ناروے میں گے، لیزبین اور ٹرانس جینڈر افراد کیسے رہتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج اگر ناروے میں دو مرد ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے یا دو لڑکیاں ایک دوسری کی کمر میں بازو حمائل کیے دکھائی دیں تو اب اتنا عجیب نہیں لگتا. لیکن کچھ اتنا زیادہ لمبا عرصہ نہیں گزرا جب ایسے مناظر کو عجیب، ناپسندیدہ، عیب اور گناہ کی نشانی سمجھا جاتا تھا.

یہ حقیقت ہے کہ جو گروہ یا فرقہ اقلیت میں ہو وہ کمزور بھی ہوتا ہے اور اسے اپنے حقوق کی خاطر آواز خود ہی اٹھانی ہوتی ہے. ہم نے دیکھا کہ عورتوں نے اپنے جائز حقوق کے لئے ایک طویل جدوجہد کی۔ ہوموفیل طبقہ کو بھی معاشرے میں اپنا باعزت مقام پانے میں وقت لگا اور مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا. ناروے میں گے کمیونٹی کی باقاعدہ تنظیم 1948 میں بنی اور اس طبقہ نے اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانی شروع کی.

ناروے کی ‘گے رائٹس’ کی کہانی آہستہ لیکن ثابت قدمی سے آگے بڑھتی رہی. ہم جنسیت کو ایک حقیقت ماننے میں ناروے کو زیادہ وقت نہیں لگا. کچھ حلقوں کی طرف سے اسے ایک ناپسندیدہ عمل ضرور گردانا گیا لیکن اس کی شد و مد سے کبھی مخالفت نہیں کی گئی. گے کمیونٹی کے خلاف تشدد کے واقعات کم کم ہی دیکھنے کو ملے.

1972 میں ہم جنس عمل کو قانونی تحفظ مل گیا. اس سے پہلے دو مردوں کے درمیان جنسی عمل غیر قانونی تھا. عمر کی حد بھی سولہ سال مقرر کی گئی. 1981 میں ناروے دنیا کا پہلا ملک بن گیا جس نے جنس کے معاملے پر امتیازی سلوک روا رکھنے اور اسے روکنے پر قانون بنایا. اس ساتھ ہی ہم جنسوں پر تنقید, تمسخر, انہیں غیر مہذب القاب سے مخاطب کرنا یا ان کے بارے میں نفرت پھیلانا جرم قرار پایا.

ہم جنس جوڑوں کے وہی حقوق اور فرائض ہیں جو مخالف جنسی جوڑے کے ہیں. ان کے ساتھ برابر کا سلوک ہوگا. نہ برتری کا نہ کمتری کا. 2009 میں ہم جنسوں کو باقاعدہ شادی کی اجازت مل گئی. اس کے ساتھ ہی بچے گود لینے کی اجازت بھی مل گئی. اگر ایک پارٹنر کے بچے ہیں تو دوسرا پارٹنر انہیں ایڈوپٹ کرنا چاہے تو کر سکتا ہے. یہ قانون لیزبین جوڑوں کے لئے بھی ہے اور یہ بھی اگر وہ بارآور ہونا چاہیں تو اس کی اجازت بھی ہے. اس لحاظ سے ناروے گے لوگوں کے رہنے کے لئے بہت بھلی جگہ ہے. یہاں کا آزاد اور متحمل معاشرہ کھلے دل سے ان کو اپناتا ہے.

جو مرد اور عورت اپنی مخالف جنس میں دلچسپی رکھتے ہیں انہیں “اسٹریٹ” یعنی سیدھا کہا جاتا ہے. اسی مناسبت سے ہم جنس لوگوں کو “ٹیڑھا” کہا جاتا ہے لیکن وہ اس کا برا نہیں مانتے. اوسلو میں کئی گے بارز اور ڈانسنگ کلب ہیں. خواجہ سراوں کی اپنی تفریح گاہیں ہیں جہاں وہ زنانہ لباس میں ووگ لگائے میک اپ کیے جلوہ گر ہوتے ہیں. یہ محفلیں اتنی رنگا رنگ اور دلچسپ ہوتی ہیں کہ کچھ ‘سیدھے’ لوگ بھی دل بہلانے چلے آتے ہیں اور خوب محظوظ ہوتے ہیں. دوسرے ملکوں سے آنے والوں کو یہ روشن خیال معاشرہ ایک نعمت سے کم نہیں لگتا. یہ عام کہاوت ہے کہ اوسلو میں کوئی آپ سے آپ کی سیکشویلیٹی پر سوال نہیں کرتا ہے اور آپ کو خوش آمدید کہتا ہے.

Christian Foss with his partner

کرسٹیان فوس جو ناروے کے وزیر معاشیات رہ چکے ہیں پہلے سیاست دان تھے جو کھل کر سامنے آئے. انہوں نے اعلان کر دیا کہ وہ ہم جنس پسند ہیں اور اپنے پارٹنر کے ساتھ ہنسی خوشی رہ رہے ہیں. ناروے کے عوام نے انہیں سراہا. ان کی جرات دوسروں کے لئے حوصلہ افزا ثابت ہوئی اور کئی اور سیاست دان اور مشہور لوگ بھی اپنے اپنے کلوزٹ سے باہر نکل آئے. موجودہ کابینہ وزیر صحت ہوموسیکشوال ہیں. اور پھر یہ ایک عام سی بات ہو گئی اور معاشرے نے ان ٹیڑھے لوگوں کو نہ صرف دل و جاں سے قبول کیا بلکہ ان سے متاثر بھی ہوئے.

ہلچل اس وقت مچی جب ایک مسلم مرد نے سامنے آ کر اپنے جنسی رجحان پر بات کی اور تسلیم کیا کہ وہ ہم جنس پرست ہیں. یہ تھے عراق کے کالتھام الیکساندر لیہ جو 1967 میں پیدا ہوئے. نوعمری میں عراق ایران جنگ میں شامل ہوئے اور 1992 میں ناروے آ کر سیاسی پناہ لے لی. انہوں نے متعدد انٹرویز اور اخباروں میں بیانات دیے. ان کا کہنا ہے کہ یہ سب بہت مشکل تھا. اپنے بارے میں کھل کر بات کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنی فیمیلی اپنے دوست اپنے ہمدرد سب کھو دیتے ہیں. سب طرف سے آپ کو نفرت ملتی ہے. لیکن میرے لئے اب چھپ کر رہنا اذیت ناک تھا. کالتھام اب اپنے کرسچن پارٹنر کنوت ایگیل کے ساتھ خوش ہیں. دونوں منگنی کر چکے ہیں. دونوں اپنے اپنے مذہب پر ہیں اور ایک دوسرے کے عقیدے کا احترام کرتے ہیں. عنقریب شادی کے بندھن میں بندھ جانے کی خواہش رکھتے ہیں. اور یہ ایک تاریخی شادی ہو گی.

Kaltham Alexander Lie

2016 میں ناروے کے بادشاہ کا ایک بیان آیا. جسے صرف ناروے میں ہی نہیں پوری دنیا میں سرہا گیا. “وہ لڑکیاں جو لڑکیوں کو چاہتی ہیں اور وہ لڑکے جو لڑکوں کو چاہتے ہیں. اور وہ لڑکے لڑکیاں جو ایک دوسرے کو چاہتے ہیں وہ سب نارویجین ہیں. نارویجینز گاڈ کو مانیں یا آللہ کو یا بہت سے دوسروں کو, یا کسی کو بھی نہیں آپ سب ناروے ہیں. ہم سب ناروے ہیں.”

Noman Mubashir with his partner

اس کے بعد ناروے کی پاکستانی کمیونٹی ششدر رہ گئی جب ایک مشہور پاکستانی مرد نے ہم جنس پسند ہونے کا اعتراف کیا. نعمان مبشر ٹیلیویژن کی ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں. وہ کئی پروگرامز کنڈکٹ کر چکے ہیں. نعمان کا کہنا ہے کہ بادشاہ کے اس بیان نے انہیں ہمت دی اور یہ احساس دیا کہ وہ تنہا نہیں ہیں. نعمان کہتے ہیں کہ میں تین طرح کی اقلیت ہوں. مسلمان ہوں, پاکستانی ہوں اور اب ہم جنس پسند بھی ہوں. ان کے لیے بھی یہ ایک انتہائی مشکل لیکن اہم قدم تھا. خود ان کے بقول وہ احمدی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں جس کی ایک مختصر کمیونٹی ہے اس لیے وہ بہت جلد نظروں میں آ گئے اور ان پر باتیں بنائی جانے لگیں. بیس سال ایک مصنوعی زندگی گزارنے کے بعد اب اصلی زندگی شروع ہوئی ہے. نعمان اپنے پارٹنر فرودے سترمو کے ساتھ خوش خوش رہ رہے ہیں. لیکن اپنی کمیونٹی سے ڈر اب بھی لگتا ہے.

Mohamed Abdi Farah Mo

ناروے کے ایک ٹیلنٹ شو میں ایک نوجوان محمد عبدی فاراح عرف مو نے اپنی خوبصورت آواز میں گانے گائے اور مقبول ہوئے. وہ بھی کلوزٹ سے باہر نکل آئے. ان کا تعلق صومالیہ سے ہے خاندان بھی مذہبی تھا. مو کو شدید مخالفت کو سامنا کرنا پڑا برا بھلا کہا گیا بلکہ قتل کی دھمکیاں بھی ملیں. مو نے پولیس میں رپورٹ درج کرائی لیکن وہ اب اکیلا باہر جاتا ڈرتا ہے اور باڈی گارڈ ساتھ رکھتا ہے.

nora mohsen

پھر ایک مسلم لڑکی الماری سے نکلی اور با آواز بلند کہا کہ ہاں میں لیزبین ہوں. عراق کی نورا محسن اعلی تعلیم یافتہ ہے. اس نے کریمنالوجی میں ماسٹرز کیا ہے اور ایک اچھے عہدے پر کام کر رہی ہے. وہ گے اور لیزبین لوگوں کی آرگنایزیشن کی سرگرم رکن اور لیڈر بھی ہے. اس کا کہنا ہے کہ مجھے اس لیے نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے کیونکہ میں عرب ہوں مسلم ہوں اور لیزبین بھی. میرا اچھا انسان ہونا معنی نہیں رکھتا. نورا اس بات پر زور دیتی ہے کہ ناروے میں رہنے والے غیر ملکیوں کو ہم جنس پسندی پر تعلیم دینے اور سمجھانے کی اشد ضرورت ہے.

صومالین کمیونیٹی کو ایک نیا دھچکا لگا جب ایک لڑکی نے اعلان کیا کہ وہ لزبین ہے. صومالیہ کی امل ادان کی زندگی مشکلات میں گزری. چھے سال کی عمر میں والدین فوت ہو گئے. نہ کوئی گھر تھا نہ کوئی سرپرست. وہ سڑکوں گلیوں میں بڑی ہوئی سولہ سال کی عمر میں ناروے آ گئی. کبھی اسکول نہیں گئی تھی اس لیے لکھنا پڑھانا بھی نہیں جانتی تھی. ناروے میں اس کے گرد ایک نیٹ ورک بنا جس کی مدد سے اس نے زبان سیکھی. اسکول شروع کیا. وہ اکیلی اس نئے ماحول میں خود کو بسانے کی کوشش کرتی رہی. اوسلو میں ہر ملک کے لوگوں کے گینگ بنے ہوئے ہیں کچھ جرائم میں بھی ملوث ہیں. امل کو بھی اس کا سامنا کرنا پڑا. اس نے کرمنل گینگ سے بچنے کی خاطر شادی بھی کر لی. جڑواں بچوں کی ماں بنی. اٹھایئس برس کی عمر میں اسے پوری طرح ادراک ہو گیا کہ وہ مردوں میں دلچسپی نہیں رکھتی. اس کا دل چاہتا تھا کہ وہ کسی عورت کی ہمراہی میں کسی چھوٹے سے شہر میں پرسکون سی زندگی گزارے جہاں کے لوگ روشن خیال ہوں. اس کا کہنا تھا کہ میں منافقانہ زندگی کیوں گزاروں؟ صرف اس لیے کہ میں صومالیہ سے ہوں؟ وہ خود کو بہت مذہبی نہیں سمجھتی. اس کے خیال میں مذہب کسی کو اپنی زندگی اپنی مرضی کے مطابق گزارنے سے نہیں روکتا. امل آج ایک اعلی تعلیم یافتہ عورت ہے. کئی کتابیں لکھ چکی ہے. کئی انعامات سے نوازی گئی ہے. اپنی پارٹنر الیزبتھ کے ساتھ ایک چھوٹے سے شہر میں کسی حد تک پر سکون زندگی گزار رہی ہے. کئی اسکولوں سے انہیں دعوت دی جاتی ہے کہ آ کر اپنی زندگی کی جدوجہد پر بات کریں. نوجوان ان سے بہت متاثر ہیں.

Amal Adan

ان سب مسلم ہوموسیکشول افراد کو ناروے کے لوگوں سے پوری سپورٹ ملی. شکوہ ان کا یہ ہے کہ ان کی اپنی ہی کمیونٹی نے انہیں دھتکارا اور نفرت کا نشانہ بنایا. سوشل میڈیا پر بھی لوگوں کا ان کے بارے میں منفی رویہ ہے.

ٹی وی پر ایک سیریل چلا بنام ٹیکسی. اس میں ایک پاکستانی لڑکی حنا زیدی نے ایک لیزبین لڑکی کا رول ادا کیا. ایک سین میں اسے صوفے پر اپنی نارویجین محبوبہ کے ساتھ محبت بھرے انداز میں دکھایا گیا. یہ ایک فلمی سین تھا لیکن حنا کو پاکستانی کمیونیٹی کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا. حنا کا کہنا ہے کہ ایسے کئی لڑکے لڑکیاں ہیں جو معاشرے کے رد عمل کے خوف کی وجہ سے اپنے خول سے باہر نہیں نکل پا رہے اور ایک دوغلی اور مصنوعی زندگی گزار رہے ہیں. انہیں ہمت دلانے کی ضرورت ہے.

Hina Zaidi in Taxi

اوسلو میں ہر سال جون کے مہینے میں ایک “گے پریڈ” بھی ہوتی ہے. اس میں صرف ہم جنس پرست اور ٹرانسجینڈر ہی شریک نہیں ہوتے بلکہ بہت سے “سیدھے لوگ” بھی بڑی تعداد میں ان کی سپورٹ میں آتے ہیں. سب طرف دھنک رنگ جھنڈے لہراتے نظر آتے ہیں. گھروں کی کھڑکیوں اور اپارٹمنٹس کی بالکونیوں پر بھی رنگ برنگے جھنڈے کثرت سے نظر آتے ہیں.

اب بات کرتے ہیں ٹرانسجینڈرز کی. یعنی جنس کی تبدیلی. بچے کی پیدائش کے وقت ہی اس کے جنسی اعضا دیکھ کر اس کی جنس کا تعین ہو جاتا ہے. لیکن کچھ کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ غلط جسم میں پیدا ہو گئے ہیں. ان کی زندگی ایک دھوکا ہے. وہ کوئی اور ہیں اور نظر کچھ اور آتے ہیں. اب اس مسئلہ کے حل کے لیے ایک قانون بن گیا ہے. ناروے میں مقیم لوگوں میں سے کسی کو یہ احساس ہے کہ وہ در حقیقت کسی اور جنس سے تعلق رکھتے ہیں تو انہیں آپریشن کی اجازت ہے. سولہ سال اور اس سے اوپر کے افراد خود اس عمل کی درخواست دے سکتے ہیں. چھے سے سولہ سال تک کے بچے اپنے والدین کے ہمراہ ان کی رضا سے درخواست دے سکیں گے. اس میں دونوں والدین کی مرضی شامل ہونی چاہیے. اس کے ساتھ درخواست گزار کو میڈیکل رپورٹس بھی دینی ہوں گی. اس قانون کے بننے سے ناروے ایک بار پھر دنیا کا لبرل ترین ملک بن گیا.

اس قانون پر ایک منفی ردعمل بھی سامنے آیا. کیا ایک چھے سالہ بچہ یہ بات یقین سے کہہ سکتا ہے کہ وہ اپنی جنس کی تبدیلی چاہتا ہے؟ کیا والدین کو اس کی یہ بات مان لینی چاہیے؟ اس کے جواب میں بیان آتے ہیں کہ جو بچہ اس کیفیت میں ہوتا ہے اسے چار پانچ سال کی عمر سے ہی یہ احساس ہو جاتا ہے کہ وہ غلط جسم میں پیدا ہوا ہے. وہ ایک کربناک زندگی گزار رہا ہوتا ہے. اسے مدد درکار ہے. اور یہ مدد جتنی جلد مل جائے اتنا ہی اچھا ہے. لیکن اس کا بھی امکان ہے کہ یہ ایک وقتی خواہش ہو اور بڑے ہونے پر وہ اس پر پشیمان ہوں. پھر پلٹ آنے کا امکان نہیں.

Health minister with his partner
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply