انتظار حسین: کچھ یادیں کچھ باتیں (پانچویں برسی پر خصوصی تحریر)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انتظار حسین کا نام جب بھی سامنے آتا ہے ایک بہت بڑی پینٹنگ گویا آنکھوں کے سامنے سج جاتی ہے۔ اس پینٹنگ میں سمندر ہے، سمندر بھی اور اس کا وہ کنارہ بھی جس پر ہم ہیں۔ صبح کا منظر ہے۔ چمکتی لہراتی پانی کی سطح کے اندر سامنے کے درختوں کا جھنڈ جھانک کر جھول رہا ہے۔ بیچ لگژری ہوٹل والوں نے اردو کانفرنس کے مندوبین کے ناشتے کا بندوبست سمندر کے اندر تیرتے اس تختے پر کیا ہے جس پر ہم موجود ہیں۔ پینٹگ کا منظر یوں لہراتا ہے جیسے سامنے کے درخت پانی کے اندر جھولے تھے اور نظارہ بدل جاتا ہے۔

اب ہم بھی اس منظر میں ہیں ایک میز کے اردگرد بیٹھے انتظار حسین، شمیم حنفی، کشور ناہید، اصغر ندیم سید اور میں۔ انتظار حسین بار بار اوپر دیکھتے ہیں۔ وہ ناشتہ کم کر رہے ہیں اور بریڈ ٹکڑے ٹکڑے کر کے چورہ بنانے میں زیادہ مگن ہیں۔ پھر اچانک اٹھتے ہیں اور تختے کے کنارے پہنچ کر پرندوں کے اس جھنڈ کو دیکھتے ہیں جو سمندر کے پانیوں کے اوپر فضا میں تیر رہا ہے۔ وہ اپنی مٹھی میں بند چورہ سمندر میں اچھال دیتے ہیں۔ پرندے پلک جھپکنے کے وقفے میں فضا میں ٹھہر سے جاتے ہیں اور پھر بھرا مار کر اپنے اپنے حصے کا رزق پانے کے لیے بڑی سرعت سے نیچے جھپٹتے ہیں۔ میں انتظار حسین کو ایک بچے کی طرح خوش ہوتے دیکھتا ہوں تو میرا اندر بھی مسرت سے بھر جاتا ہے۔

پرندوں سے، درختوں سے، پھولوں سے بچوں اور تمام مخلوقات سے محبت کرنے والے انتظار حسین کے ساتھ ملاقاتوں، باتوں اور مباحث کا ایک سلسلہ ہے جو ان کے ساتھ رہا۔ یہ ملاقاتیں کبھی لاہور میں ہوئیں، کبھی کراچی یا اسلام آباد میں مگر ان سے میری اولیں ملاقات تو ان کی تحریروں میں ہوئی تھی۔ میں ان کے افسانوں کے دروازے سے ان کی طرف بڑھا تھا۔ پھر ان باتوں کی طرف دھیان گیا جو وہ سمعی کہانی کی محبت میں کیا کرتے تھے تو بحث کی صورتیں نکل آتیں۔ یہ مباحث کبھی مختلف ادبی جلسوں کے اسٹیج پر ہوتے اور کبھی ہوٹل کے ان کمروں میں جہاں وہ ٹھہرتے تھے اور ہم انہیں جا لیتے تھے۔ ان میں حوصلہ تھا، کمال کا حوصلہ کہ ہماری بات سنتے اور پھر سجا سنورا شگفتہ سا جملہ پھینک کر اپنا نقطہ نظر واضح کر دیتے یوں کہ ہمیں کچھ اور کہنے کی حاجت نہ رہتی تھی۔

1935 میں یوپی کے ضلع بلند شہر کے گاؤں ڈبائی میں پیدا ہونے والے انتظارحسین کو تقسیم کے بعد ہجرت کر کے ادھر اٹھ آنا پڑا تھا۔ جس عمر میں وہ ہجرت کے تجربے سے گزرے تھے اس عمر کا مشاہدہ اور تجربہ یوں لگتا ہے کہ بہت توانا اور گہرا تھا۔ اس عہد کی یادیں ان کے ہاں بعد ازاں تخلیقی صورت میں ڈھلتے ہوئے کچھ اور اجلی ہو گئی تھیں۔ تاہم انتظار حسین کا اپنے افسانوں اور ناولوں میں ماضی کی یاد سے وابستہ ہونا محض کہانی کہنے کے لیے مڑنا اور عقب سے بھاگتے ہوئے آ کر اگلی سمت جست لگانا نہیں تھا۔

وہ پیچھے مڑ کر زمانے کے کسی خاص وصف کو دیکھتے تھے، اس خاص وصف کو جو نئے زمانے میں کہیں نہیں تھا۔ جی، انتظار حسین کے مطابق پرانے والے زمانے میں چیزوں کے رشتے مضبوط تھے اور زندگی خانوں میں بٹی ہوئی نہیں تھی۔ اس زمانے میں پیٹ پالنے کا مشغلہ مشقت نہیں تھا اور تفریح کے اوقات کام کاج کے اوقات سے الگ نہیں تھے۔ وہاں کسی گھر میں املی یا نیم کا پیڑ تھا، کسی چھت پر کبوتروں کی چھتری تھی، کہیں امام باڑہ تھا اور کوئی گھر خالی تھا کہ اس میں جن رہتے تھے۔ یہ گھر، یہ محلے، یہ گلیاں، یہ درخت سب زندہ انسانوں کی طرح سانس لیتے تھے۔ اسی شہر کی سانسوں میں ایک تہذیب کروٹ لیتی تھی جو پیچھے جا کر الف لیلہ سے، مذہبی حکایات سے، کربلا والوں سے اور اپنی زمین کی بھولی بسری کہانیوں سے جا کر مل جاتی تھی۔

دھیان انتظار حسین کے ناول ”بستی“ کی طرف ہو رہا ہے کہ اس ناول کا ذاکر بھی اپنے والدین کے ساتھ یوپی کے روپ نگر سے اٹھ کر یہاں آیا تھا اور اپنے ساتھ وہاں کی یادوں کا ایک خزینہ اٹھا لایا تھا۔ ناول میں اس زمانے کا نقشہ کھینچا گیا ہے جب پرانی مروتیں باقی تھیں۔ ادھر سے قافلے آتے اور یہاں کی گلیاں اور محلے انہیں اپنے اندر بسا لیا کرتے تھے پھر اس ناول میں ان ہی کشادہ آنگنوں کے تنگ ہونے کا تذکرہ ہوا اور آنے والوں کے اپنوں کی ان قبروں کا جو وہ پیچھے چھوڑ آئے تھے اور اب یاد کر کے انہیں روتے تھے مگر ان کا رونا کوئی سنتا نہ تھا۔

آدمی کا ہوس کی طرف جست لگانا ، لوٹ کھسوٹ اور ہیرا پھیری کو وتیرہ کرنا اس ناول کا موضوع بنا اور ساتھ ہی ماضی کچھ اور اجلا ہوتا چلا گیا۔ ایسے میں وہ جو ہجرت کر کے یہاں بس گئے تھے، ان کا ماضی کو یاد کرنا بہت بامعنی ہو جاتا ہے۔

یاد کریں کہ ناول میں ذاکر کی ماں اپنے اس کفن کو یاد کرتی تھی جو کربلائے معلیٰ سے آیا تھا، وہیں اس جائے نماز کا ذکر چھڑا تھا جو مدینہ منورہ سے آئی تھی اور اس خاک شفا کی بات ہوئی جو سجدہ گاہ تھی تو یوں ہے کہ یہ یادیں دراصل ماضی، تہذیب اور رواں وقت کو ایک اکائی کی صورت میں رکھ کر دیکھ رہی تھیں۔ ایک ایسی اکائی میں، جسے سرسر کرتی دیمک چاٹ رہی تھی یا پھر شاید بہت حد تک چاٹ چکی تھی۔

جب ہم ”آخری آدمی“ ، ”زرد کتا“ اور ”شہر افسوس“ جیسے شاہکار افسانے لکھنے والے انتظار حسین کو دیکھتے ہیں تو ایسے تخلیق کار کی بلند قامت ہمارے دل پر نقش ہو جاتی ہے جس کے حصے میں وہ توقیر آئی جو کسی اور کا بخت نہیں ہوئی تھی کہ ایسے فکشن پارے اردو افسانے کی پوری روایت میں کہیں نہیں تھے۔

انتظار حسین کی تخلیقی توفیقات کو سمجھنا ہو تو جنوری 1952ء میں لاہور سے چھپنے والے ان کے افسانوں کے پہلے مجموعے ”گلی کوچے“ سے پڑھا جانا چاہیے اور پھر منزل بہ منزل ان افسانوں تک پہنچنا چاہیے جو انہیں اوروں سے مختلف اور ممتاز کر دیتے ہیں۔ جی میں جس پہلی کتاب کی بات کر رہا ہوں اس میں آپ کو ایسے افسانے ملیں گے جو ٹھیٹھ سماجی حقیقت نگاری کی روایت کے احترام سے غافل نہیں ہیں۔ ”قیوما کی دکان“ ، ”خریدو حلوا بیسن کا“ ، ”چوک“ ، ”فجا کی آپ بیتی“ ، ”اجودھیا“ ، ”عقیلہ خالہ“ ، ”روپ نگر کی سواریاں“ ، ”ایک بن لکھی رزمیہ“ جیسے افسانے اور ”سانجھ بھئی چوندیس“ جیسی تحریر بھی جسے رپورتاژ کہہ کر کہانی کی کتاب کا حصہ بنایا گیا تھا۔

اور ہاں ایک اور افسانہ بھی تو ہے : ”پھر آئے گی“ ۔ جی یہی نام ہے اس افسانے کا اور یہ نام منٹو کا رکھا ہوا ہے۔ انتظار حسین نے ایک نشست میں اس افسانے سے وابستہ دلچسپ قصہ مزے لے لے کر سنایا تھا۔ ان کے مطابق، منٹو صاحب بہت سینئر تھے، ان سے میل ملاقات کی ہمت نہ پڑتی تھی۔ ہاں عسکری صاحب سے ایک تعلق تھا، ایک گہرا تعلق۔ اور اس وسیلے سے بہ قول ان کے وہ ان دونوں کی ملاقات کے دوران بیٹھے چپ چاپ ان کی باتیں سنتے رہتے۔

پھر یوں ہوا کہ عسکری اور منٹو  نے اردو ادب رسالہ اردو ادب نکالا تو منٹو سے بات چیت کا موقع بھی نکل آیا۔ اس رسالے کے دو ہی شمارے نکلے تھے۔ دوسرے شمارے کے لیے عسکری صاحب نے انہیں کہا تھا کہ ”انتظار! منٹو نے تم سے افسانہ مانگا ہے اس رسالے کے لیے“ انتظار حسین نے افسانہ دے دیا اور منتظر کہ دیکھیں منٹو کیا کہتے ہیں۔ ہفتہ بھر انتظار کے بعد عسکری صاحب نے منٹو سے ملنے کو کہا۔ انتظار حسین کے مطابق منٹو نے افسانے کا مسودہ نکال کر کہا یہ تم نے کیا لکھا ہے۔

یہ ”وہ“ کون ہے۔ ”وہ“ اس کہانی کا پہلا نام تھا۔ انہوں نے کچھ اور اعتراض بھی کیے اور نہ نظر آنے والی لڑکی کا کردار ایک بار پھر لکھنے کو کہا۔ وہ تبدیل شدہ افسانہ لکھ کر لے گئے تو منٹو نے کہا ”یہ عنوان بھی ٹھیک نہیں۔“ وہ ”کیا ہوتا ہے؟“ بکواس ”جی انتظار حسین نے یہی کہا تھا اور بتایا تھا کہ منٹو نے کہا۔“ اس کا عنوان کر دو ”پھر آئے گی“ ۔ تو یوں اس افسانے کا نام منٹو کا رکھا ہوا ہے۔

منٹو کے پاس چپ چاپ بیٹھنے اور وہاں سے اٹھ کر اپنی الگ راہ تراش لینے والے انتظار حسین کے پہلے مجموعے کے افسانوں میں کہانی سہج سہج آگے بڑھتی تھی، یوں کہ کہانی کا بیان، زمین سے وابستہ زندگی کی ہما ہمی اور اس عہد کی انسانی طینت اجال کر رکھ دیتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ جس انسانی سرشت اور وتیرے کو ان افسانوں میں سجھایا جا رہا ہے اسے کسی اور ماحول اور منظر میں رکھ کر سمجھا ہی نہیں جا سکتا۔

گلی کوچے میں 1950ء تک کے افسانے شامل تھے جب کہ دوسرا مجموعہ ”کنکری“ 1955ء میں چھپا تھا۔ پھر 1967ء میں تیسرا مجموعہ ”آخری آدمی“ اور چل سو چل۔ تب تک سب جان گئے تھے کہ انتظار حسین اور طرح کے افسانہ نگار ہیں۔ اس عرصے میں انتظار حسین کے فکشن اور تخلیقی چلن نے ایسا رنگ بدلا کہ کچھ کا کچھ ہو گیا۔ اب وہ سجھا رہے تھے کہ کہانیوں کے ذریعے ایک نیا معنیاتی نظام تشکیل دیا جاسکتا ہے اور اردو زبان کی تہذیب کو بھی نئے زمانے میں سمجھنے اور برتنے کی راہ دکھائی جا سکتی ہے۔

انتظار صاحب کے سارے سفر کو نگاہ میں رکھیں۔ جی ان کا وہ فکشن جو ہند مسلم تہذیب اورانسان کو اپنے تخلیقی متن کی کائنات کے مرکز میں جگہ دیتا تھا: اپنی تہذیبی تاریخ سے جڑا ہوا۔ اور فقط اپنے چھوڑے ہوئے گلی کوچوں میں رہ کر مطمئن نہیں رہ سکتا تھا؛ ”آخری آدمی“ یا پھر بعد والے انتظار حسین کو کہ جنہیں ہندوستان کی قدیم کہانیاں بہت لطف دینے لگی تھیں کہ یہ بھی انسانی وجود کے کئی بھیدوں کو کھولتی تھیں۔ تو یوں لگتا ہے کہ وہ اپنے فکشن میں آدمی پر برتر سطح وجود پر جینے کی راہیں کھولتے رہے ہیں۔ جی، آخری آدمی، زرد کتا اور ہڈیوں کا ڈھانچ جیسے افسانے؛ جن میں مادی اور جسمانی خواہشات ہیچ ہو جاتی ہیں۔ اور وہ آدمی جو لالچ اور حرص و ہوس سے بلند ہونے کی طرف راغب ہونے کی سکت نہیں رکھتا، برتر سطح وجود سے گر کر زرد کتا ہو جاتا ہے۔ دہشت اور ڈر کے زمانے میں یہی آدمی مکھی بن جاتا ہے۔

اپنی کہانیوں میں جانوروں اور کیڑوں مکوڑوں سے آدمی کو الگ اور اعلیٰ کر کے دکھانے والے انتظار حسین نے بعد ازاں ہمیں بتایا تھا کہ پرانے زمانے میں سب مخلوقات کی ایک ہی برادری تھی اور اس برادری میں آدمی، جانور، کیڑے مکوڑے اور پکھی برابر ہو گئے تھے۔ شرف انسانیت کو الگ سے دیکھنے والے انتظار ہوں، جو گرے ہوئے آدمی کو کتا اور مکھی بن جانے کی ذلت سے دوچار دیکھتے تو بے چین ہو جایا کرتا تھے یا سب کو ایک برادری سمجھنے والے، دونوں کو ہمیں اپنے اپنے تناظر میں رکھ کر سمجھنا ہو گا۔

تہذیبی آدمی کے انہدام کا نوحہ کہتی کہانیاں ہوں یا وہ کہانیاں جن میں ہند اسلامی تہذیب کا سوال حاشیے پر چلا جاتا ہے، ان سب کو سمجھنے کے بعد ہی انتظار حسین کو سمجھا جا سکتا ہے۔ مگر نہیں صاحب، صرف اور محض یہ سوالات ہی انتظار حسین کی فکشن میں اہم نہیں رہتے، اصل جادو تو اس لہجے کا ہے جسے وہ کہانی کہنے کے لیے برتتے ہیں، اس زبان کا ہے جس کو وہ تہذیبی زندگی کا مظہر بنا دیتے ہیں اور اس عمیق اور انوکھے زاویے سے مشاہدے کا ہے جو بیانیہ اجال دیتا ہے۔

بہ ظاہر سادہ زبان، مگر اتنی گہری کہ کئی مفاہیم کو اپنے اندر سمیٹ کر چلتی ہے۔ ماجرے کو فکشن کی زبان رکھ کر اس میں جمالیاتی قرینے رکھتے چلے جانا اور ایک عام سے منظر اور سادہ سے واقعہ کو مختلف کر کے اس کے اندر سے بھیدوں کے سلسلے نکال لانے کا جادو جس فکشن نگار کو آتا تھا وہ تو بس ایک تھا۔ انتظار حسین جی سب سے الگ اور بہت ممتاز۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •