محبت کے سروں میں گندھی لوریاں اور ان کے سماجی اثرات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اب تو وقت یاد نہیں شاید رات آٹھ یا نو بجے کا عمل رہا ہو گا۔ بہن کا گھر کہ جہاں میں اپنی آٹھ ماہ کی بچی کے ساتھ دو دن کے لیے رہنے آئی تھی۔ اور اس کو سلانے کی کوشش میں مصروف۔ ملگجے اندھیرے میں پھولوں اور دوسرے درختوں سے لدے گھر کے سامنے والا حصہ، اور میرے دونوں بازوؤں کے گھیرے میں، نیند سے بے چین، بے سکون آٹھ ماہ کی بیٹی اور میری لوری۔ گو میں ایسی سریلی نہیں مگر مامتا کا تو اپنا ہی سر ہوتا ہے۔ یہ محض اتفاق تھا کہ اس دن میرا انتخاب ایسی لوری تھا کہ جو میں اسے بہت زیادہ نہیں سناتی تھی۔ یہی وجہ ہوگی کہ بیٹی پہ لوری اثر نہیں کر رہی تھی۔ اس کی نیند سے بے کل آنکھیں، خوابوں کی وادی میں جانے سے گریزاں اور بے چین تھیں۔ تب اچانک مجھے خیال آیا دوسری لوری کا۔ جو اکثر میرا انتخاب رہی تھی اور جس کا آغاز اس طرح ہے۔

؂ چھن چھن چھننا چھن۔ چندا کے ہنڈولے میں اڑن کھٹولے میں
امی کی دلاری پاپا جی کی پیاری سوئے، نندیا جھلائے تجھے جھولے میں

(ظاہر ہے کہ اگلے مصرعے کو میں کچھ ردو بدل کے بعد گاتی تھی کیونکہ اصل لوری کے بول لڑکے کے لیے لکھے گئے تھے۔ ) اس لوری کا سننا تھا کہ میری بیٹی کا چہرہ ہی بدل گیا۔ ایک بھر پور مسکراہٹ کے ساتھ اس کی مخمور خوبصورت آنکھوں میں ایک دم اطمینان طاری ہو گیا اور جلد ہی وہ میری بانہوں کے جھولے میں سکون سے سو گئی۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے کہ جس نے کئی سال گزرنے کے بعد بھی مجھے لوری کی اہمیت اور افادیت پہ لکھنے پہ مجبور کر دیا ہے۔

میرا تعلق ادب سے نہیں لہٰذا کچھ کہہ نہیں سکتی کہ محبت کے خمیر، لمس کے خمار اور دلی قربت کی چاشنی سے گندھی لوریاں ادب کے کس خانے میں شمار کی جاتی ہیں۔ مگر اتنا ضرور جانتی ہوں کہ انسانی ذہن اور سماجی ارتقا کے عمل میں لوریوں کا کردار اولاد اور ماں کی آنول نال کے رشتے کی طرح مضبوط ہے۔ دنیا کے کسی بھی خطے میں کیسا ہی سماج نمو پا رہا ہو وہاں پیدا ہونے والے بچے ماؤں کی گود یوں یا پالنوں میں لوریوں تلے پروان چڑھتے ہیں۔

جب مائیں، کبھی باپ یا بچوں کو پروان چڑھانے والے لوری کے با معنی (یا بے معنی) اکثر محض چند لفظوں یا مصرعوں کو اپنے دھیمے سروں، نرم آواز اور جسمانی اور جذباتی لمس کے ساتھ دہراتے ہیں تو کچھ دیر میں آواز، سر، تال اور محبت و التفات سے دہرائے الفاظ کا یہ سحر خیز ملاپ بچے کو پرسکون نیند اور خواب کی وادی میں لے جاتا ہے۔ اور یہ عمل اتنا جادوئی ہے کہ اس کی تاثیر کا خمار صدیوں سے انسانی تہذیب کا حصہ رہا ہے۔

مجھے یقین ہے کہ ماں کی لوری، بچے اور پرسکون نیند کے مابین جڑا رشتہ اس وقت ہی سے قائم ہوا ہوگا جب کائنات میں تخلیق ہونے والے پہلے انسان نے جنم لیا۔ لیکن کون بتا سکتا ہے کی پہلی لوری کب لکھی گئی اور اس کے سرکے رس بچے کے کان میں کب گھولے گئے۔ البتہ دنیا کی سب سے پہلی لوری کے الفاظ چار ہزار سال قبل قدیم با بلین (موجودہ عراق) کے مٹی کے کتبوں میں کنندہ ملے ہیں۔ جو رابطہ کی سب سے قدیمی زبان کیونیفارم میں لکھے گئے۔ جب سے اب تک لوریوں پہ تحقیقی کام جاری ہے۔ جو کسی ایک خطہ کے بجائے بین الاقوامی سطح پہ ہو رہا ہے۔ اس کی وجہ مثبت انسانی رویہ کے اظہار میں لوری کی افادیت ہے۔

لوری رابطہ کا اہم ذریعہ ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق حاملہ ماؤں کے جسم میں پروان پانے والا بچہ حاملیت کے چوبیسویں ہفتہ سے سننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس طرح بچہ اور ماں کے مابین آواز کا پل پیدائش سے قبل ہی تعمیر ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موسیقی کے تھراپسٹ اسٹرس سے گزرنے والے حاملہ ماؤں اور ان کے جسم میں پرورش پانے والے بچوں کا علاج ایسی موسیقی سے کرتے ہیں جو انہیں سکون پہنچا سکے۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ اندر کی محفوظ اور مانوس فضا سے باہر کی اجنبی دنیا میں داخل ہوتا ہے۔ ماں کی آشنا آواز، لوری کے مخصوص تال میں دہرائے سادہ الفاظ، اور ماں کی باہوں کے جھولے کی حرکت (جو شکم مادر کی حرکت سے متشابہ ہوتی ہے ) کا جادوئی امتزاج بچے کو سکون دیتا ہے۔ اور نیند کے وادی میں لے جاتا ہے، بہ شرطیکہ ماں کی پوری توجہ خوشگوار موڈ میں بچے پہ ہی ہو۔

لوری کی روایت ایک نسل کی ثقافت کو اگلی میں منتقلی کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ لوری صرف نوزائیدہ بچہ کو ہی نہیں سنائی جاتی بلکہ اسے بڑے بچوں کو بھی سنایا جاتا ہے جو زبان سے آشنا ہو رہے ہوتے ہیں۔ لوریاں مقامی زبان میں سنائی جاتی ہیں جہاں کی زبان ہی نہیں ثقافت بھی مخصوص ہوتی ہے۔ لوری روشن مستقبل کی دعاؤں کے علاوہ مذہبی تہواروں، متبرک یا اہم ملکی لیڈروں سے محبت کا سبق بھی دیتی ہیں۔ عموماً لوریوں میں کہانی کا پہلو نمایاں ہے جو بچوں کو تخیلاتی دنیا میں لے جاتا ہے۔ رات کا اندھیرے میں ڈوبی خاموشی اور سکوت اور آسمان پہ چمکتے چاند اور جھلملاتے تارے ان کہانیوں میں نمایاں ہوتے ہیں۔ ہماری فلموں نے لوری میں ان عناصر کو بہت خوبی سے استعمال کیا ہے۔ مثلا

؂ ؂ چندا کی نگری سے آ جاری نندیا تاروں کی نگری سے آ جا
؂ چندا ماما دور کے پوئے پکائیں بور کے آپ کھائیں تھالی میں منے کو دیں پیالی میں
؂ نانی تیری مورنی کو مور لے گئے باقی جو بچا تھا کالے چور لے گئے

یہ ضروری نہیں کہ لوری ماں ہی سنائے کبھی یہ فریضہ باپ بھی انجام دیتے ہیں کم ازکم ہمارے سماج کی فلموں میں۔ مثلا

؂ للا للا لوری دودھ کی کٹوری دودھ میں بتا شہ منی کرے تماشا

گو لوری کی خوبصورتی اس کے سروں اور لفظوں کی سادگی میں ہے۔ لیکن اکثر بڑے اور نامور شاعروں نے اس پر طبع آزمائی کی مثلاً حمایت علی شاعر نے فلم ”لوری“ کی لوری لکھ کر ثابت کیا کہ ایک مرد بھی بطور باپ اولاد کے لیے نازک احساسات اور ان کے اظہار کی صلاحیت رکھتا ہے۔

؂ چندا کے ہنڈولے میں اڑن کھٹولے میں

شاعری ہی نہیں، ہمارے کلاسیکل موسیقاروں نے بھی گداز سروں کے امتزاج سے کمال کی لوریاں ترتیب دی ہیں۔ مثلاً استاد سلطان حسین اور استاد ذاکر حسین نے پر اثر مقامی راجھستانی زبان میں لوری کی بے مثال دھن تخلیق کی۔

؂ سوجارے تنے لوری سناؤں چاند سے مکھڑو تیری بالی جاؤں
آپ بھی سنیئے اور سر دھنیے۔

لوری سناتے وقت ماں کا لمس بچے کی عصبی و حسی اور جذباتی صحت کے لیے بہت اہم ہے۔ جو بچے کی دل کی دھڑکن تنفس اور دماغ سے نکلنے والے نیرو ٹرانسمٹرز کے اخراج میں توازن رکھنے میں مدد گار اور اسٹرس کی سطح کو کم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ لوری کی وجہ سے زبان سیکھنے اور پڑھنے کی صلاحیت میں اضافہ، دوسروں سے میل و ملاپ، تعاون اور یگانگت، اعتماد اور محبت کا جذبہ پروان چڑھتا ہے۔

جہاں لوری بچے کو ہر سطح پہ فائدہ پہنچاتی ہے وہاں ماں کے لیے بھی لوری کا سنانا تھرپی اور ذہنی آسودگی کا سبب بنتا ہے۔ اس سلسلے میں پروفیسر محمد علی خان جو انگریزی ادب میں پی ایچ ڈی کی سند کے ساتھ موسیقی کی کمال کی معلومات رکھتے ہیں اور صوفی موسیقی کے گرویدہ ہیں، کہتے ہیں ”ماں جب اپنے آواز کے نرخرے کو استعمال کرتی ہے تو وہ خود بھی ایک تھرپی سے گزرتی ہے۔ لوری ایک سامع اور سنانے والے کے درمیان سرگوشی میں فن اور قربت کا اظہار ہے۔ جو دونوں کو ایک دوسری ہی دنیا میں لے جاتا ہے۔

ماں لوری میں اپنے سپنے اور اپنے دکھ بھی سناتی ہے۔ اپنے انفرادی ذاتی حالات کا دکھڑا ہو یا اجتماعی سطح پہ جنگ و جدل اور قحط کے ہاتھوں مصائب کا رونا۔ لوری سنانے کا عمل ان دکھوں کو اپنے میں سمیٹ لیتا ہے۔

؂ سوجا میری گڑیا تو کیوں ٹک ٹک جاگے اپنا دکھڑا کیسے روئے ممتا تیرے آگے
؂ تو کیا جانے اس جگ میں ہیں کیسے کیسے لوگ پیار جتا کے دے جاتے ہیں جیون بھر کا روگ

گو یہ مثالیں فلموں کے لیے باقاعدہ لکھی گئی لوریوں کی ہیں مگر حقیقی زندگی میں مقامی زبان میں ماؤں کے دلوں سے نکلے پیار کے چند بے ساختہ بول بھی کبھی نسلوں تک دہرائے جانے والی مثالی لوریاں بن جاتے ہیں۔

سادہ زبان میں لکھی لوریاں اور اس کی سازوں سے عاری موسیقیت کا جادو آفاقی ہے۔ اس کی دلکش دھنیں انسانی ذہن میں جھانکنے اور انسان سے جڑنے کا کام انجام دیتی ہیں۔ بچے کی نشو و نما میں اس کا اہم کردار ہے۔ لوری سنانے کی روایت کسی ثقافت کو اگلی نسل میں منتقلی کا فریضہ انجام دیتی ہے۔ کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھی سازوں کے بغیر گائے جانے والی لوری کی افادیت ایک پل کی سی ہے جو اولاد کو ماں سے ہی نہیں بلکہ آفاقی سطح پہ پوری انسانیت سے ہم رشتگی کا فریضہ انجام دے سکتی ہے۔ جنگ و جدل، ایٹمی تابکاری، مذہبی تعصب اور منافرت کے اس دور میں اس بات کی اہمیت کچھ اور بڑھ گئی ہے کہ ہم لوری سنانے کی روایت کی آبیاری کریں کہ جو زماں اور مکاں کی حدود سے ماورا اور انسانوں میں سکون، امن و آشتی اور مثبت سماجی تبدیلی کا مظہر ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •