نواز شریف کی والدہ کی رحلت اور حکمران پارٹی کا رویہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1985 کی بات ہے۔ ایک جواں سال بالر انگلینڈ کے میدانوں میں بال پر تھوک لگا کر اسے اپنی پتلون پر رگڑ رہا تھا،  ادھر پاکستان میں اس کی والدہ بستر مرگ پر ایڑیاں رگڑ رہی تھیں۔ ادھر وہ گیند کو چمکا رہا تھا اور ادھر والدہ کے چہرے پر موت کی زردی چھا رہی تھی۔ والد محترم نے بیٹے کو بتایا کہ دم رخصت ماں اسے آخری بار دیکھنے کی متمنی ہے۔ سو وہ دستیاب پہلی فلائٹ سے واپس آ جائے۔ نوجوان اور خوبرو بالر نے سود و زیاں کا حساب کتاب کیا۔ ماں کی مامتا پر مایا کی محبت غالب آئی اور اس نے پاکستان آنے کا ارادہ ملتوی کر دیا۔ چند روز کے بعد والدہ لخت جگر کا راستہ تکتے تکتے راہیٔ ملک عدم ہو گئیں۔ ماں نے دم دیا تو باپ کو یقین تھا کہ لاڈوں پلا پسر ماں کا آخری دیدار کرنے ضرور آئے گا مگر اس پر درہم و دینار کی محبت نے پھر غلبہ پایا۔ وہ گیند بازی میں مصروف رہا اور ماں زندگی کی بازی ہار کر منوں مٹی تلے جا سوئی۔ یہ واقعہ دسمبر 1985 کا ہے۔

یہ مشہور بالر آج کل پاکستان کا وزیر اعظم ہے اور اس کی پارٹی کے بد زبان اور اخلاق باختہ ترجمان سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی والدہ ماجدہ کے سانحۂ ارتحال پر آج گھٹیا سیاست بازی کا مظاہرہ کر کے مرحومہ کے اہل خانہ کے ساتھ ساتھ نون لیگی قیادت اور کارکنوں کے جذبات بھی چھلنی کر رہے ہیں۔ ہماری مشرقی روایات و اقدار اس حوالے سے بہت شاندار، جاندار اور باعث صد افتخار ہیں کہ جہاں اپنے بدترین دشمن کی بیماری اور مرگ کے موقعوں پر بھی رواداری، مروت، لحاظ اور وضعداری کی اعلٰی مثالیں قائم کی جاتی ہیں۔

اکابر سیاستدانوں اور مشاہیر کی تو بات ہی کیا ہے مگر 2013 کی الیکشن مہم کے دوران جب لاہور میں ایک جلسے کے دوران عمران خان سٹیج سے گر کر زخمی ہو گئے تھے اور انہیں شوکت خانم ہسپتال میں لے جایا گیا تھا۔ جونہی نواز شریف کو اس واقعے کی اطلاع ملی تو وہ فوراً اپنی انتخابی مہم معطل کر کے شوکت خانم ہسپتال پہنچ گئے تھے۔ یہی نہیں میاں صاحب وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد عمران خان سے ملنے بنی گالا بھی گئے تھے، عمران کے کہنے پر بنی گالا روڈ کی مرمت اور کشادگی کا کام بھی کروایا تھا۔ کیونکہ نواز شریف سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی نہیں سمجھتے۔ لیکن میاں صاحب کے اس حسن سلوک، مروت اور رواداری کا نتیجہ یہ نکلا کہ پی ٹی آئی اور اس کے تلخ نوا اراکین نے مرحومہ کلثوم نواز کی بیماری پر انتہائی پست درجے کی سیاست کاری کر کے اخلاقی قدروں اور غمزدہ خاندان کے جذبات و احساسات کو بری طرح کچلا۔ آج جو صاحب 72 سال کی عمر میں پی ٹی وی کے چیئرمین لگائے گئے ہیں انہوں نے تو مرحومہ کلثوم نواز کی بیماری کو سرے سے ایک ناٹک اور ڈراما قرار دیا تھا۔

اپنے دوست، مربی اور پارٹی کے روح رواں مرحوم نعیم الحق کے جنازے میں بھی شرکت نہ کرنے والے پاکستان کے موجودہ وزیراعظم کے حواری اور ترجمان آج میاں نواز شریف کی والدہ کی وفات پر بھی غمزدہ خاندان کے زخموں پر نمک پاشی میں مصروف ہیں۔ جو لوگ نواز شریف کو اپنی والدہ کی میت کے ساتھ وطن نہ آنے کے طعنے دے رہے ہیں ان کے لیڈر نے اپنے قریبی رشتہ داروں، بے تکلف دوستوں اور عزیزوں کے جنازوں میں شرکت کرنا گوارا نہیں کیا۔

اس حکومت کے رویے کی سفاکی اور طرز عمل کی زہرناکی اس امر سے ظاہر ہو رہی ہے کہ مرحومہ کے بیٹے شہباز شریف اور پوتے حمزہ شہباز کو اب تک پیرول پر رہا نہیں کیا۔ شریف خاندان کے گھر میں پانچ دن سے صف ماتم بچھی ہوئی ہے اور اخلاقی و سماجی قدروں سے نابلد حکومت نے اس موقعے پر بھی گھٹیا سیاست کی بساط بچھا رکھی ہے۔ یہی نہیں بلکہ اندھے انتقام کی حد یہ ہے کہ آج شہباز شریف کو احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔

شریف خاندان نے بھی کیا قسمت پائی ہے کہ جنرل مشرف کے دور میں نواز شریف پاکستان آ کر اپنے والد کے جنازے کو کاندھا نہیں دے سکے تھے۔ 2018 میں جدید ریاست مدینہ میں حسن نواز اور حسین نواز اپنی والدہ کی میت کے ہمراہ پاکستان نہیں آ سکے تھے اور آج نواز شریف ایک بار پھر اپنی والدہ اور ان کے بیٹے اپنی دادی جان کی تجہیز و تکفین میں شریک نہیں ہو سکیں گے۔ سیاستدانوں کو گالیاں دینے والے دیکھ لیں کہ اس ملک میں یہ رواج ہے کہ ملک دو لخت کرنے والے وردی پوشوں کو سبز ہلالی پرچم میں لپیٹ کر دفن کیا جاتا ہے اور ملک کو ایٹمی طاقت بنانے والے کی حکومت کی بساط تین تین بار لپیٹ دی جاتی ہے۔

پھر بھی لوگ شکوہ کرتے ہیں کہ سیاستدانوں نے اس ملک کے لیے کیا قربانیاں دی ہیں؟ شکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور۔ نواز شریف کا کوئی نہ کوئی تعلق تحریک احرار کے سرگرم کارکن، سرد و گرم چشیدہ سیاسی کارکن اور چکی کی مشقت کرنے والے رئیس المتغزلین حسرت موہانی کے ساتھ بھی ہے جنھیں انگریز حکومت نے اپنی والدہ اور بیٹی کے جنازوں کو کاندھا نہیں دینے دیا تھا۔

نواز شریف کی والدہ کی رحلت کے موقعے پر حکمران پارٹی کے لونڈے لپاڑوں نے سوشل میڈیا پر جس بے ہودگی، رکاکت اور اخلاق باختگی کا مظاہرہ کیا ہے اسے دیکھ کر آدمیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے اور شرافت و نجابت اپنا منہ چھپاتی پھرتی ہیں۔ نواز شریف نے بالکل درست کہا تھا کہ اللہ دشمن کو بھی منتقم مزاج، کم ظرف اور سفاک دشمن نہ دے۔ عمران خان اور ان کی حکومت تو چلی جائے گی مگر جس قسم کی نسل وہ چھوڑ کر جائیں گے اس کی قیمت ہمارا پیارا پاکستان نہ جانے کب تک ادا کرتا رہے گا!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •