انجینئر عبدالحکیم ملک: منشور قرآن سے کلام اقبال میں عکس قرآن تک ایک جائزہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کون سوچ سکتا تھا کہ مظفرگڑھ کے ایک دور افتادہ دیہاتی علاقہ میں پیدا ہونے والا ایک بچہ بڑا ہو کر عالمی شہرت حاصل کرے گا۔

آبائی علاقہ جہاں پینے کو صاف پانی نہیں تھا، نہ کوئی سکول مکتب جہاں مروجہ معیاری تعلیم سے کوئی صاحب ادراک بن پاتا یا جدت کردار حاصل کر پاتا لیکن وہ کیا خوب حضرت علامہ اقبالؒ فرما گئے کہ

جرات ہو نمو کی تو فضا تنگ نہیں ہے
اے مرد خدا، ملک خدا تنگ نہیں ہے

انجینئر عبدالحکیم ملک نے اپنی اور اپنے علاقے کی محرومیوں کو ایک طرف رکھا اور صرف کتابوں میں اپنی خوشیاں اپنے خوابوں اور اپنے والدین کی آرزوؤں کی تکمیل کا اسم اعظم ڈھونڈ لیا۔ یوں محنت اور ماں باپ کی دعا سے انجینئر بن گئے۔ علاقے میں والدین، عزیز و اقارب کا سر بلند ہو گیا۔ یوں ایک بہترین خاندان میں شادی بھی ہو گئی، بچے بھی پڑھنے لائق ہو چلے، غرض ایک متمول زندگی اپنی ڈگر پر رواں دواں تھی۔

صاف اور شفاف نوکری اوپر سے آپ صوم و صلوٰۃ کے پابند، دنیاوی آلائشوں سے دور، اللہ کے قرآن سے ہدایت شب و روز کا معمول، لیکن پھر بھی طبعیت میں ایک بے چینی سی رہنے لگی۔ بہت سوچا اپنی زندگی اور معاملات کو کھنگالا لیکن بے چینی آئے روز بڑھنے لگی، آخر ایک روز اپنے خالق کے گھر جا کے پوچھ بیٹھے کہ آخر اس درد کی دوا کیا ہے؟

اللہ رب العزت نے ان کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ اس کے آفاقی کلام کو چہار دانگ عالم میں پھیلا دو۔

منشور قرآن کا آغاز کیسے ہوا؟

انجینئر عبدالحکیم ملک نے بہت سوچا کہ کیسے وہ یہ کام کریں، انہوں نے تو زندگی میں کسی اخبار یا رسالے میں دو سطریں بھی نہیں لکھی تھیں۔ چونکہ وہ بنیادی طور پر لکھاری نہیں تھے۔ لہٰذا انہوں نے عام لکھاریوں سے ہٹ کر سوچا کہ کوئی ایسا کام کرنا ہے جو ان کے دل کی تسکین کا باعث اور عالم اسلام کے لیے بھی مفید ہو۔

چونکہ رب تعالیٰ نے ان سے کوئی انوکھا اور الگ نوعیت کا کام لینا تھا، لہٰذا سوچ کے دائرہ کو وسعت ملی۔ تب آپ نے قرآن سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا اور دن رات قرآن اور اس کی تفاسیر پڑھنا شروع کر دیں۔ اردو میں تمام مستند تفاسیر کے بعد عربی اور انگریزی کی قرآنی تفاسیر پڑھتے پڑھتے وہ مقام آ گیا اور دل کو ایک راحت جوش اور ولولہ مل گیا۔

جب انہیں معلوم ہوا کہ قدرت نے ان کے دل و دماغ میں کیوں اتنی بے چینی ڈال دی تھی تو انہوں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ بقیہ زندگی کو تعلیم، فلاح، تحقیق، تالیف و تصنیف میں گزارنا ہے۔ اب انہیں یقین ہو گیا کہ یہ سارا معاملہ لہو گرم رکھنے کا ایک بہانہ تھا۔ انہوں نے بہت سوچا، بار بار سوچا تب انہوں نے یہ سوچ کر اطمینان کا سانس لیا کہ انہوں نے تبویب قرآن یعنی قرآن کا انڈکس تیار کرنا تھا۔

قرآن کا انڈیکس کیا ہوتا ہے؟

قرآنی مضامین کو پارہ، سورہ اور آیت نمبر کے حوالے سے علیحدہ علیحدہ عنوانات کے تحت ایک نظر میں دیکھا جا سکے، جس سے روز مرہ زندگی میں پیش آنے والے دینی و دنیاوی مسائل پر فوری رہنمائی حاصل کی جا سکے، اسے انڈیکس، ریفرنس اور انسائیکلوپیڈیا کہا جاتا ہے۔ یعنی جیسے موجودہ دور میں انسانی ذہن کی تحقیق نے زندگی کے بیشتر امور کے حل کو آسان تر بنا دیا ہے، جیسے ”ضابطہ فوجداری و دیوانی“ عدالتی فیصلوں پر مشتمل فنی اور طبی شعبوں میں (Ready Reckoners) ہر موقع کی مناسبت سے حوالہ کو ایک نظر میں پیش کرنے کے لیے کتب عام دستیاب ہیں۔

انجینئر عبدالحکیم ملک کے لیے یہ ایک مشکل ہدف تھا۔ ایسا کام اور اس موضوع پر ان کے سامنے کوئی رول ماڈل نہیں تھا، کوئی کتابیات سامنے نہیں تھیں۔ سنا تھا کہ ماضی میں ایک دو عشاق قرآن تھے لیکن ان کے قلمی نسخے اور پرنٹ شدہ کتابیں ڈھونڈنا بہت مشکل تھا۔

پھر یہ کہ ماضی میں دو چار لکھنے والوں نے قرآن کی کچھ منتخب آیات پر مشتمل مضامین کے انڈکس تیار کیے تھے لیکن یہاں قدرت انجینئر عبدالحکیم ملک کو دنیائے تبویب قرآن کا وہ اولین تحقیق کار ہونے کا اعزاز بخشنا چاہتی تھی، جنہوں نے ایک یا دو حصے نہیں بلکہ مکمل قرآن مجید کا انڈکس مرتب کر لیا، پہلی بار قرآن حکیم کے 30 سیپاروں پر مشتمل 114 سورتوں کی 6338 آیات کریمہ کے مصدقہ عربی متن کو انگریزی اور اردو کے مستند ترجمہ کے ساتھ کئی سو جامع ابواب کے ساتھ چار ہزار ذیلی عنوانات میں تقسیم کر کے یکجا کیا اور پھر کئی ہزار اضافی حوالہ جات بھی دیے گئے اور یوں ”منشور قرآن“ 17 سال کی طویل محنت اور عرق ریزی کے بعد منصۂ شہود پر آئی۔

قارئین کرام! مندرجہ بالا روداد آج سے 25 / 30 سال پہلے کی ہے اور آج منشور قرآن کا ساتواں ایڈیشن بھی چھپ چکا ہے۔ یوں اب تک منشور قرآن کی لاکھوں کاپیاں دنیا بھر کی اسلامک، علمی، ادبی اداروں اور اہم ترین یونیورسٹیوں اور لائبریریوں کی زینت بن چکی ہیں اور ہزاروں اہم شخصیات کے ہاتھوں پہنچ چکیں ہیں۔ یہاں انجینئر عبدالحکیم ملک صاحب نے ایک اہم کام بھی ساتھ کر ڈالا اور وہ یہ کہ انہوں نے اسلامک ریسرچ فاونڈیشن گلوبل کینیڈا میں ایک اسلامک ریسرچ ادارہ کی بنیاد بھی رکھی جس سے منشور قرآن کی یورپ، امریکہ، کینیڈا، عرب ممالک اور پاکستان بھر میں دستیابی ممکن ہو سکی۔

اٹلس قرآن رسول اعظم محمد مصطفی احمد مجتبیٰ ”کی تدوین اور مرتب کا خیال:

کشادہ دست کرم جب وہ بے نیاز کرے
نیاز مند نہ کیوں عاجزی پہ ناز کرے
(اقبال)

دنیا بھر کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اور عالمی اداروں و شخصیات سے عزت توقیر اور ستائش پانے کے بعد آپ کا حوصلہ اور عجز و انکسار بڑھا، لیکن آپ اطمینان سے گھر نہیں بیٹھ گئے اور اپنے اگلے پروجیکٹ کے لیے اپنی توانائی، سوچ، قلم اور اپنے تخیل کی پرواز کو مزید وسعت دی، اب کے ایک اور مشکل کام میں ہاتھ ڈال لیا اور وہ تھا ”اٹلس قرآن رسول اعظم محمد مصطفی احمد مجتبیٰ“ جو سیرت طیبہ ﷺ پر محیط ہے۔

اس اٹلس میں قدیم و جدید تصاویر، نقشہ و خاکہ جات، دستاویزات، مستند معلومات، مقدس صحائف، تاریخی و جغرافیائی حقائق، شواہد آثار قدیمہ اور بین المذہبی عقائد کے تناظر میں معروضی و موضوعی اعتبار سے ایک منفرد تحقیق جسے دنیا بھر کے اصحاب علم و دانش مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام اور دیگر مذاہب کے سکالرز نے ایک رفیع اور قابل قدر کاوش قرار دیا ہے۔

اس کتاب کی وجہ تسمیہ یہ تھی کہ فاضل مصنف کو عرب دنیا کے علاوہ یورپ و امریکہ کی طویل سیاحت اور تحقیق کی جستجو میں ایک دن ویٹی کن سٹی میں ”بائبل اٹلس“ کو دیکھتے ہوئے خیال گزرا کہ قرآن کی اٹلس بھی مرتب کی جائے تاکہ قرآن پاک میں مذکورہ مقامات کو قاری بچشم خود دیکھ کر اپنے فہم کا دائرہ وسیع کر سکے، یوں انہوں نے سب سے پہلے قرآن کی اس اٹلس کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا، ایک حصہ ختم المرسلین جناب محمد رسول ﷺ کی حیات مبارکہ کو مرکز و محور بنا کر ترتیب دیا جب کہ دوسری جلد میں حضرت آدم ؑ سے حضرت عیسیٰ ؑ تک قرآن میں جن انبیائے کرام کا تذکرہ یا حوالہ موجود ہے، ان سب کے حالات سموئے ہیں۔

اٹلس رسول اعظم ﷺ میں وہ تمام ممکنہ مقامات جہاں جہاں رسول اعظم کے قدم مبارک پڑے، غزوات جہاں برپا ہوئے یا آپ ﷺ نے دیگر اہم امور جہاں نمٹائے، ان سب جگہوں کو تصاویر و نقشہ جات سے اجاگر و نمایاں کیا گیا ہے۔ اور ساتھ قرآن کے عربی متن کے حوالہ جات کے علاوہ اردو انگریزی ہر دو زبانوں میں واقعات مع اسناد بیان کیے گئے ہیں۔ اور اس کی تیاری میں قرآن و حدیث بنیادی ماٰخذ کی صورت شامل تالیف ہیں۔

” اٹلس انبیاء و رسل علیہم السلام“ ( حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام )

اس کے ماخذ بھی قرآن اور رسول اللہ ﷺ کے فرمان عالی شان ہیں مگر مصنف نے مزید صحائف اہل کتاب زبور، تورات اور انجیل سے بھی استفادہ کیا ہے۔ اردو، عربی اور انگریزی میں احاطہ کرتی ہوئی یہ کتاب قاری کو وہ مقامات بھی دکھاتی ہے جہاں قدیم تاریخ کے یہ متبرک کردار متحرک رہے۔

” کلام اقبال ؒ میں عکس قرآن“

یہ انجینئر عبدالحکیم ملک کی نئی کتاب ہے جو منصۂ شہود پر آ چکی ہے۔ ملک صاحب نے جس اعلیٰ جمالیاتی ذوق سے کلام اقبال ؒ ( بانگ درا، بال جبرئیل، ضرب کلیم، ارمغان حجاز) سے وہ لافانی اور زندۂ جاوید اشعار اکٹھے کیے اور انہیں قرآنی آیات پر منطبق کیا۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ آپ کی اعلیٰ علمی بصیرت اور عاشق قرآن اور عاشق رسول ہونے کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ مزید براں یہ کہ اس موضوع پر ان کی یہ کاوش یقیناً اقبال شناسی کے سلسلہ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گی۔

بقول مصنف انجینئر عبدالحکیم ملک ”کلام اقبال میں عکس قرآن کی تیاری میں موضوع اشعار کا انتخاب اور متعلقہ آیات قرآنی کی تلاش یقیناً ایک محنت طلب کام ثابت ہوا، یہ کتاب علامہ اقبال ؒ کی اردو شاعری سے ایسے منتخب اشعار کا مجموعہ ہے، جس میں اقبال ؒ نے یا تو قرآنی آیات کے الفاظ کو من و عن استعمال کیا یا پھر اس کو کسی بھی آیت قرآنی کے بالواسطہ معانی یا تصور سے جوڑا ہے۔ قارئین کی سہولت کے لیے متعلقہ آیات کا مکمل عربی متن، اردو اور انگریزی تراجم میں متعلقہ سورۃ اور آیت کا حوالہ ساتھ درج کر دیا گیا ہے اور صفحہ کے آخر میں کلام اقبال ؒ کے ساتھ بالواسطہ یا بلاواسطہ منطبق ہونے والی قرآنی آیات کے جدول کو مزید حوالہ جات کے طور پر بھی پیش کر دیا گیا ہے۔

وہی ہے صاحب امروز جس نے اپنی ہمت سے
زمانے کے سمندر سے نکالا گوہر فردا
(اقبال ؒ)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •