اقلیتوں کے تحفظ کے بل کی منظوری؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کشمور میں 4 سالہ بچی اور اس کی ماں کے ساتھ اجتماعی جنسی تشدد کا واقعہ کوئی سرسری خبر نہیں تھی۔ جہاں میرے صحافی اور وکلا دوستوں نے اس واقعہ کی شدید مذمت کی وہاں قومی ہیرو سندھ پولیس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) محمد بخش کو بے ساختہ سلیوٹ بھی پیش کیا جس نے اپنی جوان بیٹی کی مدد سے جنسی تشدد کرنے والے وحشی اور درندہ صفت ایک مجرم کو گرفتار کر لیا جبکہ دوسرا پولیس کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے ہی ساتھی کی گولی سے ہلاک ہو گیا۔

کشمور کے اس پولیس انسپکٹر نے ایک اور نئی تاریخ رقم کر دی۔ آفرین ہے اس بیٹی پر جس نے باپ کا کہنا مان کر اپنے جیسی عورت کا ساتھ دیا۔ اس کے ساتھ ہی میرے ساتھیوں نے کراچی اور حیدر آباد پولیس کی بے حسی پر اظہار افسوس بھی کیا کہ کراچی پولیس نے کم عمر 13 سالہ مسیحی بچی آرزو راجہ کواس کے اغوا کنندہ، جبری تبدیلی مذہب و نکاح کرنے والے 44 سالہ اظہر علی کو بازیاب کروا کر 5 اکتوبر کو کراچی سندھ ہائی کورٹ میں پروٹو کول کے ساتھ پیش کیا۔ نہایت افسوس کے ساتھ ذکر کرنا پڑتا ہے کہ حیدر آباد میں واقع گورنمنٹ پرائمری سکول کی کلاس دوئم میں پڑھنے والی مسیحی بچی کے ساتھ ریپ کرنے کی کوشش کرنے والے ٹیچر کی سکول کے ہیڈ ماسٹر نے فرار ہونے میں مدد کی۔ حیدر آباد کے مسیحیوں کے احتجاج اور ایس ایس پی کو ٹیچر کے خلاف درخواست دینے کے بعد گرفتار کیا گیا۔ آئے دن بہت سے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ کس کس کا ذکر کریں۔ غریب لوگوں کے ساتھ پولیس کا رویہ ٹھیک نہیں ہوتا۔

جو لوگ پولیس تھانہ کے سامنے سے گزرنے سے بھی کتراتے ہیں وہ اپنے ساتھ زیادتی کے واقعات کی ایف آئی آر کیسے لکھوائیں گے۔ اورخاص کر جنسی تشدد کے واقعات پر تو پولیس بالکل بے حس ہو جاتی ہے۔ ایک مہربان دوست نے سوال کیا کہ پولیس کے اس رویے کے خلاف اسمبلی اراکین کو اسمبلیوں میں آواز اٹھانی چاہیے۔ جواب سادہ سا تھا کہ ان اقلیتی اراکین اسمبلی میں اتنا دم خم نہیں کہ وہ اقلیتوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف آواز اٹھا سکیں۔

جس سسٹم کے تحت اقلیتی نمائندے اسمبلیوں میں پہنچتے ہیں۔ اس سسٹم میں حزب اختلاف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ایک ادھ اقلیتی نمائندے کے بارے میں سنا گیا ہے جنہوں نے اقلیتوں کے ساتھ ہونی والی زیادتی کے خلاف آواز اٹھائی۔ شہباز بھٹی شہید یا محترمہ آسیہ ناصراسمبلی کے فلور پر حق کی آواز بلند کرتے تھے یا اب جیوا صاحب کبھی کبھار آواز اٹھاتے نظر آتے ہیں۔ مگر حزب اختلاف کے بولنے سے کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔ موجودہ صورت حال میں کم عمری کی شادی کو روکنے، جبری تبدیلی مذہب و نکاح اور اقلیتوں کے تحفظ کے بل کی اشد ضرورت ہے۔

ایک عرصے سے اس پر کام ہو رہا ہے مگرجب اس کو منظور کرنے کا وقت آتا ہے تو مذہبی جماعتیں آڑے آ جاتی ہیں۔ موجودہ حکومت اقلیتی معاملات کے سلسلے میں ہیومن رائٹس منسٹری کو اہمیت دینے کی بجائے مذہی جماعتوں کو اہمیت دیتی ہے جو کبھی بھی نہیں چاہتیں کہ پاکستان میں اقلییتں چین سے رہیں۔ قانون ساز ی یا بل لانے میں اقلیتی نمائندوں کا کوئی کردار نظر نہیں آتا۔ ان کی آواز صرف غیر ضروری معاملات پر سنائی دیتی ہے۔ اس وقت اقلتیں اس قسم کے مسلسل بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے سخت کرب سے گزر ر ہی ہیں۔

ان واقعات میں اضافے کے پیش نظر اور خاص کر کم عمر مسیحی بچی آرزو راجہ کے واقعہ پرپورے پاکستان اور اوورسیز میں رہنے والے مسیحیوں کے شدید احتجاج کرنے پر، صوبہ سندھ میں چائلڈ میرج پرویٹکشن ایکٹ موجود ہونے، حکومت سندھ اورخصوصاً بلاول بھٹوکی مداخلت کرنے پر وفاقی حکو مت قدم اٹھانے پر مجبور ہو گئی۔ اب کچھ امید کی کرن پیدا ہوئی ہے جو قابل تحسین ہے۔ مگر اچنبھے کی بات ہے کہ جبری تبدیلی مذہب و نکاح کا بل اور اقلیتوں کے تحفظ کا بل قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے تاحال کیوں پاس نہیں ہو سکا۔

رہی بات اقلیتی ارکان اسمبلی کی تو انہوں نے اس بل کو اپنی سطح پراسمبلیوں کے فلور پر لانے کی کوشش کیوں نہیں کی۔ پنجاب اسمبلی میں اقلیتوں کے تحفظ کا بل پاس ہونے کی قوی امید ہے۔ حکومت کی طرف سے آواز تو سنائی دے رہی ہے مگر عملی طور پر کوئی قدم اٹھایا نہیں جا رہا ۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سینٹرا نوار الحق کاکڑ کی سرپرستی میں کمیٹی نے گھوٹکی، سکھر اور حیدر آباد سے تعلق رکھنے والے اقلیتی لیڈر، سندھ کے چیف سیکرٹری اورپولیس کے افسران سے ملاقات کی۔

کراچی میں سول سوسائٹی اور ا قلیتی لیڈروں کی موجودگی میں سرکٹ ہاؤس میں بریفنگ دیتے ہوئے سینٹرا نوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ جس شدت سے جبری تبدیلی مذہب و نکاح کے بارے میں جو کہا جا رہا تھا وہ شدت سننے میں نہیں آئی۔ اور یہ بھی کہ کم عمرمیں تبدیلی مذہب پر کوئی قدغن نہیں لگایا جا سکتا۔ بعد ازیں اس کمیٹی نے اپنی سفارشات حکومت کو پیش کردیں۔ مگر تاحال کوئی ان سفارشات میں پیش رفت نظر نہیں آئی۔ وزیر اعظم عمران خان نے کم عمر تبدیلی مذہب و نکاح کی مذمت ضرور کی ہے۔ اس گھناؤنے فعل اور ان واقعات کے سہولت کاروں کو کڑی سز دینے کا ایک ادھ بار ذکر ضرور کیا ہے۔

ایسے واقعات سے اقلیتوں کی بے چینی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ جس سے مسلم اور غیر مسلم کے باہمی تعلقات میں خلیج بڑھنے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ جو اقلیتوں کے مسائل میں مزید اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ لہذا حکومت کو اس پر سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ گیارہ سو اقلیتی بچیاں جبری تبدیلی مذہب و نکاح کا شکار ہیں جن میں 80 فیصد مسیحی بچیاں پنجاب میں ہیں اور صوبہ سندھ کے اندرون علاقہ میں 80 فیصد ہندو اور 20 فیصد بچیاں مسیحی ہیں۔

پاکستان میں روزانہ 11 کم عمر بچیاں جبری تبدیلی مذہب اورنکاح کا نشانہ بن رہی ہیں۔ ایسے بہت سے کسیز ہیں جو غربت، عزت کے خوف اور د ھمکیوں کے ڈر سے پولیس میں رپورٹ نہیں کروائے جاتے۔ اس کی بڑی وجہ پولیس کا انتہائی خراب رویہ بھی ہے۔ والدین رو دھو کر چپ سادھ لیتے ہیں اور یہ کیس ہائی لائٹ نہیں ہوتے۔ جبری تبد یلی مذہب و نکاح کے پیچھے زیادہ تر مقصد جنسی کاروبار بھی مقصود ہوتا ہے۔ شادی کے کچھ دن بعد ہی ا نہیں جنسی ورکر بننے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔

جنسی مقصد پورا ہونے کے بعد انہیں لاپتہ بھی کر دیا جاتا ہے۔ یا انہیں مختلف قسم کے القابات دے کر گھر سے نکال دیا جاتا ہے۔ اور ان کی زندگی اجیرن بنا دی جاتی ہے۔ کئی کیسز میں گھر سے بھاگی لڑکی کے خاندان والے اس لڑکی کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ ایک بار جو اسلام کے دائرے میں آ جاتا ہے اگر وہ واپس اپنے مذہب میں جانا چاہتا ہے تو اسے اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی نادرا کا ادارہ نادرا کارڈ میں اس کے مذہب کو تبدیل کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔

جو بہت بڑا المیہ بھی ہے۔ اس میں مرد بھی شامل ہیں۔ بعض اوقات کئی جوڑے دوسری شادی کرنے کے لئے مذہب تبدیل کرتے ہیں تو قانون اور علماء حضرات انہیں واپس جانے نہیں دیتے۔ اس طرح کے بہت سے کیس ہیں۔ جبری تبدیلی مذہب و نکاح کم عمر ی کاہو یا بالغ، دونوں ہی صورتوں میں شادی ہی مقصد ہوتا ہے۔ اس طرح کے واقعات شہروں سے دور دراز علاقوں میں زیادہ رونما ہوتے ہیں۔ جہاں لوگ قانون سے لاعلم ہیں۔ یاجہاں ان کی اپروچ نہیں ہوتی۔

سیالکوٹ شہر، لاہور اور اس کے گردو نواح، حیدر آباد اور کراچی میں کئی کیسزہائی لائٹ تو ہوئے مگر مذہبی علماء اور قانونی داد رسی نہ ہونے کی وجہ سے ان کیسز کا کچھ نہ ہو سکا۔ کئی سالوں سے اس عمل کے خلاف آواز بلند کرنے کے باوجود اقلیتوں کے تحفظ اور کم عمر تبدیلی مذہب کا قانون پاس نہ ہو سکا۔ سندھ میں دو دفعہ اقلیتوں کے تحفظ کا بل پاس ہوتے ہوتے رہا گیا۔ فیصل آباد سے ہی یہ دوسرا واقعہ ہے جو ساڑھے 12 سالہ لڑکی کا ہے جو 6 ماہ پہلے اغوا ہوئی تھی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تو مسیحی کمیونٹی متحرک ہوئی۔ اسی طرح کراچی میں مسیحی کم عمر جبری تبدیلی مذہب و نکاح کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔ دوسرا 14 سالہ ہمایونس کا ہے جو 14 سال کی ہے اور دارالامان میں اس کا کیس چل رہا ہے مگر ابھی تک اسے اس کے والدین کے حوالے نہیں کیا گیا۔ صوبائی سطح پر میرج ایکٹ ضرور ہے۔ جس کے تحت پنجاب میں لڑکی کی عمر 16 سال تو صوبہ سندھ میں 18 سال مقرر ہے۔ اس فرق کی وجہ سے سندھ کے لوگ کم عمراقلیتی لڑکی کو پنجاب میں لا کر نکاح کر لیتے ہیں۔

اقلیتوں کا حکومت اور صوبائی حکومتوں سے یہ مطالبہ ہے کہ اس فرق کو جلد ختم کیا جائے۔ اور اقلیتوں کو اس عذاب سے نکالنے کے لئے ریاستی قانون کو ہی اقلیتوں پر لاگو کیا جائے ناکہ شرعی قانون۔ ورنہ اقلیتیں کبھی بھی اس عذاب سے باہر نہیں نکل سکیں گی۔ اقلیتوں کے پرسنل لا بھی موجودہ ہیں۔ ان کا انصاف ان کے پرسنل لا کے مطابق بھی کیا جا سکتا ہے۔ حکومت وقت سے استدعا ہے کہ خدارا اقلیتیوں کو عدم تحفظ کا شکار ہونے سے بچائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •