بے مکانی سے ہارورڈ تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ دسمبر 1996ء کی ٹھٹھرتی سردیوں کا ایک زرد دن تھا، جب ساری دنیا کرسمس کے بعد کی خوشیاں سمیٹ رہی تھی، الیزبتھ مرے اپنی دوست کرس کے ساتھ اپنی ماں کے تابوت کو بے نام قبر میں سونپ کر خالی ہاتھ واپس لوٹ رہی تھی۔

آج کا سوگوار دن سولہ سالہ الیزبتھ کے لیے بہت اہم تھا۔ ماں کی زندگی ہارنے اور ایک فیصلے کا دن، اور فیصلہ یہ کہ اس کا انجام ماں کی طرح نہیں ہو گا۔ ماں جو شراب، کوکین اور ہیروئن جیسی منشیات کا نشہ کرتی تھی اور پھر بالآخر ایڈز جیسے مرض میں مبتلا ہو کر لاوارثوں کی طرح قبر میں اتر گئی، لیکن مرتے مرتے ورثے میں اپنے دو بچوں کو بے مکانی اور کسمپرسی کا دکھ بھی دے گئی۔ الیزبتھ نے سوچ لیا تھا کہ اس کو ماں کے راستے پر نہیں چلنا ہے۔ ایک دوسرے راستے کو اختیار کرنا ہے۔ لیکن وہ راستہ کیا ہے اور اس کے لیے اسے کیا کرنا ہو گا؟ اس کا جواب اس کے ذہن میں صرف ایک تھا۔ ”مجھے اسکول واپس جانا ہے۔ مجھے تعلیم حاصل کرنی ہے۔“

آٹھویں جماعت میں تعلیم کو خیر آباد کہنے والی الیزبتھ مرے کی داستان دنیا کے بہت سے ایسے بچوں سے مختلف نہ ہوتی جن کے والدین نشے اور بیماریوں کا شکار ہو کر دنیا میں خود تو آلام کا سبب بنتے ہی ہیں مگر اپنے بچوں کی صورت مزید مسائل کا انبار بھی چھوڑ جاتے ہیں۔ اور پھر یہ اکثر نہ ٹوٹنے والا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ لیکن الیزبتھ مرے کے اندر کی روشنی نے اس کو تاریخ کا ناخوشگوار دھبہ بننے سے بچا لیا۔ اور یہ بیکراں روشنی تھی حوصلہ، ہمت اور علم سے لازوال محبت کی۔

اگر کبھی الیزبتھ اپنے بچپن کی طرف دیکھے تو اس کی یادوں میں ایک گندا سا اپارٹمنٹ نظر آتا ہے۔ یہ اپارٹمنٹ برونکس، نیویارک میں واقع تھا جہاں الیزبتھ اور اس کی بہن لیزا نے جنم لیا۔ مگر ان خوبصورت بچیوں کو پالنے کے خواب کو منشیات کے انجیکشن نے چھلنی کر کے مار دیا تھا۔ اس گھر میں ماں باپ ویلفیئر (حکومت سے ملنے والی امداد) کے پیسوں سے کھانے کے بجائے شراب اور منشیات خرید لیتے۔ جہاں دودھ، ڈبل روٹی اور پھل کے بجائے بھوکی بچیوں کو باورچی خانے میں خون کے دھبے اور مدہوش والدین کا منہ دیکھنا پڑتا۔

نشہ جس کے لیے وہ سب کچھ بیچ سکتے تھے۔ اپنی عزت ، اپنی صحت حتیٰ کہ سردیوں میں اپنی بچی کا گرم کوٹ بھی۔ الزبتھ نے بتایا، ”اکثر ہم بہت بھوک میں برف کی ڈلی چباتے۔“ ایک دفعہ جب اس کو سالگرہ پہ نانی نے کارڈ کے ساتھ پانچ ڈالرز بھجوائے تو ماں نے اس کو بھی منشیات پہ خرچ کر دیا۔ بہت جلد ہی نو سالہ الزبتھ پہ بجائے اسکول جانے کے ماں باپ کو پالنے کی ذمہ داری آن پڑی اور وہ گروسری اسٹور میں جا کر گاہکوں کا سامان تھیلیوں میں بھرنے کا کام کرنے لگی۔ جہاں سے وہ بیس پچیس ڈالرز یومیہ لے آتی۔ یہ ہلکا کام تھا جو وہ جز وقتی طور پہ کر سکتی تھی۔

جب وہ دس سال کی ہوئی تو ایک دن اسے پتہ چلا کہ اس کی ماں ایڈز کی بیماری میں مبتلا ہے۔ وہ ماں جیسی عزیز شے کو کھونا نہیں چاہتی تھی۔ اس کم عمری میں بھی اس کو ممتا کی قیمت کا اندازہ تھا۔ اپنی بساط بھر اس نے ماں کی بہت خدمت کی۔ مگر یہ کم عمر بچیوں اور نشہ میں مبتلا شوہر کے بس کا روگ نہیں تھا۔ جلد ہی ماں بیماروں کی دیکھ بھال کے ایک ادارے میں داخل کر دی گئی۔ اب اس پر نشے میں غرق باپ اور بہن کی ذمہ داری تھی۔

وہ ننھی سی بچی ذمہ دار عورت کی طرح کام کرتی رہی اور ان تمام حالات میں اس کا اسکول سے ناغہ ہوتا رہا۔ اس کی اسکول سے غیر حاضری اسکول والوں کے لیے تشویش کا سبب بنی بالآخر اسکول کی انتظامیہ کی شکایت پر اسے بیورو آف چائلڈ ویلفیئر کے حوالے کر دیا گیا۔ یہ ادارہ مشکلات میں مبتلا بچوں کی فلاح و بہبود کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اس ادارے نے اس کو ایسٹ ویلج یوتھ فیملی میں رکھا۔ اس وقت الزبتھ کی عمر تیرہ سال تھی۔ اس ادارے میں اس کو عمر کے لحاظ سے آٹھویں جماعت میں داخلہ ملا۔

اب دوبارہ پڑھائی جیسے تیسے چلنے لگی۔ لیکن ماں کی حالت بہتر نہ ہوئی۔ ایک دن اس کو اس کی ماں کا منہ بولا باپ اپنے گھر لے گیا۔ الزبتھ کو بھی گویا ماں کے قریب رہنے کا بہانہ اور عارضی ٹھکانہ مل گیا، جہاں وہ کم از کم سو سکتی تھی اور غریبی ناداری کے حالات میں انسان کو تنکے کا سہارا بھی بھلا لگتا ہے۔ یہی کچھ الزبتھ کے ساتھ بھی ہوا۔ اسکول میں اس کی دوستی ایک لڑکی کرس سے ہو گئی۔ کرس بھی اس کی طرح حالات کی ماری ہوئی تھی۔

اس کے خاندانی حالات بہت برے تھے اور اسے بھی سر چھپانے کے لیے ایک سہارا چاہیے تھا۔ الزبتھ اس کی مجبوریوں کو دل کی گہرائیوں سے سمجھ سکتی تھی۔ لہٰذا تیرہ سالہ الزبتھ نے کرس کو سہارا دینے کی اس طرح کوشش کی کہ وہ اسے اپنی ماں کے منہ بولے باپ سے چوری چھپے کرس کو اپنے بستر میں سلاتی اور اپنا بچا ہوا آدھا کھانا بھی کھلاتی۔ مگر آخر یہ ”امدادی پروگرام“ کب تک جاری رہ سکتا تھا۔ جلد ہی بھانڈا پھوٹ گیا۔ اس کا منہ بولا نانا سخت طیش میں آ گیا اور دونوں کو گھر سے نکال دیا۔

اس طرح الزبتھ سے وہ عارضی سہارا بھی چھن گیا۔ اب یہ دونوں بچیاں لا وارثوں کی طرح رہتی تھیں، نہ گھر نہ کوئی دوسرا ٹھکانہ۔ اس دوران ہم جماعت دوستوں نے ان کی حتی المقدور مدد کی مگر پڑھائی برائے نام ہی ہو سکی۔ اس پورے سال میں الزبتھ کی غیر حاضری کے 77 دن تھے۔ اسکول جاتے رہنے کی ایک وجہ تو اسکول کا گرما گرم لنچ تھا جو مفت ملتا تھا۔ اور دوسری وجہ طلبا کے روایتی ٹکٹ کا حصول جو روزانہ سفر کے لیے درکار ہوتے۔

الزبتھ کا وقت اب بھی اپنی جاں بلب ماں کی تیمارداری میں گزرتا تھا۔ جبکہ اس کے باپ کو کوئی رفاہی ادارہ لے گیا اور بہن کسی اور تحفظ گاہ کی نذر ہوئی۔ یوں چار افراد کا یہ مختصر کنبہ تتر بتر ہوکے رہ گیا۔ پھر ایک وقت آیا کہ ماں کو بدترین حالت کے سبببرونکس کے ایک ہسپتال میں ڈال دیا گیا ، جہاں وہ اٹھارہ دسمبر 1996ء کو زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھی اور دراصل ماں کی موت ہی وہ اہم سانحہ تھا کہ جس نے اس کی بھٹکی ہوئی زندگی کو ایک نیا موڑ دیا۔ اپنی خرد اور زور بازو پہ اس راستہ پر چلنا جو کسی علمی ادارے کو جاتا ہے۔ اور یقیناً حالات کو بدلنے کا اس سے بہتر کون سا فیصلہ ہو سکتا ہے؟

ماں کی موت کے وقت الزبتھ کا کوئی گھر نہ تھا۔ باپ کسی ایک پناہ گاہ میں تو بہن کہیں اور خود وہ کبھی کبھار اپنی ایک ہم جماعت کے گھر رہتی تھی جو اس وقت اس کا واحد عارضی ٹھکانہ تھا اور کم از کم نوکری کی صورت میں اس کے مستقل پتہ کے لیے کام آ سکتا تھا۔ ایک عجیب بات تھی کہ بے بسی اور عسرت کے ان حالات میں جب اس کے پیروں کے نیچے سے زمین سرک چکی تھی، اس کے اندر جیسے کسی ایک انجانی قوت نے جنم لیا۔ وہ قوت جو اس سے کہتی ”تم سب کچھ کر سکتی ہو۔جو بھی تم چاہو۔“

اس نے نوکری کی درخواست دی اور اس میں اپنی اسی دوست کا پتہ درج کیا۔ اس طرح اسے شہری ماحولیاتی فضاء کے محافظ ادارے میں ملازمت مل گئی۔ اس ملازمت میں اس کا کام گھر گھر دروازہ کھٹکھٹا کر اپنی ایجنسی کا عندیہ بیان کرنا اور فنڈ جمع کرنا تھا۔ اس جمع شدہ فنڈ میں الزبتھ کا بھی کمیشن ہوتا تھا۔ آہستہ آہستہ اس نے اتنا پیسہ جمع کر لیا کہ ایک پرائیویٹ ہائی اسکول میں داخلہ کی فیس ادا کر سکے۔ وہ پبلک اسکول کے بجائے پرائیویٹ اور مہنگے اسکول میں اس لئے جانا چاہتی تھی کہ وہاں طلبا کم اور انفرادی توجہ زیادہ ہو گی۔”توجہ“ کہ جس کی اسے اشد ضرورت تھی۔ مگر داخلے کا حصول اتنا آسان نہ تھا۔ اس کا پچھلا تعلیمی ریکارڈ اس کے دگرگوں حالات کے سبب ایسا نہ تھا کہ بغیر دشواری کے داخلہ ہو جاتا۔ لیکن یہ اس کی خوش قسمتی تھی کہ گرینج اسکول کے ہیومنیٹیز پرپیٹری اسکول کی ایک ہمدرد اور انسانی جذبے سے بھرپور پیری نام کی ایک استاد کی مدد سے اسے اسکول میں داخلہ مل گیا۔ وہ بہت خوش تھی۔

بھوک اور بے سروسامانی کے اس دور میں بھی اس نے شاعری اور ادب کی لذت کو اپنے اندر محسوس کیا۔ شیکسپئیر کے ڈراموں سے بھی لطف اندوز ہوئی اور فزکس میں بھی سو فی صد نمبر لیے۔ اس زمانے میں کبھی وہ ٹرین میں سو رہی ہوتی تو کبھی سیڑھیوں پہ بیٹھ کر اپنا کام کرتی اور کبھی کسی پارک کے بینچ پر تھک ہار کے سو جاتی ۔ اب اسے بھی ایک نشہ سا تھا۔ شراب اور منشیات کا نہیں بلکہ علم کا، جس میں وہ سر تا پیر غرق تھی۔ ایک دھن تھی وہ نوکری کرتی اور دلجمعی سے پڑھتی۔ اب کوئی لمحہ بھی اس کے آرام کا نہ تھا۔ علم کی روشنی اس کو آسودگی دیتی۔ وہ اسی میں خوش تھی۔ ازحد خوش!

اب وہ سترہ سال کی ہو رہی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ وہ کلاس میں عام بچوں سے عمر میں بڑی ہے۔ لہٰذا اس نے اپنے سمیسٹر کی کلاسوں کی تعداد کو دگنا کر دیا۔ تاکہ جلد ازجلد ہائی اسکول پاس کر سکے۔ اور یوں اس نے چار سال کا نصاب دو سال میں مکمل کر لیا۔ اس شدید اور دہری محنت نے اس کی کارکردگی پہ اثر نہیں ڈالا۔ بلکہ وہ اسکول کی دس بہترین منتخب طلبہ میں شمار تھی۔

اس اسکول کے دس بہترین طلبا کو یہ موقع ملتا تھا کہ بوسٹن اپنے اساتذہ کے ہمراہ ایک مطالعاتی دورہ کر سکیں۔ بوسٹن میں دنیا کی مشہور زمانہ ہارورڈ یونیورسٹی ہے۔ جس میں داخلے کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف ہے اور جہاں کی فیس عام یونیوورسٹی کی فیسوں کے مقابلہ میں دوگنی، تگنی ہے۔ پہلی بار یہ طلبا جب ہارورڈ کے احاطے میں داخل ہوئے تو الزبتھ نے اس یونیورسٹی میں داخلے کے سپنے کو اپنی آنکھوں میں بسا لیا۔

بقول الزبتھ ”جب میں وہاں گئی تو مجھے لگا کہ مجھ میں طاقت ہے۔ میرے چاروں طرف اتنے سارے بہترین وسائل ہیں اور میں اپنی طاقت کے بل بوتے پہ سب کچھ حاصل کر سکتی ہوں۔ صرف موقعہ ملنے کی بات ہے۔ موقعہ جو مجھے آج تک کی زندگی میں کبھی حاصل نہیں ہوا۔ میں وہاں پر موجود پڑھنے والے طلبا کو دیکھ رہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ آخر مجھ میں اور ان میں کیا فرق ہے؟“

دورے سے واپسی پر وہ ہارورڈ یا اسی معیار کے تعلیمی ادارے کا خواب بسائے نیویارک واپس آئی۔ عین اسی زمانے میں اس نے ٹائم میگزین کی جانب سے ضرورت مند طلبا کے لیے وظیفے کی درخواست جمع کرائی جو اس کے تعلیمی ریکارڈ کی وجہ سے قبول ہو گئی۔ اور اس طرح منظور ہونے والا بارہ ہزار ڈالرز سال کے حساب سے تعلیمی وظیفہ اس کے لیے کسی نعمت سے کم نہ تھا۔ اس کے انٹرویو کا مرحلہ انٹرویو لینے والی ٹیم کے لیے حیران کن اور جذباتی تھا۔کیونکہ جب الزبتھ سے اس کے گھر کے پتہ کے متعلق پوچھا گیا تو پہلی بار اس نے اپنے راز کو سب کے سامنے آشکار کیا کہ گھر کا یہ پتہ اس کا نہیں بلکہ اس کی ایک دوست کا ہے جو وہ اس کے گھر والوں کی مہربانی اور ہمدردی کے باعث اپنی داخلہ اور نوکری کی درخواستوں میں استعمال کرتی رہی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس کا تو گھر ہی نہیں ہے۔ وہ سڑکوں اور پارکوں میں سو کر اور انہی حالات میں پڑھتی رہی ہے۔ اس کی بے مکانی اور کسمپرسی کی داستان اتنی پراثر تھی کہ سارے افراد کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں۔ اور پھر اب کون تھا جو اس باہمت اور با حوصلہ لڑکی اور علم کے درمیان رکاوٹ کھڑی کرتا؟

الزیبتھ کی اس داستان کا چرچا ہوا تو ABC (امریکہ کا مشہور ٹی وی چینل) کے پروگرام 20 / 20 میں اس کا انٹرویو ٹیلی کاسٹ ہوا۔ جس کے بعد اسے لگ بھگ چار ہزار کے خطوط موصول ہوئے جس میں اسے داد تحسین پیش کیا گیا۔ اور ہزاروں لوگوں نے اس کی ہمت سے متاثر ہو کر مالی نذرانے بھی پیش کیے۔ اس کے کالج میں داخلے کی درخواستوں کے خرچے کی ذمہ داری خود پروگرام 20 / 20 والوں نے اٹھا لی۔ اسی دوران اس کو اپنے ادارے، ماحولیات والی ایجنسی کی جانب سے اتنی رقم ملی کہ اس نے ایک گھر خرید لیا۔ اس نے ہارورڈ میں داخلے کی درخواست بھی جمع کرائی جہاں اس کا نام انتظار کرنے والوں کی لسٹ پہ تھا۔ انتظار کے اس دورانیے میں اس نے ٹائم میگزین میں ملازمت اختیار کر لی جہاں اس نے صحافت کے رموز سیکھے اور لوگوں کی اپنے لیے والہانہ محبت کا تجربہ بھی کیا۔

ایک دن اس کا جانا ہارورڈ یونیوورسٹی ہوا جہاں اس کا نام ویٹنگ لسٹ پہ تھا۔ اسی دن اس کی ملاقات ایڈمیشن کے ادارے کے سربراہ سے ہوئی۔ رخصتی کے وقت اس کے ہاتھ میں ہارورڈ کا کورس کا کیٹا لاگ تھا۔ جو اس کا ثبوت تھا کہ اب وہ باقاعدہ طالبہ ہے۔ اس کا داخلہ بطور 2004ء کی گریجویٹ طالبہ کے ہوا۔ یہ لمحہ اس کے لیے خوشگوار ترین تھا۔ بقول الزبتھ ”مجھے لگا میرے پر نکل آئے ہیں اور میں اب سب کچھ کر سکتی ہوں۔“

الزبتھ نے ہارورڈ سے نفسیات میں بیچلرز کیا۔ اب اس کی زندگی میں بہن لیزا اور والد شامل تھے جن کا وہ بہت خیال رکھتی تھی۔ لیکن منشیات کے عرصے سے استعمال کی وجہ سے اب اس کا باپ بھی ایڈز میں مبتلا تھا۔ جس کی دیکھ بھال کے لیے الزبتھ نے دو سال کے لیے اپنی تعلیم کا سلسلہ منقطع کر دیا۔ 2006ء میں اپنے والد کے انتقال کے بعد الزبتھ نے کولمبیا یونیوورسٹی سے تعلیمی نفسیات میں ماسٹرز کیا۔ آج وہ ایک کامیاب استاد ہونے کے ساتھ متاثر کن مقرر کے طور پہ نوجوانوں کو ہمت اور حوصلہ اور زندگی میں ہونے والے مثبت امکانات کی کہانی سناتی ہے۔

اپنے تکلیف دہ ماضی پر نہ وہ شاکی ہے اور نہ اسے کوئی قلق ، اس کو ہمیشہ سے یہ احساس تھا کہ اس کے والدین ایک ایسی بیماری کا شکار ہیں کہ وہ اس کو کچھ بھی نہیں دے سکتے۔ اس کا کہنا ہے باوجود کچھ نہ ہونے کے اس کے والدین نے اسے محبت دی۔ وہ اپنے والدین کی بہت شکر گزار ہے کہ انہوں نے اسے صحیح اور غلط راستوں میں فرق کرنا سکھایا۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ والدین کے غلط راستوں ہی نے تو اس کو علم اور کامیابی کا راستہ دکھایا جس کے لیے وہ ان کی ممنون ہے۔

تیئس ستمبر 1980ء میں پیدا ہونے والی الزبتھ کو ملنے والے ایوارڈز کی فہرست طویل ہے۔ اس کی زندگی کی تفصیل کو اس کی سوانح عمری ”بریکنگ نائٹ“ اور اس پر بننے والی فلم ”فرام ہوم لیس ٹو ہارورڈ“ میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ وہ اپنے شوہر اور دو بچوں کے ساتھ پرمسرت زندگی گزار رہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply