بارک اوبامہ بڑے بھائی سے ملتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


” تم جا کہاں رہے ہو؟“ اس نے مجھ سے پوچھا۔
” اپنے بھائی سے ملنے“
” مجھے نہیں معلوم تھا کہ تمہارا بھائی بھی ہے“
” اب تک نہیں تھا“

اگلی صبح میں طیارے کے ذریعے واشنگٹن ڈی سی پہنچا جہاں میرا بھائی رائے رہتا تھا۔ ہماری آپس میں پہلی بار بات چیت آؤما کی شکاگو میں آمد کے دوران ہوئی تھی، جس نے تب مجھے بتایا تھا کہ رائے نے امریکن پیس کور کی ایک اہلکار سے بیاہ کر لیا ہے اور امریکہ منتقل ہو چکا تھا۔ ایک روز ہم دونوں نے بس حال چال پوچھنے کے لیے اسے فون کیا تھا۔ وہ ہمارا فون سن کر خوش ہوا تھا۔ اس کی آواز گہری اور گرج دار تھی، ایسے جیسے اس نے کل ہی مجھ سے بات کی ہو۔

امریکہ میں اس کا کام، اس کی بیوی، اس کی نئی زندگی سب ”شاندار“ تھے، اس نے بتایا تھا۔ اس کے منہ سے الفاط دھیرے نکلتے تھے اور وہ انہیں کھینچ کر بولتا تھا جیسے ”شا اا اا اندا ار“ ۔ مجھے اس سے ملنے جانا ”زبرررردست“ ہو گا۔ اس کے بیوی بچوں کے ساتھ قیام کرنا ”کووووئی مسئئئئئلہ“ ہی نہ ہوگا۔ جب فون پر بات تمام ہوئی تھی تو میں نے آؤما سے کہا تھا کہ لگتا ہے وہ ٹھیک ٹھاک رہ رہا ہے۔ اس نے مشکوک نگاہوں سے میری جانب دیکھا تھا۔

”ہاں، تم رائے کو کبھی نہیں آنک سکتے“ اس نے کہا تھا ”وہ ہمیشہ اپنے جذبات ظاہر نہیں کرتا۔ اس حوالے سے وہ بڈھے کی طرح ہے۔ حقیقت یہ ہے اگرچہ ان کی بنی نہیں تھی لیکن کئی حوالوں سے وہ مجھے بڈھے کی یاد دلاتا ہے۔ کم از کم نیروبی میں تو وہ ایسے ہی تھا۔ میں نے اسے ڈیوڈ کی تدفین کے بعد نہیں دیکھا چنانچہ ممکن ہے کہ بیاہ نے اسے شانت کر دیا ہو“ ۔

اس سے زیادہ اس نے کچھ نہیں کہا تھا البتہ یہ کہا تھا کہ تم اسے خود ہی زیادہ جان پاؤ گے۔ یوں رائے اور میں نے ایک ملاقات بارے طے کر لیا تھا کہ میں ہفتہ وار طویل تعطیلات میں واشنگٹن ڈی سی پہنچوں گا، ہم قابل دید مقامات دیکھنے جائیں گے، یوں وقت زبردست گزرے گا۔ لیکن اب جب میں نے نیشنل ائیرپورٹ کے باہر تلاش کیا تو رائے کہیں تھا ہی نہیں۔ میں نے اس کے گھر فون کیا تو اس کا لہجہ معذرت خواہانہ تھا۔

” سنو۔ بھائی۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ آج رات تم کسی ہوٹل میں رہ سکتے ہو؟“
” کیوں؟ کیا کچھ گڑ بڑ ہے؟“

” کوئی سنجیدہ معاملہ نہیں۔ وہ بس دیکھو، میرا اور میری بیوی کا معمولی جھگڑا ہوا ہے۔ تمہیں آج کی رات یہاں رکھنا کوئی اتنا خوش گوار نہیں ہوگا، تم سمجھتے ہو ناں؟“

” یقیناً ۔ میں۔“

” جب ہوٹل مل جائے تو مجھے فون کرنا، ٹھیک ہے؟ ہم آج رات ملیں گے اور کھانا اکٹھے کھائیں گے۔ میں تمہیں آٹھ بجے لے لوں گا“ ۔

میں نے سستے ترین ہوٹل میں کمرہ لیا اور انتظار کرتا رہا۔ نو بجے مجھے دروازے پر دستک سنائی دی۔ جب میں نے دروازہ کھولا تو ایک ضخیم آدمی کو کھڑے پایا جس نے ہاتھ جیبوں میں ڈالے ہوئے تھے اور ہموار دانتوں والی مسکان اس کے آبنوسی چہرے پر پھیلی ہوئی تھی۔

”ارے بھائی، زندگی کیسی ہے؟“ اس نے کہا۔

تصویروں میں جو رائے میں نے دیکھا تھا وہ چھریرا تھا، افریقی پرنٹ والے کپڑوں میں ایک افریقی، جس کی چگی داڑھی اور مونچھیں تھیں۔ جس شخص نے مجھے بانہوں میں لیا تھا وہ کہیں بھاری تھا میرا خیال ہے دو سو پاؤنڈ سے بھی زیادہ، جس کے موٹے شیشوں کے فریم میں اس کے گالوں کا گوشت دھنسا ہوا تھا۔ چگی داڑھی غائب ہو چکی تھی۔ افریقی قمیص کی جگہ سلیٹی سپورٹس کوٹ، سفید قمیص اور ٹائی نے لے لی تھی۔ البتہ آؤما نے ٹھیک کہا تھا اس کی بڈھے کے ساتھ مماثلت بہت زیادہ تھی۔ اپنے بھائی کی جانب دیکھتے ہوئے مجھے لگا جیسے میں پھر سے دس برس کا ہو گیا ہوں۔

” تم کچھ وزنی ہو گئے ہو“ اس کی کار کی جانب جاتے ہوئے میں نے کہا۔

رائے نے اپنی سخی توند پر نگاہ ڈالی اور اسے تھپتھپایا۔ ”ارے یہ فاسٹ فوڈ کا قصور ہے، بندے۔ ہر جگہ تو ہیں میکڈونلڈ، برگز کنگ۔ یہ چیزیں لینے کے لیے تو تمہیں کار سے باہر قدم تک نہیں نکالنا پڑتا۔ دو گائے کے گوشت بھرے پیٹیز، سپیشل ساس، سلاد کے پتے اور پنیز۔ پنیر والا ڈبل وہوپر“ ۔ ”وہ کہتے ہیں بس یہ کھا لو۔ اپنے انداز میں، زبردست!“

اس نے ہنسنے کے لیے گردن پیچھے جھٹکی، ایک ایسی جادوئی اندرونی آواز جس سے اس کا پورا بدن ہلنے لگا تھا جیسے وہ ان حیرتوں سے باہر نہ آ سکتا ہو جن سے اس کا واسطہ اس نئی زندگی کے کارن پڑا تھا۔ اس کی ہنسی دوسرے میں سرایت کر جانے والی تھی ، اگرچہ جب ہم کھانا کھانے جا رہے تھے تو میں نہیں ہنس رہا تھا۔ اس کی ٹویوٹا اس کے جثے کے لیے بہت چھوٹی تھی۔ وہ اس میں ایسے لگ رہا تھا جیسے کارنیوال کی بمپر کار میں کوئی بچہ بیٹھا ہو اور لگ رہا تھا جیسے وہ گیئر پر قابو پانا یا سڑک کے اصول نہ سیکھ سکا ہو، جن میں رفتار کی حد میں رہنا بھی شامل ہے۔ دو بار ہم سامنے سے آنے والی کاروں سے ٹکراتے ٹکراتے بچے تھے۔ ایک دفعہ تو موڑ پر گھسٹتے ہوئے اونچائی سے باہر ہونے کو تھے۔

” کیا تم ہمیشہ ایسے ہی گاڑی چلاتے ہو“ اس کی ٹیپ ڈیک سے انتہائی اونچی آواز میں آتی موسیقی کی وجہ سے میں نے چیخ کر پوچھا تھا۔

رائے مسکرایا تھا اور گاڑی پانچویں گیئر میں ڈال دی تھی۔ ”میں اچھا ڈرائیور نہیں ہوں، ہیں ناں؟ میری، میری بیوی بھی ہمیشہ شکایت کرتی رہتی ہے۔ خاص طور پر ایکسیڈنٹ کے بعد سے۔“

” کیسا ایکسیڈنٹ؟“

” ارے یہ کچھ بھی نہیں تھا۔ دیکھو میں ابھی تک ہوں ناں۔ زندہ اور سانس لیتا ہوا“ وہ ایک بار پھر ہنسا اور اس کا سر ہلتا رہا جیسے کار اس سے آزاد اپنے طور پر چل رہی تھی، جیسے ہمارا محفوظ پہنچ جانا خدا کے بے بہا کرم کی ایک اور مثال ہو گا۔

ریستوران میکسیکن تھا۔ ایک جھیل کنارے واقع اس ریستوران میں ہم نے ایسی جگہ چنی جہاں سے پانی دکھائی دیتا رہے۔ میں نے بیئر منگوائی اور رائے نے مارگاریتا۔ کچھ دیر ہم میرے کام اور اس کے ایک بڑی مارگیج کمپنی میں حساب دار کی حیثیت سے ملازمت بارے چھوٹی چھوٹی باتیں کرتے رہے۔ وہ کھلے دل سے کھاتا رہا، مارگاریتا کا دوسرا گلاس لیا اور امریکہ میں اپنی مہم جوئی کے لطیفے سناتا رہا، ہنستا رہا۔ جوں جوں کھانا تمام ہوتا گیا، اس کے چہرے پر کھانے کی مشقت کے آثار نمودار ہونا شروع ہو گئے۔ بالآخر میں نے اس سے پوچھ ہی لیا کہ اس کی بیوی اس کے ساتھ کیوں نہیں آئی تھی۔ اس کی مسکان بھک سے اڑ گئی۔

”ارے، میرا خیال ہے ہماری طلاق ہونے کو ہے“ ۔
” مجھے بڑا افسوس ہے“

” وہ کہتی ہے کہ وہ میرے رات گئے گھر آنے سے اکتا چکی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ میں پیتا بہت زیادہ ہوں۔ وہ کہتی ہے کہ میں بالکل بڈھے کی طرح ہوتا جا رہا ہوں“

” تم کیا سمجھتے ہو؟“

” میں کیا سمجھتا ہوں؟“ اس نے سر نیہوڑایا، پھر شانت سا ہو کر میری طرف دیکھا، موم بتیوں کی روشنیاں اس کی عینک کے عدسوں میں چھوٹے چھوٹے الاؤ کی طرح جگمگا رہی تھیں۔ ”سچ تو یہ ہے“ اس نے اپنے جثے کو آگے کی جانب دھکیلتے ہوئے کہا ”مجھے نہیں لگتا کہ میں فی الواقع خود کو پسند کرتا ہوں اور اس کا الزام میں بڈھے کو دیتا ہوں“ ۔

اگلے ایک گھنٹہ وہ انہیں مشکل ادوار کو دہراتا رہا جن کے بارے میں آؤما بتا چکی تھی کہ کیسے اسے اس کی ماں سے جدا کر دیا گیا تھا، بڈھا کیسے یک لخت غریب ہو گیا تھا، کیسے اس کے اس سے جھگڑے شروع ہو گئے تھے جن کے سبب بالآخر اسے بھاگنا پڑا تھا۔ اس نے مجھے ہمارے باپ کا گھر چھوڑنے کے بعد کی اپنی زندگی کے بارے میں بتایا تھا کہ کیسے وہ کبھی اس رشتہ دار کے اور کبھی اس رشتہ دار کے گھر رہتا رہا تھا۔ اس نے نیروبی یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا تھا اور گریجویشن کرنے کے بعد ایک مقامی حساب دار کمپنی میں ملازمت حاصل کر لی تھی۔

یہ کہ اس نے کیسے خود کو کام کرنے کے نظم و ضبط کا عادی بنا لیا تھا۔ اپنے کام کے مقام پر وقت سے پہلے پہنچتا تھا اور اپنا کام تمام کر کے نکلتا تھا چاہے رات کتنی بھی نہ گزر جاتی۔ اس کو سنتے ہوئے مجھے تعریف کرنے کا اتنا ہی احساس ہوا تھا جتنا تب ہوا تھا جب آؤما نے اپنی زندگی کے بارے میں بتایا تھا۔ کس طرح انہوں نے ثابت قدمی دکھائی تھی، ان میں کتنی ہٹ دھرم طاقت تھی جس نے انہیں برے حالات سے نکال باہر کیا تھا۔ فرق یہ تھا کہ مجھے لگا تھا کہ آؤما میں ماضی کو پیچھے چھوڑ آنے کی رضا مندی تھی، کسی طرح معاف کر دینے کی صلاحیت تھی، چاہے وہ بھلا نہ بھی پاتی ہو۔ رائے کی بڈھے سے متعلق یادیں زیادہ فوری تھیں، زیادہ طنز آمیز، اس کے لیے ماضی ایک کھلے زخم کی مانند رہا تھا۔

” میرے لیے کبھی کچھ بھی زیادہ اچھا نہیں رہا“ جب لڑکا پلیٹیں سمیٹ کر لے گیا تو اس نے مجھے بتایا تھا۔ ”وہ ذہین تھا اور تمہیں کچھ بھی کبھی بھولنے نہیں دیتا تھا۔ اگر تم جماعت میں دوسرا درجہ پا کر گھر پہنچتے تھے تو وہ پوچھتا تھا کہ تم اول کیوں نہیں آئے۔“ تم ایک اوبامہ ہو ”وہ کہتا،“ تمہیں بہترین ہونا چاہیے ”وہ اس پر حقیقی یقین رکھتا تھا۔ اور پھر میں نے اسے بطور شرابی دیکھا، جس کے پاس پیسہ نہیں تھا، جو بھکاریوں کی سی زندگی بسر کر رہا تھا۔ میں خود سے پوچھتا تھا کہ کوئی اتنا ذہین شخص کیسے اس قدر نیچے گر سکتا ہے؟ مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا تھا۔ کچھ بھی۔

” حتٰی کہ جب میں نے اپنے طور پر زندگی بسر کرنا شروع کی تب تک اور جب وہ مر چکا تب بھی۔ میں اس معمے کو حل کرنے کی سعی کرتا رہا۔ ایسے جیسے میں اس سے بچ کر نہیں نکل سکتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ہمیں دفنانے کی خاطر اس کی میت علیگو لے جانی پڑی تھی اور سب سے بڑے بیٹے کی حیثیت سے تدفین کے انتظامات کرنا میری ذمہ داری تھی۔ حکومت چاہتی تھی کہ اسے کرسچن کے طور پر دفنایا جائے۔ خاندان مسلمانوں کی طرح تدفین چاہتا تھا۔

ہر جگہ سے لوگ ہمارے گھر آئے تھے اور ہمیں اس کی موت کا ماتم لووو کی روایات کے مطابق کرنا تھا۔ تین روز تک لکڑی کا کھنڈ جلائے رکھنا اور لوگوں کا شیون و ماتم سننا تھا۔ آدھے لوگوں کو میں جانتا ہی نہیں تھا کہ وہ کون تھے، ان کو کھانا چاہیے تھا، انہیں آب جو درکار تھا۔ کچھ لوگوں نے سرگوشیاں کی تھیں کہ بڈھے کو زہر دے کر مارا گیا ہے اور مجھے انتقام ضرور لینا چاہیے۔ کچھ لوگوں نے گھر سے چیزیں چرا لی تھیں۔ پھر ہمارے رشتہ داروں نے بڈھے کی املاک سے متعلق جھگڑنا شروع کر دیا تھا۔ بڈھے کی آخری سہیلی، ہمارے ننھے بھائی جارج کی ماں چاہتی تھی کہ سب اسے مل جائے۔ کچھ اور لوگ جیسے ہماری پھوپھی سارہ، اس کی حمایت کر رہے تھے۔ کچھ دوسرے ہماری ماں کے کنبے کے حق میں ہو گئے تھے۔ میں تمہیں بتاؤں کہ سب دیوانگی کی مانند تھا۔ ہر چیز غلط ہوتی لگتی تھی۔

”تدفین تمام ہونے کے بعد ، میں کسی کے ساتھ نہیں ملنا چاہتا تھا۔ واحد شخص جس پر مجھے اعتماد تھا، ڈیوڈ تھا، ہمارا چھوٹا بھائی۔ وہ لڑکا، میں تمہیں بتا دوں، ٹھیک ٹھاک تھا۔ وہ تھوڑا سا تمہاری طرح دکھائی دیتا تھا، بس چھوٹا تھا، پندرہ سولہ سال کا۔ اس کی ماں روتھ نے اس کی ایک امریکی کی طرح پرورش کرنے کی کوشش کی تھی۔ مگر ڈیوڈ نے بغاوت کر دی تھی۔ وہ امریکی نہیں ہونا چاہتا تھا، اس نے کہا تھا۔ وہ ایک افریقی ہے۔ وہ ایک اوبامہ ہے۔

” جب ڈیوڈ مر گیا، تو میرے لیے دنیا ختم ہو گئی تھی۔ مجھے لگنے لگا تھا کہ ہمارے پورے کنبے پر نحوست کا سایہ ہے۔ میں نے شراب پینا اور جھگڑے کرنا شروع کر دیا تھا، مجھے پروا نہیں تھی۔ مجھے لگا اگر بڈھا مر سکتا ہے، ڈیوڈ مر سکتا ہے تو میں بھی مر جاؤں گا۔ کبھی کبھی میں حیران ہوتا ہوں کہ کہ اگر میں کینیا میں رہ جاتا تو کیا ہوتا۔ پھر ایسے کہ نینسی تھی، یہ امریکی لڑکی، جس سے میں ملتا رہا تھا۔ وہ امریکہ لوٹ گئی تھی۔ ایک روز میں نے بس ویسے ہی فون کر کے کہا کہ میں آنا چاہتا ہوں۔ جب اس نے ہاں کہہ دی تو میں نے ٹکٹ خریدا اور اگلے طیارے پر سوار ہو گیا۔ نہ میں نے سامان باندھا، نہ میں نے دفتر میں اطلاع دی، کسی کو بھی الوداع نہیں کہا یا کچھ بھی اور نہیں کیا۔

” میں نے سوچا کہ میں پھر سے شروع کر سکتا ہوں، سمجھتے ہو ناں۔ مگر اب میں جانتا ہوں کہ آپ کبھی پھر سے شروع نہیں کر سکتے۔ تم سمجھتے ہو کہ تم اپنے آپ میں ہو مگر تم کسی اور کے جالے میں ایک مکھی کی طرح ہوتے ہو۔ کبھی میں سوچتا ہوں کہ یہی وجہ ہے کہ مجھے اکاؤنٹنگ پسند ہے۔ سارا دن آپ بس ہندسوں سے نمٹ رہے ہوتے ہو۔ تم انہیں جمع کرتے ہو، انہیں ضرب دیتے ہو، اور اگر احتیاط برتو تو ہمیشہ ان سے کوئی حل نکال لیتے ہو۔ ان میں ایک ربط ہوتا ہے۔ ایک نظم ہوتا ہے۔ ہندسے آپ کو خود پر قابو پانا سکھاتے ہیں۔“

رائے نے اپنے جام سے ایک گھونٹ بھرا اور یک لخت اس کی تقریر سست ہو گئی جیسے وہ کسی اور مقام پر بہت گہرا جا گرا ہو، جیسے اس میں ہمارا باپ آ گیا ہو۔ ”میں سب سے بڑا ہوں، تم جانتے ہو۔ لووو روایات کے مطابق، میں گھر کا سربراہ ہوں۔ مجھ پر تمہاری ذمہ داری ہے، آؤما کی ذمہ داری ہے اور چھوٹے لڑکوں کی ذمہ داری ہے۔ یہ میری ذمہ داری ہے کہ معاملات نمٹاؤں۔ لڑکوں کے سکول کی فیسیں دوں۔ سوچوں تاکہ آؤما کا مناسب طریقے سے بیاہ ہو جائے۔ ایک مناسب گھر تعمیر کرواؤں اور سارے کنبے کو اکٹھا کروں۔“

میں نے میز پر سے ہاتھ بڑھا کر اس کے ہاتھ سے مس کیا، ”بھائی تمہیں یہ سب اکیلے نہیں کرنا ہوگا“ میں نے کہا۔ ”ہم بوجھ بانٹ لیں گے۔“

مگر یوں لگا جیسے اس نے میری بات سنی ہی نہ ہو۔ وہ بس کھڑکی سے باہر گھورتا رہا اور پھر جیسے یک لخت مراقبے سے نکل آیا ہو، ویٹرس کو پکارا۔

” تم اور پیو گے؟“
” کیوں نہ ہم بل مانگ لیں؟“

رائے نے میری جانب دیکھا اور مسکرایا۔ ”میں تمہیں بتا سکتا ہوں کہ تم سوچتے بہت زیادہ ہو براک۔ مرا بھی یہی مسئلہ ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں رو کے ساتھ چلنا سیکھ لینا چاہیے۔ تم لوگ امریکہ میں ایسے ہی کہتے ہو ناں؟ بس رو کے ساتھ چلو۔“ رائے پھر ہنسا، خاصا اونچا کہ ساتھ والی میز کے گرد بیٹھے لوگوں نے مڑ کر دیکھا۔ بس اب اس کی ہنسی میں سے جادو تمام ہو چکا تھا، خالی تھی جیسے ایک وسیع اور خالی فاصلے میں سفر کر رہی ہو۔

میں نے اگلے روز کی پرواز بک کرا لی۔ رائے کچھ وقت اپنی بیوی کے ساتھ بتانا چاہتا تھا اور میرے پاس دوسری رات ہوٹل میں بسر کرنے کے پیسے نہیں تھے۔ ہم نے ناشتہ مل کر کیا تھا۔ صبح کی روشنی میں اس کا مزاج زیادہ بہتر لگا۔ ائیرپورٹ کے گیٹ پر ہم نے ہاتھ ملائے اور ایک دوسرے کو گلے لگایا تھا۔ اس نے وعدہ کیا تھا کہ جب معاملات سدھر جائیں گے تو وہ مجھے ملنے کے لیے آئے گا۔ شکاگو تک پوری پرواز اور اس کے بعد ایک ہفتے تک میں اس احساس سے خود کو نہیں نکال پایا تھا کہ رائے کو کوئی خطرہ لاحق ہے، پرانے بھوت اسے قعر کی جانب دھکیل رہے ہیں۔ صرف اگر میں اچھا بھائی ہوں تو میری مداخلت اسے اس قعر میں گرنے سے بچا سکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •