طارق فارانی: بانسری آپ کے ہجر میں روئے گی


عمل: عرفان اللہ بابر

وہ اپنے ارد گرد بدذوقی کو قبول کرنے میں مزاحمت کا اظہار کرنے والوں میں سے تھے۔ موسیقی سے بے پناہ رشتہ نے ان کے مزاج کو نہایت لطیف بنا دیا تھا۔ اس لطافت کو انھوں نے مصلح اور واعظ نہیں بننے دیا۔ وہ مختصر طور پر اپنی ناگواری کا اظہار کر کے خاموش ہو جاتے اور دوبارہ کبھی نہ کہتے۔ یہی وجہ ہے کہ نذیر احمد میوزک سوسائٹی سے وابستہ طلبہ ہمیشہ کالج کے میرون رنگ کے کوٹ میں نظر آتے جو انٹر میڈیٹ جماعت کے طلبہ کی وردی کا حصہ بھی اور کالج کی شناخت کا حوالہ بھی۔

اہم موقعوں پر وہ خود بھی کالج کی وردی پہن کر آتے اور میرون رنگ کے کوٹ میں بہت جچتے۔ ان کے والد سلمان فارانی پاکستان بننے سے قبل گورنمنٹ کالج کے طالب علم رہے تھے۔ پاکستان بن جانے کے بعد پطرس بخاری انھیں گورنمنٹ کالج میں لے آئے اور سوندھی ٹرانسلیشن سوسائٹی کا نگران مقرر کیا۔ ان کے والد کی یہ میراث بڑی میراث تھی۔ جس کے والد نے قیام پاکستان کے ابتدائی برسوں میں پطرس بخاری، صوفی تبسم اور نیاز مندان لاہور کے ساتھ کام کر رکھا ہو، اس اجتماعیت کا گہرا اثر طارق فارانی صاحب کی شخصیت میں موجود تھا۔ یہاں بھی بناوٹ یا دکھلاوے کا شائبہ نہ ہوتا۔ وہ دل سے یہ سب کرتے تھے، انھوں نے لوگوں کی باتوں سے خود کو اٹھا لیا تھا، اس لیے جو بھی کرتے وہ اپنے باطن کے مطالبہ پر کرتے اور خاص وضع کی بے نیازی کے سبب ممتاز دکھائی دیتے۔

فارانی صاحب شناخت کے بنیادی اصولوں پر کاربند رہنے میں خوشی محسوس کرتے تھے۔ چاہے یہ شناخت ظاہری ہو، باطنی ہو، فکری ہو یا فن سے وابستہ ہو۔ مغربی موسیقی اور اس کی رموز کی اندھی تقلید سے وہ قدرے بیزاری کا اظہار کرتے تھے۔ وہ مغربی موسیقی کی سمت جانے والے کو صرف اس صورت میں گوارا کر لیتے تھے اگر اس نے مشرقی موسیقی میں بھی رائج راگ اور راگنیوں سے واقفیت حاصل کر رکھی ہو۔ آپ اکثر کہا کرتے تھے کہ اپنی بنیاد درست ہو تو دیوار سیدھی اٹھے گی۔

اپنی موسیقی سے نا بلد ہو کر باہر کی موسیقی میں بھی نام پیدا نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اپنی شے کی قد ر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ موسیقی کے لیے مخصوص نشستوں پر داخلہ حاصل کرنے کے لیے طلبہ ایک بہت بڑی تعداد ٹرائل دینے ہر سال آتی ہے۔ چند سال راقم بھی داخلہ کمیٹی کا ممبر رہا۔ فارانی صاحب اہم ترین ممبر کیا بلکہ سب کچھ وہی تھے۔ باری باری طلبہ آتے، سامنے والی کرسی پر بیٹھتے۔ کوئی گا رہا ہے، کوئی گٹار بجا کر دکھا رہا ہے، کوئی ایک آدھ بانسری پکڑے چلا آ رہا ہے۔

کوئی اکا دکا طبلہ لیے چلا آ رہا ہے۔ نوے فی صد امیدوار گٹار پر جب کوئی مغربی دھن بجا کر انھیں متاثر کرنے کی کوشش کرتے تو آپ انھیں ٹوک دیتے اور کہتے کوئی اور چیز سناؤ، جب پھر سے امیدوار مغربی دھن پر مصر ہوتا تو اس کے بارے میں کچھ سوال کرنے کے بعد کہتے کہ ادھر اپنی موسیقی کی کوئی چیز بھی سناؤ۔ زیادہ تر امیدوار نہ سنا سکتے تو قدرے اکھڑ جاتے کہ پیدا تم ادھر ہوئے، جوان یہاں ہو رہے ہو اور یہاں کی دھنیں تمھیں نہیں آتیں۔

قبول عام بھی عجب رمز ہے۔ موسیقی میں قبول عام حاصل کرنے والے ان گلو کاروں کے بارے میں ان کے تحفظات رہتے تھے کہ جو موسیقی میں اچھی دستگاہ نہ رکھتے ہوں۔ موسیقی میں شور شرابے کی بنا پر شہرت حاصل کرنے کی قبولیت پر وہ موسیقی سے وابستہ لوگوں کو مورد الزام ٹھہراتے تھے کہ ان لوگوں نے اپنی موسیقی کو رواج نہیں دیا۔ کچھ گھرانوں کے نام لے لے افسوس کا اظہار کرتے کہ ان اہم تر گھرانوں کی نئی نسل نے بینڈز بنا لیے۔

روایت کی طاقت کو استعمال نہ کرنے والوں پر وہ بہت ملول ہوتے۔ ایک نامور گھرانے کے فرزند کے بارے میں جب انھیں معلوم ہوا کہ وہ بھارت جا کر کسی شہرہ عام کے درجے پر فائز گلو گار کے قدموں میں جا کر بیٹھا ہے تو کئی ہفتے اس پر افسوس کرتے رہے کہ اسے معلوم ہونا چاہیے تھا کہ وہ کس گھرانے سے ہے اور جا کر کس کے قدموں میں بیٹھا ہے۔

گورنمنٹ کالج میں، صوبائی او ر قومی سطح پر فارانی صاحب نے مشرقی موسیقی کی قبولیت، فروغ اور ارتقا کے لیے سخت محنت کی۔ وہ اپنے موقف پر قائم رہے اور مغربی موسیقی کی اندھا دھند تقلید کے زمانے میں مشرقی موسیقی کے حسن کو دوسروں کی روحوں تک پہنچانے کے لیے تگ و دو کرتے رہے۔ ہمارے یہاں ہاسٹلز میں، مختلف شعبوں میں، مختلف تہواروں پر تقریبات میں طلبہ کی ایک بڑی تعداد اس حق میں ہوتی تھی کہ بس ایک ساؤنڈ سسٹم لا رکھیں اور وہ اس کے مطابق از خود موسیقی لگا کر لطف اندوز ہو لیں گے۔

فارانی صاحب اسی شرط پر اپنے طلبہ و طالبات کو لاتے کہ ساؤنڈ سسٹم پر از خود موسیقی کا کوئی پروگرام نہیں ہوگا۔ آپ میر، غالب، اقبال، فیض، ناصر کا کلام طلبہ و طالبات سے تیار کرواتے۔ صوفی شعرا ء کی کافیاں تیار کرواتے۔ میاں محمد بخش کی سیف الملوک، شاہ حسین کا چرخہ، وارث شاہ کی ہیر، خواجہ فرید کا ہمہ اوست، سوہنی مہینوال، مرزا صاحباں کا قصہ بڑی محنت سے تیار کرواتے اور سٹیج پر طلبہ گا کر پیش کرتے۔ خود سے آگے ہو کر غزل نائٹ، کافی نائٹ کا اہتمام کرتے۔

اس تمام کاوشوں کے پیچھے ان کا موقف خورشید رضوی جیسا تھا کہ ہم جس چیز کو فروغ دینے کی کوشش کریں گے، وہ فروغ پا جائے گی۔ مشرقی اور علاقائی موسیقی کے فروغ کے لیے وہ اپنی جاں سے گزر کر کاوش کرتے رہے کہ نئی نسل کی سماعتیں اپنی روایت کی طاقت سے آشنا ہوں۔ یہ بہت بڑی ذمہ داری کا کام تھا جو انھوں نے جون جولائی کی تپتی دوپہروں میں بھی کیا اور جنوری کی خون جما دینے والی سرد ہواؤں میں بھی وہ اوول گراؤنڈ کی صبحوں میں مصروف عمل رہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5