سلیم رضا ٹھاکر کا تخلیق کردہ کردار: مانتا


کردار اور ان سے وابستہ حقائق ہمیشہ سے ادب کا محبوب موضوع رہے ہیں۔ کردار ادب اور فنی تقاضوں کے عناصر ترکیبی کا اہم جزو ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ زندگی کی مقصدیت اور کائنات کی وسعتوں کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں تو کہیں ہزار ہا سال پر محیط انسانی تہذیب و تمدن کے آئینہ دار بن کر زندگی سے جڑے سوا الت کے جواب دیتے نظر آتے ہیں۔ جب مجھے ادب سے لو لگی تو شیکسپئر کے کردار بہت متاثر کرنے لگے کیونکہ یہ انسانی نفسیات اور ذہنی الجھاؤ لیے ہوئے قاری سے ہم کالم ہوتے ہیں۔

جیسے جیسے کتابوں سے شغف بڑھتا گیا بہت سے مضبوط کرداروں سے سامنا ہوتا رہا جیسا کہ فرانز کافکا کے ناول ”میٹام ورفوسز“ کا کردار گریگر سیمسا، جو لوگوں کی مادہ پرست ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ ایلف شفق کے ناول ”فورٹی رولز آف لو“ میں موجود ایال جو یہ گتھی سلجھانے میں ہماری مدد کرتی ہے کہ محبت آخری حل ہے۔ اور پھر نیتھنئل ہاتھارن کے ناول ”سکارلٹ لیٹر“ کی پروٹیگونسٹ ہیسٹر پرائن، جسے برائی کرتے ہوئے چند ایسے لوگ پکڑ لیتے ہیں جو خود بہت مہارت سے برائی کرتے ہیں اور کبھی پکڑے نہیں جاتے۔

برائی کی سزا میں ہیسٹر کو ایک لاکٹ پہنا دیا جاتا ہے جس میں ایلفابیٹ کا پہلا حرف اے لکھا ہوتا ہے کیونکہ اے سٹینڈز فار اڈلٹرس بالکل ایسے ہی جیسے کوئی برائی کرتا ہوا پکڑا جائے اور اس کے گلے میں بڑا سا ”ب“ لٹکا دیا جائے۔ ان کے علاوہ بے شمار کردار جن کی تفصیل الگ کالم میں بیان کرنے کی کوشش کروں گی۔ ابھی ایک ایسا کردار آپ کے ساتھ سانجھا کر رہی ہوں جو مضبوط کرداروں کی فہرست میں ایک خوبصورت اضافہ ہے۔ یہ کردار سلیم رضا ٹھاکر صاحب کا تخلیق کردہ ہے۔

جو مانتا کے نام سے بحیثیت راؤنڈ کریکٹر اتنا جاندار ہے کہ پورے منظر پر حاوی نظر آتا ہے۔ تو آئیے کردار کی طرف چلتے ہیں۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب لڑکے صرف دیکھا دیکھی اسکول جاتے تھے۔ زیادہ تر لوگوں میں تعلیم کا شوق نہیں تھا۔ اگر لڑکا کہتا کہ ابا میں کل سے اسکول نہیں جاؤں گا تو یہ سن کر باپ کو اس لیے خوشی ہوتی کہ اب بیٹا اس کے ساتھ بھینسیں چرانے جائے گا۔ باپ کی خوشی کے ساتھ ساتھ ماں کچھ لمحات کے لیے یہ سوچ کر افسردہ ہو جاتی تھی کہ اب میرا بیٹا بھی افسر نہیں بن پائے گا، مانتا بھی اسکول جاتا تھا۔

اس کو آتا جاتا کچھ نہیں تھا لیکن دوسرے لڑکوں کی دیکھا دیکھی وہ بھی اسکول جاتا رہا۔ استادوں کی ہر وقت کی ڈانٹ ڈپٹ اور مار پٹائی سے تنگ آ کر مانتے نے ایک دن ٹھان لی کہ وہ اسکول چھوڑ دے گا۔ ساتھی لڑکوں سے بچھڑنے کی مانتے کے دل میں فکر تھی۔ مانتے نے دل کو یہ کہہ کر سمجھا لیا کہ دو چار گھنٹوں کی بات ہے پھر انھوں نے بھی گاؤں میں ہی ہونا ہے اور میں نے بھی۔ آپس میں مل لیا کر یں گے۔ ایک دن شام کے کھانے کے بعد بیٹھے تھے تو مانتے نے گھر والوں کے سامنے کل سے اسکول نہ جانے کا اعلان سنا دیا۔

ماں یک دم بولی۔ (مانتے کی ماں کے علاوہ سارا گا ؤں اس کو مانتا ہی کہتا تھا۔ مانتے کے اسکول نہ جانے والے فیصلے کو سن کر، مانتے کی ماں نے انتہائی غصے میں پہلی بار مانتے کو مانت بلا کر پکارا (کیا کہہ رہے ہو تم؟ ایک دفعہ پھر کہنا کیا کہا ہے؟) مانتے نے کہا ماں میں نے اسکول نہیں جانا۔ ماں نے اپنے دل کو تسلی دینے کے لیے کہا۔ مانت بیٹا! اب یہ بات نہ کرنا۔ میں تمہیں پڑھانا چاہتی ہوں۔ اس کے ساتھ ہی ماں نے اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے چپ سادھ لی۔

مانتے کا فیصلہ سن کر باپ خوش ہو گیا۔ اس نے کہا ٹھیک ہے۔ ویسے بھی ہم زمیندار لوگ ہیں ہم نے کاشت کاری ہی کرنی ہے۔ پڑھنے کی کوئی خاص ضرورت نہیں۔ کل سے تم بھینسوں کا کام سنبھالو گے اور میں بے فکر ی سے زمینوں میں ہل چلاؤں گا۔ مانتا گھر کا بڑا بچہ تھا۔ سال بھر فارغ رہا۔ دودھ گھر میں وافر تھا۔ سال بھر میں بھار ی بھرکم نوجوان بن گیا۔ فوج میں بھرتیاں آ گئیں۔ نمبردار نے گاؤں میں بھرتیوں کا اعلان کروایا۔ مانتے نے باپ کے ساتھ فوج میں بھرتی ہونے کے لیے مشورہ کیا۔

ویسے بھی گھر میں اب اس کی ضرورت نہیں تھی۔ کیونکہ مانتے کے چھوٹے بھائی نے مانتے کے ساتھ ملتے جلتے معاملات کی وجہ سے اسکول سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا تھا۔ ایک گھر کو ایک ہی نکما کافی ہوتا ہے۔ باپ نے خوشی سے مانتے کو بھرتی ہونے کی اجازت دے دی۔ فوجی بننے کے شوق میں گاؤں سے لڑکے دوڑے دوڑے گئے۔ مانتا بھی پہنچ گیا۔ پانچ میل تک چلتے جانا تھا۔ مانتا سست روی کی وجہ سے وقت مقررہ سے بعد میں پہنچا۔ دھوتی کھینچ کر قطار کے دوسرے سرے پر جا کر کھڑا ہو گیا۔

بھرتی کرنے والے افسر کی نظر پڑ گئی۔ اس نے ساتھ والے کے کان میں کچھ کہا۔ لگتا ہے انھوں نے قدوقامت دیکھ کر اندازہ لگایا ہو گا کہ یہ جوان کھڑے کھڑے توپ میں گولا ڈال سکتا ہے۔ بھرتی افسر نے مانتے کو قطار سے الگ کر کے کہا کہ جاؤ تم بھرتی ہو گئے ہو۔ مانتے نے راولپنڈی، پشاور، میانوالی اور لاہور میں چھاؤنیوں میں اٹھارہ برس تک نوکری کی۔ پھر ر یٹائر ہو گیا۔ گھر آ کر اس نے دکان بنا لی۔ داڑھی رکھ لی۔ داڑھی سفید، کالی اور بھورے رنگ کی تھی۔

داڑھی کو قینچی اور کنگھا نہیں لگاتا تھا۔ کہتا تھا کہ شریعت میں داڑھی کو قینچی لگانا گناہ ہے۔ کنگھا نہ کرنے کی وجہ جانے کیا تھی۔ دکان میں قالین ڈالے سر جھکا کر بیٹھا رہتا تھا۔ پہلی نظر میں د یکھنے والے کو اندازہ لگانا دشوار ہوتا تھا کہ وہ سو رہا ہے یا جاگ رہا ہے۔ اگر کوئی شکایت لگاتا کہ آٹا اچھا نہیں تو اس نے سوئے سوئے جواب دینا کہ ”کھا ہی لینا ہے ناں، اچھا کیا اور برا کیا ” اگر کوئی کہتا کہ سگر یٹ جعلی ہے تو مانتا جواب دیتا کہ ”زہر ہی ہے ناں، اصلی کیا اور جعلی کیا“ پتہ نہیں کیا وجہ تھی دکان نہ چل سکی۔

مانتے نے مستریوں کے ساتھ دیہاڑ ی لگانا شروع کر دی۔ لیکن وہ سست تھا اس کو کام راس نہ آیا، بکریاں بنا لیں۔ آج کل دن اسی طرح گزار رہا ہے۔ فجر کی اذان اردگرد کے سارے علاقوں سے پہلے دیتا ہے۔ اذان کے بعد صوفیا کے وہ اشعار جو مانتے نے اٹھارہ سالہ نوکری کے دوران پنڈی سے اوکاڑہ تک چھٹی پر آتے اور چھٹی گزار کر واپس جاتے ہوئے بسوں میں سنے تھے وہ سارے پڑھ دیتا۔ جیسا کہ ”قدر پھلاں دی بلبل جانے“ ، ”جاگ فقیرا جاگ“ کچھ اشعار لگتا ہے مانتے کے اپنے ہیں جیسا کہ۔ ”جو سوتے ہیں، وہ کھوتے ہیں“ ”گل پین پھولاں دے ہار“

Comments - User is solely responsible for his/her words