براستہ جہاد کشمیر: سب سے پہلے ہم


اس نے سرحد پار کئی آپریشن کیے۔ مقامی زبان بولنا، جگہوں سے آگہی، علاقائی لباس سب اس کی مدد کو آتے تھے۔ ڈاکٹر اقبال اس کو واپس پڑھائی کی جانب لانے کی کوشش کرتے رہے مگر اب تنظیم میں اس کی اہمیت بھی زیادہ تھی اور پھر وہ تو اپنے وطن کی آزادی کی جنگ لڑ رہا تھا۔ بھارتی فوج کی ظلم و ستم کی کہانیاں وہ سنتا رہتا تھا۔ انتقام، انتقام، لہو میں بولتا انتقام اس کی رگوں میں دوڑتا تھا۔

اس رات حسین بخش اور جاوید لون چھ ساتھیوں کے ہمراہ بارہ مولا کے علاقے میں ایک فوجی کانوائے پر حملے کی مہم پر تھے۔ فوجی کانوائے حملوں سے بچاو کی تیاری کر کے صرف دن میں چلتے تھے۔ جنگل سے گزرتی سڑک کے ایک موڑ پر جاوید اور اس کے ساتھیوں نے رکاوٹیں کھڑی کیں اور کانوائے کی گھات میں چھپ کر بیٹھ گئے۔ کانوائے رکاوٹ پر پہنچا تو فوجیوں نے جان لیا کہ حملہ سر پر ہے۔ سپاہیوں نے فوراً اتر کر گاڑیوں کی اوٹ لی اور فائرنگ شروع ہو گئی۔ تین گھنٹے کی لڑائی میں آٹھ فوجی اور دو مجاہد مارے گئے۔ حسین بخش شہید، مقام شہادت بارہ مولا، مقبوضہ کشمیر، عمر 19 سال اور جاوید لون، پیدائش سرینگر، مدفن نامعلوم، علاقہ بارہ مولا۔ دونوں کسی گمنام گڑھے کے پیٹ میں اکٹھے دفن کر دیے گئے۔

ڈاکٹر اقبال کو اگلے دن خبر مل گئی۔ لاش نہ تھی مگر تعزیت اور مبارکباد دینے والوں کا ہجوم تھا۔ لوگ صبح سے چلے آرہے تھے۔ غائبانہ نماز جنازہ پڑھائی گئی۔ تنظیم کے بڑوں کے ہمراہ اور لوگ بھی آئے، کئی ناموں والے غلام رسول، محمد یسین، علی حیدر، دلنواز سب آئے تھے۔ چھ ماہ بعد ڈاکٹر اقبال نے فیصلہ کیا کہ وہ مظفر آباد چھوڑ کر ایبٹ آباد منتقل ہو رہے ہیں۔ ارشد لون کے ذہن میں یہ سب تازہ تھا، حضرت بل کی درگاہ کے جنازے سے لے کر اپنے بھائی جاوید کے غائبانہ جنازہ تک سب گہرا نقش تھا۔

ڈاکٹر اقبال ارشد کو پڑھائی پر ہی توجہ کی تلقین کرتے۔ دو سال بعد اس نے کیڈٹ کالج کا امتحان پاس کر لیا تو وہ اب بورڈنگ سکول میں تھا۔ آٹھویں کلاس کا بچہ، گالیوں سمیت کئی چیزیں سیکھتا۔ یہ بورڈنگ سکول بھی الگ دنیا ہیں، گھروں سے دور رہتے کمسن لڑکے، اعتماد پاتے، اپنے کام خود کرتے، علی الصبح اٹھ کر میس میں اکٹھا ناشتہ کرنے جاتے ہوئے اپنے چھوڑے گھروں کی یاد کی پوٹلی ساتھ اٹھائے ایک دستے کی صورت میں لیفٹ رائیٹ لیفٹ مارچ کرتے۔

چھری کانٹے سے ڈبل روٹی کاٹنا سیکھتے، پڑھائی کرتے اور پھر شام کو گراؤنڈ میں فٹ بال، باسکٹ بال اور دوسرے کھیل کھیلتے۔ شام کو دوبارہ پڑھائی اور رات کا میس میں کھانا سب لگی بندھی روٹین کا حصہ تھے۔ سب اچھا بھی نہ تھا، معاشرے کی مختلف سطحوں سے آئے ہوئے بھانت بھانت کے لڑکے اپنے اپنے انداز میں دی جانے والی تربیت سے اثر پذیر تھے۔ سینئر کی بدتمیزی اور جونیئر کی تابعداری گالیوں اور سزا کے ساتھ سکھائی جاتی تھی۔ کبھی کبھار پیسے اور سامان بھی چوری ہوجاتا تھا، لڑکوں کے جنسی دراز دستی کے واقعات بھی سننے میں آ جاتے تھے۔ ارشد اس ماحول میں ایڈجسٹ نہ ہوسکا، وہ گھر واپس جانا چاہتا تھا۔ اس کے مسلسل اصرار پر سال بعد ڈاکٹر اقبال اسے واپس ایبٹ آباد لے آئے۔

ارشد لون ایک سنجیدہ طالبعلم تھا۔ اس کے زندگی کے تجربے اپنے ہم جماعتوں سے فرق تھے۔ اس نے اپنی توجہ پڑھائی پر مرکوز رکھی۔ ایف ایس سی بورڈ میں پوزیشن لی اور پھر غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ میں الیکٹرانکس انجینئرنگ میں اس کا داخلہ ہو گیا۔ یہ انسٹی ٹیوٹ بھی ایک کم آباد علاقے میں قائم شدہ ہے، کوئی قابل ذکر شہر پاس نہیں ہے۔ کلاسوں کے بعد ہوسٹل واپسی، میس، انٹرنیٹ، نمازیں، تبلیغی جماعت، کھیل، مباحثے، سیاسی اور مذہبی بحثیں، توانائی سے بھرپور جواں لوگوں نے اپنے اپنے شوق ڈھونڈ لیے تھے۔

مختلف طالب علم اپنے اپنے رجحان کے مطابق کام کرتے، بعض انٹرنیٹ پر فری لانس کام کرتے، بعض یونیورسٹی میں بنائے گئے مختلف کلبوں کا حصہ بن جاتے۔ ارشد لون روبوٹکس اور الیکٹرانکس کلب میں شامل ہو گیا۔ چھوٹے چھوٹے ہابی پروجیکٹ کرتا؛ موٹر کنٹرول، دھواں محسوس کرتا الارم سسٹم، سفید لائن پر چلتا چھوٹا روبوٹ وغیرہ وغیرہ۔

ڈاکٹر اقبال کی کوشش تھی کہ ارشد کو تنظیموں سے دور رکھیں مگر یہ دور تنظیموں کی ترویج کا دور تھا۔ افغانستان میں روس کی شکست کے بعد سے پیسہ، اسلحہ، جذبہ سب کی بہتات تھی۔ گلی گلی بینرز لگے تھے اور دکان دکان چندے کے ڈبے پڑے تھے۔ نعرے تھے کہ کشمیر کی آزادی اگلی منزل ہے، بس آیا ہی چاہتی ہے۔ امریکہ اپنا کام کر وا کے جا چکا تھا، افغانستان میں خانہ جنگی تھی۔ جہاد کا نعرہ اور پیسے کا کھیل سب ساتھ چل رہا تھا۔ مذہبی جوش، غربت، پروپیگنڈہ، سکول کالجوں اور مدرسوں میں پھیلی فرسٹریشن، درپردہ سر پرستی، سب عوامل تھے۔ ایسے میں ارشد لون جیسا سوچتا شخص کیسے الگ رہ پاتا مگر ڈاکٹر اقبال گہری نظر رکھے تھے، جیسے ہی ارشد کی ڈگری مکمل ہوئی، انہوں نے اسے باہر کسی یونیورسٹی میں مزید تعلیم کی ترغیب دی۔

ارشد لون کا داخلہ لنشوپنگ یونیورسٹی سویڈن میں ہوا۔ پڑھائی مقصد نہ تھا بلکہ مقصد اسے تمام معاملات سے دور رکھنا تھا، مگر قسمت کا لکھا ہو کر رہتا ہے۔ وطن واپس آنے کے بعد اسے اسلامک یونیورسٹی میں لیکچرر شپ مل گئی۔ ایک دھیمے لہجے میں پڑھاتا استاد، جس کی زندگی کے تجربات اس کی آواز میں کہیں دور چھلکتے تھے، نہ محسوس انداز میں، حضرت بل کی درگاہ پر سینہ کوبی کرتا ہجوم، بارہ مولا کی کسی کھائی میں دبی ایک گمنام لاش، لنشوپنگ یونیورسٹی کے ہوسٹل میں اس کے ساتھ کے کمرے میں رہتی گھنگھریالے بالوں والی میڈیلینا جسے وہ برآمدے میں آتے جاتے ہیلو کہتا تھا اور جب وہ پڑھائی مکمل کر کے وطن واپس جا رہا تھا تو اس نے بھری آنکھوں سے اس اجنبی طالب علم کو کہا تھا کہ واپس نہ جا، کون کہتا ہے کہ مغربی عورت محبت نہیں کرتی۔

جب وہ ڈیجیٹل الیکٹرانکس کے لیکچر کے لیے کھڑا ہوتا تو سرکٹ بورڈ پڑھاتے کیپسٹرز، رجسڑز کو آپس میں سولڈر ہوا دیکھتا اور سوچتا کہ یادیں بھی ان اجزا کی طرح جڑی ہیں، باہمی چپکی ہوئیں، علیحدہ نہ ہو پائیں، چند یادیں منتخب کر کے ہم انہیں مٹا نہ پائیں۔ سرکٹ بورڈ جلے گا تو ہی اجزا علیحدہ ہوں گے، جلے ہوئے، سیاہ رنگ، مستقل نشان چھوڑتے۔

حالات بدل چکے تھے۔ جہاد کا نعرہ مٹا کر ”سب سے پہلے ہم“ کا نعرہ لکھنے کی کوشش کی گئی تھی مگر مسئلہ یہ تھا کہ پہلے لکھے گئے نعرے کی روشنائی اتنی گہری تھی کہ کوئی بھی ربڑ اسے مٹا نہ سکتا تھا۔ اس روشنائی میں متعدد اجزا تھے ؛ کئی برسوں کی سر پرستی، مذہبی جذباتیت، روح تک اترتے نعرے، حق و ناحق خون کی قربانی، پیسے کی سرمایہ کاری۔ تیزاب لایا گیا، الفاظ جل گئے مگر مٹ نہ پائے۔ اب کل کے دوست آج کے دشمن تھے۔ داڑھی اور عمامہ دشمن ٹھہرا، پگڑی اور شلوار دشمن تھی، ٹوپی اور رومال دشمن تھا، حلق سے آواز نکال کر کلام کرتا دشمن تھا، آنکھیں بند کر کے لحن سے پڑھتا دشمن تھا، دنیا پور کے چک تیرہ کا خیرات پر چلتا مدرسہ دشمن تھا، مظفر آباد کا خود بنایا ٹریننگ کیمپ دشمن تھا۔ کل کے دوست آج کے دشمن تھے۔

وہ فصل جس کی دہائیوں تک آبیاری کی تھی، اس کے پھل کی تاثیر بدلنے کا حکم ہوا، یک دم، اک جنبش قلم کے ذریعے سے جو اب تک سیاہ تھا وہ سفید قرار پایا اور اب تک جو دن تھا وہ رات قرار پائی۔ یہ نری خام خیالی ظاہر ہوئی۔ تناور درختوں کی جڑیں گہری تھیں اور زیر زمیں دوسری جڑوں سے ملی تھیں۔ ایک گنجلک تھا اور کند ذہنوں کی سمجھ کی استعداد سے کہیں آگے کا معاملہ تھا۔ وہ حشر بپا ہوا کہ کسی کو بھی جائے اماں نہ ملی۔ خون ارزاں تھا، بلا تفریق؛ بلا تفریق جنس، بلا تخصیص مرد و عورت، بلا تفریق عمر، بلا تفریق شیر خوار و ضعیف، بلا تفریق گناہگار و نیک، بلا تفریق مزدور و سرکار، بلا تفریق سپاہی و افسر، بس خون ارزاں تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3

عاطف ملک

عاطف ملک نے ایروناٹیکل انجینئرنگ {اویانیکس} میں بیچلرز کرنے کے بعد کمپیوٹر انجینئرنگ میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی۔ یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کے شعبہ کمپیوٹر سائنس میں پڑھاتے ہیں۔ پڑھانے، ادب، کھیل اور فلاحی کاموں میں دلچسپی ہے۔ آس پاس بکھری کہانیوں کو تحیر کی آنکھ سے دیکھتے اور پھر لکھتےہیں، اس بنا پر کہانیوں کی ایک کتاب "اوراقِ منتشر" کے نام سے شائع کی ہے۔ اپنے چھوٹے بھائی لیفٹیننٹ ضرار شہید کے نام پر قائم ضرار شہید ہسپتال، برکی روڈ لاہور کے ذریعے سے فلاحی کاموں سے وابستہ ہیں۔

atif-mansoor has 82 posts and counting.See all posts by atif-mansoor