شکارپور سے شکاگو تک
یہ بھی ایک عجیب اتفاق تھا کہ دوسرے دن مجھے ستار کا خط آیا، ستار میرے کالج کا دوست تھا۔ اس نے لندن سے سرجری کی تھی اور کراچی کے جناح ہسپتال میں ایسوسی ایٹ پروفیسر تھا۔ اس نے بہت ساری باتیں لکھی تھیں، دوستوں کی خبریں دی تھیں اور آخر میں لکھا تھا کہ میں پاکستان واپس آ جاؤں۔ کراچی میں بہت کام ہے، سرکاری نوکری بھی مل جائے گی۔
میں اور رضیہ بہت دنوں تک سوچتے رہے تھے۔ پھر ڈرتے ڈرتے میں نے یہ فیصلہ کیا کہ ایک ماہ کے لیے پاکستان جاؤں اور دیکھوں کہ ستار کیا کہہ رہا ہے، اگر عزت کے ساتھ، انصاف کے ساتھ ذرا سا بھی کام کا آسرا ہو گیا تو پھر گڈ بائی شکاگو۔
ائرپورٹ سے میں ستار کے گھر گیا تھا۔ ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی میں اس کا خوبصورت سا بڑا سا بنگلہ تھا۔ ساری آسائشوں کے ساتھ۔ یہاں پہنچنے کے بعد کھانا وغیرہ کھا کر بارہ گھنٹے تو ایسی نیند آئی کہ کچھ پتا ہی نہیں لگا۔ جاگا تو شام کا وقت تھا اور ستار ابھی تک کلینک سے واپس نہیں آیا تھا۔ میں نہاد دھو کر چائے پینے کے لیے بیٹھا ہی تھا کہ وہ آ گیا۔
اس نے بتایا تھا کہ سندھ گورنمنٹ میں تو فوراً ہی مجھے نوکری مل جائے گی۔ اس کے بقول میں قابل تھا۔ شکارپور کا ڈومیسائل تھا تو نوکری نہ ملنے کا سوال ہی کیا ہے۔ گو کہ اس وقت نوکریوں پر پابندی ہے مگر پابندی ان لوگوں کے لیے ہے جن کی کوئی شنوائی نہیں ہے۔ تمہارا تو کیس بنے گا، ایسا کیس بنے گا کہ نوکری ضرور ملے گی۔ مگر سوال یہ تھا نوکری کہاں ملے گی، ڈاؤ میڈیکل کالج کراچی میں، لیاقت میڈیکل کالج حیدرآباد میں؟ نواب شاہ میڈیکل کالج میں یا چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانے میں؟ اس کا خیال تھا کہ مجھے ہر صورت میں ڈاؤ میڈیکل کالج میں کام کرنا چاہیے۔
اس نے بتایا کہ کل شام کو سائیں کے پاس ہم لوگوں کو جانا ہے۔ وہاں سب پتا لگ جائے گا کہ یہ کس طرح سے ہوتا ہے۔
اس رات ہم لوگوں کی دعوت شکارپور کے پرانے دوست کے گھر تھی جو کراچی میں وکیل تھا اور آج کل وزیر بھی تھا۔ اس کا گھر بھی ڈیفنس کے عالی شان گھروں میں سے ایک تھا۔ خوبصورت مکان، بڑا سا لان، سوئمنگ پول، گھر میں شاندار فرنیچر۔ کھانا بھی بڑے تکلف سے پکایا گیا تھا۔ ہم لوگ کھاتے رہے اور بچپن کی باتوں سے دل بہلاتے رہے۔ پرانے دوستوں کو یاد کرتے رہے۔ ستار نے بتایا تھا کہ علی بخش آج کل سندھ کا اٹارنی جنرل ہے۔ مولا بخش سپریم کورٹ میں جج ہے اور اسلام آباد میں رہتا ہے۔ امتیاز سومرو، آفتاب اور علی نواز کراچی میں ہی ہیں اور ڈیفنس میں ہی رہتے ہیں۔ دو اور دوست حیدرآباد میں پروفیسر ہو گئے تھے۔ اسے ہر کے بارے میں ساری خبریں تھیں۔
میں نے پوچھا یار کوئی شکار پور میں بھی ہے۔ اس نے بتایا تھا کہ شکارپور میں ہر ایک کا گھر ہے، مگر وہاں ہے کوئی بھی نہیں۔
دوسرے دن سائیں کے گھر جانا ہوا۔ وہ کلفٹن کے ایک پرانے بنگلے میں رہتے تھے اور صرف سندھی یا انگلش میں بات کرتے۔ سائیں بہت تپاک سے ملے تھے۔ نوکروں سے بھرے گھر میں ہم دونوں کو بہت عزت سے بڑے کمرے میں بٹھایا گیا تھا۔ حال پوچھا اور کہا کہ اگر مجھے واپس آنا ہے تو نوکری تو ملنی ہی ملنی ہے، اس کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ نوکری اگر نہیں ہے تو پیدا کی جائے گی۔ شکارپور کے ڈومیسائل کے ساتھ نوکری نہیں ملے گی تو کب ملے گی۔
میں نے حیرانی سے پوچھا تھا کہ اگر نوکری نہیں ہے اور اگر نوکریوں پر پابندی ہے تو یہ کام کیسے ہو گا۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی تھی۔ سائیں مسکرائے، مجھے ایسے دیکھا تھا جیسے میں کوئی بچہ ہوں۔ ستار بھی آہستہ سے ہنس دیا تھا۔
سائیں اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا کہ میرے ساتھ آؤ۔ ایک دوسرا بڑا کمرہ تھا جس کے بیچ میں ایک گول میز تھی، چند کرسیاں اور دیواروں پر چارٹ لگے ہوئے تھے۔ وہ میز کے ایک طرف کھڑے ہو گئے اور مجھے دیکھ کر بولے کہ یہ سندھ کا کنٹرول روم ہے۔ ان چارٹوں پر سندھ میں اعلیٰ عہدوں پر کام کرنے والوں کی ساری تفصیل موجود ہے۔ کتنے جج ہیں، کتنے پروفیسر، کتنے انجینئر ہیں، کتنے پروجیکٹ ڈائریکٹر، کتنے ایس ڈی ایم ہیں، کتنے سیکریٹری اور کون سندھی ہے، کون مہاجر، کون پنجابی ہے، کون کسی اور صوبے کا ہے اور کس ڈومیسائل پر کام کر رہا ہے۔ کس کا کب تقرر ہوا ہے اور کون کب ریٹائر ہو رہا ہے۔ سائیں دھیرے سے مسکرائے تھے اور کہا تھا۔ بلکہ میرے پاس تو یہ بھی اطلاع موجود ہے کہ سندھ کا کون آدمی دنیا میں کہاں ہے جو کسی وقت ان پوسٹوں پر آ سکتا ہے مثلاً تمہارا نام بھی میرے پاس ہونا چاہیے۔
یہ کہہ کر انہوں نے الماری کا دروازہ کھولا تھا۔ تم نے 1989 میں پاس کیا تھا، ٹھیک ہے نا۔ انہوں نے صفحے پر نظر ڈالی تھی جہاں میرا نام لکھا ہوا تھا، پوسٹ گریجویٹ فزیشن، ساتھ میں شکاگو کا ایڈریس بھی تھا۔
یہ اچھی بات ہے کہ تم آ رہے ہو۔ دیکھو اس لسٹ میں بہت سارے نام ہیں جو انگلینڈ، امریکا اور کینیڈا میں موجود سندھی ہیں۔ لیاقت میڈیکل کالج یا کراچی کے پڑھے ہوئے ہیں مگر آتے نہیں ہیں۔
میں نے غور سے دیکھا۔ تقریباً سارے ناموں کے آگے مختلف قسم کے کمنٹ لکھے ہوئے تھے۔ مگر مجھے نوکری کیسے ملے گی؟ میں نے پوچھا تھا۔ دیوار پر لگے ایک چارٹ پر سائیں نے ہاتھ رکھ دیا تھا، تم کو یہاں نوکری ملے گی۔ کراچی میں ڈاؤ میڈیکل کالج میں۔
میں نے قریب جا کر دیکھا مگر یہاں تو کسی کا نام لکھا ہوا تھا۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ سائیں نے مسکرا کر کہا۔ اس وقت نواب شاہ اور لاڑکانے کے میڈیکل کالجوں میں جگہ ہے، ان میں سے کسی ایک جگہ تمہارا ایڈہاک تقرر ہو جائے گا اور تم جوائن کر لینا۔ ایک ہفتہ کام کرنے کے بعد تین چار مہینوں کی چھٹی لے کر واپس چلے جانا۔ امریکا سے آنے میں بھی تو وقت چاہیے ہو گا۔ جب تمہارے آنے کا وقت ہوگا تو جن صاحب کا نام لکھا ہوا ہے ان کا کراچی سے لاڑکانہ ٹرانسفر ہو جائے گا۔
یہ یا تو چلے جائیں گے جس کا کم امکان ہے یا استعفیٰ دے دیں گے جو فوراً قبول کر لیا جائے گا۔ ان کو ابھی ریٹائر ہونے میں آٹھ سال کا عرصہ لگے گا اور اگر یہ استعفیٰ دینے پر تیار نہیں ہوئے تو ان کے خلاف ایک مہم چلوا دی جائے گی جس کے دوران یہ مشورہ بھی دیا جائے گا کہ یہ لمبی چھٹیوں پر چلے جائیں۔ ان کو ان میں سے کچھ نہ کچھ کرنا ہی پڑے گا اور تمہارا راستہ صاف ہو جائے گا۔ ستار ان کی درخواست وغیرہ کاغذات کے ساتھ مجھے پہنچا دو تو میں مناسب کارروائی کے لیے دے دوں گا اور ڈائریکٹ چیف منسٹر سے ہی حکم کرا دوں گا، کیا خیال ہے؟
سائیں نے کچھ سوچ کر بڑے زور سے قہقہہ لگایا تھا۔ نوکر نے دروازے پر آ کے آواز دی تھی کہ کھانا تیار ہے۔ کھانے کے دوران ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہی تھیں مگر میں سوچ رہا تھا، مسلسل سوچ رہا تھا کہ کراچی میں اس قسم کی نوکری کا کیا فائدہ ہے جس کی بنیاد ہی نا انصافی پر ہو۔ اس سے تو اچھا ہے کہ میں نواب شاہ میں جا کر اپنا کچھ سیٹ اپ بنا لوں۔ ماں باپ، اپنی زمین مکان کے پاس بھی رہوں گا اور کسی قسم کی نا انصافی کا بوجھ بھی نہیں ہو گا۔ میں سوچتا رہا اور سوچتا ہی رہا کہ ستار نے کہا کہ اب چلنا چاہیے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


