بے نظیر بھٹو کا یوم شہادت اور میں


یہ 27 دسمبر 2007 کا دن ہے۔ میں اس وقت 6 سال کا تھا مگر مجھے آج بھی وہ دن بہت اچھی طریقے سے یاد ہے۔ اس دن جمعرات کا روز تھا۔ میں تب دبئی میں رہتا تھا۔ تب مجھے سکول سے چھٹیاں تھیں۔ جیسا آپ کو پتا ہو کہ متحدہ عرب امارات میں جمعہ اور ہفتہ چھٹی ہوتی ہے۔ جمعرات کو میرے والد کا ہاف ڈے ہوتا تھا۔ یعنی عام دنوں میں وہ گھر 7 بجے آتے تھے مگر اس دن وہ ساڑھے 3 بجے آئے تھے۔ تو وہ ہمیں تھوڑا باہر گھمانے لے گئے۔ مجھے یاد ہے 5 بجے ہمارے گھر کے پاس ایک مسجد تھی اور مسجد کے بالکل سامنے ایک چھوٹی سی مارکیٹ تھی۔

وہاں ایک دکان میں ملواری انڈا پراٹھا لگاتا تھا۔ ہم نے واپسی پر اس سے وہ لیے اور گاڑی میں کھائے اور پھر گھر واپس آ گئے۔ اس وقت دبئی کے ساڑھے 5 بج رہے تھے شام کے اور سورج غروب ہونے والا تھا۔ میں نے گھر آ کر ٹی وی لگا دیا۔ اس وقت شاید جب آخری مرتبہ ٹی وی بند کیا تھا تو شاید جیو نیوز چل رہا تھا۔ جب ٹی وی آن کیا تو اس وقت بھی جیو نیوز چل رہا تھا مگر جو خبر چل رہی تھی وہ ایک حیران کن بات تھی۔

اس وقت جیو نیوز خبر نشر کر رہا تھا کہ راولپنڈی کے لیاقت باغ میں دھماکہ ہوا ہے اور وہ تب لیاقت باغ کے مناظر دکھا رہے تھے۔ اور بتا رہے تھے کہ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو لیاقت باغ میں جلسہ عام سے خطاب کرنے کے بعد واپس جا رہی تھیں تو ان پر پانچ گولیاں چلائی گئی ہیں اور اس کے بعد دھماکہ ہو گیا اور بے نظیر بھٹو صاحبہ کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ میرے والدین بھی خبر سن کر پریشان ہو گئے تھے۔ بار بار بے نظیر بھٹو کے جلسہ گاہ سے جاتے ہوئے جب وہ گاڑی میں بیٹھنے لگیں تک کے مناظر دکھائے جا رہے تھے۔ اس وقت جیو نیوز پر شہزاد حسن بار بار تازہ خبریں بتا رہے تھے۔

کچھ دیر بعد خبر آئی کہ بے نظیر بھٹو صاحبہ زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئی ہیں۔ یہ سن کر مجھے دھچکا لگا کہ ایک دم یہ کیا ہو گیا۔ ابھی تو وہ جلسہ کر کے جا رہی تھیں اور اب وہ اس دنیا میں بھی نہیں رہیں۔ اس وقت جب یہ خبر نشر کی جا رہی تھی تو باغ کے اندر کے مناظر دکھائے جا رہے تھے کہ وہاں سے دھماکے کی آواز آ رہی ہے۔ کچھ دیر بعد خبر آئی کہ آصف علی زرداری اور بچے واقعہ کی خبر سننے کے بعد دبئی سے پاکستان کے لئے روانہ ہو گئے ہیں۔

اس کے بعد میں نے وہ مناظر بھی دیکھے جب جائے وقوعہ کو فائر بریگیڈ کی گاڑیوں سے دھویا جا رہا تھا۔ اس کے بعد پتا چلا کہ میاں نواز شریف بھی راولپنڈی کے جنرل ہسپتال پہنچ گئے ہیں جہاں اس وقت محترمہ کا جسد خاکی پڑا ہوا تھا اور نواز شریف رو رہے تھے اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو دلاسا دے رہے تھے۔ مجھے تب بھی یاد ہے جب بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے بھی تعزیتی پیغام پہنچایا۔ مجھے اس کے بعد وہ منظر بھی یاد ہے جب کیمروں نے وہ مناظر بھی محفوظ کیے اور نشر کیے جب بے نظیر بھٹو کا جسد خاکی تابوت کے اندر موجود تھا اور پیپلز پارٹی کے جیالے روتے اور چیختے ہوئے تابوت کو کندھوں پر اٹھاتے ہوئے اسے ہسپتال سے باہر منتقل کر رہے تھے۔

اس کے بعد ٹی وی پر ہونے والے واقعات کی وجہ سے ہم نے فیصلہ کیا کہ ذرا باہر چلتے ہیں۔ ہم گاڑی میں جب باہر گئے تو مجھے آج بھی یاد ہے کہ میری امی نے میرے کزن کو جو دبئی میں ہی رہتے تھے انہیں فون کیا اور بتایا کہ کس طرح بے نظیر بھٹو شہید ہو گئیں۔ ہم ان کے گھر گئے اور انہیں ہمراہ لے کر ہم دبئی کے علاقے القصیص میں واقعی ڈیلی نہاری میں کھانا کھانے گئے۔ مگر وہاں بھی سب کی زبان پر یہ ہی باتیں چل رہی تھیں۔ وہاں جب ٹی وی چل رہا تھا اس پر بے نظیر بھٹو کا سہیل وڑائچ کو دیا گیا انٹرویو جب وہ شاید لندن میں تھیں وہ دکھایا جا رہا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ اس کے بعد میں گھر آیا اور میں سو گیا تھا۔

مگر آج جب 13 سال اس واقعے کو گزر چکے ہیں اور جب میں نے تاریخ پڑھی اور بے نظیر بھٹو صاحبہ کی شخصیت کے بارے میں پڑھا اور جب واقعات پڑھے تو دل گرفتہ ہو جاتا ہے کہ بھٹو خاندان نے کتنی قربانیاں دی ہیں۔ بھٹو صاحب کے خلاف 1977 کا مارشل لاء سے لے کر 4 اپریل 1979 جس دن انہیں پھانسی دی گئی تک کے واقعات کو مد نظر رکھیں تو پتا چلتا ہے بھٹو صاحب کو کس طرح عدالتی قتل کروا کر نا حق انہیں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا تھا۔

اور جسٹس نسیم شاہ کا اعتراف جو افتخار احمد کے شو جوابدہ میں کیا تھا کہ انہوں نے دباو میں آ کر بھٹو صاحب کو پھانسی کا حکم دیا تھا اور یہ سپریم کورٹ پر بہت بڑا امتحان ہے کہ 41 سال بعد بھی وہ بھٹو صاحب کو اس مقدمے کو دوبارہ اوپن کر کے بھٹو صاحب کو با عزت بری کر دے اپنی غلطی کا اعتراف کر کے مگر نہیں کیا جاتا۔

بے نظیر بھٹو صاحبہ نے اس دور میں جیلیں کاٹی اور لاڑکانہ اور سکھر کی جیلوں میں بچھو بھی برداشت کیے اور 50 سینٹی گریڈ میں جیلیں برداشت کیں۔ پھر 1982 میں وہ جلا وطن ہوئیں۔ 1986 میں لاہور میں ان کا تاریخی استقبال ہوا۔ پھر 1987 میں ان کی آصف علی زرداری سے شادی اور 1988 میں آمر جنرل ضیاء الحق کے طیارہ حادثے میں انتقال کے بعد نومبر میں الیکشن ہوئے اور آئی ایس آئی کی آئی جے آئی کو بھرپور سپورٹ کے باوجود وہ جیت نا سکی اور پیپلز پارٹی اکثیریتی جماعت بن کر ابھری مگر بے نظیر بھٹو کو دفاع و خارجہ کی وزارتوں پر اسٹبلیشمنٹ کی بات مان کر وزیر اعظم بننا نصیب ہوا۔

وہ پاکستان اور اسلامی دنیا کی پہلی خاتون اور سب سے کم عمر وزیر اعظم بنیں۔ مگر ان کے لئے مشکلات کم نا ہوئیں۔ 1989 میں تحریک عدم اعتماد ان کے خلاف لائی گئی جو ناکام ہو گئی مگر پھر 6 اگست 1990 کو صدر غلام اسحاق خان نے آرٹیکل 58۔ 2 بی کے تحت ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور اقتدار سے محروم ہونا پڑا۔ پھر وہ قائد حزب اختلاف بن گئیں 1990 کے انتخابات کے بعد۔ بھرپور اپوزیشن کا کردار ادا کیا اور آئے روز راولپنڈی سے اسلام آباد مارچ کرتی تھیں۔ 1993 میں دوبارہ وزیر اعظم بن گئیں۔ 1993 کے انتخابات کے بعد حکومت چلتی رہی۔ 1995 میں ایک بغاوت کی سازش کو ان کی حکومت کے خلاف ناکام بنا دیا گیا۔ 1996 میں بھائی مرتضی بھٹو کو ان کے گھر کے بعد پولیس مقابلہ میں قتل اور کرپشن کا الزام لگا کر 5 نومبر 1996 کو صدر فاروق لغاری نے ایک دفعہ پھر ان کی حکومت کو چلتا کیا۔ 1997 کے عام انتخابات کے بعد وہ ایک دفعہ پھر قائد حزب اختلاف بن گئیں۔ اس دور میں احتساب کے نام پر انتقامی سیاست عروج پر تھی اور 90 کی دہائی اس وجہ سے بدنام رہے گی۔ شہباز شریف نے ملک قیوم کو فون کر کے بے نظیر بھٹو کو نا اہل کروا دیا۔ آصف علی زرداری جیل میں تھے اور بے نظیر نے 1999 میں بچوں کے ہمراہ خود ساختہ جلا وطنی اختیار کرلی۔

اس دوران وہ دبئی اور لندن میں مقیم رہیں۔ مشرف کے مارشل لاء کے بعد جب نواز شریف بھی جلا وطن ہو گئے تو پھر دونوں سیاسی حریف حلیف بن گئے اور دونوں سابق وزرائے اعظم میں ملاقاتیں بڑھتی رہیں۔ 2006 میں میثاق جمہوریت پر دستخط ہوئے مگر 2007 میں امریکہ کے ایما پر بے نظیر بھٹو اور پرویز مشرف میں ایک پاور شئیرنگ ڈیل طے ہو ہی گئی تھی مگر آج پتا چلتا ہے کہ اس میں شرط تھی کہ وہ الیکشن کے بعد آئیں گی مگر وہ 18 اکتوبر کو واپس کراچی آ گئیں۔

اس شاندار استقبال کے بعد کارساز میں ایک قاتلانہ حملہ ہوا جس میں وہ تو بچ گئیں مگر 200 جیالے شہید ہو گئے۔ 3 نومبر کو آمر مشرف نے ماورائے آئین ایمرجنسی لگا دی۔ اس کے خلاف بے نظیر بھٹو باہر نکلی۔ مظاہرے کیے نظر بند بھی ہوئیں مگر پیچھے نہیں ہٹیں۔ پھر انہوں نے الیکشن کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کروائے۔ 25 نومبر کو میاں نواز شریف بھی وطن واپس آ گئے۔ الیکشن مہم جاری تھی اور بے نظیر صاحبہ جانتی تھیں کہ ان کی جان کو شدید خطرات ہیں مگر پھر بھی دہشت گردوں کو للکارتی رہیں۔ 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسہ شیڈول تھا۔ ایک رات قبل اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی نے خبردار کیا کہ کل آپ پر حملہ ہو سکتا ہے۔

جیسے پہلے بتایا اس دن جمعرات تھا۔ صبح افغان صدر حامد کرزئی جو پاکستان کا دورہ کر رہے تھے ان سے اسلام آباد میں ملاقات کی اور دوپہر کو اسلام آباد سے راولپنڈی آئیں۔ راولپنڈی کے لیاقت باغ میں اپنی زندگی کا آخری خطاب کیا اور اس کے بعد اپنے کارکنوں کو ہاتھ ہلاتے ہوئے شہید ہو گئیں۔ راولپنڈی میں ہی ان کے باپ نے جان دی تھی۔ محترمہ کی زندگی کا چراغ راولپنڈی میں ہی بجھا۔ اس کے بعد پورے ملک میں آگ لگ گئی۔ دنگے فساد ہوئے اور لوگ مارے گئے۔ اس وقت اگر زرداری صاحب پاکستان کھپے کا نعرہ نا لگاتے تو حالات کسی بھی طرف جا سکتے تھے۔

مگر یہ افسوسناک پہلو ہے کہ لیاقت علی خان جو اسی جگہ شہید ہوئے نا ان کے قاتلوں کا پتا چل سکا اور نا ہی محترمہ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کا۔ اس سے بڑا افسوسناک پہلو بھلا کیا ہو سکتا ہے۔ مگر ایک بات میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ بے نظیر بھٹو صاحبہ جیسا نا پہلے کوئی تھا اور نا ہی ہوگا۔ مگر ایک بات غور طلب ہے کہ کس نے ان کا واپسی کا روٹ تبدیل کیا تھا؟

Facebook Comments HS