شکارپور سے شکاگو تک


بہت کچھ حاصل کیا ہے اور بہت کچھ حاصل کر لیں گے۔ ارے ہم اپنا حق مانگ رہے ہیں، ڈومیسائل کا حق۔ عثمانیہ اور علی گڑھ کی جعلی ڈگریوں پر نوکریاں نہیں لے رہے ہیں۔ وہ سنجیدہ تھا، اس کا چہرہ سنجیدہ تھا مگر اس دوران میں نے شکاگو واپس جانے کا فیصلہ کر لیا۔ میرے اندر جیسے اطمینان کی ایک لہر سی اٹھ گئی تی۔ میں نے کہا ”تمہیں ایک بات بتاتا ہوں تم یہ جا کر اپنے اس سائیں کو بھی بتا دینا۔ پانچ سو سال پہلے جب انگریزوں نے شکاگو پر قبضہ کیا تھا تو ریڈ انڈین کو مارنے پر لوگوں کو انعام ملا کرتا تھا۔

پانچ ہزار سال سے وہاں رہنے والے پالیو اور کاماکاما قبائلیوں کو مار مار کر وہاں سے بھگا دیا گیا تھا۔ افریقہ سے پکڑ کر سیاہ فام افریقیوں کو لائے تھے، انہیں غلام بنایا تھا اور ان کی جانوروں کی طرح خریدوفروخت ہوتی تھی۔ وہ جنگل کا قانون تھا۔ وہ طاقت کا جابرانہ تسلط تھا۔ جہالت کے بے سروپا اصول تھے۔ وقت کو بدلنا پڑا۔ سفید آبادی کو چار سو سال بعد سہی ریڈ انڈین سے معافی مانگنی پڑی، کالوں کو غلامی سے آزاد کرنا پڑا، انہیں ووٹ کا حق دینا پڑا۔

شہر میں آگ لگ گئی، تمام شہر جل گیا، انہوں نے مل کر شہر کو دوبارہ بنا لیا۔ ال کپون جیسے غنڈوں کو انصاف کا سامنا کرنا پڑا۔ زندگی آگے کی طرف بڑھی، پیچھے نہیں گئی۔ انیسویں صدی میں سولہویں صدی کے اصولوں پر انصاف کرنے کی کوشش نہیں کی گئی کیوں کہ زندگی آگے بڑھتی ہے، پیچھے نہیں جاتی ہے۔ تاریخ چکروں کا نام نہیں ہے، کسی دائرے کی طرح نہیں ہے جو گھوم گھوم کر ایک ہی عمل دہراتی ہے، یہ تو ایک اسپرنگ کی طرح ہے جو ماضی کے دائروں کے مکمل ہونے سے قبل ان پر دائرہ بناتی ہے اور آگے بڑھتی ہے، اوپر جاتی ہے۔

تم لوگ جو بات کر رہے ہو اس سے تو ذہانت کا خاتمہ کر رہے ہو، ایک ایسی فوج تیار کر رہے ہو جسے ڈومیسائل کی ضرورت ہے۔ میں شکاگو میں رہتا ہوں، میرے بچے گھر میں سندھی بولتے ہیں، جب پاکستانی جمع ہوتے ہیں تو اردو بھی بولتے ہیں، اسکول میں انگلش میں پڑھتے ہیں اور میرا بڑا بیٹا علیحدہ زبان کے طور پر فرنچ بھی سیکھ رہا ہے۔ شاید ایک دن وہ سندھی، اردو، فرنچ سب کچھ بھول جائے گا مگر وہ نفرت کی کسی زبان سے بات نہیں کرے گا۔

وہ کالج میں بہت اچھا ہے، اسے شکاگو میں یونیورسٹی میں داخلے کے لیے شکارپور کے ڈومیسائل کی ضرورت نہیں ہے۔ جب میں شکاگو شہر میں بہار کے دنوں میں ریکرزڈراؤ کے ساتھ ساتھ گھومتا ہوں اور شکاگو ندی کے اوپر کافی پیتا ہوں اور جلے ہوئے شکاگو کے اوپر بننے والی بلڈنگوں کو دیکھتا ہوں، ٹائم اسکوائر کے پاس سے گزرنے والی گاڑیوں، بسوں، ریل کے ڈبوں کو دیکھ کر مجھے احساس کمتری نہیں ہوتا ہے، مجھے تھوڑا غرور سا ہوتا ہے حالاں کہ میں اس ترقی میں شامل نہیں تھا، میں نے شکاگو کی آگ نہیں بجھائی تھی، شکاگو ندی پر بننے والے پلوں کے لیے گارا مٹی نہیں جمع کیا تھا، شہر کے باغ، میوزیم، ڈراموں کے مرکز، اخبار کے دفتر، ججوں کے چیمبر عیسائیوں، یہودیوں، مسلمانوں، ہندوؤں، بودھوں کی عبادت گاہوں کا نقشہ نہیں بنایا تھا مگر پھر بھی یہ سب لگتا ہے جیسے میرے ہیں، میرے اپنے۔ ہر ایک محبت کا دروازہ کھول کر کھڑا ہے۔ مجھے وہاں رہنے کے لیے کسی کا تبادلہ کرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ کل کی غلطی کو آج کی غلطی سے درست نہیں کیا جاسکتا ہے۔

تمہارے اور تمہارے سائیں کے اصول سب کچھ ختم کر دیں گے۔ اور جب سب کچھ ختم ہو رہا ہو گا تو ڈومیسائل کا یہ کاغذ ہیلتھ سیکریٹری کی سمری، چیف سیکریٹری کی سمری، تقرر نامہ اور چیف منسٹر کا حکم کچھ بھی اس آگ کو نہیں بجھا سکیں گے اور یہ آگ ایسی آگ ہوگی جس میں نے شکاگو کی طرح نیا کراچی یا نیا شکارپور نہیں بن سکے گا۔

میں جانتے بوجھتے ہوئے اس گڑھے میں نہیں گروں گا۔ آج میں کسی وجہ سے ایک مجبوری سے یا شاید اپنی خودغرضی کی وجہ سے شکارپور واپس نہیں جا رہا ہوں۔ وہاں نہیں جا رہا ہوں جہاں لوگوں میری ضرورت ہے مگر میں کل شکارپور کے نام پر خیرات بھی نہیں لوں گا۔ سندھ کے نام پر تجارت بھی نہیں کروں گا۔ میں واپس جا رہا ہوں شکاگو پھر کبھی بھی نہیں آنے کے لئے

ڈومیسائل، سمری اور کوٹا سسٹم پر فیصلے ہوتے ہیں جب نفرت کی بنیاد پر سفر شروع ہوتا ہے اور جب دوسروں کی نا انصافی کو مثال بنایا جاتا ہے تو پھر سچل سرمست اور لطیف بھٹائی پیدا ہونا بند ہو جاتے ہیں پھر صرف ”سائیں“ جیسے لوگ پیدا ہوتے ہیں، ایسے ہی جیسے کراچی کے مہاجروں نے جو فصل لگائی تھی اس کے بعد وہاں بھی صرف ”سائیں“ ہی پیدا ہو رہے ہیں دور دور تک اور ”سائیں“ ہی پیدا ہوتے رہیں گے۔

ستار مجھے تعجب سے دیکھ رہا تھا اس کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی تھی۔ اس کا تعجب اور حیرت کرنا تو میری سمجھ میں آ گیا تھا مگر اس حیرت کو رحم میں بدلتا دیکھ کر مجھے بھی افسوس ہوا تھا۔ کبھی کبھی بہار میں جب تمام شکاگو پھولوں سے مہک رہا ہوتا ہے اور تازہ تازہ سبز پتوں سے ڈھکا ہوا ہوتا ہے اور میں اور رضیہ شکاگو ندی کے کنارے کافی پی رہے ہوتے ہیں تو شکارپور اسی شدت کے ساتھ یاد آتا ہے۔ ایک صاف سی خوبصورت سی تصویر وہی سوندھی سوندھی مٹی، وہی شام کا نکھار اور صبح کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں، اجرک یا رلی کی گرمی، پھر یہ تصویر دھندلی ہوجاتی ہے اور اس دھن میں ستار آ جاتا ہے، میرا بچپن کا دوست بھولا بھالا اور اس کے پیچھے ایک سایہ سا آتا ہے، سائیں کا سایہ اور تصویر اندھیرے میں کھو جاتی ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4