اسرائیل نا منظور: دوسرا پہلو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مذہب، کالا باغ ڈیم اور اب اسرائیل کو تسلیم یا عدم تسلیم ایسے تمام اہم قومی معاملات کو کیا چوکوں چوراہوں اور ایک ایسی قوم کے رحم و کرم پر چھوڑا جا سکتا ہے جو اپنے ذاتی قومی اور ملکی ذرائع آمدن اور وسائل سے یکسر بے خبر، مگر نور نظر لخت جگر دھڑا دھڑ پیدا کر رہی ہے؟ ظاہر ہے ایسا ممکن و مناسب نہیں اور اس کا بڑا اور بنیادی سبب ہماری ناخواندگی اور ایک ایسا توکل (توکل؟) ہے جس کا مظاہرہ ہم اونٹ کا گھٹنا باندھے بغیر کرتے ہیں۔

پہلے ہم ذاتی اور سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے اللہ کے پسندیدہ دین (اسلام) کو گلی کوچوں اور بازاروں میں لائے اور اس کی پر حکمت اور بصیرت افروز تعلیم کو اور اس کی پاکیزہ روح کو اس حد تک تماشا بنایا بلکہ تاراج کیا کہ سماج بجائے نکھرنے کے بکھرنے لگا اور اب ہوتے ہوتے ہر نوع کی برائی اور بیماری اس میں سرایت کر گئی ہے، کیونکہ وہ ایسے نا پسندیدہ مقامات کا موضوع ہی نہیں تھا۔ آج آپ کچھ بھی اور اپنے تئیں جتنا مرضی منفی سوچ لیں، وہ سب رطب و یابس اس ارض پاک میں عمل کے سانچے میں ڈھلا ملے گا۔

بلکہ تکلف برطرف، یہاں تو وہ مال بھی ملے گا جو عام طور پر انسان کی سوچ اور اس کے وہم و گمان میں بھی راہ نہیں پاتا اور خود یہ راقم بھی بارہا ایسے مقامات حیرت سے گزرا ہے حالانکہ ایک مدت سے لوح و قلم اور غور و فکر سے بھلے دور کی ہی سہی، ایک نسبت ضرور قائم چلی آ رہی ہے۔ اس کے باوجود بھی ایسے ایسے واقعات پڑھنے سننے کو ملے کہ دماغ چکرا گیا اور لا محالہ سوچنے لگا کہ یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے؟ ایسے بھی ہوتا ہے؟

آج بھی جب سوچ و عمل کے ایسے انوکھے انوکھے ٹھکانوں کی خبر ملتی ہے تو بے ساختہ منہ سے نکلتا ہے ایسی۔ ”چنگاری“ بھی یارب، اپنی خاکستر میں تھی؟ حسن نثار کا نوحہ تو یہ ہے کہ اس ملک وقوم کا مسئلہ اقتصادیات نہیں، اخلاقیات ہے۔ یہ اپنی جگہ درست، مگر اس پتلا خاک کا یہ خیال ہے کہ ہمارا اصل مسئلہ وہ دہاڑی دار جعلی دانشور ہیں، جن کی دانش کا ”پھل“ آج یہ ساری آفت زدہ قوم کھا رہی ہے۔ اے روشنی طبع! تو برمن بلا شدی!

پاکستان تحریک انصاف کی ایم این اے کا ایک ٹی وی پروگرام میں یہ ہولناک انکشاف سن کر میں دم بخود رہ گیا۔ شاندانہ گلزار کے بقول اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ریپ (یا جنسی درندگی) کے کیسوں میں 82 بیاسی فیصد وہ لوگ ملوث پائے گئے جو War Again Rapists کی رپورٹ کے مطابق لڑکی کے والد ، چچا ، تایا ، دادا ، نانا ، ماموں ، پھوپھا اور بھائی تھے۔ انا للٰہ و انا الیہ راجعون۔

یادش بخیر، ایسا ہی کچھ سلوک ہم نے اپنے ایک اہم ملکی اور قومی منصوبے کالا باغ ڈیم کے ساتھ کیا۔ بنیادی نوعیت کے اس فوری اور ضروری مسئلے کو علاقائی سوچ رکھنے والے جذبات فروشوں کے ہاتھ میں دے کر انہیں اپنی دکانداری چمکانے کا موقع فراہم کر دیا، حالانکہ یہ ایک خالصتاً ٹیکنیکل مسئلہ تھا اور ہے۔ نتیجہ کیا نکلا؟ پاکستان کو روشن اور سیراب کرنے والا ڈیم منتازع ہو کر محض التوا کا ہی شکار نہیں ہوا، بظاہر ایجنڈے سے بھی نکل گیا۔ اور یہ قوم جسے پانی اور بجلی کی قلت کا سامنا ہے، اس کا پانی (نیلا سونا) مسلسل سمندر برد ہو رہا ہے۔ آہ! ”ہوئے تم دوست جس کے/ دشمن اس کا آسماں کیوں ہو“  اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے راہبروں کی راہبری سے بھی بچائے۔

اب اسرائیل کو تسلیم اور عدم تسلیم ایسے اہم مسئلے کو، ہم پھر سربازار لے آئے ہیں۔ وہی خود کو پابجولاں کرنے والی ہلکی پھلکی روایتی اور جذباتی باتیں۔ کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے۔ خدا کے بندو! حقیقت پسند بنو اور اپنی حیثیت اور قدر و قیمت کے مطابق سوچو اور چلو۔ یہ کوئی زیادہ پرانی اور جنگ و جدال کی بھی بات نہیں، جب ہم نے بھارت کے مقابلے میں صرف ایٹمی دھماکے ہی کیے تھے تو داخلی اور خارجی سطح پر پیش آنے والی مشکلات کی بدولت ہمارا سروائیول مشکل ہو گیا، وہ تو اللہ کا شکر کہ ہم نے تب تک جذبات میں آ کر اپنا کاسہ گدائی نہیں توڑا تھا اور یوں ہماری اور ہمارے ”عزت مآب“ بم کی عالمی برادری میں کچھ نہ کچھ ساکھ رہ گئی ورنہ ہم تو کسی کو اپنا بم دکھانے کے قابل تھے نہ منہ۔

اسرائیل ایک حقیقت ہے اور اس حقیقت سے آنکھیں چرانا خود کو اور قوم کو مسلسل دھوکے میں رکھنے والی بات ہے۔ ہمارے اسے تسلیم کرنے یا نہ کرنے کے باوجود بھی اس کے وجود اس کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑنے لگا۔ ماضی میں اسرائیل پر مصر شام وغیرہ کی مشترکہ یلغار بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکی۔ علاوہ ازیں یہودی اہل کتاب اور آل ابراہیم ہونے کے ناتے ہمارے دست دعا میں بھی شامل رہتے ہیں۔ اب جبکہ ہمارا تمام عیسائی ممالک (جن کے اپنے ہاتھ بھی مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں) کے ساتھ بھی تعلق ہے اور اپنے خطہ میں بھی ایک مشرک (بھارت) اور ایک ملحد (چین) ملک کے ساتھ بھی، بلکہ آخر الذکر کے ساتھ دوستی کے بارے میں تو ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ وہ ہمالیہ سے بلند ، سمندر سے گہری اور شہد سے بھی زیادہ میٹھی ہے۔

سو اس سارے تناظر میں اسرائیل کو شجرممنوعہ بنا کے رکھنے میں کیا حکمت اور مصلحت پوشیدہ ہے؟ یقینا، اسرائیل کا فلسطینی مسلمانوں پر جبر ناروا کل بھی قابل مذمت تھا اور آج بھی ہے اور ہم آئندہ بھی اپنی صدائے احتجاج بلند کرتے رہیں گے۔ لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ یہی مذمت تو ہم بھارت کی بھی کرتے ہیں جو کشمیری اور بھارتی مسلمانوں پر ایک مدت سے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتا چلا آ رہا ہے اور جس نے بڑی چالاکی سے تقسیم ہند کے وقت مسلمان اکثریت والی ریاستوں پر اپنا ناجائز قبضہ جما لیا تھا مگر یہ کیا طرفہ تماشا ہے کہ ایک ہمیں منظور تو دوسرا نا منظور ہے؟

اک معما ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا! درست، ہمارا وہاں قبلہ اول، بیت المقدس ہے مگر یہی شہر یرو شلم (Jerusalem) جس کا نصف 1949 سے اردن اور نصف اسرائیل کے زیر انتظام تھا مگر پھر 1967 کی جنگ میں بیت اللحم سمیت اسے اسرائیل نے مکمل طور پر اپنے قبضے میں لے لیا اور وہ تب سے اس کی عملداری میں ہے اور یہ مسلمانوں کی طرح یہودیوں اور عیسائیوں کے لئے بھی مقدس اور یکساں اہمیت کا حامل ہے۔ یہودیوں کے لئے یوں کہ یہاں حضرت داؤد علیہ السلام نے ایک ہزار سال قبل مسیح میں ایک معبد کی بنیاد رکھی تھی جو ان کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام کے عہد میں مکمل ہوا اور اس نسبت سے اسے ہیکل سلیمانی بھی کہا جاتا ہے، بنی اسرائیل کے نبیوں کا قبلہ ہونے کے ناتے یہودیوں کی یروشلم سے ایک جذباتی اور تاریخی وابستگی ہے۔

عیسائیوں کے لئے یوں کہ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جائے ولادت اور ان کا مرکز تبلیغ تھا۔ یہ خطہ قدیم زمانوں سے ہی منتشر یہودی قبائل کا وطن رہا ہے جسے پہلے کنعان اور پھر فلسطین کہا جانے لگا۔ موجودہ اسرائیلی ریاست یہودیوں کے اس قدیم خواب کی تعبیر ہے جس کا مقصد اپنے وطن کی بازیابی اور بنی اسرائیل کی عظمت رفتہ کی بحالی تھا، احیا تھا۔ اسرائیل اپنے اس پس منظر کے ساتھ اور مسلمانوں کی کوششوں کے برخلاف، معرض وجود میں آ گیا تو آج جب کہ وہ امریکہ اول یا امریکہ ثانی بن چکا ہے تو ہم اپنی کس تدبیر اور کس طاقت کے بل بوتے پر اسے ختم یا اس سے اپنی کوئی بات منوا سکتے ہیں؟

کہنے کو عالم اسلام لگ بھگ ساٹھ ممالک پر مشتمل ایک بڑا عالمی بلاک ہے مگر اس بلاک کی دنیا میں اقتصادی فوجی علمی الغرض کسی بھی حوالہ سے کیا حیثیت اور کیا مقام ہے؟ اسرائیل تو فلسطینیوں سے خریدے گئے اپنے علاقے میں بدستور قائم اور روز بروز مضبوط ہوتا چلا گیا، اس کا نہ تو 1948ء کی جنگ میں کچھ بگڑا نہ 1967ء کی اور نہ ہی 1973ء کی۔ آج وہ اپنے گزرے کل کی نسبت کہیں زیادہ اور ہر لحاظ سے مضبوط ہو چکا ہے۔ جبکہ اس دوران مسلمانوں کا ایک بڑا ملک پاکستان ٹوٹ گیا۔

ایک اور بڑے ملک انڈونیشیا سے مشرقی تیمور نکل گیا اور سوڈان سے جنوبی سوڈان۔ شام ، لیبیا ، یمن ، افغانستان اور عراق تباہ و برباد ہو گئے۔ ایران عالمی پابندیوں کی زد میں ہے۔ جبکہ دیگر اسلامی ممالک کا احوال بھی دیوار خستہ ایسا ہے۔ کہیں اقتصادی دیوالیہ پن تو کہیں خانہ جنگی ایسے حالات۔ الا ماشا اللہ۔ تیل کی دولت سے مالا مال عرب ممالک جو اسرائیل کے سر پرست اعلیٰ امریکہ کی گود میں بیٹھے ہیں، وہ محض اپنے اقتدار کے تحفظ کے لئے اسے تسلیم کرنے اور کروانے کی راہ پر گامزن ہیں اور کچھ کر بھی کر چکے ہیں۔

خود ترکی جو مسلمان ممالک کی قیادت کا خواب دیکھ رہا ہے اور کل تک فلسطین جس کی سلطنت (عثمانیہ) کا حصہ تھا، آج خطے میں اس کی اپنی پالیسی بھی ”یزید سے بھی مراسم، حسین کو بھی سلام“ والی ہے۔ اس نے اسرائیل کو بھی تسلیم کر رکھا ہے اور وہ فلسطینیوں کا بھی غم خوار ہے۔ پس چہ باید کرد؟ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان روح عصر سے ہم آہنگ ہر وہ فیصلہ کرے جو ملک و قوم کے مفاد میں ہے۔ اللہ اور یہودیوں کے درمیان کے جو معاملات ہیں، وہ اللہ جانے اور یہودی جانیں جن میں قرآن شریف کے مطابق اچھے لوگ بھی ہیں۔

ریاستی معاملات ایمان بالغیب کی طرح نہیں ہوتے جو آمنا و صدقنا کہنے سے حل ہو جاتے ہیں۔ انہیں سامنے موجود حقائق کی روشنی میں خیر کثیر یعنی حکمت کے ساتھ حل کیا جاتا ہے اور حکمت کے جملہ تقاضوں میں ایک یہ بھی ہے کہ ہم اپنے دشمنوں کی تعداد کم کریں اور ان (بھارت اسرائیل) کے باہمی گٹھ جوڑ میں دراڑ ڈال کر خود پر منڈلاتے خطرات کا تدارک بھی۔ ہمارے برادر اسلامی ممالک کشمیر اور اہل کشمیر بلکہ سبھی بھارتی مسلمانوں کے لئے آواز تو کیا بلند کرتے، الٹا وزیراعظم مودی کو (شاید اس کی اسلام دشمنی کی وجہ سے) اعزازات سے نواز رہے ہیں۔

اور یہ بھی کوئی زیادہ پرانی بات نہیں جب اسلام آباد میں مقیم فلسطینی سفیر  نے کشمیر کے حق میں بات کی تو عباس حکومت نے اس کے خلاف فوری ایکشن لیا، مبادا بھارت ناراض ہو جائے۔ گویا، مرے تھے جن کے لئے وہ رہے وضو کرتے! اسرائیل نامنظور ریلی والوں کو اتنا حوصلہ نہیں پڑا کہ وہ کشمیری مسلمانوں کے ساتھ برتی جانے والی اس سرد مہری اور بھارت نوازی پر بھی صدائے احتجاج بلند کرتے اور ان ممالک کی بھی نام لے کر مذمت کرتے جنہوں نے خود بھی اسرائیل کو تسلیم کیا اور جو دوسرے غریب اسلامی ممالک پر بھی اسے تسلیم کروانے کے لئے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

امر واقعہ یہ ہے کہ اپوزیشن کا اصل ہدف عمران حکومت ہے۔ جس کے خلاف وہ ایک تسلسل کے ساتھ یہودی اور قادیانی کارڈ استعمال کر رہی ہے۔ سو ہمارے فیصلہ سازوں کو ان کے ہاتھوں یرغمال نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ہم  نے ماضی میں ہی جینا ہے تو پھر اصولاً دور جدید کی سب سہولتوں سے بھی ہمیں دست بردار اور ہماری مساجد کو بھی صدیوں پرانی سادگی کا کامل نمونہ ہونا چاہیے۔ یقینا، پاکستانی مسلمانوں کا بھی یہ حق ہے کہ وہ سر زمین انبیا اور اپنے قبلہ اول کی زیارت کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
طارق بلوچ، جرمنی کی دیگر تحریریں