براستہ جہاد کشمیر: سب سے پہلے ہم
خون تو سستا ہوا سچ بھی سستا ہو گیا، سانس لیتا آدم بھی سستا ہوا۔ جس پر شک ہوا، وہ اٹھایا گیا، بیچا گیا، گم شدہ، لاپتہ ایک طرف، لکھ پتی، ارب پتی بنتے دوسری طرف تھے۔ گندم کے ساتھ گھن بھی پسنے لگا۔ وہ جنہیں خود پالا تھا، بالمقابل تھے۔ دوست دوست نہ رہا، بدگمانی اور بے یقینی چہار سو تھی، خوف تھا کہ ذہنوں میں در آیا تھا۔ جس پر بھی شک نے سر اٹھایا، خوف نے کہا کہ اٹھا لے۔ وہ جو ایک اکٹھی کمین گاہ تھی اب کمینگی کی گاہ تھی۔
خوف نے تفریق ایسی مٹائی کہ گناہگار اور بے گناہ ایک ہی قطار میں تھے۔ بھائی بھائی کو ڈھونڈتے تھے، بیویاں جانتی نہ تھیں کہ سہاگن ہیں کہ بیوائیں، مائیں نم ناک تھیں اور مسلسل حالت دعا میں تھیں۔ منصف آنکھیں چراتے تھے۔ ایسا حبس کا عالم تھا کہ چرند پرند تو اک جانب انسان بھی امان مانگتا تھا، سانس لینے کا امان مانگتا تھا، غرض کہ خوف کا عذاب تھا۔
ارشد لون کو کئی دنوں سے محسوس ہو رہا تھا کہ کچھ افراد اس کا پیچھا کر رہے ہیں، کوئی گاڑی اس کے تعاقب میں رہتی ہے۔ ایک رات اس کی ماں نے صحن میں چند لوگوں کو چلتا محسوس کیا۔ ارشد کو کتابوں کی الماری میں کتابیں اپنی ترتیب سے نکلی نظر آئیں۔ کدھر جاتا، وہ اپنے بھائی کے پرانے ساتھیوں کو جانتا تھا اور ان سے تعلق رکھے تھا۔ اس کا باپ ڈاکٹر اقبال اپنے ایک بیٹے کے بعد دوسرے کو ان تمام حالات سے دور رکھنے کی کوشش میں تھا۔ مگر وقت بھی بوم رنگ کی طرح ہوتا ہے، وہ لکڑی کا ٹیڑھا ٹکڑا جو دور پھینکو تو ہوا میں گھوم کر واپس آتا ہے، جتنی قوت سے پھینکو، اتنی تیزی سے واپس آتا ہے۔ ماضی حال سے ایسا جڑا ہوتا ہے کہ مستقبل پر بھی پرچھائیاں ڈال جاتا ہے۔
ارشد کو دو تین گمنام فون آئے، ہم آپ کے نظریات سے متفق ہیں، آئیے ملتے ہیں۔ میں آپ کے بھائی کا دوست ہوں، اس جدوجہد کا حصہ رہا ہوں، آئیے ملتے ہیں۔ وہ ان سے ملنے نہ گیا۔ ارشد کی چھٹی حس کہہ رہی تھی کہ کچھ ہونے والا ہے۔ اس شام وہ یونیورسٹی سے گھر جانے کے لیے نکلا تو اٹھا لیا گیا۔ گاڑی کھول کر اس میں بیٹھا ہی تھا کہ تین لوگ تیزی سے دروازے کھول کر اندر بیٹھ گئے۔ ایک نے پستول کی جھلک دکھائی اور ساتھ ہی اس کا نام لے کر کہا کہ ہم دوست ہیں، گاڑی چلاؤ۔ دوست، دوستوں کی تعریف پچھلے چند برس میں ایسی بدلی تھی کہ اسے ایک خوف محسوس ہوا۔
چند کلومیٹر کے بعد گاڑی بدل گئی اور ارشد کی آنکھوں پر پٹی بند گئی۔ راہیں بدلتی محسوس ہوتی تھیں اور ارشد کے ذہن میں خیالات بھی گڈمڈ آرہے تھے۔ گاڑی رکی تو اس کی گھڑی، بٹوا اور دوسری اشیا لے لی گئیں۔ پٹی اتاری گئی تو وہ ایک کمرے میں تھا۔ عام کمروں سے الگ کمرہ، ایک چوکور کمرہ، خالی، بالکل خالی، کسی کھڑکی کے بغیر، کسی روشندان کے بغیر، کسی پنکھے کے بغیر، کسی بڑی قبر کی مانند وہ کمرہ تھا۔ چاروں دیواریں اور چھت ایک سی سفید رنگ تھیں۔ کمرے کے چاروں جانب سے روشنی کا انتظام ایسے کیا گیا تھا کہ وقت تھم سا گیا تھا، روشنی کی ایک مقدار رہتی تھی۔ دن رات کے گزرے پہروں سے قطع نظر روشنی ایک سی رہتی تھی۔ وہ کمرے کے ایک کونے میں زمین پر بیٹھ گیا۔ اس کے ذہن میں پریشانی، خوف، ہنسی، غیر یقینی سب کچھ اکٹھا تھا۔
ارشد جلد ہی وقت کے احساس سے نکل چکا تھا۔ کب رات ہوئی، وہ کتنا سویا تھا، کیا تاریخ تھی، اسے کچھ علم نہ تھا۔ مسلسل جلتی روشنی، خالی کمرہ اور سخت زمین کا کونا وقت کو روکے کھڑے تھے۔ پھر اسے کمرے سے نکال کر ایک اور کمرے میں لے جایا گیا۔ کمرہ جس میں دیواروں پر اذیت دینے کے آلات لٹکے تھے ؛ بڑے بڑے چھتر، ہتھکڑیاں، مختلف بھیانک شکلوں کے اوزار دیواروں پر آویزاں تھے۔ کمرے کا دورہ کروانے کے بعد اسے واپس پچھلے کمرے میں پہنچا دیا گیا۔ وہ بیوقوف نہ تھا، وہ اس دورے کا مطلب سمجھتا تھا۔
وقت کا حساب نہیں مگر گمان ہے کہ اگلے دن دو کرسیاں کمرے میں لگائی گئیں اور ارشد ایک شخص کے سامنے بیٹھا تھا۔ وہ شخص جس نے اپنا تعارف نام کے ساتھ ایک عہدہ جوڑ کر کرایا تھا۔ ارشد نے سوچا کہ ان افراد کی بدلتی دنیا بدلتے ناموں کے ساتھ ہے۔ جاوید نے سال ہا سال قبل فخریہ انداز میں اسے ایسے کئی عہدیداروں کے ٹریننگ کیمپ میں وزٹ کا بتایا تھا۔ اس نے سوچا، کیا یہ سامنے بیٹھا شخص بھی جاوید کو جانتا ہوگا۔ جاوید لون شہید، پیدائش سرینگر، مدفن نامعلوم، علاقہ بارہ مولا، مقبوضہ کشمیر۔ غائبانہ نماز جنازہ میں ہر ایک یہی بتاتا تھا کہ شہید زندہ ہیں۔ ارشد نے سوچا کیا بھائی بھی اس کمرے میں کہیں موجود ہوگا۔ اس بے نام کمرے کے ساکت وقت میں ارشد کے ذہن میں تمام یادیں گڈمڈ ہو رہی تھیں۔
”آئیے مل کر پڑھتے ہیں سلام و دعا“ ، اس کے سامنے بیٹھے شخص نے کہا۔ وہ ہنس پڑا، یہ سوچتا کہ سامنے بیٹھا مجھے کتنا بڑا بیوقوف سمجھتا ہے۔ وہ ہنس پڑا یہ خیال کیے بغیر کہ وہ کس صورتحال میں ہے۔ یہ ایک چھپی مسکراہٹ تھی، اس کی کوشش تھی کہ یہ مسکراہٹ سامنے والے کو نظر نہ آئے، مگر صورتحال اتنی عجیب تھی کہ وہ مسکراہٹ چھپا نہ سکا۔ یہ مسکراہٹ اکیلی نہ ابھری تھی، بلکہ اس کے دل میں اس سامنے بیٹھے شخص کے لیے گالی بھی ابھر کر آئی تھی، بے ساختہ، منہ بھر آتی، بے غیرت۔۔۔ بلکہ اس سے بھی آگے کی گالی بلکہ گالیاں، شدید نفرت کے ساتھ بھری گالیاں، جو اس کا دل چاہتا تھا کہ سامنے والے کے منہ پر دے مارے، متواتر، سٹین گن کے برسٹ کی مانند، مگر وہ چپ رہا۔
اس نے اپنے سامنے بیٹھے ہوئے شخص کے چہرے پر کچھ عجیب سے تاثرات محسوس کیے۔ سامنے والا مختلف سوالات پوچھنے لگا۔ سوالات جن کا تعلق اس سے تھا، اس کے خاندان سے، سری نگر سے ایبٹ آباد تک، کیڈٹ کالج سے لنشوپنگ یونیورسٹی تک مختلف سوالات پوچھے گئے۔ وہ جان گیا تھا کہ تمام معلومات اکٹھی کی گئی تھیں۔ مقصد یہ احساس دینا بھی تھا کہ ہم سب جانتے ہیں۔ ارشد سوچ رہا تھا کہ وہ یہاں کیوں ہے، کیوں؟
کیا تم الیکٹرانکس کاؤنٹر بنانا جانتے ہو؟ جی، بنیادی ڈیجیٹل الیکٹرانکس کے کورس میں پڑھائے جاتے ہیں۔ کیا ڈیٹونیٹر میں یہ استعمال ہو سکتے ہیں؟ جی ہو سکتے ہیں۔ تم ڈیٹونیٹر بناتے ہو، نہیں۔ تم جھوٹ بول رہے ہو۔ ارشد لون کو پتہ چل گیا کہ وہ وہاں کیوں ہے۔ چند دن قبل ایک پل اڑایا گیا تھا، اور وہ ایک مشتبہ شخص تھا۔ ایک مشتبہ ماضی اس کے ساتھ تھا۔ گیا وقت جو کبھی قابل تعریف تھا مگر اب دور ایسا آیا کہ ماضی بھی تبدیل ہو کر سیاہ رنگ ہو گیا تھا۔ یہی تبدیل شدہ ماضی اسے اس کمرے تک لایا تھا۔
سال ہا سال گزر گئے۔ ڈاکٹر اقبال ایک در سے دوسرے در تک بھاگ بھاگ کر تھک چکے ہیں، بس ایک امید انہیں بھگائے پھرتی ہے کہ شاید ارشد لون واپس آ جائے۔ سات سمندر پار ایک گھنگریالے بالوں والی عورت بھی کبھی کبھی سوچتی ہے، ایک عجیب لڑکا تھا عورت کے جسم کے پیچھے بھاگتے ہجوم سے مختلف، جانے وہ کس حال میں ہوگا۔
اور ایک ماں، جس کے سامنے دو بورڈ سرخ روشنائی میں لکھے ہیں۔
جاوید لون۔ پیدائش سرینگر، مدفن نامعلوم، علاقہ بارہ مولا، مقبوضہ کشمیر۔
انجینئر ارشد لون۔ پیدائش سرینگر، حال مقیم : محلہ نامعلوم، شہر نامعلوم، سانس نامعلوم۔

