مولانا فضل الرحمٰن کے نام پر اختلافات، وفاق المدارس العربیہ کے انتخابات ملتوی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


دیوبند مسلک سے تعلق رکھنے والے مدارس کی تنظیم وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے انتخابات اندرونی اختلافات کے سبب غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیے گئے ہیں۔

یہ انتخابات لاہور میں 16 اور 17 جنوری کو منعقد اجلاسوں میں ہونے تھے جہاں ملک بھر سے 1256 اراکین مجلس عمومی اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرتے ہوئے آئندہ پانچ سالوں کے لیے تنظیم کے صدر اورجنرل سیکریٹری کا انتخاب کرنے والے تھے۔

تاہم تنظیم کی جانب سے 13 جنوری کو ایک اعلامیے میں “موسمی حالات اور سیکیورٹی خدشات” کو جواز بناتے ہوئے اجلاسوں کو ملتوی کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

البتہ مدرسہ منتظمین اور ماہرین کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی بحیثیت تنظیم صدر نامزدگی کی خبروں کے سبب اس مرتبہ دیوبندی مدارس کی نمائندہ تنظیم کے انتخابات اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔

وفاق مدارس العربیہ کی اہمیت

وفاق المدارس العربیہ اس وقت ملک میں دینی مدارس کی سب سے بڑی اور با اثرتنظیم ہے۔ ملتان میں واقع جامعہ خیر المدارس میں مولانا خیر محمد جالندھری کی زیرِ صدارت دیوبند مسلک کے علمائے کرام کے مارچ 1957 میں ہونے والے ایک اجلاس میں تنظیم کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔

1959 میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے نام سے تنظیم کے باقاعدہ تشکیل کا اعلان کیا گیا جس کے پہلے صدر جامعہ اسلامیہ بہاولپور کے مولانا شمس الحق افغانی نامزد ہوئے۔

'مدارس کی اصلاحات ناگزیر مگر حائل رکاوٹیں دور کرنا مشکل ہے'

ان کے بعد مولانا خیر محمد جالندھری، جامعہ العلوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے مولانا محمد یوسف بنوری، جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے والد مفتی محمود، جامعہ العلوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے محمد ادریس میرٹھی، جامعہ فاروقیہ کراچی کے مولانا سلیم اللہ خان اور جامعہ العلوم اسلامیہ کراچی کے مولانا عبدالرزاق سکندر تنظیم کے صدور رہے۔

ان صدور میں مولانا سلیم اللہ خان نے 27 سال سے زیادہ عرصے تک تنظیم کی صدارت کی۔ وفاق المدارس العربیہ کے موجودہ صدر مولانا عبدالرزاق سکندر نے دوماہ قبل اپنی صحت کے پیش نظر عہدہ لینے سے معذرت کرتے ہوئے کسی فعال شخصیت کو صدر منتخب کرنے کی تجویز دی تھی۔

وفاق المدارس العربیہ کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر کے 21 ہزار 565 مدارس تنظیم کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں جہاں ساڑھے 28 لاکھ سے زائد طلبہ حفظ قرآن سے لے کر عربی ادب میں مہارت اور اسلامی فقہ میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جب کہ اساتذہ کی تعداد ایک لاکھ 59 ہزار سے زائد ہے۔

وفاق المدارس العربیہ ایک تعلیمی بورڈ کی طرح کام کرتا ہے جس کی بنیادی ذمہ داریوں میں مدارس کی رجسٹریشن، نصاب سازی اور تعلیمی نگرانی کے ساتھ ساتھ طلبہ کے لیے امتحانات کا انعقاد اور اسناد جاری کرنا شامل ہے۔

البتہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تنظیم کی اہمیت ایک تنظیمی بورڈ سے کافی زیادہ ہے۔

آج کل لندن اسکول آف اکنامکس سے وابستہ معروف محقق ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے وائس آف امریکہ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں مذہبی سیاست اور تنازعات میں وفاق المدارس العربیہ کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

مدارس پر قانون سازی کے خلاف مذہبی رہنماؤں کا تحریک چلانے کا اعلان

اُن کے بقول “اس تنظیم نے دیو بند فکر کے تعلیمی اداروں اور علمائے کرام کو آپس کے سیاسی اختلافات کے باجود متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور مسلک سے تعلق رکھنے والے مذہبی، فرقہ وارانہ اور جہادی تنظیموں کے لیے ایک پاور بیس بھی مہیا کیا ہے۔”

انتخابات اہم کیوں تھے؟

وفاق المدارس العربیہ کی تاریخ میں پہلی بار انتخابات کافی اہمیت اختیار کر گئے تھے جس کی بنیادی وجہ جے یوآئی (ف) کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمٰن کو تنظیم کی صدارت کے لیے منتخب کرنے کی قیاس آرائیاں شامل تھیں۔

دارالعلوم کراچی کے مولانا تقی عثمانی کا نام بھی اس عہدے کے لیے زیرِ گردش تھا۔

کراچی کے ایک مدرسے کے مہتمم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ماضی کے تنظیمی انتخابات میں لابننگ کے بجائے براہِ راست نامزدگی کی جاتی تھی۔

اُن کے بقول سینیارٹی، بڑے مدرسے سے وابستگی اور اعلیٰ تعلیم جیسے جامعہ دیو بند کے فارغ التحصیل ہونا وغیرہ جیسی خصوصیات کو دیکھ کر وفاق المدارس العربیہ کے صدر کے لیے نام پیش کیے جاتے تھے جس کی کوئی مخالفت نہیں ہوتی تھی۔

مہتمم کہتے ہیں کہ پہلی بار تنظیم کی صدارت اور جنرل سیکریٹری کے عہدوں کے لیے ناموں پر لابنگ ہو رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ زیادہ تر دیو بندی مدارس جے یوآئی (ف) کے زیرِ اثر ہونے کے ساتھ ساتھ مدارس کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ایک توانا اواز کی اشد ضرورت کی وجہ سے مدارس کی ایک بڑی تعداد مولانا فضل الرحمٰن کو تنظیم کے صدر کے طور پر دیکھنا چاہتی ہے۔

اس حوالے سے ایک تجویز زیرِ بحث ہے کہ تنظیم کے دستور میں ترمیم کر کے سپریم کونسل تشکیل دے کر مولانا فضل الرحمٰن کو سربراہ مقرر کیا جائے۔

البتہ مولانا فضل الرحمٰن کی اس عہدے کے لیے کوششوں کی بھرپور مخالفت بھی کی جا رہی ہے۔

کالعدم اہل سنت و الجماعت کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی، جمعیت علمائے اسلام (س) کے مولانا حامد الحق حقانی، جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے مولانا محمد خان شیرانی، جمعیت اشاعت التوحید والسنۃ کے سربراہ مولانا محمد طیب طاہری، جمعیت علمائے اسلام نظریاتی کے قائد مولانا عبدالقادر لونی اور دیگر رہنماؤں نے وفاق المدارس العربیہ کے قائدین کے نام ایک خط لکھا ہے۔

خط میں اپیل کی گئی ہے کہ “کسی بھی سیاسی شخصیت کو نوازنے کے لیے وفاق المدارس العربیہ کے دستور میں ترمیم نہ کی جائے جب کہ مجلس عاملہ، مجلس شوریٰ اور مجلس عمومی کی موجودگی میں سپریم کونسل کے قیام کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔”

حال ہی میں جے یو آئی (ف) سے خارج کیے گئے رہنما اور جامعہ مطلع العلوم کوئٹہ کے مہتمم حافظ حسین احمد نے کہنا ہے کہ “ان مقاصد کے حصول کے لیے نہ صرف وفاق المدارس عربیہ کے منظم ادارے کو بند گلی میں پہنچایا جائے گا بلکہ مختلف مسالک کے مدارس، تنظیموں اور مدارس کے وفاقوں پر مشتمل ’اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان (آئی ٹی ایم پی)‘ کا شیرازہ بھی بکھر جائے گا۔”

‘آئی ٹی ایم پی’ وفاق المدارس العربیہ اور دیگر مسالک اور فرقوں کے مدارس کی چار تنظیموں کے مشترکہ اتحاد کا نام ہے جو جولائی 2005 میں لندن بم دھماکوں میں ایک حملہ آور کا تعلق پاکستانی مدرسے سے ثابت ہونے کے بعد پرویز مشرف حکومت کی مدارس کے خلاف کارروائیوں کو روکنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔

جے یو آئی (ف) کا نام لیے بغیر حافظ حسین احمد نے کہا کہ اس وقت ملک بھر میں پہلے ہی سے مدارس رجسٹریشن، بینک اکاؤنٹس کی معطلی و منسوخی اور علما کے خلاف مقدمات اور فورتھ شیڈول میں اندراج جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔

اُن کے بقول “ایسی صورتِ حال میں مدارس کی نمائندہ تنظیم کو کسی سیاسی پارٹی کا دم چھلا بنا کر اسے مزید مشکلات کے بھنور میں دھکیلنے کا باعث بنیں گے۔“

اسلام آباد میں قائم انٹرنیشنل ریسرچ کونسل برائے مذہبی اُمور کے سربراہ محمد اسرار مدنی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے وفاق المدارس العربیہ کے صدر بننے کے فوائد و نقصانات دونوں ہیں۔

اُں کے بقول “مدارس کی ایک بڑی تعداد یہ سمجھتی ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن اپنے سیاسی اثرورسوخ، حکومت سے مذاکرات میں مہارت، قوانین سے واقفیت اور بین الاقوامی برادری سے رابطوں کی بنیاد پر مدارس کے مسائل حل کر سکتے ہیں۔

البتہ، اسرار مدنی کہتے ہیں کہ ایک حلقہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کے صدر بننے کے بعد وفاق المدارس العربیہ کم سیاسی سے مکمل طور پر سیاسی ادارہ بن جائے گا۔

مولانا فضل الرحمٰن ان دنوں ملک میں حکومت مخالف حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی سربراہی بھی کر رہے ہیں۔

اسرار مدنی کا کہنا ہے کہ ایسی صورتِ حال میں مولانا فضل الرحمٰن کے وفاق المدارس العربیہ کے صدر بننے سے پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت مدارس کو درپیش مسائل حل کرنے سے کترائے گی۔

حکومت آئی ٹی ایم پی مذاکرات

گزشتہ سال تین اکتوبر کے قومی اخبارات میں حکومت کی جانب سے “دینی مدارس کے دیرینہ مطالبے کی تکمیل: دینی مدارس، درالعلوم و جامعات کی رجسٹریشن کا آغاز” کے عنوان سے اشتہارات شائع ہوئے جس میں مدرسہ منتظمین کی رہنمائی اور اندراج کے مراکز کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس عمل کو سہل بنانے کے لیے وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کے تحت شہر اور ضلع کی سطح پر ملک بھر میں 133 مراکز قائم کیے گئے ہیں۔

آئی ٹی ایم پی کے ساتھ کئی ماہ تک جاری مذاکرات کے نتیجے میں حکومت کی جانب سے رجسٹریشن کے عمل کا اعلان کیا گیا جسے حکومت اپنی بڑی کامیابی تصور کر رہی تھی مگر مدارس کی جانب سے حکومت کو خاطرخواہ جواب نہیں ملا۔

حکومت مدارس مذاکرات سے باخبر حلقے اسے آئی ٹی ایم پی کا مولانا فضل الرحمٰن کو ان مذاکرات میں ہونے والے فیصلوں میں اعتماد میں نہ لینے سے جوڑ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مدارس کی اکثریت جو جے یو آئی (ف) کے زیرِ اثر ہے نے رجسٹریشن کرنے سے انکار کر دیا۔

آئی ٹی ایم پی کے ساتھ وابستہ حالیہ معاہدوں کے تحت حکومت ایسے تمام مدارس کو بند کر دے گی جو وزارت کے ساتھ اندراج سے انکار کریں گے اور انہیں بینک اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

حالیہ سالوں میں ملک کے مرکزی بینک اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی متعدد مدارس کے بنک اکاؤنٹس بند کیے ہیں جنہوں نے اپنے آمدن کے ذرائع ظاہر کرنے یا حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے نئے میکنزم کے تحت اندراج کرانے سے انکار کیا ہے۔

پاکستان میں مدارس کیسے پھیلے؟

مدارس پر تحقیق کرنے والے ماہرین کے مطابق 1947 میں پاکستان کی حدود میں دینی مدارس کی تعداد 150 سے زائد نہیں تھی۔

پاکستانی مدارس پر لکھی گئی تحقیقی کتاب “دی مدرسہ میراج” میں مصنف عظمت عباس لکھتے ہیں کہ صرف مغربی پاکستان میں مدارس کی تعداد 1956 میں 250 تک پہنچ گئی تھی۔ 1955 سے 1960 کے دوران فرقہ اور مسلک کی بنیادوں پر مدارس کی چار تنظیمیں قائم کی گئیں جن میں وفاق المدارس العربیہ کے ساتھ شیعہ مدارس کی وفاق المدارس الشیعہ، بریلوی مدارس کی تنظیم المدارس اہلسنت اور اہلحدیث مدارس کی وفاق المدارس السلفیہ شامل تھیں۔

جماعت اسلامی سے وابستہ مدارس نے 1983میں اپنی تنظیم رابطہ المدارس الاسلامیہ قائم کی۔

عظمت عباس کے مطابق جنرل ایوب خان کے گیارہ سال دورِ حکومت میں صرف 482 مدراس قائم ہوئے جب کہ ذوالفقار علی بھٹو کی پانچ سالہ حکومت میں 852 نئے مدارس قائم ہوئے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جب بھٹو حکومت میں دیگر تعلیمی ادارے تو قومیائے گئے مگر مدارس کو اس سے استثنٰی دے دیا گیا اور انہیں حکومتی اختیار سے دور رکھا اور وفاق المدارس العربیہ کی سند کو سرکاری یونیورسٹی کے ایم اے اسلامی تعلیمات کی ڈگری کے متوازی قرار دے دیا۔

عظمت عباس نے یہ بھی لکھا کہ “بھٹو دورِ حکومت میں ہی ملک بھر بالخصوص پنجاب میں مدارس کے قیام کے لیے اور عربی زبان اور اسلامی ادب کے فروغ کے لیے عرب دنیا، خصوصاً سعودی عرب سے مالی تعاون حاصل کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔”

ضیاء الحق دورِ حکومت میں اسلامائزیشن کی پالیسی کے تحت مدرسہ سیکٹر کی باقاعدہ تشکیل کے لیے منظم کوششیں کی گئی۔

عظمت عباس کی کتاب میں سرکاری اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں 1979 سے 1982 کے دوران 151 نئے مدارس قائم کیے گئے جب کہ اس کے بعد آنے والے چھ سالوں میں مزید 1100 مدارس قائم ہوئے۔ اس کے بعد آج تک ملک بھر میں نئے مدارس کے قیام کا سلسلہ جاری ہے۔

دیگر مسالک کے مدارس کتنے ہیں؟

پاکستان میں مدارس کی سرکاری سطح پر اعدادوشمار دستیاب نہیں۔ البتہ مختلف مدرسہ تنظیموں اور محققین سے اکھٹے کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق وفاق المدارس العربیہ سے وابستہ 21565 مدارس میں ساڑھے 28 لاکھ طلبہ ہیں۔

تنظیم المدارس اہلسنت سے وابستہ 9616 مدارس میں 13 لاکھ طلبہ، وفاق المدارس السلفیہ سے وابستہ 1400 مدارس میں 40 ہزار طلبہ اور وفاق المداراس الشیعہ سے وابستہ 550 مدارس میں 19 ہزار طلبہ زیرِ تعلیم ہیں جب کہ 1300 مدارس تنظیم رابطہ المدارس سے وابستہ ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 980 posts and counting.See all posts by voa