شکارپور سے شکاگو تک


راستے میں، میں نے ستار سے کہا تھا کہ یار یہ بات تو صحیح نہیں ایک قابل آدمی اپنی جگہ پر مناسب کام کر رہا ہے۔ میں کس طرح سے زبردستی اس کی جگہ لے لوں۔

ستار نے مجھے عجیب طرح سے دیکھا تھا ”یرا تم بھی عجیب بات کر رہے ہو۔ ساری دنیا کا نظام ایسے ہی چلتا ہے جس کی حکومت ہوتی ہے اس کی مرضی کے لوگوں کا تقرر بھی ہوتا ہے۔ پاکستان بننے کے بعد صرف مہاجروں کی ہی حکومت تھی، ہر جگہ ہر پوسٹ پر یہ لوگ تھے۔ مغربی پاکستان میں یا مشرقی پاکستان میں۔ ارے اگر کسی چوکیدار کو بھی رکھا جاتا تھا تو وہ لالو کھیت کا ہوتا تھا، ملیر اور ٹھٹھے کے لوگ نہیں لیے جاتے تھے۔ ایسے ایسے جاہل لوگ علی گڑھ اور عثمانیہ یونیورسٹی کی جعلی ڈگریوں پر بڑے بڑے پروجیکٹ کے ڈائریکٹر لگا دیے گئے تھے پھر تم تو قابل ہو۔ تمہارے پاس اصلی ڈگری ہے۔ تمہیں کاہے کا ڈر ہے۔ اب یہی وقت ہے کہ فائدہ اٹھایا جائے اگر فائدہ نہیں اٹھائیں گے تو کل سندھ میں سندھی ایسے ہی ہوں گے جیسے تمہارے امریکا میں ریڈ انڈین ہیں۔“

میں نے کہا کہ میں سوچتا ہوں شکارپور سے ہو کر آتا ہوں۔ میں نے فیصلہ کر لیا کہ میں یہ کام نہیں کروں گا۔ شکارپور میں ہی اپنا ایک سینٹر بناؤں گا وہیں رہوں گا، سب خوش ہوں گے اور رضیہ بھی اسی میں زیادہ خوش ہوگی۔

دو دن کے بعد میں شکارپور چلا گیا تھا۔ یہ وہ شکار پور تو نہیں تھا جہاں میرا بچپن گزرا تھا۔ جہاں میں نے جوانی کی شامیں گزاری تھیں، جسے چھوڑ کر شکاگو گیا تھا۔ شہر کی ہر سڑک ٹوٹی ہوئی تھی۔ شہر کا ہر نالہ ابل رہا تھا۔ ہندوؤں کی بنائی ہوئی کشادہ عمارتوں میں بے ڈھنگے طریقے سے ترمیم کی گئی تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ شکارپور کی میونسپل کمیٹی کا وجود ہی نہیں ہے۔ پہلے میں آتا تھا تو جلدی سے چلا جاتا تھا۔ اتنی فرصت نہیں ہوتی تھی کہ چیزوں کو غور سے دیکھوں لیکن اس دفعہ کوئی اور بات تھی مجھے یہاں رہنا تھا مگر وہاں رہنے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا۔

نہ کوئی نیا اسکول کھلا تھا، نہ کوئی نیا کالج نہ کوئی کھیل کا میدان بنا تھا، نہ کسی پارک کا اضافہ کیا گیا تھا۔ نہ کسی نئی لائبریری کا قیام عمل میں آیا تھا اور نہ ہی کوئی ہسپتال بنا تھا۔ شہر کے پرانے دروازے ختم ہو چکے تھے۔ شہر کے بیچوں بیچ ایک پرانا ائر فورس کا جہاز بے ڈھنگے ستونوں پر لٹکا ہوا کسی چمگادڑ کی طرح شہر کی حالت زار پر ماتم کر رہا تھا۔

ستار نے تو مجھے بتایا تھا کہ کوٹہ سسٹم کی وجہ سے شکارپور کے بہت سے لوگ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہو گئے ہیں مگر مجھے وہاں کوئی بھی تربیت یافتہ سند یافتہ سرجن، فزیشن یا کوئی دوسرا ماہر نہیں ملا تھا۔ کہاں ہیں یہ لوگ؟ مجھے جلد ہی جواب مل گیا تھا۔ وہ سب لوگ کراچی میں رہتے ہیں۔ شکارپور کی گندی گلیوں سے دور، ابلتے ہوئے گٹروں سے پرے، ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی کے بنگلوں میں۔ کلفٹن کے فلیٹوں میں اور سرکاری رہائش گاہوں میں۔

مجھے یقین نہیں آتا تھا کہ اس شہر کا یہ حال ہے جہاں کے وڈیرے اور زمیندار ہر حکومت کے وزیر اور سندھ کے وزیر اعلیٰ رہے ہیں، جو سائیں کے مشورے پر حکومت چلا رہے ہیں۔ سازشیں کر کے نفرتیں بو کے، شہر کا صوبے کا جو بھی حال ہو۔

میں نے اپنے بارے میں سوچا، اپنے بچوں کے بارے میں سوچا، رضیہ کے بارے میں سوچا۔ میں اور رضیہ تو یہاں بہت خوش ہوں گے مگر بچوں کو وہ تعلیم نہیں ملے گی جو اکیسویں صدی میں کام کرنے والوں کو ملنی چاہیے۔ میں اپنا سینٹر بنا کر علاقے کے اتنے مریض دیکھوں گا کہ گزارے سے کہیں زیادہ پیسے کما لوں گا مگر بچوں کو شکارپور تو وہ بھی نہیں دے سکے گا جو مجھے ملا تھا۔ میں نے محنت سے اچھے نمبر لیے تھے۔ بغیر سفارش کے لیاقت میڈیکل کالج میں امتحان پاس کیے تھے۔

امریکن امتحان پاس کر کے امریکا جا کر بھی بہت عزت سے رہ رہا ہوں۔ میرے بچوں کو مجھے ان سب چیزوں سے زیادہ دینا چاہیے جو میرے باپ نے مجھے دیا تھا۔ شکارپور میں انہیں کیا دے سکوں گا۔ شاید کراچی میں گرائمر اسکول میں پڑھ لیں گے۔ ڈیفنس سوسائٹی میں شاید وہ سب کچھ تو نہیں مگر کچھ تو ملے گا۔ شکارپور سے بہتر ملے گا۔ مگر کراچی کی نوکری کسی آدمی کو ہٹا کر مجھے اس کی جگہ ملے گی، اسے بلیک میل کیا جائے گا، اس کا ٹرانسفر کرا کے مجھے نوکری دلوائی جائے گی۔ میں اس کے لیے تیار نہیں تھا۔ مجھے امریکا میں یہ ٹریننگ نہیں ملی تھی۔ مجھے شکاگو میں نوکری دی گئی تھی، گورے کو نوکری نہیں دی گئی تھی۔ میں زیادہ قابل تھا، میں زیادہ اچھا تھا۔

میں نے کافی دیر تک رضیہ سے فون پر بات کی تھی نہ کچھ اس کی سمجھ میں آیا تھا نہ کچھ میری سمجھ میں آیا تھا۔

دو دن بعد میں واپس کراچی پہنچ گیا اور ستار سے اپنے خدشات کا ذکر کیا۔ وہ ہنسا اور اس نے کہا کہ تم تو یار کتابوں کی باتیں کرتے ہو، بے وقوف، شکارپور میں کیوں کام کرو گے۔ تمہارے بچوں کا ڈومیسائل ہوا شکارپور کا، تمہارے کام ہوں گے شکارپور کے نام پر لیکن تم کراچی میں کام کرو گے اور شکارپور سے مریض تمہارے پاس یہاں بھی آئیں گے اور مجھے پتا ہے کہ تم کراچی میں اتنا کماؤ گے کہ عیش کرو گے عیش، اور ساتھ میں گورنمنٹ کی نوکری بھی ہو گی۔ اس نے کہا چلو سائیں کے پاس چلو تمہارا تقریباً سارا کام ہو گیا ہو گا۔

میں نے کہا تھا ”یار مگر میں نے تو کوئی درخواست دی ہی نہیں تھی۔“ وہ پھر زور سے ہنسا تھا اور بولا تھا۔

”تم سائیں کو سمجھتے نہیں ہو۔ ارے تمہارے شکارپور جانے کے بعد انہوں نے مجھے بلایا تھا۔ تمہاری تفصیلات تو میرے پاس تھیں ہیں، ان کی بنیاد پر میں نے تمہارے نام سے درخواست لکھی تھی۔ اس کی ایک کاپی اس فائل میں ہے۔“ اس نے ایک فائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا۔ اس کے بعد تمہاری اچھی سی سمری بنی تھی جو سائیں نے ہیلتھ سیکریٹری سے ہی لکھوائی تھی۔ اس پر بعد میں چیف سیکریٹری اور چیف منسٹر نے حکم بھی کر دیا ہے اور ہنگامی بنیادوں پر تمہارا تقرر نواب شاہ میڈیکل کالج میں کرا دیا گیا ہے کیونکہ وہاں پر ایک پروفیسر کی فوری ضرورت ہے۔ وہ مسکرایا پھر مجھے آنکھ مار کر بولا تھا کہ اب دوسرے مرحلے پر اس کراچی والے کا ٹرانسفر لاڑکانہ کرا دیں گے کیوں کہ وہاں بھی ضرورت ہے۔ اس کے بعد جو ہوگا وہ تو تم کو سائیں بتا ہی چکے ہیں۔

میرے اندر، بہت اندر جیسے ایک آگ سی لگ گئی تھی، میں نے کہا تھا ستار تم کو کیا ہو گیا ہے، کیا سندھ میں بھٹائی اور سچل سرمست پیدا ہونے بند ہو گئے ہیں، کیا اب صرف سائیں جیسے لوگ ہی رہ گئے ہیں جو صرف سندھی اور انگلش میں بات کرتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ سندھیوں کا حشر ریڈ انڈین جیسا ہو جائے گا، تم کیا بات کر رہے ہو؟

اس نے مجھے بیچ میں ہی روک دیا تھا ”یار تم بالکل امریکن ہو گئے ہو، بھائی وہ دنیا اور ہے یہ دنیا اور۔ تم کیوں بھول جاتے ہو کہ مہاجروں اور پنجابیوں نے مل کر جب پاکستان بنایا تھا تو ہم سندھیوں کو کہیں کا نہیں چھوڑا تھا۔ چپراسی تک کی نوکری نہیں ملتی تھی ہم کو۔ کراچی میں اسکول کھلتے تھے، سوسائٹیاں بنتی تھیں، شکارپور اور نواب شاہ میں کیا ہوا تھا؟ بڑی مشکل سے جدوجہد کر کے ہم لوگ بڑے ہیں۔ اب سندھ میں سندھی کے ساتھ نا انصافی نہیں ہو گی، یہ سائیں جیسے لوگوں کا احسان ہے جو یہ سمجھ رہے ہیں اور مل جل کر کام کر رہے ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4