عوام بلاول اور مریم کی بجائے ہمایوں اختر، عمر ایوب اور اعجاز الحق کو لیڈر مان لیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

و تعز من تشاء و تذل من تشاء کے ٹویٹ کرنے والے اور بات بے بات غداری کے فتوے بانٹنے والے ”مقدس کردار“ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ عوام ان سے محبت کرتے ہیں اور سیاست دانوں سے نفرت۔ وہ یہ تصور ہی نہیں کر سکتے کہ عوام ان کے اصل کام سے محبت کرتے ہیں نہ کہ ان کے ماورائے آئین اقدامات سے۔ اگر عوام ان کے ایسے اقدامات سے محبت کرتے تو وردی اتر جانے یا طاقت کمزور پڑ جانے کے بعد بھی ویسی ہی محبت کرتے اور اگر عوام سیاست دانوں سے واقعی نفرت کرتے تو طویل عرصہ تک ملک بدری کے بعد ان سیاست دانوں کا دیوانہ وار استقبال نہ کرتے اور انہیں دوبارہ بھاری اکثریت سے منتخب نہ کرتے۔

یہ سیاست دان ہی ہیں جو تہتر برس سے غدار، کرپٹ اور سیکیورٹی رسک ہونے کے الزامات برداشت کر رہے ہیں۔ عدالتوں میں تواتر سے حاضریاں دیتے رہے ہیں لیکن ان الزامات کو درست ثابت کرنے میں مصروف عمل مقدس ادارے اب سیاست دانوں کے دو جلسوں کی چند تقریروں اور ان تقریروں کے بطن سے پھوٹنے والے چند بیانات کا بوجھ برداشت نہیں کر پا رہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ عوام کا ایک بڑا حصہ اس سارے کھیل سے ہمیشہ سے آگاہ تھا۔ فرق یہ پڑا ہے کہ اب یہ بات بچے بچے کی زبان پر آ گئی ہے۔ بات اس نہج تک کیسے پہنچی یہ سب جانتے ہیں۔

مجھے اس اعتراض سے اتفاق ہے کہ ان اداروں کو کمک ہمیشہ سیاست دانوں کی صفوں ہی سے فراہم ہوتی رہی ہے لیکن کیا اس بنیاد پر سب سیاست دانوں کو ہمیشہ کے لیے مجرم ٹھہرا دیا جائے اور ان پر یہ پابندی عائد کر دی جائے کہ اب وہ غلامی کا طوق نہیں اتار سکتے؟ کیا انھیں پابند کر دیا جائے کہ وہ اپنی غلطیوں کو درست کرنے کی کوشش نہ کریں کیوں کہ وہ کسی زمانے میں ان سازشوں میں شریک رہے ہیں؟

آئین کی طاقت پر بندوق کی طاقت کو فوقیت دینے والے جانتے ہی نہیں کہ عوام کی رائے تو بیج کی طرح ہوتی ہے جو ذرا سی نمی کی منتظر کسی نہ کسی صورت میں زمین میں موجود رہتی ہے۔ لیکن یاد رہے اس بیج میں جان ہمیشہ سیاست دان ہی ڈالتے ہیں۔ ہمارے کچھ دوست اس پر معترض رہتے ہیں کہ لوگ بلاول اور مریم جیسے نوجوان اور ناتجربہ کار لیڈروں کے پیچھے کیوں چلتے ہیں۔ ان سے ہمیشہ گزارش کی ہے کہ وہ تو ہیں ہی سیاست دانوں کی اولاد، آپ یہ کیوں نہیں پوچھتے کہ دوران ملازمت اور ریٹائرمنٹ کے بعد جنرل یا ان کی اولادیں سیاست میں کیوں گھستی ہیں اور عوام ان کی اولادوں کو وہ عزت کیوں نہیں دیتے؟

عبرت کے لیے یہاں صرف دو عظیم سپہ سالاروں کی سیاسی پارٹیوں کا ذکر کافی ہو گا۔ یاداشت پر بہت زور دینے اور کچھ باخبر دوستوں سے پوچھنے کے باوجود جنرل اسلم بیگ کی قائم کردہ عوامی قیادت پارٹی کا ان دنوں کوئی سراغ نہ مل سکا۔ مکے دکھانے والے جنرل مشرف کی آل پاکستان مسلم لیگ، جس کے سوشل میڈیا پر لاکھوں فالوور بنائے گئے تھے، خدا جانے کہاں دفن ہو گئی ہے۔ ان کے علاوہ بھی کئی جماعتیں تخلیق ہوئیں اور زمانے کی گرد میں فنا ہو گئیں۔

ایک زمانہ تھا ایوب خان کی قد آدم تصاویر سے ٹرکوں کے عقبی حصے سجے ہوتے تھے۔ سڑک پر سفر کرنے والوں کو یہ وجاہت بار بار نظر آتی تھی۔ جس کے کچھ دھندلے سے نقش ”پرانی لاریوں“ پر آج بھی دکھائی دے جاتے ہیں۔ لیکن عوام کی اپنے محبوب رہنماؤں سے وہ محبت اور عزت اب کہاں ہے؟ ملک خداداد پر حکومت کرنے والے جنرل ایوب خان کی نسلیں صرف ایک خاص علاقے کے دو تین حلقوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ وہ نواز شریف اور حتی کہ عمران خان سے وزارتیں لینے کے محتاج ہیں۔

ضیا الحق کا بیٹا اعجاز الحق اپنے کزن شیخ رشید کی طرح تانگہ پارٹی بنائے اکیلا ہی بھاگ رہا ہے۔ ممتاز کالم نگار محمد اظہار الحق صاحب نے اس باب میں ایک بار کچھ اس طرح کی بات کی تھی کہ ”کیسی عجیب بات ہے کہ باپ امت مسلمہ کا رہنما بنا پھرتا تھا اور بیٹا بہاولنگر کے اس حلقے سے الیکشن لڑتا ہے جہاں اس کی آرائیں برادری کی اکثریت ہے۔“ وہ ایک سیٹ جیت کر نواز شریف کی طرف سے عطا کی گئی وزارت پر میاں صاحب کا ممنون ہوتا تھا، اب وہ بھی نہ رہی۔ نواز شریف پر جنرل ضیا الحق کی پیداوار ہونے کا الزام لگتا ہے، جو درست ہے لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ جنرل ضیا کا لطف و کرم اپنے بیٹے پر کیوں نہ ہوا؟ اعجاز الحق آج ایک سیٹ بغل میں دبائے ”بھونترایا“ ہوا کیوں پھرتا ہے؟

جنرل مشرف کے خاندان کا کوئی فرد سیاسی میدان میں نہیں اترا البتہ اس کی معنوی اولادوں نے مال بھی بنایا اور اب سیاست میں بھی پھل پھول رہی ہیں۔ ایک اور مثال ایک طاقتور شخصیت، آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل اختر عبد الرحمان کا بیٹا ہمایوں اختر ہے جو الیکشن میں بے حساب دولت لٹاتا ہے۔ اس بار ضمنی انتخابات میں لاہور سے میدان میں اترا لیکن ایک غریب کارکن کے بیٹے سعد رفیق سے بری طرح شکست کھا گیا۔ یہ وہی سیٹ ہے جہاں سے عظیم کپتان چند ووٹوں سے فتح یاب ہوا تھا اور دوبارہ گنتی کی درخواست پر سپریم کورٹ سے سٹے آرڈر لے آیا تھا۔

یہ فہرست طویل ہے۔ کچھ طاقتوروں نے تو سرعام اقتدار چھینا لیکن زیادہ تر وہ تھے جو کھل کر سامنے نہ آئے، البتہ اہل نظر انھیں خوب جانتے ہیں۔ جو بڑی بڑی ڈاکٹرائنوں اور پالیسیوں کے موجد ٹھہرے اور سیاسی حکومتوں کو مشکلات سے دوچار کیے رکھا۔ آج ان کا کوئی نام لیوا نہیں۔ کچھ کے بیچ چوراہوں میں مزار بنوائے گئے لیکن وہاں آج خاک اڑتی ہے۔

ایسے لوگوں کو و تعز من تشا ء و تذل من تشاء کا مطلب کون سمجھائے۔ کون سمجھائے کہ تم نے جس سیاست دان کو جتنا ذلیل کرنے کی کوشش کی وہ عوام میں اتنا مقبول ہوا۔ اگر تمھارے نزدیک یہ سیاست دان واقعی کرپٹ اور نااہل ہیں اور عوام کی گردنوں پر مسلط ہیں تب بھی جرم عوام کا نہیں تمھارا ہے۔ تم نے انھیں ہیرو بنایا ہے۔ تم نے بھٹو کو پھانسی دی، بے نظیر کو قتل کروایا، نواز شریف کو ذلیل کر کے جلا وطن کیا، تین بار وزیر اعظم بننے والے کو اقامہ کیس میں نا اہل کیا اور چاہتے ہو کہ عوام بلاول اور مریم کی بجائے ہمایوں اختر، عمر ایوب، اعجاز الحق کو لیڈر مان لیں۔ یہ کیسے ممکن ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •