ڈاکٹر اشتیاق احمد کی کتاب’پاکستان: عسکری ریاست‘ کا نیا ایڈیشن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معروف محقق و تاریخ دان ڈاکٹر اشتیاق احمد صاحب کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ان کی کتابیں ہی ان کا تعارف ہیں۔ ان کی معروف کتاب
“The Punjab: Bloodied, Partitioned and Cleansed”
کا اردو ترجمہ ”پنجاب کا بٹوارہ“ کے نام سے پاکستان سے ترجمہ ہوا ہے اور اس کا ہندی ترجمہ بھی دہلی سے شائع ہوا۔ حال ہی میں یہ کتاب بھارت کے شہر پٹیالہ سے پنجابی زبان میں بھی شائع ہوئی ہے۔

ڈاکٹر صاحب کی ایک اور بہترین کتاب
“State, Nation and Etnicity in Contemporary South Asia”
ہے، جسے ”فکشن ہاؤس“ نے شائع کیا ہے۔ چند ماہ قبل ان کی ایک نئی کتاب
“Jinnah: His Success, Failures and Role in History”
شائع ہوئی، جو شائع ہونے سے قبل ہی پاکستان کے دائیں بازو کے دانشوروں کی طرف سے تنقید کی زد میں آ گئی۔ یہ کتاب تاحال پاکستان میں دستیاب نہیں، مگر چند ماہ میں پاکستان کے عام قاری تک اس کی آمد متوقع ہے۔

آج ڈاکٹر صاحب کی جس کتاب کا تذکرہ مقصود ہے وہ بھی باقی کتابوں کی طرح تاریخی اور مستند ہے۔ یہ کتاب ”پاکستان: عسکری ریاست“ کے نام سے ہے۔

اس تحقیقی کتاب کا ایک باب ”قیام پاکستان کے بارے میں برطانیہ، امریکہ اور سوویت یونین کا رویہ“ ہے۔ کتاب کا اگلا باب پاکستانی فوج کی نو آبادیاتی جڑیں سے شروع ہو کر پہلی جنگ کشمیر پر ختم ہوتا ہے۔ کتاب کا باب نمبر پانچ انتہائی دلچسپ اور حقائق سے بھرپور ہے۔ یہ باب پاکستان کی امریکیوں سے بڑھتی قربتوں اور سول ملٹری تعلقات کے بارے میں ہے۔ اسی باب میں راولپنڈی سازش کیس اور احمدیوں کے خلاف فسادات کا تفصیلی تذکرہ بھی موجود ہے۔

سنہ 1965 کی جنگ کے حوالے سے اشتیاق صاحب نے کچھ آرمی آفیسرز کا تبصرہ کتاب میں شامل کر رکھا ہے۔ ائیر مارشل نور خان تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:

’’آرمی کی کارکردگی کا فضائیہ سے کوئی موازنہ نہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ فوج کی قیادت اتنی پروفیشنل نہیں تھی۔ انہوں نے (صدر ایوب خان) قومی مفاد کی بجائے صرف اپنی جیت کے لیے آپریشن جبرالٹر کا منصوبہ بنایا۔ یہ قطعاً غلط جنگ تھی۔ انہوں (ایوب خان) نے قوم کو یہ بڑا جھوٹ بول کر گمراہ کیا کہ پاکستان نے نہیں بلکہ بھارت نے جنگ چھیڑی۔ مزید نور خان اس جنگ میں فتح کو جھوٹ پر مبنی قرار دیتے ہیں۔‘‘

ڈاکٹر صاحب نے ”مشرقی اور مغربی پاکستان میں دوریاں“ کے عنوان سے قائم باب میں بنگال کے مسائل پر گراں قدر بحث کی ہے۔ پھر دور آتا ہے مشرقی پاکستان میں کیے گئے اس فوجی آپریشن کا جس کے بارے میں جنرل نیازی نے لکھا:

”جب جنرل ٹکا خان نے حملے کا آغاز کیا تو پرسکون رات چیخوں، آہ و بکا اور آگ کے شعلوں سے لبریز ہو گئی۔ جنرل ٹکا خان نے ہر چیز ایسے استعمال کی جیسے اپنے گمراہ عوام نہیں بلکہ دشمن کے خلاف کرتے ہیں۔ فوجی ایکشن اس سے کہیں زیادہ بے رحم اور ظالمانہ تھا جتنا چنگیز خان یا ہلاکو خان نے بخارا اور بغداد میں قہرمانی سے کام لیا“۔

کتاب میں اس جنگ بارے کافی سارے آرمی آفیسرز کے انٹرویو لیے گئے ہیں جو اس باب کی خوبصورتی میں اضافے کا موجب ہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو کے عروج و زوال کی داستان کے بعد اس کتاب کا سب سے دلچسپ حصہ ہے۔ اس حصے میں ’مولوی ضیاء الحق‘ کے اسلام کی کہانی ہے۔ جنرل ضیاء نے پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کے لئے آغاز فوج سے کیا، ضیاء دور میں فوجی یونٹوں میں تعینات مولویوں کو ترقی دیتے ہوئے جونیئر کمیشنڈ افسر کا رینک دے دیا گیا۔ اسی دور میں بریگیڈئیر ایس کے ملک نے ”جنگ کا قرآنی تصور“ نامی کتاب لکھی جس کا پیش لفظ تحریر کرتے ہوئے ضیاء الحق نے لکھا:

”یہ کتاب فوجیوں اور سویلین افراد کے لیے یکساں اہم ہے۔ جہٖاد فی سبیل اللہ صرف پیشہ ور فوجی کا مخصوص شعبہ نہیں اور نہ صرف فوج پر اس کا اطلاق ہوتا ہے“ ۔ اس کتاب نے اسلام پسند جنگجو بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

میجر (ر) آغا ہمایوں امین، ضیاء کے اسلام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں : ”بحیثیت مجموعی نام نہاد اسلامائزیشن کے عمل سے فوج کا پیشہ ورانہ معیار متاثر ہوا۔ اس کا آغاز کیڈٹوں کی بھرتی کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا۔ ضیاء الحق نے اہم سول عہٖدوں پر فوجی افسر لگائے۔ مثال کے طور پر ایڈمرل شریف کو پبلک سروس کمیشن کا چیئرمین لگایا گیا۔ جن کا مختلف اسامیوں پر بھرتی کے لیے آنے والے امیدواروں سے انٹرویو میں زیادہ زور صرف مذہب پر ہوتا تھا۔ وہ امیدواروں سے کہتے کہ دعائے قنوت سناؤ۔ انہوں نے ٹاپ کرنے والے امیدوار ظفر بخاری کو محض اس لئے ان فٹ قرار دے دیا کہ انہوں نے بائیں بازو کے فیض احمد فیض کو اپنا پسندیدہ شاعر لکھ دیا تھا۔“

کتاب کا ایک پورا باب نام نہاد ”افغان جہاد“ کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ اس جہٖاد کے لئے ”جہٖادی“ پیدا کرنے والے مدارس کے کردار کے بارے میں ڈاکٹر اشتیاق صاحب لکھتے ہیں : 1970 کے عشرے میں پاکستان میں محض چند سو مدارس تھے لیکن اسلام کو بطور جہادی نظریہ سیاسی رنگ دینے کے بعد 1980 کی دہائی کے وسط تک یہ تعداد 12 سے 15 ہزار تک پھیل گئی۔ ایک اندازے کے مطابق کئی لاکھ طالبان انہی مدارس کی پیداوار تھے۔

کتاب 1988 کے عام انتخابات میں ”غیر سیاسی“ ادارے آئی ایس آئی کے گھناؤنے سیاسی کردار کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، جب جنرل حمید گل لوگوں کو پی پی پی سے بدظن کرنے کے لیے کھلے عام کہہ رہے تھے، ”بے نظیر نے امریکیوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ برسراقتدار آ کر جوہری منصوبے ختم کر دیں گی“ ، جو بعد میں جھوٹ ثابت ہوا۔ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں : جب 1996 میں طالبان نے کابل فتح کیا تو پاکستان نے طالبان کی فتح پر خوشی کے شادیانے بجائے کیونکہ پہلی بار افغانستان میں پاکستان کی دوست حکومت وجود میں آئی تھی۔ بے نظیر اور نواز شریف دونوں نے طالبان حکومت کا خیر مقدم کیا۔ پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ اور آئی ایس آئی نے طالبان کی کامیابی کا جشن ایک سٹرٹیجک اثاثے کے طور پر منایا۔

پرویز مشرف دور میں پیش آنے والے ورلڈ ٹریڈ سنٹر واقعے کے بعد طالبان سے محبت کا خاتمہ، ڈاکٹر عبد القدیر خان کے خلاف کارروائی، امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے قتل، لال مسجد کا سانحہ اور بینظیر کے قتل جیسے واقعات پر بھی یہ ایک مستند کتاب ہے۔

یہ کتاب ”اسامہ بن لادن کا خونی انجام“ کے باب پر انجام پذیر ہوتی ہے۔ اسامہ کو مارنے کے لیے کیے جانے والے ایبٹ آباد آپریشن کے بعد کی صورتحال بارے اشتیاق احمد صاحب لکھتے ہیں :

غیر ملکی نامہ نگاروں کی ہمسایوں سے گفتگو میں تفصیلات سامنے آئیں۔ پتا چلا کہ ہر روز ایک سرخ کار میں بکرا اس عمارت کے اندر پہنچایا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ جب کبھی کرکٹ کھیلتے ہوئے بچوں کی بال عمارت کے اندر چلی جاتی تو وہ کبھی واپس نہ کی جاتی۔ البتہ اس کے بدلے معقول رقم ادا کر دی جاتی اور یہ سب فوج کے علم میں آئے بغیر ہوتا رہا، یہ زیادہ قابل اعتبار نہ تھا۔ جنرل اسد درانی اور معروف تبصرہ نگار اکبر ایس احمد نے بی بی سی کو انٹرویو میں اس بات کو خارج از امکان قرار دیا کہ حکام کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کا علم نہیں تھا۔

یہ کتاب ڈاکٹر اشتیاق صاحب نے ”Pakistan: The Garrison State“ کے نام سے انگریزی میں لکھی اور اس کا اردو ترجمہ ایم وسیم نے کیا جسے 2016 میں ”مشعل بکس“ نے شائع کیا۔ مگر اب کافی عرصے سے نیا ایڈیشن نہ آنے کی وجہ سے یہ کتاب مارکیٹ میں آسانی سے دستیاب نہ تھی۔ اسی چیز کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کتابوں کو ”کاروبار“ بنانے والے کچھ حضرات اسے منہ مانگی قیمت پر فروخت کر رہے تھے۔ مگر کتاب دوست لوگوں کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے قریبی عزیز فرقان علی خان صاحب کی بدولت یہ کتاب اب دوبارہ شائع ہونے جا رہی ہے۔ آنے والے چند دنوں میں ”فکشن ہاؤس“ سے شائع ہو کر یہ کتاب باآسانی مارکیٹ میں دستیاب ہوگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •