چیف رہے۔ جب کہ 16 دسمبر 1971 کو مشرقی پاکستان پاکستان سے علیحدہ ہو کر بنگلا دیش بن گیا چکا تھا۔

ملک کی سنگین بگڑتی ہوئی صورت حال کی وجہ سے اقتدار بطور سویلین مارشل ایڈمنسٹریٹر ذوالفقار علی بھٹو کے سپرد کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی ذوالفقار علی بھٹو نے صدر پاکستان کا عہدہ بھی سنبھال لیا۔ اسی دن جنرل گل حسن نے بطور چیف اف آرمی سٹاف عہدہ سنبھالا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 14 اگست 1973 کو نئے آئین کے تحت بطور سویلین وزیر اعظم حلف اٹھا لیا جب کہ فضل الہی چوہدری کو صدر پاکستان مقرر کر دیا۔

ذوالفقار علی بھٹو نے 1973 کا آئین بنایا تو اختیارات پھر وزیر اعظم کے پاس آ گئے تھے تو ان کو جناب ضیا الحق نے 5 جولائی 1977 کو معزول کر دیا اور اس کے ساتھ ہی آئین کو بھی معطل کر دیا۔ جب 1985 میں آئین بحال کیا گیا تو دوبارہ آٹھویں آئینی ترمیم کے ذریعے اختیارات سمیٹ لئے گئے۔ 17 اگست 1988 کو ضیا الحق کا طیارہ ہوا میں پھٹ گیا اور اس طرح پوری کی پوری ٹاپ براس ختم ہو گئی۔ پھر بے نظیر کے خلاف آئی جے آئی بنائی گئی جس کا حصہ نواز شریف بھی تھا۔ پیپلز پارٹی کے خلاف گیارہ سالہ پراپیگنڈہ کے باوجود 1988 میں بے نظیر بھٹو وزیراعظم بن گئیں۔

جب بے نظیر بھٹو اور نواز شریف یکے بعد دیگرے اپنا اپنا دورانیہ بطور وزیر اعظم پورا نہ کر سکے اور ان کی اسمبلیاں بار بار توڑی گئیں تو 1997 میں ان دونوں نے مل کر تیرہویں آئینی ترمیم کے ذریعے آٹھویں ترمیم کے ذریعے ہتھیائے گئے اختیارات واپس چھین لئے تو 1999 جناب پرویز مشرف کا نزول ہوا۔ انہوں نے 2003 میں سترہویں آئینی ترمیم کے تحت دوبارہ اختیارات سمیٹ لئے۔ 2010 میں سویلین حکومت نے ایک بار پھر اٹھارہویں ترمیم کے تحت اختیارات واپس چھین لئے۔

یہ اختیار کی جنگ ہے آج اگر ایک طرف اپوزیشن سویلین بالا دستی کے لئے کوشاں ہے تو دوسری طرف مقتدرہ دو بدو ہے کہ کسی بھی صورت سویلین اختیارات جن پر انہوں نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے وہ انہیں سویلین کو دینے کو تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک اور مارشل لا کی دہائی دی جا رہی ہے اور غداری کے فتوے بانٹے جا رہے ہیں۔ اپوزیشن اور مقتدرہ ایک بند گلی کی طرف گامزن ہے انہیں بہرحال ایک میز پر آنا پڑے گا کیونکہ مذاکرات ہی واحد حل ہے ورنہ ملک عزیز ایک گہری کھائی میں جا گرے گا جس سے نکلنا مشکل ہو جائے گا۔

پاکستان کے مسائل دن بدن بڑھ رہے ہیں۔ ملک دن بدن انتشار کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ملک میں انارکی پیدا ہو چکی ہے جو مہنگائی کی صورت واضح ہے طاقتور طبقہ مسلسل غریب کا استحصال کر رہا ہے کیا پتا کل ہو نہ ہو جو کچھ کرنا ہے آج ہی کرنا ہے۔ برما کی خاتون فلاسفر اونگ سانگ ساکی نے کہا تھا کہ طاقت کرپٹ نہیں کرتی، طاقت کے ختم ہو جانے کا خوف کرپٹ کرتا ہے اور یہ خوف حکومت کی رگ رگ میں سمایا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مہنگائی بے قابو ہو رہی ہے اور حکومت نام کی چیز اپنا وجود کھو رہی ہے۔ ڈوریاں ہلانے والے اپنی ڈوریاں ہلا رہے ہیں اور پبلک پردہ گرنے کی منتظر ہے کہ ڈرامے کا آخری ایکٹ بس شروع ہوا چاہتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •