طارق فارانی: بانسری آپ کے ہجر میں روئے گی


طارق صاحب کا کمرہ – عکاسی یاسر عثمان

بیٹھنے کے لیے دوسری کرسی نہیں تھی۔ کہنے لگے اگر کچھ دیر بیٹھنا ہے تو کہیں سے کرسی لے آؤ۔ کچھ فاصلے پر چند کرسیاں رکھی تھیں۔ میں لے آیا اور مناسب فاصلے پر بیٹھ گیا۔ فارانی صاحب نے مسکراتے ہوئے ”احتیاط کرنا اچھی بات ہے لیکن ہاتھ تو ملایا جا سکتا ہے“ میں نے ان کا ہاتھ تھام لیا۔ وہی خامشی، وہی بے نیازی لیکن اندر ایک گہرا رشتہ اور ربط۔ میں نے انھیں چھیڑا کہ بیٹھنے کے لیے یہ کیا جگہ منتخب کی ہے۔ فرمانے لگے ”لوکاں نوں پتہ ای نہیں کہ کس تھاں بیٹھنا چاہیدا کہ کس تھاں تے نہیں“ سامنے پیپل کا درخت تھا کہ ہوا چلنے پر پتوں کی موسیقیت ہمارے کانوں میں رس گھول رہی تھی۔

یہ آنے جانے والوں کا رستہ تھا۔ کوئی موٹر سائیکل پر سوار گزر رہا ہے، کوئی گاڑی پر، کوئی پیدل تو کوئی سائیکل پر۔ فارانی صاحب اس کورنٹین میں لوگوں کو دیکھنا چاہتے تھے۔ بدلتے موسموں کی سیر میں جی کو لگانا چاہتے تھے۔ شاید انھیں احساس ہو چکا تھا کہ اس وبا کے مکمل ختم ہونے کا زمانہ وہ شاید نہ دیکھ سکیں، گورنمنٹ کالج کو لوگوں سے بھرا پرا شاید نہ دیکھ سکیں تو اس کورنٹین میں گھر سے چلے آتے تھے اور پیپل کے درخت کے پاس ایک مانوس سے شجر تلے کرسی بچھا کر اکیلے پہروں بیٹھے رہتے۔

آنے جانے والوں خاموشی سے کو دیکھتے رہتے۔ کوئی پرانا شناسا سر راہ مل جاتا تو ان کے پاس آ کر بیٹھ جاتا۔ وہ ان سے بات کر کے اپنی تنہائی قدرے کم کر لیتے ہوں گے۔ ان دنوں میں جناب صدیق اعوان (جو گورنمنٹ کالج سے عشق کی رمز سے آشنا ہیں) اور متین صاحب کبھی کبھی پاس بیٹھے نظر آ جاتے جبکہ نذیر احمد میوزک سوسائٹی کے طلبہ کبوتروں کے جھرمٹ کی طرح اطراف میں دکھائی دے جاتے۔ لوگ گزرتے رہتے، ان کا حال دریافت کرتے۔ لوگ گزرتے رہتے، فارانی صاحب بیٹھے رہتے اور شام کے قریب گھر لوٹ جاتے۔

انھوں نے اپنی بانسری کو الوداع کہا اور رخصت ہوئے۔ ان کے گھر کے باہر ہم سب لوگ جمع تھے۔ طلبہ کی ایک بڑی تعداد بیس بیس، تیس تیس کی ٹولیوں کی خاموش کھڑی تھی۔ زیادہ تر طلبہ نذیر احمد میوزک سوسائٹی سے وابستہ تھے یا وابستہ رہ چکے تھے۔ ان بچوں کی اس طرح ٹولیوں کو دیکھ کر خیال گزرا کہ جھیل اگر خشک ہو بھی جائے تو پرندے اس کے اوپر منڈلاتے رہتے ہیں۔ فارانی صاحب نے موسیقی سے وابستہ گھرانوں اور بچوں کی تقدیر ہی بدل دی تھی۔

فدا صاحب جو خود بہت عمدہ گلو گار ہیں اور جن کا گایا ہوا یہ گیت ’سئیوں نی اساں، نیناں دے آکھے لگے‘ بہت معروف ہوا، وہ ایک بار کالج آئے۔ ان سے ملاقات ہوئی تو کہنے لگے کہ ہم یہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ہمارے بچے تعلیم یافتہ ہو جائیں گے۔ بی اے، ایم اے کی ڈگریاں لیں گے اور کہیں مناسب اور معقول ملازمتوں پر چلے جائیں گے، بیرون ملک انھیں داخلہ ملے گا، موسیقی سے وابستہ اچھی ملازمتیں ملیں گی وغیرہ وغیرہ۔ یہ سماجی خدمت کا ایک روپ تھا جو فدا صاحب کی زبانی میرے سامنے آیا کہ معاملہ محض موسیقی کی تعلیم تک محدود نہ تھا۔ فارانی صاحب اپنے طلبہ و طالبات کے لیے باپ سے بڑھ کر تھے۔ گھر کے اندر ان کی میت رکھی تھی اور باہر یہ طلبہ غم سے ایسے نڈھال کھڑے تھے کہ جیسے ان کا والد گزر گیا ہو۔

فارانی صاحب کے بیٹے کی زبانی معلوم ہوا کہ انھوں نے یہ وصیت کی تھی کہ انھیں ملتان میں اپنے دادا اور والد کے پہلو میں دفن کیا جائے۔ تب میرے حافظے میں ایک منظر روشن ہوا کہ کبھی کبھی وہ ملتانی کنالی جوتی پہن کر کالج آتے تھے۔ ان کے اہل خانہ مصر رہے کہ آپ یہ وصیت بدلیں کہ ہم سب یہاں لاہور میں ہیں۔ آتے جاتے رہیں گے۔ فارانی صاحب نہیں مانے۔ انھوں نے اپنے اٹھ کھڑے ہونے کے دن میں اپنے اجداد کے ساتھ اٹھنا پسند کیا۔ میں ایک بار پھر یہ سوال کرتا ہوں کہ کیا آپ نے کبھی کوئی ایسا شخص دیکھا کہ جس کو دیکھ کر یہ احساس ہو کہ زندگی اپنے تمام تر پس منظر کے ساتھ قدم اٹھا رہی ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5