مارک ٹوین کے نام ایک خط


بصیرت سے شاداب آنکھیں، ہونٹوں پر گھنی مونچھوں کا چھجہ اور تفکر میں ڈوبا وجہیہ چہرہ ایک ایسے مزاح نگار کا پتہ دیتے ہیں، جس نے جیفری چاسر، جوناتھن سوفٹ، اور ایلگزانڈر پوپ کی طنز و مزاح کی روایت کو نئے رنگوں سے سرشار کیا اور امریکی ادب میں ظرافت کی صنف کو رفعت عطا کی۔ بلاشبہ آپ نے خیال کی وارفتگی، تمثیل کی اوٹ، مزاح کی چٹک و طنز کی چوٹ سے انسانوں کو چاک گریباں کی زحمت دی ہے۔ اس حقیقت سے بھی مفر نہیں کہ ایک سو دس برس قبل اگر سانس رفاقت نا چھوڑتی اور آپ بیسویں صدی کی ہولناکیاں دیکھ پاتے تو ہمیں "ملعون انسانی نسل” سے ارفع لقب نصیب ہوتا۔ کئی برسوں سے طالب علموں کے منہ پہ تحیر دیکھتا آیا ہوں، اس برس رہا نا گیا سوچا آپ کو خط لکھ کر بصد احترام اپنے تحفظات سے آگاہ کروں۔

مکرمی، آپ نے فرمایا انسانوں نے ارتقائی مراحل طے کرتے ہوئے بہت کچھ کھو دیا، آپ نے یاد دلایا کہ اس عمل نے ہمیں ترقی نہیں دی بلکہ تنزلی کے گڑھے میں اتار دیا اور ہم اپنے سابق وجود کی بے کنار سادگی و معصومیت سے جدا ہو گئے۔ آپ اس قدر سیخ پا ہوگئے کہ ہمیں جانوروں، پرندوں، رینگنے والے حشرات اور کیڑے مکوڑوں کے سامنے آب آب کردیا، ہمیں برہنہ کرنے میں کوئی کسر نا اٹھا رکھی۔ لندن زولوجیکل گارڈن میں کئے اپنے تجربات کی روشنی میں آپ نے فرمان جاری کیا کہ "انسان جانوروں سے زیادہ ظالم ہے۔ انسان لالچی ہے۔ انسان جنسی درندہ ہے۔ انسان جھگڑالو ہے۔ انسان غلام ہے اور غلام بناتا ہے۔ یہ مذہبی انتہا پسند ہے۔ یہ نام نہاد اخلاقی حس کا مالک ہے۔” آپ کا فیصلہ درست سہی مگر انسانوں کی ایک تعداد اس سے مستثنیٰ بھی تو ہے۔

عالی جاہ، انسان نے نفرت، حسد، حملہ، استحصال بارود اور جنگ کے ساتھ محبت، برداشت، دوا اور گیت بھی تو پیدا کیا۔ آپ نے اپنے مضمون میں کہیں تو ہماری خوبصورتی کا اعتراف کیا ہوتا۔

آپ سے چند برس کی مسافت پر کھڑے احمد ندیم قاسمی ایک شعر باندھ رہے تھے

اک حقیقت سہی فردوس میں حوروں کا وجود

حسن انساں سے نمٹ لوں تو وہاں تک دیکھوں

ہزاروں برس قبل ایتھنز کی گلیوں میں کوئی سقراط نامی فلسفی تھا جو تگڈم کے مکروہ بندوبست کے خلاف نعرہ لگاتے ایک دھج سے مقتل کی طرف گامزن تھا۔ دسویں صدی عیسوی میں دور کہیں فارس کے دواخانے میں ایک دانا، اگلی نسلوں کیلئے تریاق نہیں ڈھونڈ رہا تھا؟ آپ کو تاریخ کے صحفے الٹتے ہوئے، کہیں بحر اوقیانوس کے پار ہندوستان میں رشتوں کی ہم آہنگی و روح کی غذا کا سامان بناتا امیر خسرو راگوں کی پھلواری مرتب کرتا نہیں ملا؟

مان لیا کہ فرانس اور پروشیا برسر پیکار تھے اور دیوتا لاشوں کا نذرانہ وصول کرتے کیف و مستی کے عالم میں تھے مگر وہاں دور کسی بستی میں لوئی پاسچر نام کا ایک سودائی لوئی پاسچر جرثوموں کا سراغ بھی تو لگا رہا تھا وہ جس نے پتہ دیا کہ بیماری کا تعلق کسی ایک فرد یا قوم کی نحوست سے نہیں جوڑا جا سکتا بلکہ یہ تو نتیجہ ہے حفظان صحت کے اصولوں سے انفرادی یا اجتمائی طور پر منہ پھیرنے کا۔ اور تو اور آپ کو جرمنی کا وہ اشتراکی کارل مارکس یاد نا رہا جس نے کہا تھا انسانوں میں تفریق کا موجب رنگ، نسل، زبان اور خطہ نا ٹھہراؤ بلکہ انسانوں میں ہمیشہ دو ہی قومیں بستی ہیں اجارہ دار اور محکوم، رکھنے والے اور نا رکھنے والے۔

آئیے بیسویں صدی کی جانب نگاہ کرتے ہیں بلاشبہ آپ ہمیں ہٹلر، مسولینی، فرانکو، سٹالن، چرچل، ٹرومین، ماؤ اور پنوشے اور درجنوں دوسرے مطلق العنان اہل حکم کا طعنہ دیں گے جن کی بدولت ہم سے اشرف المخلوقات ہونے کا حق چھین لیں گے، مگر ان سو برس میں آپ کی رحلت کے چھ برس بعد ہی 1916 میں برٹرینڈ رسل نام کے ایک امن پسند کو جنگ کے خلاف نظریات کی بنا پر ٹرینیٹی کالج میں تکالیف اٹھانا پڑتی ہیں، ایک پڑاؤ 1928 کا بھی آتا ہے، پینسلین نے ہماری سانس میں اضافہ کر دیا، پھر 4 اپریل 1968 کو ہمارے قبیلے کا ایک آدمی نسلی برابری کا حق جتاتے جتاتے چھلنی ہوگیا۔ کیا مدرٹریسا، رتھ فاو اور عبدالستار ایدھی کو بھی استثنی نہیں دیں گے آپ؟ ان کی انسان دوستی کی مثال پر ایک نیا مقدمہ نہیں پیش کریں گے کہ انسان ارفع بھی ہے۔

خاکسار عفی عنہ

Facebook Comments HS