مذہب، سیکس اور عورت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بائبل کے مطابق
”اپنی بیوی کا ایسے خیال رکھو جیسے وہ مٹی کا برتن ہے ”
قرآن کے مطابق
” اے ایمان والے مردوں تم عورتوں پر اور ان کی جان و مال پر ان کی رضا کے بغیر قابض نہ ہو جاو“ سورۃ النسا آیت نمبر 19

بائبل نے بات بیوی پر رکھی، لیکن قرآن نے نقطے کو بہت زیادہ وسیع پیمانہ فراہم کر دیا، تمام عورتوں کی بات کی۔ اور ایمان والے مردوں کو پابند کیا، کہ عورتوں پر قابض نہیں ہونا۔ رب تعالیٰ کی لامحدود حکمتیں ہیں۔ ان حکمتوں کو ہر کس و ناکس نہیں سمجھ سکتا۔

چوری سے لے کر زنا تک قرآن ہر جرم کے لئے گواہ کا تقاضا کرتا ہے۔ جرم ہوا ہے تو گواہ لاو، اور کتاب کی حکمت یہ بھی اشارہ کرتی ہے کہ جرم ہوا کیوں، اس وجہ کا بھی سدباب کیا جائے۔

عورتوں کے بارے میں خاتم النبین حضرت محمد مصطفی ﷺ نے اپنے آخری خطبے حجتہ الوداع کے موقع پر فرمایا،
اپنی عورتوں کے ساتھ نیک برتاو کرنا کیونکہ وہ کمزور ہیں۔

لیکن ہمارے سماج میں جہاں اسلامی اقدار کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے۔ عورت کی صحت کے حوالے سے بات کرنا ہی مسئلہ بن جاتا ہے، حیض کے متعلق آگہی دو تو بے شرمی کا طعنہ۔ فیملی پلاننگ کے حوالے سے بات کرو تو سسرال اور روایات سامنے کھڑی ہو جاتی ہیں۔

تخلیق کے مرحلے سے گزرتی عورت کی صحت کے حوالے سے کوئی جامع قانونی اقدامات نہیں، ماں بننے کے عمل کو سرسری لیا جاتا ہے، اس دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کے لئے بس جیب بھری ہونی چاہیے ورنہ غیر ذمہ دار ڈاکٹرز کچھ بھی کر سکتے ہیں، گلی گلی میں موجود کلینک و اسپتال قتل گاہیں بن چکے ہیں، چند ماہ پہلے اخباری رپورٹ تھی کہ نجی اسپتالوں میں زبردستی سیزیرین کر دیا جاتا ہے تاکہ لمبی رقمیں اخراجات کی مد میں اینٹھی جا سکیں۔

خدارا ایک ڈاکٹر، ایک طبیبہ، ایک گائناکالوجسٹ ہونے کے ناتے اپنی ہی صنف پر ظلم نہ کیجیے۔

کیا ہمارے نزدیک انسانی جان کی حرمت اہم نہیں ہے، جس دین کا پرچار کیا جاتا ہے، کیا وہ یہی سکھاتا ہے۔ کیا ہمارے سماج کی قانون دان خواتین بھی اس قدر بے بس ہیں کہ وہ غیر قانونی طبیبوں و اتائیوں کے شفا خانے و زچہ خانے بند نہیں کروا سکتیں؟

تمام مذاہب سیکس کے حوالے سے ڈسپلن و قواعد وضوابط بتا چکے ہیں۔ اسلام نے اصولوں کو مزید موڈیفائیڈ کیا، لیکن انسان کی سب سے بڑی خواہش یہی حیوانی جذبہ رہا ہے اور اسی جذبے کے ہاتھوں انسان ذلیل ہوتا اور دوسرے کو بھی ذلیل ہونے پر مجبور کر دیتا ہے، اس کی ایک چھوٹی سی مثال سوشل میڈیا کے ان باکس اسکرین شارٹس ہیں، نہ کوئی کسی کو جذبے سے مغلوب ہو کر میسج کرے نہ ہی کوئی اسکرین شارٹ لگائے۔ خیر یہ تو بر سبیل تذکرہ بات ہے۔

جنگوں میں ہونے والے ریپ مرد کی درندگی اور حیوانی جذبے کی تسکین کی مثال ہیں۔

مرد نے اپنے لئے جنس میں بھی بہت سہولت بلکہ سہولیات اور دستیابی کی مختلف صورتیں پیدا کیں لیکن دنیا میں عورتوں نے جب بھی سیکس کے حوالے سے بات کرنی چاہی اس کو مختلف عنوان دیے گئے۔ سب سے پہلے تو مذہب کا پابند کیا گیا، پھر روایت کا پھر سماج کا پھر مامتا کا۔

حالانکہ سیکس عورت کی ثانوی ترجیح ہے۔ انٹرنیٹ کی بدولت مختلف ایپس پر ہزاروں عورتوں کے اکاؤنٹس پر جھانکنے سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت کا پہلا مسئلہ سیکس نہیں ہے۔ پھر عورت کا مسئلہ کیا ہے جو وہ احتجاج کرتی ہے اور احتجاج کرتے رہنا چاہتی ہے، مشاہدے اور تجربے کے مطابق سیکس عورت کا بھی مسئلہ ہے لیکن حیوانی جذبہ خود اس کے لئے بھی ایک پھندا ہے جیسا کہ مرد کے لئے، اس لئے وہ حیوانی جذبہ اپنی فطری جبلت کے باعث پوشیدہ رکھتی ہے، عورت حیوانی جذبے کو ڈسپلن میں لانا جانتی ہے۔ یہ بات مہذب اقوام سمجھ گئیں اور اسی لئے ان کے نفسیات دانوں، دانشوروں اور ادیبوں نے اپنے اظہاریئے کے ذریعے سمجھا دیا کہ عورت بھی انسان ہے اور اس کو بھی اپنے حیوانی جذبے کی تسکین کے لئے مواقع فراہم کرنے چاہئیں لیکن قرینے اور قانونی تحفظات کے ساتھ۔

پچھلے دنوں وقوع پذیر ہونے والے واقعے کے نتیجے میں انسانی جان کی حرمت کی اہمیت کے بجائے، بے حیائی، معاشرتی اقدار، سماجی روایات، دین کے تقاضوں اور عورت کی لغزشوں پر بات ہوتی رہی، کچھ گروپس میں تو باقاعدہ اجتماعی دعائیں کی گئیں کہ ہماری بیٹیاں ایسا نہ کریں۔ مرحومہ کے کردار پر ہرزہ سرائی کی گئی یہ سوچے بغیر کہ وہ ایک قابل رحم موت کا شکار ہوئی، اگر اس کی لغزش تھی تو اس کو سزا مل گئی، آئندہ ہمیں ایسی کوئی بری خبر سننے کو نہ ملے، اس کے لیے ہمارے پاس کیا حل ہے؟ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ جذبات موجود ہیں ، بیٹے بیٹیاں بھی موجود ہیں، ایک حل یہ پیش کیا جاتا ہے کہ نکاح آسان کر دو۔

چلئے اس کو مان لیتے ہیں لیکن ہم تو نکاح کے بعد بھی زچگی کی پیچیدگیوں اور ازدواجی تعلق کی آگاہی دینے کو تیار نہیں۔

ہم انسانی قدروں کو ماننے کے بجائے ان فرسودہ روایات کو مانتے رہنے پر تلے بیٹھے ہیں جو خون مانگتی ہیں، ہر مسئلے کا حل صرف جان لینا مانگتی ہیں۔

چند لمحات کی محبت و سرخوشی کا خراج بھی عورت کو دینا پڑتا ہے۔ چاہے بندھن قانونی ہو یا غیر قانونی۔

ہمارے سماج میں سیکس ایجوکیشن پر بات کرنا ہی ممنوع سمجھا جاتا ہے، کجا یہ کہ اس کے بارے میں آگاہی دینا۔ حالانکہ ہمیشہ سے گلی گلی میں موجود ڈھابے منی سینما گھر ہیں، جہاں نوجوان دوستوں کے ساتھ فحش فلموں سے ادھوری معلومات حاصل کرتے رہے ہیں اور اب انٹر نیٹ کی بدولت سیل فون پر بھی یہ خرافات بہ آسانی دیکھی جا سکتی ہیں جس کا نتیجہ جنسی جرائم اور دن بہ دن بڑھتے ریپ کے کیسز ہیں۔

لیکن ہم نے آگہی نہیں دینی۔ صیحح اور غلط کا فرق نہیں بتانا۔ ملک کے سب سے بڑے فلاحی ادارے نے ناجائز بچوں کے لئے جھولے لگا دیے، لیکن ہم کو عقل نہ آئی۔

ہم تعلیم و آگاہی کے نام پر بدکتے ہیں، انسانی جان کی حرمت کے پیش نظر اپنی وال پر پوسٹ لگا دی، کہ بچوں کو ”سیف سیکس“ سکھایئے تو طوفان اٹھ کھڑا، حالانکہ سیف سیکس کا پہلا بنیادی اصول یہی ہے کہ ”جنسی فعالیت ایک ساتھی تک محدود رکھی جائے اور اس ساتھی کی رضا کے بغیر جنسی تعلق قائم بھی نہ کیا جائے“

ذرا غور کیجیے، ساتھی کے ساتھ عزت و احترام اور وفا کا تصور کس خوبی سے بیان کیا ہے۔ ہمارے یہاں زیادہ تر شادی شدہ افراد ناجائز تعلقات رکھتے ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی باتیں مٹھارنے کے لئے کوئی ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں اور پھر بات کرتے ہیں پارسائی و اسلامی سماج کی۔

ہمارے لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید غیر مسلموں کی تعلیم اور اس کے اصول بارے پڑھنے سے ان کے اور ان کے بچوں کے عقائد خراب ہو جائیں گے، یہ انتہائی مضحکہ خیز تصور ہے، خیال رکھا کیجیے، مشرکین بھی اللہ کے بندے ہیں اور ان کی الہامی کتب میں انسانی حقوق اور انسانی جان کی وہی حرمت بیان کی گئی ہے جو ہماری کتاب میں درج ہے۔ اور وہ اپنی الہامی کتب پر عمل کرتے ہیں۔ لہٰذا صحت کے حوالے سے وہ انسانی جان کی حفاظت ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اصول و ضوابط و قوانین بناتے ہیں، سماجی آگہی دیتے ہیں، خاص طور پر عورت کی صحت کے حوالے سے۔

سیکس ایجوکیشن میں سب سے بنیادی بات ہی جنسی جرائم سے بچاؤ ہوتی ہے۔ اس لیے گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ سکھانے کے ساتھ ساتھ اگلے مرحلے میں شادی یا دوستی کی صورت میں بھی انہیں معلوم ہوتا ہے کہ اپنی جنسی و تولیدی صحت کا خیال کیسے رکھنا ہے۔ یہ معلومات کم از کم جان کو خطرے میں ڈالنے سے بہتر ہے۔

ان مسائل سے نمٹنے کے لیے ہمیں جذباتی انداز میں سوچنے کے بجائے منطقی انداز فکر اپنانا ہو گا کہ اسی میں آنے والی نسلوں کی بقا ہے۔ 

(گوگل پر سیف سیکس کے متعلق مضامین پڑھے جا سکتے ہیں)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •