شیخ مجیب الرحمان کے ساتھ قید سی آئی ڈی کے جاسوس راجہ انار خان کی یادداشتیں
میں نے ایک دو اور نشانیاں پوچھ کر ان کی مزید تصدیق کی اور بالآخر دروازہ کھول دیا۔
وہ میرے کچھ پوچھنے سے پہلے ہی بولے۔ ”انار خاں! ہمیں اسی وقت شیخ مجیب الرحمٰن کو ان کے سیل سے نکال کر باہر کسی محفوظ مقام پر پہنچانا ہے۔ آج رات کسی وقت بھی جیل کے قیدیوں کی جانب سے یہ منصوبہ بندی کی گئی ہے کہ شیخ مجیب الرحمٰن کو ان کے سیل میں قتل کر دیا جائے“ ۔
اس منصوبے میں میں جیل کے عملے کے کئی ایک چھوٹے ملازمین بھی شامل ہو گئے ہیں۔ شیخ مجیب الرحمٰن کے سیل تک پہنچنے کے لیے سیڑھیاں بھی فراہم کی گئی ہیں۔ اندر سے کسی بھیدی نے اس سازش سے عین وقت پر سپرنٹنڈنٹ جیل کو باخبر کیا ہے۔ جو معاملہ فوری طور پر ہمارے علم میں لے کر آئے ہیں۔ جلدی کرو، چابیاں لاؤ ”۔
راجہ انار خاں نے بتایا کہ انہوں نے بھاگم بھاگ زمین کے اندر سے چھپائی گئی چابیاں نکالیں۔ افراتفری میں سیل کا بیرونی دروازہ کھول کر جب میں نے شیخ مجیب الرحمٰن کے سیل کا اندرونی دروازہ کھولا تو میں ان کی آنکھوں اور چہرے پر وارد ہوا خوف بخوبی محسوس کر سکتا تھا۔
دروازہ کھول کر میں نے شیخ مجیب الرحمٰن سے کہا، ”بابا! جلدی باہر چلیں“ ۔ اس پر شیخ مجیب الرحمٰن بولے کہ ”کیا مجھے پھانسی دینے کے لیے لے کر جا رہے ہیں“ ۔ عام طور پر جیل کے اندر سزائے موت کے منتظر قیدیوں کو پھانسی گھاٹ تک لے جانے کا یہی وقت ہوتا ہے۔ یقیناً اسی پس منظر میں شاید شیخ مجیب الرحمٰن کے ذہن میں ایسی بات آئی ہو۔
راجہ انار خاں نے بتایا کہ وہ اس موقع پر تیزی سے بولے کہ ”نہیں بابا، ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ آپ کی جان کو یہاں خطرہ ہے ہم آپ کو باہر کسی محفوظ جگہ پر لے کر جا رہے ہیں“ ۔
میری بات سن کر وہ ہمارے ساتھ جانے کے لیے تیار ہو گئے۔ اور چند منٹ کے اندر ہی ہم خواجہ طفیل کے ہمراہ لائی ہوئی جیپ میں انہیں بحفاظت جیل سے باہر نکال کر لے گئے۔ تاہم اس موقع پر جیپ کے ڈرائیور نے تھوڑی بے وقوفی کی۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو لے جانے والی جیپ کو موڑ کر اس کا پچھلا حصہ سیل کے دروازے کے ساتھ لگانے کی بجائے اس نے جیپ سیدھی لگا رکھی تھی۔ جونہی ہم شیخ مجیب الرحمٰن کو لے کر جیپ میں بیٹھے تو ڈرائیور نے جیپ کو پوری سپیڈ کے ساتھ ریورس کر کے جب یو ٹرن لیا تو رات کی تاریکی میں جیپ کے ٹائروں کے چیخنے چنگھاڑنے کی وجہ سے متعدد قیدی ہماری جانب متوجہ ہو گئے۔ اور شاید انہیں شیخ مجیب الرحمٰن کو لے جانے کی خبر ہو گئی تھی۔
راجہ انار خاں کے بقول شیخ مجیب الرحمٰن کو میانوالی جیل میں قتل کرنے کے لیے تیار کی گئی سازش میں شامل متعدد قیدیوں کا تعلق میانوالی سے تھا۔ وہ میانوالی کے سپوت جنرل نیازی کی بھارتی فوج کے ہاتھوں ہتھیار ڈالنے کے واقعہ کے بعد ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک اور تذلیل پر مشتعل تھے۔ انہوں نے اس کے رد عمل کے طور پر میانوالی جیل میں شیخ مجیب الرحمٰن کو قتل کرنے کی سازش تیار کی۔ جس میں بعد ازاں جیل کے عملے کے کئی اہلکار بھی شامل ہو گئے۔ جنھوں نے شیخ مجیب الرحمٰن کے سیل تک پہنچنے کے لئے سیڑھیاں اور دیگر آلات بھی مہیا کر دیے تھے۔ جو بعد ازاں برآمد کر لیے گئے۔
تاہم اس منصوبے کی بروقت اطلاع اندر کے کسی آدمی کے ذریعے سپرنٹنڈنٹ جیل تک پہنچی جنھوں نے فوری طور پر سپیشل برانچ کو اس سازش سے آگاہ کیا۔ جن کی بروقت کارروائی کی وجہ سے شیخ مجیب الرحمٰن کو ایسی کسی سازش کا نشانہ بننے سے پہلے ہی بچا لیا گیا۔
شیخ مجیب الرحمٰن کانپ رہے تھے
راجہ انار خاں نے شیخ مجیب الرحمٰن کو اس رات میانوالی جیل سے بحفاظت باہر نکال کر لے جانے کے بعد کی کہانی سناتے ہوئے بتایا کہ ”اس رات ہم شیخ مجیب کو اپنے ہمراہ لے کر سیدھے میانوالی میں واقع ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر کی رہائش گاہ پر لے گئے۔ جہاں ہمارے ایس پی سپیشل برانچ شیخ عبدالرحمن پہلے ہی پہنچ چکے تھے۔
سخت سردیوں کے دن تھے۔ جیل سے نکلتے وقت جلدی جلدی میں جو سامان ہاتھ لگا تھا وہ ہم ساتھ لے آئے تھے۔ ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر کی رہائش گاہ کے پچھلی جانب دو کمرے سپیشل برانچ کے دفتری استعمال میں تھے۔ انہی میں سے ایک کمرے میں شیخ مجیب الرحمٰن کو رکھا گیا۔ شدید سردی کی وجہ سے کمرے میں لگا الیکٹرک ہیٹر بھی کمرے کے درجہ حرارت کو کم کرنے میں ناکام ثابت ہو رہا تھا۔
شیخ مجیب الرحمٰن کمرے میں پڑی ایک کرسی پر بیٹھ گئے تاہم شدید سردی اور شاید اس میں خوف کا عنصر بھی تھا۔ اس وجہ سے ان پر کپکپی طاری تھی۔ میں نے ان کی حالت کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر اپنا کھیس ان پر ڈال دیا۔ اور خود ساری رات سردی میں ایسے بیٹھے بیٹھے ہی گزار دی۔
راجہ انار خاں کا کہنا ہے کہ پچاس سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی اس رات کی سردی کے بارے میں آج بھی سوچوں تو بے اختیار جھرجھری سی آ جاتی ہے۔
شیخ مجیب الرحمٰن کی چشمہ بیراج آمد
ایک رات ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر کی رہائش گاہ پر گزارنے کے بعد اگلے روز ہمیں حکم ملا کہ شیخ مجیب الرحمٰن کو چشمہ بیراج کے مقام پر اس کے ملازمین کے لئے بنی رہائشی کالونی منتقل کیا جا رہا ہے۔
وہاں جانے کے بعد اب ان پر چھایا ہوا خوف کافی حد تک کم ہو چکا تھا۔ ہمارے حسن سلوک اور بروقت کارروائی سے وہ بڑے خوش تھے۔ میری ڈیوٹی اب بھی بدستور شیخ مجیب الرحمٰن کے ساتھ ان کے سیکورٹی افسر کے طور پر تھی۔
شیخ مجیب الرحمٰن کا سال 1971 ء کا زیادہ عرصہ جیل میں گزرا۔ مشرقی پاکستان میں ہتھیار ڈالنے اور پاکستانی فوجیوں کو جنگی قیدی بنائے جانے کے بعد یحییٰ خاں اقتدار ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے کر کے علیحدہ ہو چکے تھے۔ جس سے کلی طور پر شیخ مجیب الرحمٰن لاعلم تھے۔
چشمہ بیراج کی رہائشی کالونی کے ایک بنگلہ میں ہم تقریباً ایک ہفتہ شیخ مجیب الرحمٰن کے ہمراہ مقیم رہے۔ ایک بنگلے میں شیخ مجیب الرحمٰن کے ہمراہ میں رہتا تھا جبکہ دیگر دو بنگلوں میں سپیشل برانچ کے باقی افسران مقیم تھے۔
شیخ مجیب الرحمٰن: چشمہ سے سہالہ
ایک ہفتہ چشمہ کندیاں کے مقام پر شیخ مجیب الرحمن کو رکھنے کے بعد اگلا حکم یہ ہوا کہ انہیں سہالہ ریسٹ ہاؤس پہنچا دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے شیخ مجیب الرحمٰن کو سہالہ ریسٹ ہاؤس لانے کے انتظامات شروع ہوئے۔ کندیاں کے مقام پر ہیلی۔ کاپٹر اتارنے کے لیے ہیلی پیڈ بنایا گیا۔ سب کچھ بڑی تیزی کے ساتھ ہو رہا تھا۔ مجھے کہا گیا کہ ہیلی۔ کاپٹر میں شیخ مجیب الرحمٰن کے ساتھ تم بھی چلو گے۔ دیگر افراد میں ایس پی شیخ عبدالرحمن، اور ڈی ایس پی خواجہ طفیل بھی ہمراہ تھے۔
میرے علاوہ سب ہیلی۔ کاپٹر میں بیٹھ کر میرا انتظار کر رہے تھے۔ میرے ذمے اپنے سامان کے ساتھ ساتھ شیخ مجیب الرحمٰن کا سامان سمیٹ کر بھی ساتھ لانا تھا۔ اسی چکر میں تھوڑا لیٹ ہو گیا جس پر شیخ عبدالرحمن مجھ پر بڑے خفا ہوئے انہوں نے مجھے تو ہیلی۔ کاپٹر میں اپنے ساتھ جانے دیا۔ تاہم غصے کی حالت میں میرا اور شیخ مجیب الرحمٰن کا ہیلی۔ کاپٹر میں رکھا گیا سامان نیچے پھنکوا دیا۔ اس وجہ سے کہ تو نے ہمیں لیٹ کروا دیا ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ شام کو وہ سامان پیچھے آنے والی گاڑیوں میں سہالہ ہمارے پاس پہنچ گیا۔
ذوالفقار علی بھٹو کی شیخ مجیب الرحمٰن سے ملاقات
راجہ انار خاں کا کہنا تھا کہ شیخ مجیب الرحمٰن کو میری اصل حقیقت سہالہ آ کر پتہ چلی۔ اس سے پہلے وہ مجھے محض ایک قیدی مشقتی ہی سمجھتے رہے تھے۔ سہالہ ریسٹ ہاؤس میں ذوالفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمٰن کے درمیان ہونے والی ون آن ون تاریخی ملاقات میں تیسرا واحد شخص میں تھا جو دونوں سے چھپ کر پردے کے پیچھے ہاتھ میں ریوالور لیے کسی بھی انتہائی صورت حال سے نمٹنے کے لیے مستعد کھڑا تھا۔
اس ملاقات کی ریکارڈنگ کرسیوں کے نیچے نصب ٹرانسمیٹر کے ذریعے سے ہو رہی تھی۔ ابتداء میں دونوں جانب سے تنے ہوئے چہروں اور گلے شکووں کے ساتھ شروع ہونے والی یہ تاریخی ملاقات آخر میں خوشگوار انداز میں اختتام پذیر ہو گئی۔ ملاقات کی باقی تفصیلات تاریخ کی کتابوں میں رقم ہیں۔
شیخ مجیب الرحمٰن نے کہا انار خاں! تم میرے ایس پی ڈھاکہ ہو گے
جب ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے سے شیخ مجیب الرحمٰن کو باعزت رہا کرنے اور اسے واپس بھجوانے کا فیصلہ ہو گا تو میرے ایس پی شیخ عبدالرحمن کے ذریعے میری حقیقت بھی شیخ مجیب الرحمٰن پر کھل گئی کہ میں میانوالی جیل میں کوئی قیدی یا مشقتی نہیں بلکہ سپیشل برانچ کا انسپکٹر تھا۔ شیخ مجیب الرحمٰن نے الوداعی ملاقات میں میرے دونوں ہاتھ پکڑ کر چوم لیے۔ اور افسوس کا اظہار کیا کہ میں ان ہاتھوں سے اپنے کام کرواتا رہا ہوں۔
اس موقع پر شیخ مجیب الرحمٰن نے پیار سے مجھے ”Naughty Boy“ کہہ کر مخاطب کیا۔ اور اصرار کیا کہ ”انار خاں! تم میرے ساتھ ڈھاکہ چلو، میں تمہیں اپنا ایس پی ڈھاکہ لگاؤں گا“ ۔ میں نے اس پر ان کا شکریہ ادا کیا اور معذرت چاہی۔
راجہ انار خاں نے شیخ مجیب الرحمٰن کے ساتھ اپنی آخری ملاقات کی یادیں شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ شیخ مجیب الرحمٰن نے میانوالی جیل میں اپنے زیر استعمال یادگاری تحائف کے طور پر اپنا سگار پائپ اور معروف روسی مصنف فیودور دوستو یفسکی کی کتاب
Crime And Punishment
تحفے کے طور پر مجھے پیش کی۔ کتاب پر انہوں نے اپنے قلم سے یہ لائنیں لکھیں۔
"In the long run of falsehood and truth, faslsehood win, the first but in end truth the last” . (Sheikh Mujib ur Rehman/ 5.1.72 )
شیخ مجیب الرحمٰن نے پاکستان سے روانہ ہونے سے پہلے میرے سینیئر افسروں کی موجودگی میں مجھے اپنے ساتھ ڈھاکہ لے جانے پر اصرار کرتے رہے۔ میری طرف سے خاموشی اختیار کرنے پر انہوں نے آخر میں کہا، ”میرے ساتھ ائرپورٹ تک تو چلو“ ۔ اس پر میں نے احترام سے کہا کہ ”میرا ساتھ آپ کے ہمراہ یہاں تک ہی تھا۔ میری ڈیوٹی اور مجھے دی گئی اسائنمنٹ اب ختم ہو چکی ہے۔ اللہ نگہبان بابا“ ۔
راجہ انار خاں کے بقول جب لاہور میں 1974 ء میں اسلامی سربراہی منعقد ہوئی تھی تو اس میں شرکت کی غرض سے بنگلہ دیش سے وزیراعظم شیخ مجیب الرحمٰن بھی تشریف لائے تھے۔ اس موقع پر ان کی ملاقات ڈیپارٹمنٹ میں میرے سینئر اور ایس ایس پی سپیشل برانچ شیخ عبدالرحمن سے بھی ہوئی تھی۔ شیخ مجیب الرحمٰن نے ان کے ذریعے ایک بار پھر مجھ سے ملنے اور بنگلہ دیش آ نے کے لیے کہا تھا۔
راجہ انار خاں کا شیخ مجیب الرحمٰن کی پیش کش کا مثبت جواب نہ دینے کے حوالے سے کہنا تھا کہ ”یہ درست ہے کہ شیخ مجیب الرحمٰن کے ساتھ اتنا عرصہ سرکاری ڈیوٹی کی ادائیگی کے دوران ان کے ساتھ ایک جذباتی سا تعلق بھی بن گیا تھا۔ مگر میری ملازمت اور پروفیشنلزم کا تقاضا یہی تھا کہ میں خواہ مخواہ اس جھنجھٹ میں پڑنے کی بجائے اب میں ان سے فاصلہ اختیار کر لوں۔ ایک حد سے زیادہ آگے جانے سے آپ اپنے انٹیلی جنس اداروں کی نظروں میں بھی آ سکتے ہیں۔ جو آپ کے کیریر کے لیے کسی بھی لحاظ سے اچھا نہیں ہوتا۔ میری ان کے ساتھ ایک محکمانہ اسائنمنٹ تھی۔ جو ختم ہو گئی تھی۔
شیخ مجیب الرحمٰن کے ساتھ ڈیوٹی کے بعد میں بطور انسپکٹر سی آئی اے جھنگ، پھالیہ اور ملکوال رہا۔ جرائم کے حوالے سے یہ علاقے ٹاپ پر تھے۔ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے انہیں خصوصی طور پر ایسے علاقوں میں تعینات کیا جاتا تھا۔ بعد ازاں وہ ڈی ایس پی سپیشل برانچ فیصل آباد اور سرگودھا تعینات بھی تعینات رہے۔
1996۔ 1997 میں اے ڈی آئی جی بہاولپور اور فیصل آباد آر ٹی سی سنٹر میں بطور پرنسپل اپنے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ بعد ازاں گریڈ 18 میں ایس پی پرموٹ ہو گئے۔
1960 ء میں پولیس سروس اختیار کرنے والے راجہ انار خاں نے 39 سالہ شاندار پولیس کیریر کے بعد 1999 میں عارضہ قلب کے باعث قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔
پولیس ڈیپارٹمنٹ میں رہتے ہوئے پاکستان کی بنتی بگڑتی سیاسی تاریخ کے چشم دید اور کئی واقعات کا حصہ رہنے والے 86 سالہ راجہ انار خاں کسی ایوارڈ یا تمغے کی خواہش سے کوسوں دور آج کل راولپنڈی میں مقیم ہیں اور اپنے بچوں اور نواسے نواسیوں کے ہمراہ ایک مطمئن اور پرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔ **



