عورت مارچ سے آپ خوفزدہ کیوں ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


پہلی بار 1908 میں پندرہ سو عورتیں مختصر اوقات کار، اچھی اجرت اور ووٹنگ کے حق کے مطالبات منوانے کے لیے نیویارک کی سڑکوں پر مارچ کرنے نکلیں۔ ان کے خلاف گھڑ سوار دستوں نے کارروائی کی۔ گھوڑے کی ٹاپوں تلے انہیں کچلا گیا۔ گرفتار کیا گیا۔

1909 میں سوشلسٹ پارٹی آف امریکہ نے عورتوں کا عالمی دن منانے کے حوالے سے ایک قراداد منظور کی اور اسی سال اٹھائیس فروری کو امریکہ بھر میں عورتوں کا دن منایا گیا۔ انیس سو تیرہ تک یہ دن فروری کے آخری اتوار کو منایا جاتا رہا۔ اور پھر انیس سو تیرہ میں آٹھ مارچ کو عورتوں کے عالمی دن کے طور پہ طے کیا گیا۔ تب سے ہر سال یہ دن عورتوں کے نام منسوب ہے۔

ترقی یافتہ ممالک کی عورتوں نے درجہ بہ درجہ اپنے حقوق سے نہ صرف آگاہی حاصل کی۔ بلکہ ان کے لیے باقاعدہ طور پہ جدوجہد بھی کی۔

ہمارے ملک میں عالمی دن منانے کا رواج 2000ء کے بعد شروع ہوا۔ اس میں بنیادی کردار میڈیا، موبائل فون کی گھر گھر رسائی، انٹرنیٹ و سوشل میڈیا کا استعمال ہے۔ عورتوں کے عالمی دن کو زیادہ پذیرائی کہہ لیں یا نظروں میں آنا کہہ لیں۔ وہ پچھلے چار سال سے زیادہ ہے۔ اس سے پہلے یہ دن سیمینارز وغیرہ کی صورت منا کے ختم ہو جاتا تھا۔

وطن عزیز میں گزشتہ تین سالوں سے عورت مارچ نے ایک شور سا بپا کر رکھا ہے۔ فروری کا مہینہ ہنگامہ خیز رہتا ہے۔ پہلے چودہ دن ویلنٹائن کے دن کو منانے نہ منانے کی بحث میں گزرتا ہے۔ اگلے چودہ دن اور مارچ کا پہلا ہفتہ عورت مارچ پہ بحث میں گزر جاتا ہے۔

ہمارے ملک میں ہمیشہ کی طرح کسی بھی جدید نظریے یا رجحان پر دو گروہ بن جاتے ہیں۔ ایک مخالفت میں اور ایک اس کے حق میں۔ سب سے زیادہ مخالفت شدت پسند مذہبی طبقے کی جانب سے کی جاتی ہے۔

عورت مارچ کی مخالفت کرنے والوں کے نزدیک عورت کی آزادی کا صرف ایک مطلب ہے۔ سیکس کی آزادی، مادرپدر آزادی، بے حیائی اور معاشرے میں جتنی انارکی پھیل رہی ہے یا پھیلے گی اس کی وجہ صرف عورت کا آزادی کے نعرے لگانا ہے۔ یہاں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عورتوں کا عالمی دن عالمی سطح پہ منوانے والی خواتین نے کم اجرت، فیکٹریوں میں کام کے اوقات کار اور ووٹ کے حق کی بات کی تھی۔ پندرہ سو خواتین جن میں کئی گھوڑوں کے پاؤں تلے کچلی گئیں۔ مگر اگلے سال یہ تعداد بڑھی اور چند سالوں میں یہ دن پوری دنیا میں منایا جانے لگا۔پدر سری معاشرے میں مرد کی برتری اس حد تک ہے کہ عورت کا اپنے حق کے لیے بات کرنا بھی ان سے برداشت نہیں ہوتا۔

عورت کو بطور جنس نہیں بطور انسان دیکھا جائے تو بطور انسان وہ ان تمام حقوق کی حقدار ہے جن پہ کسی بھی انسان کا حق ہے۔ بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی والدین کی عزت گھٹ گئی جیسے طعنوں سے آزادی چاہیے۔ جس طرح بیٹے کے پیدا ہونے پہ مٹھائی بانٹتے ہیں۔ بیٹی کے ہونے پہ بھی بانٹیے۔ غیرت کے نام پہ عورت ہی کیوں قتل ہوتی ہے۔ کبھی سنا ہے کہ بیٹی نے غیرت کے نام پر باپ کو مار دیا۔ قابل اعتراض حالت میں دیکھ کر بہن نے بھائی کو کلہاڑیوں کے وار کر کے مار دیا۔ کبھی سنا کہ بیوی نے شوہر کو ناجائز تعلقات کے شبہے میں قتل کر دیا۔ یہ نام نہاد غیرت کے ٹوکرے آپ نے عورت کے سر پہ ہی کیوں لاد رکھے ہیں۔

تعلیم کے نام پہ بیٹے کی فیس تو ہنسی خوشی جاتی ہے۔ بیٹی کے لیے کہا جاتا ہے کہ پڑھ لکھ کے کیا کرنا ہے۔ اگلے گھر جا کے ڈگری نہیں ہانڈی روٹی پکانا کام آئے گا۔ ڈاکٹر لڑکی چاہیے پر ڈاکٹر بہو بیوی کو پریکٹس نہیں کرنے دی جاتی۔ صحت کے نام پہ ان کا استحصال ان کے جنم گھر سے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ جہاں کبھی انڈے کھانے سے ان کے جلدی بالغ ہو جانے کی فکر سے انہیں انڈہ نہیں کھانے دیا جاتا اور کبھی سالن میں سے چن چن کے بوٹیاں باپ اور بھائی کو کھلائی جاتی ہیں۔

جس لڑکی نے آگے چل کر ایک نسل پیدا کرنی ہے۔ اس کو اچھی خوراک ہی میسر نہیں ہوتی۔ شادی کے بعد بیمار ہو جائے تو میکے والوں کے پاس بھیج دیا جاتا ہے۔ بچے پہ بچہ پیدا کروائیں گے مگر صحت پہ توجہ صفر۔ گھریلو تشدد الگ برداشت کرتی ہے۔ کچھ جگہوں پہ تو عورت مرد سے پٹنے کو اپنی قسمت سمجھ کے زندگی گزار دیتی ہے۔ ان کے نزدیک مرد اگر ہاتھ نہیں اٹھائے گا تو مرد کیسے کہلائے گا۔ عورت کی معاشی خود مختاری کے ساتھ اس کے بہت سے مسائل کا حل جڑا ہے۔

عورت کو کام کرنے کے ویسے ہی مواقع ملنے چاہئیں جیسے مردوں کو میسر ہیں۔ کام کی جگہوں پہ انہیں ویسا ہی ماحول ملنا چاہیے جیسا مردوں کو ملتا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ پہ سفر کرتے ہوئے اسے خوف محسوس نہ ہو۔ اسے اکیلے سفر کرتے ہوئے دن رات کا خیال نہ رکھنا پڑے۔ جیسا کہ موٹروے ریپ کیس میں ہمارے ایک ڈی پی او نے کہا تھا کہ ریپ ہونے والی خاتون رات کو سفر پہ کیوں نکلی۔ ریاست اپنے شہری کی حفاظت کیوں نہیں کر سکتی۔ اس بارے میں وہ خاموش رہے۔

کہا جاتا ہے کہ کسی بھی ملک میں کسی بھی سوچ یا نظریے کو پھیلانا ہو تو پروپیگنڈا پھیلاؤ۔ اور میڈیا کا استعمال کرو۔ ہمارے ملک میں میڈیا ہاؤسز میں تیار ہونے والے ڈراموں میں ایک مخصوص طریقے سے عورت کو صرف حاسد، سازشی، لڑاکا اور ایکسٹرا میریٹل افئیرز لڑاتے دکھایا جاتا ہے۔ کچھ ڈراموں میں عورت کو مظلوم، مار کھاتے اور مرد کے رحم و کرم پہ دکھایا جاتا ہے۔ کسی بھی ڈرامے میں عورت کے بنیادی مسائل پہ بات ہی نہیں کی جاتی۔

کسی ڈرامے میں یہ نہیں دکھایا جاتا کہ تعلیم پوری کرنے کے بعد وہ معاشرے میں ایک مفید شہری کے طور پہ اپنی زندگی گزار رہی ہے۔ کسی میں یہ نہیں بتایا جاتا کہ پسند کی شادی اس کا بنیادی حق ہے اور وہ کیسے اسے حاصل کر سکتی ہے۔ طلاق کے بعد دوسرے مردوں پہ انحصار کی بجائے وہ خود اپنے لیے کیا کر سکتی ہے۔ ساس نند کے جھگڑوں، شوہر کو قابو میں رکھنے اور زیور کپڑے کی شوقین عورت دکھا کے آپ کیا مقصد حاصل کرتے ہیں۔ سمجھ نہیں آتا۔

اب تک کے بتائے گئے میرے ایشوز میں کہیں بھی یہ ایشو نہیں آیا کہ عورت کو کپڑے اتار کے پھرنے کی آزادی چاہیے۔ ہمارے یہاں تو سوچ کا معیار یہ ہے کہ پچھلے سال ایک مشہور و معروف ڈرامے کے رائٹر نے اپنے ڈرامے میں عورت کو دو ٹکے کی عورت کہلوا دیا۔ اور پورے معاشرے سے اسے گالیاں دلوائیں۔ جبکہ دوسری جانب جس مرد نے اسے یہ سب کرنے پہ اکسایا وہ ایک معافی کے بعد پاک ہو گیا۔ اور وہ مرد جو اس عورت کا شوہر تھا اس نے جو محنت و دماغ اپنی بیوی کی بے وفائی کے بعد چلایا۔ پہلے چلاتا تو یہ سب ہوتا ہی نہیں۔ اب معاشرے میں نیک عورت کا معیار مہوش جیسا نہ ہونا ہے۔ یعنی کہ حد ہے اور بے حد ہے۔

عورت مارچ میں آنے والی عورتوں پہ تنقید کی بجائے ان کے مسائل سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ بد قسمتی سے ہمارے یہاں کسی بھی ہاٹ ایشو کو ہائی جیک کرنا بھی بہت آسان ہو چکا ہے۔ عورت مارچ بھی ایسا ہی ایک ایشو ہے۔ اسے میڈیا، این جی اوز، ریاست، مذہبی شدت پسند اور عوام اپنی اپنی سوچ و شعور کے حساب سے دیکھتے ہیں۔ ہمارے یہاں کسی بھی نظریے کے حامی مکمل طور پہ اس نظریے پہ پابند نہیں ملیں گے۔ چاہے کوئی سیکولرازم کا حامی ہو، لبرل ہو یا مذہبی ہو۔ سب نے اپنے اپنے پسندیدہ کھاتے الگ سے رکھے ہوتے ہیں۔ جہاں جسے اپنے مفاد کے لیے کوئی فٹ چیز ملی جھٹ سے اسے مان بھی لیں گے، اور منوا بھی لیں گے۔ اللہ اللہ خیر صلا۔

کل ملا کے بات یہ ہے کہ اپنے نام کے ساتھ فیمینسٹ لکھنے سے آپ فیمینسٹ نہیں ہو جاتے۔ مرد سے نفرت فیمینزم نہیں ہے۔ مرد کو یہ باور کرانا کہ عورت ایک جنس نہیں ایک انسان ہے یہ فیمینزم ہے۔ عورتوں کے مسائل سمجھیے۔ ان کو ان چھوٹے چھوٹے مسائل کے انبار سے نکالیے ۔ جو معاشرے نے ان پہ لاد رکھے ہیں۔ اگر آپ ان کے بنیادی مسائل سن سمجھ لیں گے تو وہ اپنے چھوٹے مسائل آپ کے سامنے نہیں لائیں گی۔ ایک خود مختار عورت کا یہ مسئلہ کبھی نہیں رہے گا کہ سالن کون گرم کر رہا ہے، موزے کون ڈھونڈ رہا ہے۔ وہ ان سب کاموں کے لیے چند ہزار پہ ایک ملازم رکھے گی اور سکون سے رہے گی۔

بچیوں کو ’’ایسے مت بیٹھو۔ یہ مت کرو۔ یہاں مت جاو۔ وہ مت کرو‘‘ جیسے مسائل سے نکال کے کچھ کرنے دیں۔ سانس لینے دیں۔ ان کے لیے پیریڈز و سیکس کو ٹیبو مت بنائیں۔ اپنے بیٹوں کی تربیت کریں کہ انہوں نے عورتوں کے ساتھ کیسے پیش آنا ہے۔ بیٹے کے حصے کی مار بیٹی کو مت ماریں۔ انہیں برابر انسان سمجھیں۔ برابری کی سطح پہ انہیں زندگی جینا سکھائیں۔ عورت کی تعلیم، شادی، صحت و زندگی گزارنے کے فیصلے اسے خود لینے دیں۔ اگر خدانخواستہ اس کی طلاق ہو جاتی ہے۔ تو اس کے لیے زندگی اجیرن مت کریں۔

بنیادی طور پہ تو ہر انسان ہی آزاد پیدا ہوا ہے۔ اس پہ معاشرتی، مذہبی و سماجی مسائل کا بوجھ ہم لاد دیتے ہیں۔ عورت کو اس میں زیادہ حصہ ڈالنا پڑتا ہے کیونکہ وہ عورت ہے اور عورت ہونا ہی اس کاسب سے بڑا جرم ہے۔ سوال یہ ہے کہ عورت مارچ سے آپ خوفزدہ کیوں ہیں؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ اپنے حقوق کا ادراک پا گئیں تو آپ کے پدرسری سماج کی دھجیاں اڑ جائیں گی۔

جواب یہ ہے کہ آپ عورت کو اس کی مرضی سے جینے دیں۔ آپ نے اگر ایسا کر لیا تو سمجھیں پھر کسی مارچ کی ضرورت نہیں رہے گی۔ مرضی سے جینے دیں میں ہر چیز آ جاتی ہے۔ جئیں اور جینے دیں۔ وقت نکال کے سوچیے اور ابتدا اپنے گھر کی عورتوں کو ان کے حقوق دینے سے کیجیے۔ ویسے تو یہ بات ہی بڑی غیر مناسب لگتی ہے کہ مرد کی جانب سے یہ کہا جائے کہ میں نے اپنے گھر کی عورتوں کو آزادی دی ہوئی ہے۔ بھائی یہ ان کا پیدائشی حق ہے۔ کوئی احسان نہیں ہے ان پہ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply