اصغر خان کی ڈائری ( طنز و مزاح)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بات کچھ عرصہ پہلے کی ہے، محبان بھوپال فورم کی زیر اہتمام ایک ادبی تقریب اردو ڈکشنری بورڈ میں منعقد تھی۔ تقریب کا دعوت نامہ سوشل میڈیا پر دیکھا، وقت بھی مناسب تھا، گھر سے بھی نزدیک، ہم نے اس تقریب کا رخ کیا اور وقت مقررہ پر پہنچ گئے یہ معلوم نہ تھا کہ تقریب اعلان کردہ وقت کے دو گھنٹے بعد شروع ہوگی۔ خیر صاحب ہم ایک عام سامع کی حیثیت سے گئے تھے، مقصد ادبی تقریب میں احباب کو سننا تھا۔ چند احباب نے ہمیں دیکھا تو ہمیں اگلی سیٹ پر پہنچا دیا، حالانکہ ہم پیچھے بیٹھنے کے عادی بھی ہیں اور بیٹھنا بھی چاہتے تھے تاکہ جلد اٹھ کر جاسکیں۔

مجبوری یہ بھی ہے کہ زیادہ دیر بیٹھنا ہماری کمر کو گوارا نہیں، وہ بہت جلد ہم سے واپس چلنے کی ضد کرنے لگتی ہے۔ ہم اگلی سیٹ پر بیٹھ گئے ایک کرسی چھوڑ کر، کچھ ہی دیر میں ایک صاحب بھاری بھر کم، دراز قد، ہم سے پہلے والی سیٹ پر آ کر براجمان ہوئے۔ دھیمی آواز میں سلام کا تبادلہ ہوا۔ وہ ہمارے لیے اجنبی اور ہم ان کے لیے اجنبی تھے۔ لیکن ادب ہمارے بیچ ایک مثبت تعلق ادا کر رہا تھا۔ ہم بیٹھے بیٹھے اندازہ لگا رہے تھے کہ یہ کون صاحب ہیں جو بالکل خاموش بیٹھے ہیں۔

خاموش تو ہم بھی بیٹھے تھے لیکن ہمارے اندر ایک تجسس تھا، اس شخصیت کے بارے میں کھوج لگانے کا۔ وہ ہمارے دائیں جانب تھے اس لیے ہم انہیں کبھی کبھار کن اکھیوں سے اور کبھی اپنی گردن گھما کر دیکھنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن ناکام ہی رہے۔ ان کی تصویر ہمارے سامنے واضح طور پر نہیں آ سکی۔ دل یہ کہہ رہا تھا کہ اس شخصیت کو پہلے بھی دیکھا ہے، کب کہا اور کیسے یہ ذہن میں نہیں آ رہا تھا۔ تقریب کے انعقاد کی گھڑیاں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں۔

مہمان خصوصی پیر زادہ ڈاکٹر قاسم صدیقی صاحب تھے، رضوان صدیقی صاحب بھی مہمان اعزاز تھے۔ اللہ اللہ کر کے تقریب کے آغاز کا وقت قریب آیا۔ اسٹیج پر مہمان خصوصی کو بلا لیا گیا اتنے میں بھوپال فورم کے روح رواں اویس ادیب انصاری (شو ہر) اور شگفتہ فرحت ( بیگم اویس ادیب انصاری) پروگرام کا آغاز کر نے اندر آئے مجھ پر جوں ہی نظر پڑی، تپاک سے ملے، میرا ہاتھ پکڑ اسٹیج پر لے جا کر بیٹھا دیا۔ بہت منع کیا، عرض کیا کہ میں احباب کو سننے آیا ہوں لیکن اویس انصاری کی محبت نے ایک نہ سنی اور ہم اسٹیج پر پہنچ گئے۔ بعض احباب سوچ رہے ہوں گے کہ پروگرام میں اس شخصی کا مقررین میں نام نہیں پھر یہ کس حیثیت سے اسٹیج پر بیٹھا ہے لیکن تقریب کے میزبانوں کی خواہش تھی سو پوری ہوئی۔

اب ہم جناب جس شخصیت کو کن اکھیوں سے دیکھنے کی ناکام کوشش کر رہے تھے اب وہ ہمارے عین سامنے تھی۔ ہم نے انہیں اوپر سے نیچے تک دیکھا، محسوس ہوا کہ یہ شخصی کسی ادبی محفل میں اسٹیج پر دیکھا جا چکا ہے۔ البتہ ان سے سلام دعا نہیں ہوئی۔ آج اس محفل میں دھیمی آواز میں سلام کا تبادلہ ہوا۔ میں مقررین کو سن رہا تھا لیکن ذہن اس شخصیت کو اپنے حصار میں لینے کی کوشش کر رہا تھا۔ یہی سوال، یہ کون ہے، کہاں دیکھا، کیا کرتے ہیں، ادیب ہے شاعر ہیں، بولتے ہیں تو کیسا الغرض یہی سب ان کے بارے میں سوچتا رہا۔

نام ذہن میں نہیں آ رہا تھا۔ اس دوران میں نے ان کی شخصیت کا ایک خاکہ اپنے ذہن میں تیار کیا وہ کچھ اس طرح سے بنا سکا۔ قد آور، فربا جسم، دیکھنے میں 60 کے اوپر کے محسوس ہو رہے تھے۔ ، کاندھے قدر جھکے ہوئے، گندمی رنگ، سفید فرنچ کٹ سفید داڑھی جس میں مختصر بال، کھڑی ناک، سر پر مختصر سفید بالا اوپر چینی اشتراکیوں والی ٹوپی، چشمے کے پیچھے سے جھانکتی آنکھیں۔ پینٹ شرٹ ذیب تن کیے ہوئے۔ ابھی میں ان کی شخصیت کے خد و خال کو مجتمع کرنے کی سعیٔ کر رہا تھا کہ میزبانوں میں سے کسی نے انہیں بھی اسٹیج پر آنے کی دعوت دی، جب ان کا نام پکارا گیا تو میرے کان کھڑے ہو گئے، اندر سے آواز آئی اچھا تو یہ ہیں اصغر خان ’یاران نمک دان‘ والے۔

اب مجھے قرار آ گیا، اس محفل سے یہ سوچ کر اٹھا کہ مجھے نہیں معلوم کہ اس شخص نے ادب میں کیا کچھ لکھا پڑھا ہے لیکن میں اس شخص کے بارے میں ضرور
لکھوں گا۔ بات آئی گئی ہوگی، میں اپنی مصروفیات میں لگ گیا۔ وقت گزرتا گیا اور کورونا نے پاکستان میں اپنی انٹری دی دیکھتے ہی دیکھتے خوب پھل پھول گیا۔ ڈر و خوف نے ڈیرے ڈال لیے، لوگوں نے سماجی فاصلہ پر عمل شروع کر دیا، تقریبات منعقد ہونا بند ہو گئیں بلکہ سرکار نے پابندی لگادی۔

کورونا میں ادیبوں اور شاعروں نے اپنے آپ کو علمی و ادبی سرگرمیوں میں مصروف کرنے کے لیے انٹرنیٹ کا سہا را لیا، حلقہ ارباب ذوق کراچی نے ہر روز آن لائن مشاعرہ، تنقیدی نشست، ادبی نشست، گفتگو کا پروگرام ترتیب دیا۔ ہم بھی رمضان المبارک میں گھر پر ہی نماز و تراویح پڑھ کر اس آن لائن ادبی محفل میں شامل ہو جایا کرتے۔ یاران نمک دان سے اس فورم پر پھر ملاقات ہو گئی۔ اب ہم ایک دوسرے کے واقف کار ہو گئے۔ لکھنے کی مصروفیات کے باعث میں اس محفل میں شمولیت کو جاری نہ رکھ سکا جس کا افسوس ہے۔ اس طرح ایک اجنبی میرا ادبی دوست بن گیا۔ موبائل پر سلسلہ تکلم شروع ہوا، کئی موضوعات پر گفتگو ہوا کرتی، کچھ ان کی سنی کچھ اپنی سنائی۔ چند دن گزرے تو خان نے اپنی دو تصانیف ”خان کی ڈائری“ اور شعری مجموعہ بذریعہ پوسٹ ارسال کر دیا۔

خان کی ڈائری دراصل طنز و مزاح کے ساتھ ساتھ ان کی آپ بیتی کے حوالے سے مضامین کا مجموعہ ہے جس میں خان نے اپنی وہ مضامین شامل کیے ہیں جو وہ ماضی میں لکھتے رہے۔ خان کی یہ ڈائری دوسری مرتبہ طبع ہوئی ہے جسے محمود اختر خان نے مرتب کیا ہے۔ اصغر خان صاحب کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع ہزارہ مانسہرہ میں شاہراہ ریشم پر واقع ایک گاؤں ”ڈھوڈیالی“ سے ہے لیکن ان کا بچپن صوبہ بلوچستان میں گزرا۔ اس لیے کہ ان کے والد کو بہ سلسلہ ملازمت بلوچستان جانا پڑا۔

اپنی پیدائش کے بارے میں خان نے لکھا ہے کہ ”میں دو فروری 1940 ء کو شور کوٹ کے مقام پر پیدا ہوا۔ میری پیدائش کے بعد والد محترم مع اہل و عیال ملازمت کے سلسلے میں بلوچستان منتقل ہو گئے۔“ ۔ لکھتے ہیں کہ وہ قوم کے سواتی ہیں اور درے خانی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں یہ بھی کہ خان صاحب ہوں خاں صاحب نہیں ”۔ زراعت میں ایم ایس ای ہیں، زرعی تحقیقات کے ادارے سے منسلک رہے۔ آخر میں ڈائریکٹر آف ریسرچ، پاکستان سینٹرل کاٹن کمیٹی کی حیثیت سے 1998 ء میں قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی۔

کتاب کا ٹائیٹل دیکھ کر میں بھی کتاب کے ناشر کی طرح سوچ میں پڑ گیا تھا کہ خان اور ڈائری؟ فوراً ہی نیچے نظر گئی جہاں لکھا تھا ’طنز و مزاح ”یہ پڑھ کر مشکل حل تو ہوگی لیکن خان، طنزو مزاح، ٹائٹل پر خانوں کا مخصوص ٹرک، ڈرائیونگ سیٹ پر خان کی تصویر، ٹرک کے بونٹ کے نیچے“ ہر کلہ راشہ ”لکھا ہوا، سڑک پر شاعری، سیاسیات، ادب، سماجیات لکھا ہوا، گویا خان ان اصناف پر اپنے مخصوص ٹرک دوڑاتا ہوا چلا جانا چاہتا ہے۔

ابتدائی صفحات، فہرست عنوانات کا مطالعہ کیا تو تسلی ہوئی کہ خان نے آپ بیتی اور جگ بیتی مزاح کا سہارا لیتے ہوئے لکھنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ طنز و مزاح لکھنا ایک مشکل کام ہے۔ مصنف نے ”مشتری ہوشیار باش“ کے تحت لکھا ہے کہ ان کے مضامین کی تان گھوم پھر کر ان دونوں نکتوں پر ٹوٹنی چاہیے ) اردو کا طنز و مزاح عہد یوسفی سے نکل کر عہد اصغری میں داخل ہو گیا ہے۔ ) طنزو مزاح کی یہ کتاب اکیس ویں صدی کے ادبی تقاضوں کے عین مطابق ہے۔

خان کی ڈائری میں خان کے 19 مضامین ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر احباب کی تحریریں ہیں خان کی تنقید اور تبصرہ نگاری کے بارے میں، خان کی کالم نگاری کے بارے میں، خان کی خاکہ نگاری کے بارے میں، حکایات اصغر، اصغری ٹپے، خان مشاہیر ادب کی نظر میں اور اظہار تشکر پر کتاب کا اختتام ہوتا ہے۔ خان کے تمام مضامین کا مطالعہ اور ان پر تجزیہ بات کو طویل کر دے گا۔ ان کے طنز و مزاح کے مضامین سے ان کی چند تحریروں کا انتخاب کر کے اندازہ لگانے کی سعی کرتے ہیں کہ خان کس قسم کا مزاح لکھتے ہیں۔

اپنے پہلے مضمون ”قصہ پنج درویش“ میں ایک سنکی دوست کا ذکر اور اس کے ساتھ طویل مکالمہ ہے آخر میں اس سنکی دوست کا جملہ نقل کیا ہے جس میں وہ کہتا ہے ”یار بات یہ ہے کہ میں نے اپنے محسوسات و مشاہدات کا کاغذ پر منتقل کرنا شروع کریے ہیں اور آج کل میرے فارغ اوقات زیادہ تر ادیبوں اور شاعروں کے ساتھ گزرتے ہیں“ ۔ جواب میں مصنف نے لکھا میرا تو کسی ادیب اور شاعر سے واسطہ نہیں پڑا۔ لیکن نہ جانے کیوں یقین ہو چلا ہے کہ شاعروں اور ادیبوں کی صحبت اچھے اچھوں کے کس بل نکال دیتی ہے۔

اپنے مضمون انٹر ویو میں اپنی آپ بیتی کی کہانی بھی شامل کی ہے، ملازمت کی داستان بھی۔ مضمون ”بھولے بسرے نغمے“ کا آغاز 1969 میں حکومت امریکہ کے خرچ پر زراعت کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے بیروت جانے کی داستان ہے۔ اس داستان میں کئی خواتین کا ذکر ہے۔ مضمون ”مزاحمتی ادب“ ایک ادبی تقریب میں شرکت کی داستان ہے جو خالد علیگ اور سلیم شاہد کے ساتھ شام منائی گئی۔ خواندگی او ترقی ایک مختصر مضمون ہے۔ مضمون ”جمہوریت“ میں لکھا ہے کہ پاکستان کی جمہوریت اپنی نوعیت کی واحد جمہوریت ہے، جس کی حفاظت اور ضرورت کا تعین پاکستانی افواج کرتی ہیں اور اس کام میں عدالتیں ان کی بھر پور معاونت کرتی ہیں ”۔

بات درست لکھی ہے۔ ماڈرن فکشن میں لکھتے ہیں کہ اگر یہ کہانی آپ کو سمجھ نہ آئے تو اس میں آپ کا قصور ہوگا، نہ کہ میری کہانی کا۔ میری کہانی ازل سے شروع ہوتی ہے اور ابد تک ختم نہیں ہوتی ”۔ اڑی مکھی“ ایک کہانی ہے۔ صفائی نصف ایمان ہے، زرعی تحقیق کے تحت یہ بتانے کی سعی کی ہے کہ تحقیق کیا ہے۔ ترقی کے گر کے علاوہ ایک ’رپورتاژ ”بھی ہے۔ جوگنگ کیا ہوتی ہے اس پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ اصغری ٹپے دیکھئے

روٹی، کپڑا اور مکان۔ مارکس سے لے بھٹو تک۔ نعروں کی دکان
آٹا مہنگا، سستی جان۔ آؤ بچو سیر کرائیں۔ یہ ہے پاکستان
ہر طرف ہے مہنگائی۔ سونے کی تجارت میں۔ کوئی نہ کمی آئی
رو رو کا ہلکار۔ ماما میک اپ میں مصرف۔ اک ننھی سی جان

اصغر سے ملے لیکن۔ محمود شام صاحب کی تحریر ہے، لکھتے ہیں ”مجھے ان کی ’باپ بیتی‘ نے بہت متاثر کیا ہے۔ اس سے مجھ پر یہ راز کھلا کہ بے باکی، حق گوئی اور برجستگی کے سوتے کہاں سے پھوٹتے ہیں“ ۔ انور احمد علوی کا مضمون، سید معراج جامی نے ’خامہ انگشت بہ دنداں کہ۔‘ کے عنوان سے خان پر مضمون لکھا ہے۔ ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی نے خان پر اپنے مضمون کا عنوان ”خان۔ ڈبیہ سے ڈائری تک۔“ رکھا ہے۔ جس میں خان کی کتاب خان کی ڈائری کی تعارفی تقریب کا آنکھوں دیکھا حال قلم بند کیا ہے۔

سہیل احمد کا مضمون ”جداگانہ طرز تحریر کا حامل شخص“ بھی خان پر مختصر معلومات فراہم کرتا ہے۔ آصف علی آصف کے علاوہ ڈاکٹر ساجدہ سلطانہ نے اپنے مضمون بعنوان ”ایک شاعر کا غیر شعرانہ تذکرہ“ میں لکھا ”ان کا رنگ سانولا ہے جسے وہ سرمئی کہتے ہیں، دراز قد ہیں، مسکراتے ہیں تو گال پر گڑھا سا پڑ جاتا ہے۔ انہوں نے اپنا یہ شعر خان کے چاہ ذقن کی نظر کیا:

گال پر ان کے کھلکھلاتا ہے
اک بھنور جب وہ مسکراتے ہیں۔
آخر میں اپنی تحریر کا اختتام اصغر خان صاحب کے اس شعر پر کرتا ہوں۔
دکھے ہے اصغر پتھر جیسا
نازک شیشے جیسا ہے

اصغر کا ایک اور شعر جو کتاب کی پشت پر اصغر کی خوبصورت تصویر کے نیچے درج ہے، اس لیے لکھ رہا ہوں کہ مجھے اصغر جیسا نظر آیا میں نے ویسا ہی رقم کر دیا۔ نہیں معلوم وہ پتھر جیسا ہے یا شیشے جیسا۔ شعر دیکھئے۔

آئینہ ہے دل میرا آئینہ نظر میری
آتا ہے نظر جیسا کرتا ہوں رقم ویسا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •