جوبائیڈن سے امیدیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے ہاں سوال اب یہ اٹھایا جائے گا کہ جوبائیڈن کے دورِ اقتدار میں پاک -امریکہ تعلقات کا کیا عالم رہے گا۔ عملی صحافت سے عرصہ ہوا ریٹائر ہوچکا ہوں۔خود کو مذکورہ سوال کا تسلی بخش جواب فراہم کرنے کے لہٰذا قابل نہیں سمجھتا۔ جوبائیڈن کی پاکستان کے بارے میں ممکنہ طورپر اختیار کردہ پالیسی کے بارے میں سوچتے ہوئے مگر یاد رکھنا ضروری ہے کہ ہمارے ہاں 2008-9کے برسوں میں ’’کیری-لوگربل‘‘ کا بہت چرچارہا تھا۔مذکورہ بل کاپسِ منظر بھی یاد رکھنا ضروری ہے۔

ستمبر 2006 سے امریکہ کے اہم ترین ریاستی ادارے تواتر سے اصرار کرنا شروع ہوگئے تھے کہ پاکستان افغانستان پر مسلط ہوئی ’’وار آن ٹیرر‘‘ میں ان کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے دل وجان سے معاونت فراہم نہیں کررہا۔ہم پر بلکہ Double Game کے الزامات لگنا شروع ہوگئے تھے۔پاکستان سے “Do More”کے حصول کو یقینی بنانے کے لئے ’’نوٹ دکھا‘‘ کر ’’موڈ بنانے‘‘ کا فیصلہ ہوا۔ ری پبلکن اور ڈیموکریٹ جماعتوں کے باہمی تعاون ومشاورت سے پاکستان کے لئے ایک ’’امدادی پیکیج‘‘ کی تیاری شروع ہوگئی۔

مذکورہ پیکیج اپنی تیاری کے دنوں میں ’’لوگر-بائیڈن بل‘‘ کہلاتا تھا۔ جو بائیڈن مگربعد ازاں امریکہ کا نائب صدر منتخب ہوگیا۔ ڈیموکریٹ پارٹی کی جانب سے مذکورہ بل کی تیاری لہٰذا سینیٹر جان کیری کو سونپ دی گئی۔جو بل تیار ہونا تھا اس کے بنیادی یا Operative حصے تاہم جوبائیڈن ہی نے مرتب کئے تھے۔’’کیری -لوگر بل‘‘ کے عنوان سے جب مذکورہ پیکیج اپنی حتمی شکل میں منظرِ عام پر آیا تو ہمارے ہاں ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔پاک-امریکہ تعلقات کا باریک بینی سے جائزہ لینے والے محبانِ وطن نے دہائی مچانا شروع کردی کہ ’’کیری -لوگر بل‘‘درحقیقت امریکہ کے ریاستی اداروں پر حاوی افراد کے دِلوںمیں پاکستان کے خلاف بغض بھرے تعصبات و ارادوں کا کامل اظہار ہے۔

کہانی بالآخر یہ پھیلی کہ مذکورہ بل کے ذریعے پاکستان کو جو رقوم فراہم کرنے کا وعدہ ہوا ہے کہ ان کا حتمی مقصد 2008 کے انتخابات کی بدولت ہمارے ہاں قائم ہوئی ’’سول حکومت‘‘ کو ’’عسکری اداروں‘‘ پر ’’بتدریج مگرکامل کنٹرول‘‘کے قابل بنانا ہے۔’’منتخب پارلیمان‘‘ کو کیری-لوگر بل کے ذریعے اس امر پر اُکسایا جائے گا کہ وہ ’’دفاعی بجٹ‘‘ کے نام پر خرچ ہوئی رقوم کا متحرک انداز میں جائزہ لے۔

’’سول قیادت‘‘ کو دفاعی اداروں میں ہوئی ترقیوں اور تبادلوں میں بھی کلیدی کردار ادا کرنا چاہیے۔امریکی ’’سازش‘‘ میڈیا پر مچائی دہائی کی بدولت ’’بے نقاب‘‘ ہوگئی تو آصف علی زرداری کے لگائے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ہنگامی حالات میں امریکہ کے دورے پر چلے گئے۔ ’’کیری -لوگر بل‘‘میں ’’دریافت‘‘ ہوئی ’’سازشی شقوں‘‘سے یوں چھٹکارا حاصل کرلیا گیا۔’’کیری -لوگر بل‘‘کی بدولت پاک-امریکہ تعلقات کے نظر بظاہر Re-set ہونے کے باوجود مگر مئی 2011میں اُسامہ بن لادن کی ہلاکت کے لئے ایبٹ آباد آپریشن ہوگیا۔

پاکستان اور امریکہ کے مابین بداعتمادی کی فضا اس آپریشن کے بعد اوبامہ کے دورِ صدارت میں کبھی کم نہ ہوئی۔ امریکہ کا نائب صدر ہوتے ہوئے جوبائیڈن بلکہ ہمیشہ مصر رہا کہ افغانستان میں اپنے اہداف حاصل کرنے کے لئے اس کے عسکری اور جاسوسی اداروں کو ’’اصل جنگ‘‘ پاکستان میں مبینہ طورپر موجود ’’دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں‘‘ کے خلاف برپا کرنا ہوگی۔ ڈرون طیارے اس ضمن میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ مجھے شبہ ہے کہ وائٹ ہائوس میں براجمان ہونے کے بعد جوبائیڈن پاکستان کی بابت ماضی میں اپنائے رویے کوتبدیل کرنے میں کافی وقت لے گا۔

ٹرمپ افغانستان سے امریکی افواج نکالنے کو اوتاولا ہورہا تھا۔ جوبائیڈن بھی سنجیدگی سے یہ سوچتا ہے کہ افغانستان کا کوئی ’’فوجی حل‘‘ نہیں۔وہ مگر ٹرمپ کی طرح افغانستان میں جاری ’’لاحاصل جنگ‘‘ سے ہر صورت جند چھڑانے میں ہرگز جلدی نہیں دکھائے گا۔ زلمے خلیل زاد نے ٹرمپ کی سرپرستی میں ’’دوحہ پلان‘‘ کے نام پر نقشہ تیار کیا ہے اس کا اب ازسرنوجائزہ لیا جائے گا۔طالبان کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ ’’عورتوں کے حقوق‘‘ اور ’’جمہوری نظام‘‘ کے بنیادی تقاضوں کے احترام کی خاطر اپنے رویے میں ٹھوس لچک دکھائیں۔ جوبائیڈن افغانستان میں ’’شکست‘‘ کھاکر وہاں سے ’’بھاگتا‘‘ نظر آنا نہیں چاہے گا۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان صاحب نے جوبائیڈن کے امریکی صدر منتخب ہوجانے کے بعد مبارک باد کے لئے جو ٹویٹ لکھا ہے وہ میرے ذہن میں اُبھرے خدشات پر توجہ دیتا محسوس نہیں ہوا۔ عمران خان صاحب کی ٹویٹ میں بلکہ اولین امید یہ باندھی گئی ہے کہ جوبائیڈن ایک ایسے عالمی فورم کے قیام کو یقینی بنائے گا جو پاکستان جیسے ممالک کے بدعنوان سیاست دانوں کی جانب سے غیر ملکوں میں خریدی جائیدادوں اور بینکوں میں جمع ہوئی رقوم کا سراغ لگائے۔ ہمیں قوم کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے قابل بنائے۔

ہمارے سیاست دانوں کی کرپشن یاد کرتے ہوئے عمران خان صاحب یہ حقیقت نظر انداز کرگئے کہ امریکی صدارتی انتخاب کے حتمی مراحل سے کئی ماہ قبل ہی ٹرمپ یہ دہائی مچانا شروع ہوگیا تھا کہ بائیڈن کا ’’سارا ٹبر چور ہے‘‘۔ وہ یوکرین پر مسلسل دبائو بڑھاتا رہا کہ بائیڈن کے بیٹے ہنٹر کا اس ملک کے ساتھ کئے کاروبارکا کڑا احتساب ہو۔ یوکرین ٹرمپ انتظامیہ کوایسا مواد فراہم کرے جو یہ ثابت کرے کہ جوبائیڈن کا بیٹا اپنے والد کے اثرورسوخ کو ذاتی کاروبار چمکانے کے لئے استعمال کرتا رہا ہے۔

چین سے بھی ایسے ہی مطالبے ہوئے تھے۔عمران حکومت کو بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ مؤثر رابطے استوار کرنے کے لئے قطعاََ ایک نئی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ٹرمپ نے اقتدار سنبھالتے ہی پاکستان کے خلاف ٹویٹس لکھتے ہوئے واہی تباہی بکنا شروع کردی تھی۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اسے ہمارے بارے میں نرم رویہ اختیار کرنے کو مائل کیا۔بعدازاں عمران حکومت نے ’’غیر رسمی واسطوں‘‘ کی بدولت ٹرمپ سے ذاتی رشتے استوار کئے۔اس ضمن میں ٹرمپ کے داماد پر بھرپور توجہ مبذول ہوئی۔

Real Estateکے دیوانے ٹرمپ خاندان میں یہ امید بھی جاگی کہ شاید وہ نیویارک کے مشہور ومعروف ہوٹل روزویلٹ کا کنٹرول پاکستان سے نرم شرائط کے ساتھ حاصل کرلیں گے۔ ٹرمپ اور اس کے چہیتے عزیزوں پر توجہ دیتے ہوئے عمران حکومت نے امریکی کانگریس اور دیگر ریاستی اداروں کو کما حقہ لفٹ نہیں کروائی۔ امریکی میڈیا کے بیشتر حصے کا دل جیتنے کی بھی ہم نے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی حالانکہ وہاں کے ’’نیویارک ٹائمز ‘‘ جیسے مؤثر ترین اخبارات نے 5 اگست 2019کے روز مودی سرکار کی جانب سے مقبوضہ کشمیر پر کامل تسلط کے لئے اختیار کردہ جارحانہ اقدامات کو مسلسل کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

ایک حد تک ’’آدھی‘‘ بھارتی نژاد ہوتے ہوئے بھی نو منتخب نائب صدر کملا ہارس نے بھی ڈیموکریٹ سینیٹر ہوتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے بلندآہنگ سوالات اٹھائے تھے۔ امریکی نائب صدر منتخب ہوجانے کے بعد وہ عمران حکومت کی پہل کاری کی مستحق ہے۔ مقبوضہ کشمیر پر نازل ہوئے عذاب کے ازالے کے لئے وہ اہم ترین کردار ادا کرسکتی ہے۔ہمارے وزیر امور کشمیر-علی امین گنڈاپور- کو مگر اس امر کو یقینی بنانے کے لئے اپنی زبان کو قابو میں رکھنا ہوگا۔ شاہ محمود قریشی کو بھی شاید اس ضمن میں ڈاکٹر ملیحہ لودھی سے دوبارہ رجوع کرنا پڑے۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •