آزادی انسان کا علمبردار: تھامس پین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تھامس پین کو ظلم اور نا انصافی سے شدید نفرت تھی۔ خواہ یہ ظلم تخت و تاج کے نام پر روا رکھا جائے یا خدا کے مقدس نام کو آڑ بنایا جائے۔ وہ آزادی، انصاف اور مساوات کے سنہری اصولوں کی روشنی میں زندگی بھر جدوجہد کرتا رہا۔ فرانس کے قید خانے میں موت کا انتظار کرتے ہوئے اس کے عزم میں لرزہ نہ آیا اور نہ کلیسا پر تنقید کرتے ہوئے اس کی آواز میں خوف کی جھلک آئی۔

انسانی تاریخ میں عوام الناس نے ہمیشہ اپنے محسنوں پر ستم توڑنے ہی میں زیادہ مستعدی دکھائی۔ جس نے بھی ظلم کے خلاف آواز بلند کی، ماضی کو حال کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کی، حکمرانوں کو ان کی ذمہ داری یاد دلانے کی جسارت کی یا اہل جبہ کی دراز دستیوں سے پردہ اٹھایا اسے آنکھیں بند کر کے خدا اور انسانیت کا دشمن قرار دے دیا گیا۔ مذہب کے دعویداروں نے ہمیشہ تعقل اور خرد کو اپنا دشمن گردانا۔ انسان کی صلاحیتوں اور امکانات پر یقین کو گناہ عظیم سمجھا گیا۔ اہل منبر کی جبروت کا تازیانہ ان بدنصیبوں پر اور بھی تند ہو جاتا ہے جو اکثریتی عقائد کی پیروی سے گریز کے باوجود بلند اخلاقی کردار رکھتے ہیں۔ تھامس پین کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا گیا۔

تھامس پین انصاف کا علمبردار تھا۔ انسانوں کے لیے محبت سے اس کا دل لبریز تھا۔ وہ انسانیت کے چہرے پر خوشیوں کی مسکان کا تمنائی تھا۔ لیکن وہ ان بلند اخلاقی اقدار تک پہنچنے کے لیے پادری صاحب کی سند کو غیر ضروری سمجھتا تھا۔ یہی اس کا جرم قرار پایا۔ آج انسانوں کی اکثریت نے اس کی تحریروں میں اٹھائے گئے نکات کو درست تسلیم کر لیا ہے لیکن تھامس پین کا تصور معاف نہیں ہوا۔ شاید اسی لئے کہ اس کے نظریات کی سچائی تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے ہیں اور اپنے معتوب کی عظمت مان لینے میں اپنی توہین سمجھتے ہیں۔

تھامس پین کے زمانے میں ابھی سائنس نے زیادہ ترقی نہیں کی تھی۔ بہت سے علوم جن کے نتائج آج روز مرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں، اٹھارہویں صدی میں ابھی سربستہ راز کی حیثیت رکھتے تھے۔ انسانوں کی ایک بڑی تعداد ابھی تک اس نامعقول سوچ پر قائم تھی کہ انسانوں کی نجات کے لیے محض اچھے عقائد کی پیروی کافی ہے اور اچھے افعال کی چنداں ضرورت نہیں۔ آج ہم میں سے شاید ہی کوئی شخص اپنے ضمیر کی روشنی میں اپنے نظریات متعین کرنے کو غلط سمجھتا ہو۔ ہم اپنی روز مرہ زبان میں قول و فعل کے تضاد کو بدترین منافقت قرار دیتے ہیں اور اپنے ضمیر کی روشنی میں چلنے کو اظہار خیال کی بنیادی آزادی قرار دیتے ہیں۔ اس بنیادی سچ کو بیان کرنے میں تھامس پین کو اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرنا پڑی تھیں۔

ہمیں کیسا عجیب لگے گا اگر ایک مصور ہم سے یہ کہے کہ اس نے ایک نہایت خوبصورت تصویر بنائی ہے جس سے پورے طور پر لطف اندوز ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی آنکھیں بند رکھیں یا ایک موسیقار یہ دعویٰ کرے کہ اس کی تخلیق کردہ موسیقی سے بھرپور لطف اٹھانے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے کانوں میں روئی ٹھونس لیں۔ ہم فوراً ایسے مصور یا موسیقار کو دھوکے باز قرار دیتے ہیں۔ لیکن اس شخص یا گروہ کو اپنا پیشوا مان لیتے ہیں جو یہ کہتا ہے کہ ہم عقل و خرد کو خیر باد کہہ دیں، شکوک و شبہات میں نہ پڑیں، سوال نہ اٹھائیں اور یقین رکھیں کہ ان کی تقلید ہمیں بہترین راستہ دکھائے گی۔ ایک عقیدہ پرست ہم سے یہی مطالبہ کرتا ہے۔

دنیا کے پسماندہ ترین خطوں اور گروہوں کو چھوڑ کر باقی دنیا نے یہ حقیقت تسلیم کر لی ہے کہ تمام انسان حقوق اور رتبے کے اعتبار سے برابر پیدا ہوتے ہیں اور عقل و فہم رکھتے ہیں۔ اس عقل و فہم کو کام میں لانا ہی خیالات اور عقیدے کی آزادی کہلاتا ہے۔ انسانی تاریخ میں تھامس پین پہلا شخص تھا جس نے انفرادی اور اجتماعی زندگی کے اس اہم ترین پہلو پر کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ آج اس کے خیالات نصابوں میں شامل ہوچکے ہیں مگر انسانوں کی ایک بڑی تعداد نے ابھی تھامس پین کا مقام نہیں پہچانا۔ وہ ابھی تک انسانیت کے اس مختصر مگر قابل قدر گروہ میں شامل ہے جو اچھی کھاد کی طرح زمین میں دفن ہو کر اپنا فرض ادا کرتے ہیں۔ ان کی جدوجہد طرح طرح کے پھولوں کی شکل میں اپنی بہار دکھاتی ہے۔ آئندہ نسلیں پھولوں کے خوش نما رنگوں اور مہک سے لطف اندوز ہوتی ہیں لیکن یہ فراموش کر دیتی ہیں کہ ان پھولوں کے مہکنے میں کس کس نے خود کو مٹا ڈالا۔

Actor Robert Gleason portrays Thomas Paine

تھامس پین کی کتاب ”عہد عقل“ نے آزادی اور انصاف پر انسانوں پر یقین قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایک مختصر تصنیف میں پین نے قابل فہم مگر ناقابل تردید دلائل کا خزانہ جمع کر دیا۔ تھامس پین ایک سادہ، با علم، دیانت دار اور جرات مند انسان تھا۔ ایسے شخص کو بڑا آدمی کہا جاتا ہے۔ بڑا آدمی پیچھے نہیں ہٹتا اور اس کی منکسر استقامت سے اونچے ایوان لرزہ براندام رہتے ہیں۔

تھامس پین کا شمار انسانیت کے عظیم حریت پسند سپوتوں میں ہوتا ہے۔ اس نے ایک طویل، پر مشقت اور مفید زندگی بسر کی اور دنیا کو بہتر بنانے میں بھرپور کردار کیا۔ اسے اپنی زندگی میں عزت نصیب نہیں ہوئی لیکن اس کی عزت آج تک قائم ہے۔ اس نے ایسی زندگی بسر کی جسے اپنے عہد میں ناکام قرار دیا جاتا ہے۔ مگر ایسی زندگی کو آنے والا وقت تاریخ کے کوڑے کرکٹ سے اٹھا کر ایک جگمگاتی ہوئی کامیابی کی صورت میں اپنے سینے پر آویزاں کرتا ہے۔

73 برس کی عمر میں موت نے اس کے تھکے ہوئے جسم، جواں دل اور روشن دماغ کو اپنی آغوش میں لے لیا۔ اگر اپنی ذات سے آگے بڑھ کر انسانوں سے محبت کرنا اچھی بات ہے تو تھامس پین اچھا آدمی تھا۔ اگر موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے اصولوں پر قائم رہنا بہادری ہے تو تھامس پین بہادر آدمی تھا۔ اگر اپنے وقت سے آگے نکل کر سچائی کی نئی راہیں تراشنا عظمت ہے تو تھامس پین عظیم آدمی تھا۔

(تحریر: رابرٹ انگرسول۔ ترجمہ وجاہت مسعود)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3

Leave a Reply