”رس بھری“ اک نگاہ یار سہی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آئیں بھارت کی ویب سیریز ”رس بھری“ کی بات کرتے ہیں۔
میڈیم ہے ویب سیریز۔ نئے لوگوں کی نئی دنیا، سنسر شپ سے پرے، فن کاروں کے کارٹیلز سے دور۔
ذرا دھیرج رکھیں۔

ایسے ہی تھوڑی۔ ہمارا اسٹارٹ بھی فاسٹ بالر شعیب اختر اور عمران خان جیسا لمبا ہوتا ہے۔ گیند پھینکے کے لیے جب وہ بالر اینڈ سے تماشائیوں کے اسٹینڈ کی طرف بڑھتے تھے لگتا تھا کہ اب کبھی لوٹ کے نہ آئیں گے۔ آپ کے مزاج میں شتابی ہے۔ جام گھٹکانے، پیار کرنے، کتاب پڑھنے، مضمون لکھنے کا مزا لمبے اسٹارٹ میں آتا ہے۔ آہستہ آہستہ۔ ہم جب کبھی اسکول کے دنوں میں مضمون لکھتے تھے، موضوع کوئی بھی ہو دو پیراگراف لازماً اس انجان، ان دیکھے ممتحن کی تعریف میں ضرور لکھتے تھے۔

بالکل ویسے ہی جیسے سیاسی پارٹیوں کے درجہ سوم کے ترجمان جب کسی ٹی وی ٹاک شو میں مدعو کیے جاتے ہیں تو اس بات کی لازماً کوشش کرتے ہیں کہ وہ موقع پاتے ہی کھینچ کھانچ کر مراثیوں کی طرح اپنے گاؤں کے چوہدری یعنی پارٹی سربراہ کی شان میں تین چار جملے ضرور ادا کردیں جن سے ان کی پارٹی پوزیشن مضبوط ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک کسی پتھر دل ایگزامنر نے کم نمبر نہیں دیے۔

آئیں پہلے آپ کو یہ بتائیں کہ کسی ٹی وی سیرئیل اور ویب سیریز میں بنیادی طور پر کیا فرق ہے۔

ویب سیریز، فلم اور ٹی وی سیریز کی نسبت انٹرنیٹ کے دوش پر رواں دواں کم بجٹ کا بے باک اور اوریجنل کام ہے۔ ٹی وی سیریل کو آپ ایک ناول اور ویب سیریل کو افسانہ سمجھ لیں۔ پہلا فرق تو یہ ہے۔ دوسرا فرق اس کی موضوعاتی سچائی اور بے باکی ہے۔ ٹی وی والے نئے تجربے سے ڈرتے ہیں ان کے اسپانسر اور نشریے کے دوران دکھائی جانے والی پراڈکٹس کی مارکیٹ اور گاہک کی نازک مزاجی کا بھی بہت خیال ہوتا ہے۔ ٹی وی سیرئیل کو در حقیقت اس کے اسپانسر چلاتے ہیں۔ جیسے ہمارے اکثر اینکرز کو فرشتے پروگرام، چینلز اور اینکرز پکڑ پکڑ کر دیتے ہیں تاکہ ان کی پالیسی کے مطابق من مانی چھترول اور پروموشنز ہوتے رہے ہیں، یہ جو آپ جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جینے والے ٹی وی اینکرز کا کبھی اس چینل اور کبھی اس چینل پر جلوہ افروز ہونا دیکھتے ہیں اس کے پیچھے فرشتے اور ان کے دامن میں پوشیدہ گھی، تیل، بستی ٹاؤن اور بیکری والے اسپانسرز ہوتے ہیں

پاکستان بھارت کے اکثر ڈرامہ سیریئلز کا تجارتی ہدف گھریلو عورتیں ہوتی ہیں۔ لہذا موضوعات خواتین کے لباس اور ان سے جڑے مسائل ہوتے ہیں۔ آپ کو سونی اور اسٹار سیریز کی، کم کم، جسی جیسی کوئی نہیں، کہانی گھر گھر کی اور ساس بھی کبھی بہو تھی یہ سب تو یاد ہی ہوگا۔ یہ نشر ہو رہے ہوتے تھے تو بہوئیں ساس کا سوئم مس کر دیتی تھیں۔ ان سب کو چلانے والے ان میں دکھائے جانے والے اشتہار ہوتے تھے۔ تیسرا یہ کہ ویب سیریز کو سنسر شپ کے ان کڑے مراحل سے نہیں گزرنا پڑتا جو ٹی وی ناظرین کے حوالے سے ٹی وی سیریز کو سامنے رکھنے ہوتے ہیں اور آخری یہ کہ اس کا بجٹ کم ہونے کے باعث اس میں نئے فن کار اپنے اپنے فن کا جوہر دکھا پاتے ہیں۔ فلم پر ڈائریکٹر کا بہت کنٹرول ہوتا ہے اور ٹی وی سیریز پر اس کے مصنف کا۔ اگر آپ کو امجد اسلام امجد، یونس جاوید، اشفاق احمد، حسینہ معین، خلیل الرحمان قمر اور فصیح باری خان کے ڈرامے سامنے ہوں تو وہ مصنف کی راج دھانی ہوتے ہیں۔ ویب سیریز ایک ٹیم کا کام ہوتا ہے۔

اسے کوئی ایک نام لے کر نہیں آگے بڑھ سکتا۔ اس کی کہانی اور موضوعاتی اثر انگیزی اپنی جگہ مگر اس میں cinematic touch نہ ہوتو اس کا مزہ نہیں آتا۔ کہانی کے structure اور خالی ہیروئن کے چہرے کے کلوز اپ اور مڈ شاٹس سے کام نہیں چلتا۔ کم از کم پانچ اور زیادہ سے زیادہ دس ایپی سوڈز میں ویب سیریز میں ٹیم کو اسکرین پلے کے اوپر بہت محنت کرنا پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بالی ووڈ کے بادشاہ شاہ رخ خان جو تجارتی شعور میں بھی بہت آگے ہیں ان کی جانب سے بھی Red Chillies نامی ایک ادارے کی تشکیل دی گئی ہے جس نے نیٹ فلکس پر Bard of Bloodکے نام سے کئی زبانوں میں ڈب کر کے لانچ کی ہے۔ خود ایک پاکستانی خاتون انعم عباس جو کینیڈا میں ہوتی ہیں ان کی ایک ویب سیریز Ladies Only کا سرگوشیوں میں بڑا چرچا ہے۔ اس میں جنس اور مذہبی سیاسی استحصال کے حوالے سے ایپی سوڈز فلمائے گئے ہیں حتی کہ ایک چونکا دینے والا ایپی سوڈ مقتولہ قندیل بلوچ کے بارے میں بھی ہے۔

پہلے ایک ٹیزر۔

رس بھری کی شانو میڈیم، یعنی سوارا بھاسکر غربا فقرا اور مساکین کی شسمیتا سین ہے۔ وہی شسمیتا سین جس نے، سن دو ہزار چار کی بلاک بسٹر۔ ”میں ہوں نا“ کی کیمسٹری کی استاد مس چاندنی کے لیے بہت ظلم ڈھایا تھا۔ فی الحال یہاں صبر کریں اور سوارا بھاسکر کا جو اصل مسئلہ ہے اس پر بات کریں۔

میرٹھ کے اسکول کی انگلش کی استانی شانو میڈم کی ایک alter ego (انت رنگ متر) بھی ہے یعنی رس بھری۔

اس وجود ثانی alter ego کو سمجھے بغیر مزہ نہیں آئے گا۔ آسان نفسیاتی انداز میں اسے ثانوی وجود سمجھ لیں۔

یہ alter ego بائی پولر ڈس آرڈر سے قدرے مختلف ہے۔ اس عارضے میں رول کی تبدیلی کا فرد مذکور کو نہ صرف احساس رہتا ہے بلکہ رول کی یہ تبدیلی قدرے اختیاری بھی ہوتی ہے۔ جب کہ انتشار ذات یعنی بائی پولر میں یہ شعوری احساس مفقود ہوتا۔

alter ego کے بارے میں ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ یہ وجود آباد تو فرد مذکور میں ہی ہوتا ہے مگر لازم نہیں کہ وہ اس کے نارمل سیلف جیسا ہی ہو۔ وہ مکمل پر طور پر ایک ایسی ہستی ہو سکتا ہے جس سے فرد مذکور نے کوئی بہت گہرا اثر قبول کر رکھا ہے۔ یوں تو اچھے خاصے نارمل انسان میں بھی یہ alter ego ہوتی ہے۔ وہ مگر اسے دھتکار کے باتھ روم کے آئینے تک محدود رکھتے ہیں۔ اب اگر آپ کے ذہن میں بائی پولر جیسا بھیانک خیال آ رہا ہے تو اس میں آپ کا قصور نہیں۔ خود ماہرین نفسیات کے لیے بھی یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ وہ ان دونوں نفسیاتی کیفیات میں کوئی واضح خط امتیاز کھینچ سکیں۔

alter ego کو جب یہ جون بدلنی ہوتی ہے تو اسے کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ آپ نے کئی لڑکیوں کو دیکھا ہوگا مرد بن کر انہیں کے انداز میں گفتگو کرتی ہیں۔ ہم نے تین ہٹی کراچی والے سید نور علی شاہ بابا کے مزار پر دو ایسی خواتین کو سنا تھا، جن میں ایک جانوروں بلی کتے کے انداز میں بولتی تھیں اور دوسری کو انگریزی بولنے کا بہت شوق تھا یہ الگ بات ہے کہ اس کی انگریزی بھی حسن نواز پسر نواز شریف کی طرح زیادہ تر آں آں پر مبنی تھی۔

بائی پولر میں موڈز کے ایک پول سے دوسرے انتہائی پول تک ہلکورے لینا عام ہوتا ہے جب کہ کچھ ایسے لمحات ہوتے ہیں جب کہ alter ego میں فرد مذکور ایک مانوس نئی شخصیت کا غیر ارادی طور پر مکمل روپ دھار لیتا ہے جو اس کے دائرہ شعور و اختیار سے بہت پرے ہوتی ہے۔

ایک معصومانہ alter ego کی بے ضرر سی مثال ہمارے دوست سیدنا افضل رضوی کی بلڈنگ کولمبس پلازہ میں ایک ایسی لڑکی تھی جو خود کو بچوں سے باجی ایشوریا کہلاتی تھی۔ ویسے ہی سستے مگر لبھانے والے کپڑے پہنتی۔ اس کے سابق دھوکے باز عاشق نے بے چاری کے دل میں یہ خیال بٹھا دیا تھا کہ وہ دیکھنے میں ایشوریا رائے جیسی ہے یہ اور بات ہے کہ شہرت کی دیوی اس پر مہربان ہو گئی اور وہ مس ورلڈ 1993 بن گئی۔ وہ بھارت میں ہوتی تو وہ وہاں کی پہلی مسلمان مس ورلڈ بن جاتی۔ سو اس کے نارمل رویوں میں بھی ایشوریا کی روح بھٹکتی تھی۔

بچے پیچھے لگ کر ایشوریا باجی کہتے تو دفتر سے لوٹتے ہوئے ان میں ٹافیاں بانٹتی تھی۔ ہم اور افضل رضوی دونوں ہی اسے سمجھاتے تھے کہ وہ یہ سب نہ کرے تب بھی بہت سندر لگتی ہے۔ پگلوٹ تو سمجھتی کیوں نہیں ایشوریا رائے کوئی انسان تھوڑی ہے۔ وہ تو ایک پراڈکٹ ہے۔ اس کو سکرین تک لانے میں جانے کتنوں کی جان جاتی ہے۔ تب کہیں جا کے نظر آتی ہے مصرعہ تر کی صورت۔

رس بھری کا یہ حوالہ فلم کو سمجھنے کے لیے یہ حوالے لازم تھے جیسا عزیز حامد مدنی نے کہا
نافۂ آہوئے تتار زخم نمود کا شکار
دشت سے زندگی کی رو ایک مثال لے گئی

پہلا مصرعہ بہت مشکل ہے۔ آپ کو وائلڈ لائف، musk deer، تبت، کشمیر، مشک جانے کیا کیا کھوجنا پڑے۔ اردو شاعری میں کم مصرعے اتنے Composite ہوتے ہیں۔ جتنا یہ باکمال مصرعہ ہے۔

کوئی کتاب، فلم، گیت یا فوٹو ہمارے جیسے نوآموز کے لیے ایک مکتب کا درجہ رکھتی ہے۔ یہ بور ہونے سے زیادہ تعلیم و تدریس ہے۔

دماغی امراض کے ایک ماہر ہوتے تھے نام تھاOliver Sacks۔ بہت مشہور، نیویارک میڈیکل یونی ورسٹی میں پروفیسر تھے۔ بیاسی برس کی عمر میں ایک غیر معمولی بصری کینسر سے اس وقت انتقال ہوا جب وہ ان کے جگر میں اتر گیا۔ اس عمل کو metastasis کہتے ہیں۔ اس حالت میں کینسر ظاہر تو ایک عضو میں ہوتا ہے مگر خون سے ہوتا ہوا کسی دوسرے حصے میں شدت سے حملہ آور ہو کر اپنی تباہ کاریاں دکھاتا ہے۔ انہوں نے اپنی وفات سے پہلے اپنی بیماری اور ایام آخر کے بارے میں کہا تھا کہ

”مجھے اپنی زندگی ایک ایسا میدان لگتی ہے جس میں بہت سی عمارات ایک دوسرے سے جڑی ہوں۔ مجھ پر بستر مرگ میں فن تحریر، موسیقی، سیاحت، دوستیوں اور محبت کے نئے بھید بھاؤ آشکار ہوئے۔“ ہم تو اپنے ابنارمل لوگوں کو یا تو پاگل کہہ کر زنجیروں سے باندھ دیتے ہیں یا جن اور جادو سمجھ کر عاملوں کے حوالے کر دیتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے اس میں ایک ایسے میدان میں کام کیا جو موسیقی سے جڑا تھا۔ ان کی ملاقات اس سلسلے میں ایک ایسی مریضہ سے ہوئی جسے amusia نامی ذہنی عارضہ تھا۔ اسے بہترین قسم موسیقی ایسی لگتی تھی جیسے برتن کچن کے فرش پر پٹخے جا رہے ہوں۔ ڈاکٹر صاحب نے ایک کمال کی کتاب لکھی، The Man Who Mistook His Wife for A Hat۔ اس کا عربی میں بھی ترجمہ ہوا۔ الرجل الذی حسب زوجتہ قبعۃ۔ (قبعۃ عربی میں ٹوپی یا ہیٹ کو کہتے ہیں)

ڈاکٹر صاحب کے سامنے ایک کیس آیا جو اس کتاب کا عنوان بنا۔ ان کے سامنے موسیقی کے ایک پروفیسر لائے گئے جن کو ایک ایسی بیماری تھی جسے Visual Agnosia کہتے ہیں۔ پروفیسر جب گھر سے نکلتے تھے تو وہ اپنی بیگم کو اپنا ہیٹ سمجھ کر سر پر رکھنے کی کوشش کرتے۔

آپ کو ذہنی امراض کے مریضوں کے حوالے سے ایک نرم و نازک بات سمجھاتے ہیں۔ آپ کو یہ نکتہ سمجھ میں آ گیا تو آپ کا ان کے مظلومین کے بارے میں رویہ جھنجھلاہٹ اور تاسف سے نکل کر ہمدردی اور برتاؤ میں نرمی کا باعث بن جائے گا۔ فرض کریں اللہ نہ کرے کسی انسان کی ٹانگ یا ہات ضائع ہو جائے تو وہ فرد اس نقصان کا ادراک بھی کر سکتا ہے اور اس کا متبادل انتظام بھی۔ سوچیئے اس شخص کا آپ کیا کریں گے لیکن اگر وہ خود ہی ذہنی طور پر گم ہو جائے تو اسے اس گمشدگی کا کیسے علم ہوگا۔ ذہن کے کسی فنکشن کا معدوم یا غائب ہونا ایسا ہے۔

اس گریز (Detour) کی معافی۔ یہی رس بھری کا اصل مسئلہ ہے۔ شانو میڈیم کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ وہ کب ایک معزز استانی کا چولا اتار کر مزے سے اپنے گھر کے محفوظ گوشے میں مردوں سے جسمانی اختلاط کی شوقین رس بھری بن جاتی ہیں۔ اس تبدیلی سے فیض یاب مردوں کے حوالے سے جو چرچے ہوتے ہیں، اسی سے ساری غلط فہمی جنم لیتی ہے۔

ہوتا یوں ہے کہ میرٹھ کے ایک کو ایجوکیشن اسکول کا طالب علم نند انگریزی کی اپنی استانی پر مر مٹتا ہے۔ شانو میڈیم کے بطور رس بھری جب جنسی تعلق کی خاطر دستیابی کے چرچے ہونے لگتے ہیں تو وہ بھی بطور ایک مضبوط امیدوار اپنی کارروائیاں ڈالنے میں مصروف ہوجاتا ہے۔ یہ کوئی ایسا انہونا تعلق نہیں۔

امریکہ میں Herman ”Hermie“ Raucher کی یاد داشتوں پر مبنی ایک کتاب پر سن 1971 میں ایک نام کی فلم بنی تھی Summer of ’42۔ جس میں جینیفر اونیل ہیروئن تھی۔ یہ ایک ایسے فوجی کی بیوی کی داستان تھی جو دوسری جنگ عظیم میں اپنی جواں سال بیوی کو پیچھے چھوڑ گیا ہوتا ہے۔ وہاں ایک جواں سال لڑکا بھی اپنی موسم گرما کی تعطیلات گزارنے آیا ہوتا ہے۔ ان دونوں کے روابط ایک جنسی تعلق میں اس وقت ڈھل جاتے ہیں جب سپاہی کی موت کی خبر آتی ہے اور اس کی دل جوئی کے لیے یہ نوجوان اس کا واحد سہارا بن جاتا ہے۔

اسی طرح سن 1955 میں اردو کے نامور ادبی رسالے نقوش کے شمارہ نمبر 53۔ 54 میں ایک نسبتاً گمنام مگر بہت کمال کے افسانہ نگار آغا بابر کا ایک افسانہ۔ ”باجی ولایت“ چھپا تھا۔ کیا چست و چالاک افسانہ ہے۔ وہ بھی بلوغت کی ان ہی ریشہ دوانیوں پر مبنی ہے جسے انگریزی میں Coming of Age کہتے ہیں۔

آئیں رس بھری کے بارے میں مزید گفتگو کریں۔

میرٹھ کی اس آبادی کی سب عورتوں کے جن کے بچے شانو میڈم کے اسکول میں پڑھتے ہیں۔ ان کے دل میں یہ خوف بیٹھ جاتا ہے کہ اگلی باری ہمارا میاں اس کا بستر آباد کرنے پہنچ جائے گا۔ اس فتنے کے سبب اور میاں کی لوٹی ہوئی دولت کو واپس لانے کے چکر میں ان کی زندگی کا وہی مقصد بن جاتا ہے جو ہمارے وزیر اعظم کا ہے کہ ان کی ماؤں کے سہاگ کی دولت لوٹنے والی حسین چڑیل شانو میڈم کو پکڑنا ہے اور اسے آنسو سے رلانا ہے۔ سو یہ لوئر مڈل کلاس کی بیگمات کسی نہ کسی مرد اور رس بھری یعنی شانو میڈم کو رنگے ہات پکڑنے کے چکر میں ہر وقت شہزاد اکبر بنی رہتی ہیں۔ نت نئے حربے اپناتی ہیں اور سرکار کی طرح دھول چاٹتی رہتی ہیں۔

سوارا بھاسکر ذہنی طور پر بہت بلند پایہ اور اپنے احساسات کے اظہار اور شاہین باغ تنازعے میں بہت باہمت خاتون مانی جاتی ہیں۔ کرونا سے قبل دہلی میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں جو مودی مخالف مظاہرے ہوئے تھے ان میں نہ صرف کھل کر شرکت کی تھی بلکہ ہجوم ہلاکت (Mob۔ Lynching) کے بارے میں بھی ان کے اظہار خیال کی بے باکی کو ناپسند کیا گیا تھا۔ اسی وجہ سے شاید سرکار اور اس کے حامی کارپوریشنز کے پالے ہوئے مین اسٹریم میڈیا نے اس سیریز کو کچھ اچھا نہیں جانا مانا۔ اس کی مقبولیت کو تنازعات سے کچلنے کی کوشش کی۔ اسی سیاسی کشمکش میں سنسر بورڈ کے چیئرمین پرسون جوشی بھی کھل کر بولے ان کو اس ویب سیریز سے یہ شکایت رہی کہ اس میں بچوں کی جنسی بیداری کو خاصے غیر ذمہ دارانہ انداز میں تمسخر اور مزاح کے پتلے لبادے میں اچھالا گیا ہے۔ انہیں ایک بچی کے رقص پر بھی بہت اعتراض تھا۔ پرسون جوشی کا یہ اعتراض درست نہیں۔ سلم ڈاگ ملئینر میں بھی رنگ رنگ رنگا پر بچی ہی ناچی تھی کوئی مایا دیوی یا ممتا بینرجی نہیں۔ نوجوان لڑکے لڑکیاں ایسے ہی ہوتے ہیں سچ پوچھیں تو سیریز اچھی ہے۔

سوارا بھاسکر کا اپنی اس فلم کے بارے میں اصرار ہے کہ یہ ایک گھٹن زدہ معاشرے کی منافقت اور پدری معاشرے سے جڑی سوسائٹی میں عورت کی جنسی زندگی کو ایک بنیادی خوف کی علامت بنا کر پیش کرنا اس فلم کی تہہ میں مچلتے ہوئے اصل جذبات ہیں جن کو سمجھ کر ان رویوں کو درست کرنا لازم ہے۔ وہ یہ بھی مانتی ہیں کہ بلوغت کے مسائل میں تنہا بھٹکنے والے نوجوانوں کے جذبات کو پہلی دفعہ منظر عام پر لایا گیا۔

بھارت کے مین اسٹریم سینما اور فلم کو پسند کرنے والے جو مہنگی موسیقی۔ ناچتی گاتی منیش ملہوترا کے ملبوسات میں لپٹی کثیر معاوضے والی ہیروئن پرتگال رومانیہ فرانس اور سوئزرلینڈ کے مناظر کے چکر میں الجھے رہتے ہیں اس کو ایک طرف پٹخ کر رس بھری ایک ایسی دل چسپ سیریز ہے جو میرٹھ کے قصبے میں شروع ہو کر وہیں ختم ہو گئی ہے۔ بجٹ کی مجبوریاں دیکھیں تو سوارا بھاسکر بے چاری کا تو میک اپ بھی اس کے بھائی برج بھاسکر نے کیا ہے۔ میں ہوں نا میں ”تمہیں جو میں نے دیکھا“ والے گانے میں شسمیتا نے جتنی چولی بلاؤز والی ننگی پونگی ساڑھیاں پہنی ہیں تو رس بھری بے چاری نے کل دو سستی ساڑھیوں اور نوتن مینا کماری جیسے میک اپ میں اپنی سلگتی جوانی سے کئی مرد بھگتا دیے

فلم کے ڈائیلاگ بھی شن تانو شری واستو جی کے ہیں اور اس میں نوجوانی کے بے پروائی، بے ہودگی اور بے باکی کے مزے ایسے ہیں کہ جو آپ اپنی شریف جوانی کو کھرچ، کرید کر تلاش کر سکتے ہیں۔ اس کے وہ مکالمے بہت پرلطف ہیں جو نند (ایوشمان سکسینہ) اس کے دوست بھلے (اکشے بچو) اور وپل (اکشے سوری ) کے درمیان ہو رہے ہوتے ہیں۔ اس بیچ میں جب پراینکا (رشمی اگڈے کر) بھی کلام و طعام کے اس اہتمام میں کودتی ہے تو سائبر کیفے ڈیٹ سے اسکول بوائز کی بیئر گھٹکانے کے لیے پانی کی اونچی ٹنکی کے من پسند ہائیڈ آؤٹس کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہاں واستو جی نے جوانی کے تقاضے اور جذبات کی بہت بہترین جانکاری دکھائی ہے

بھارت میں جو ہر سال ہزاروں فلمیں بنتی ہیں اس کے حساب سے ایمزون پرائیم جیسے ادارے نے اسے بلاوجہ نہیں چلایا۔ اس میں دل چسپی کا عنصر آخر تک قائم رہا۔ مسئلہ صرف اتنا ہے کہ سوارا بھاسکر چوں کہ سرکار کے بائیں جانب ہے اور اس کی بے باکی کی قیمت اس فلم سے طرح طرح سے وصول کرنے کی کوشش کی گئی ہے

فلم کا ٹائیٹل سانگ بہت کمال کا ہے اس کی شاعری، موسیقی اور سنیماٹوگرافی یعنی ایک خیال کو فلم کے جامے میں بطور فوٹوگرافی اور بصری انداز میں سمیٹنا ہی اس فلم کی خوبصورتی ہے۔ اس پر گلوکار وی ویک ہرن کی آواز میں ایک عجب شرارتی بہاؤ ہے جو اس گیت کا ہاتھ پکڑ کر گویا ایک والٹز ڈانس کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ ہم نے اس سیریز کو بہت انجوائے کیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اقبال دیوان

محمد اقبال دیوان نے جوناگڑھ سے آنے والے ایک میمن گھرانے میں آنکھ کھولی۔ نام کی سخن سازی اور کار سرکار سے وابستگی کا دوگونہ بھرم رکھنے کے لیے محمد اقبال نے شہر کے سنگ و خشت سے تعلق جوڑا۔ کچھ طبیعتیں سرکاری منصب کے بوجھ سے گراں بار ہو جاتی ہیں۔ اقبال دیوان نےاس تہمت کا جشن منایا کہ ساری ملازمت رقص بسمل میں گزاری۔ اس سیاحی میں جو کنکر موتی ہاتھ آئے، انہیں چار کتابوں میں سمو دیا۔ افسانوں کا ایک مجموعہ زیر طبع ہے۔ زندگی کو گلے لگا کر جئیے اور رنگ و بو پہ ایک نگہ، جو بظاہر نگاہ سے کم ہے، رکھی۔ تحریر انگریزی اور اردو ادب کا ایک سموچا ہوا لطف دیتی ہے۔ نثر میں رچی ہوئی شوخی کی لٹک ایسی کارگر ہے کہ پڑھنے والا کشاں کشاں محمد اقبال دیوان کی دنیا میں کھنچا چلا جاتا ہے۔

iqbal-diwan has 59 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan