عورت مارچ اور ہمارا ادب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


پیارے ساتھی سعید احمد کی نظم ’عورت مارچ سے گزرتے ہوئے‘
مشرف عالم ذوقی
ہٹ جاؤ راستے سے،
عورتوں کا جلوس آ رہا ہے،
انہیں جاہیداد نہیں،
عزت، انسانی حقوق اور تمھارے ساتھ
برابری سے کھڑے ہونے کی جگہ چاہیے!
۔ سعید احمد

وہ آ چکی ہیں
اور اس بار پوری تیاری کے ساتھ
”وہ اپنے جسم کے تنے سے اپنے گرے پتے اٹھاتی ہے
اور روز اپنی بند مٹھی میں سسک کے رہ جاتی ہے
وہ سوچتی ہے
کہ انسان ہونے سے بہتر تو وہ گندم کا ایک پیڑ ہوتی
تو کوئی پرندہ چہچہاتا تو وہ اپنے موسم دیکھتی
لیکن وہ مٹی ہے، صرف مٹی
وہ اپنے بدن سے روز کھلونے بناتی ہے
اور کھلونے سے زیادہ ٹوٹ جاتی ہے۔
وہ کنواری ہے، لیکن ذلت کا لگان سہتی ہے
وہ ہماری ہے
لیکن ہم بھی اسے اپنی دیواروں میں چن کے رکھتے ہیں
کہ ہمارے گھر اینٹوں سے بھی چھوٹے ہیں
۔ سارا شگفتہ

میٹروپولیٹن شہروں کی باتیں چھوڑ دیں تو عورت آج بھی وہی ہے۔ گھٹن اور بندش کا شکار۔ جہاں اس کے پاس کوئی شناخت نہیں اور وہ مدتوں سے اپنی آزادی کے احساس کو ترس رہی ہے۔

عورت آج برانڈ بن چکی ہے۔ ایک ایسا برانڈ، جس کے نام پر ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنے اپنی پروڈکٹ کو دنیا بھر میں پھیلانے کے لئے اس کی مدد لیتی ہیں۔ چاہے وہ جنیفیر لوپیز ہوں، ایشوریہ رائے یا سشمتا سین۔ سوئی سے صابن اور ہوائی جہاز تک، بازار میں عورت کی مارکیٹ ویلیو، مردوں سے زیادہ ہے۔ سچ پوچھیے تو تیزی سے پھیلتی اس مہذب دنیا، گلوبل گاؤں یا اس بڑے بازار میں آج عورتوں نے ہر سطح پر مردوں کو کافی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

یہاں تک کہ ڈبلیو ڈبلیو ایف میں بھی عورتوں کے حسن اور جسمانی مضبوطی نے صنف نازک کے الزام کو بہت حد تک رد کر دیا ہے۔ یعنی وہ صنف نازک تو ہیں لیکن مردوں سے کسی بھی معنی میں کم یا پیچھے نہیں۔ صدہا برسوں کے مسلسل جبر و ظلم کے بعد آج اگر عورت کا نیا چہرہ آپ کے سامنے آیا ہے تو یقیناً آپ کو کسی غلط فہمی میں رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ عورت آپ اور آپ کی حکومت کی بیڑیاں توڑ کر آزاد ہونا چاہتی ہے۔ اور اب آپ اسے روک نہیں سکتے۔

سینکڑوں، ہزاروں برسوں کی تاریخ کا مطالعہ کیجیے تو عورت کا بس ایک ہی چہرہ بار بار سامنے آتا ہے۔ حقارت، نفرت اور جسمانی استحصال کے ساتھ مرد کبھی بھی اسے برابری کا درجہ نہیں دے پایا۔ عورت ایک ایسا ’جانور‘ تھی، جس کا کام مرد کی جسمانی بھوک کو شانت کرنا تھا اور ہزاروں برسوں کی تاریخ میں یہ ’دیوداسیاں‘ سہمی ہوئی، اپنا استحصال دیکھتے ہوئے خاموش تھیں۔ کبھی نہ کبھی اس بغاوت کی چنگاری کو تو پیدا ہونا ہی تھی۔

برسوں پہلے جب رقیہ سخاوت حسین نے ایک ایسی ہی کہانی ’مرد‘ پر لکھی تو مجھے بڑا مزہ آیا۔ رقیہ نے عورت پر صدیوں سے ہوتے آئے ظلم کا بدلہ یوں لیا کہ مرد کو، عورتوں کی طرح ’کوٹھری‘ میں بند کر دیا اور عورت کو کام کرنے دفتر بھیج دیا۔ عورت حاکم تھی اور مرد آدرش کا نمونہ۔ ایک ایسا ’دو پایہ مرد‘ ، جسے عورتیں، اپنے اشاروں پر صرف جسمانی آسودگی کے لئے استعمال میں لاتی تھیں۔ میں رقیہ سخاوت حسین کی اس کہانی کا دلدادہ تھا اور بچپن سے کسی بھی روتی گاتی مجبور وبے بس عورت کو دیکھ پانا میرے لئے بے حد مشکل کام تھا۔

سچ پوچھیے تو میں عورت کو کبھی بھی دیوداسی، بڑنی، سیکس ورکر، نگر بدھو، گنیکا، کال گرل یا بار ڈانسر کے طور پر دیکھنے کا حوصلہ پیدا ہی نہ کر سکا۔ بادشاہوں یا راجاؤں مہاراجاؤں کی کہانیوں میں بھی ملکہ یا مہارانی کے ’رول ماڈل‘ کا میں سخت مخالف رہا۔ میں نہ اسے شہزادی کے طور پر دیکھ سکا، نہ ملکۂ عالم یا مہارانی کے طور پر وہ مجھے مطمئن کر سکیں۔ کیونکہ ہر جگہ وہ مردانہ سامراج کے پنجوں میں پھنسی کمزور اور ابلا نظر آئیں، خواہ انہوں نے اپنے سر پر ملکہ کا تاج یا شہزادیوں سے کپڑے پہن رکھے ہوں۔

تاریخ اور مذہب کی ہزاروں برسوں کی تاریخ میں، خدا کی اس سب سے خوبصورت تخلیق کو میں لاچار، بدحال اور مجبوری کے ’فریم‘ میں قبول نہیں کر سکتا تھا۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ سب لکھ کر میں ان لوگوں کی سخت مخالفت کر رہا ہوں، جو عورت کی حمایت میں صفحات در صفحات سیاہ کرتے رہے ہوں۔ ممکن ہے، بلندی پر پہنچی عورت کے لئے وہ اپنی طرف سے بھی ایک لڑائی لڑ رہے ہوں، مگر آج کی زیادہ تر کہانیوں میں یہی عورت مجھے اتنی مجبور و بے بس نظر آتی ہے، جیسے آپ بیچ سڑک پر اسے ننگا کر رہے ہوں۔

چلیے مان لیا۔ بے حد مہذب، آزاد ہندستان کے کسی گاؤں، قصبے میں ایک ننگا ناچ ہوتا ہے۔ اجتماعی عصمت دری یا کوئی بھی ایسا جرم سرزد ہوتا ہے، جس میں ایک کمزور، بے سہارا عورت کا دامن تار تار ہو جاتا ہے۔ میرے کہنے کا مطلب یہی ہے، ایک بار وہ اپنی عصمت دری کا ماتم کر چکی ہے۔ یہ کیسی فنکاری ہے کہ بار بار ایک جھوٹی تخلیق کے لئے آپ اس کو مزید عریاں کرنے پر آمادہ ہیں۔ شاید زمانہ قدیم سے افسانوں کا یہی سب سے بہتر اور پسندیدہ موضوع رہا ہے۔ جس پر آزادی کے بعد کی ترقی پسندی نے بھیانک، دانشورانہ انداز میں سعی کی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ بہار، اترپردیش، مدھیہ پردیش، راجستھان یا ہندستان کے قبائلی علاقوں یا گاؤں میں ایسے حادثے نہ ہوتے ہوں۔ لیکن بے حد ذائقہ دار انداز میں انہیں پیش کرنا بھی عریانیت کی حدود پار کرنا ہے۔ ہماری کہانی مادام بواری یا انا کارنینا کی سطح پر ہے۔ عورت کو دیکھنے سے ہمیشہ گریز کرتی رہی۔ایسا کیوں ہے، یہ میری سمجھ میں آج تک نہیں آیا۔

لولیتا سے دی اسکارلیٹ لیٹر تک، ایسا نہیں ہے کہ عورتوں پر ہونے والے ظلم اور استحصال کے خلاف وہاں نہیں لکھا گیا، مگر مغرب میں ادب سے متعلق زیادہ تر موضوعات کا محور یا مرکز صرف یہ جسمانی استحصال نہیں ہے۔ لیکن ہمارے یہاں اردو ہندی دونوں زبانوں میں محض ایک کمزور اور ظلم سہتی ہوئی عورت کا تصور ہی رہ گیا ہے۔ کیا آج ایسا ہے؟ صرف چھوٹے موٹے گاؤں، قصبوں میں ہونے والے واقعات کو درکنار کیجیے۔ آپ کہہ سکتے ہیں، بڑے شہروں میں بھی اس طرح کے واقعات عام ہیں۔ جیسے سیکس اسکینڈلز سے لے کر عورتوں کو زندہ جلائے جانے تک کی داستانیں ابھی بھی مہذب دنیا کا مذاق اڑانے کے لئے کافی ہیں۔

اس حقیقت کو تسلیم کیے جانے کے باوجود مجھے احساس ہے کہ یہ وہ موضوعات ہیں، جنہیں پریم چند سے منٹو تک ہزاروں لاکھوں بار دہرایا جا چکا ہے۔اور اس سے بھی بڑا ایک سچ ہے کہ نئے ہزارہ کا سورج طلوع ہونے تک عورت نے اپنی ہر طرح کی بیڑیاں توڑ کر آزاد ہونے کی بھی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ جہاں تک میری بات ہے، نہ میں اسے غلام دیکھ سکتا ہوں، نہ کمزور۔ نہ وہ مجھے شاہ بانو کے طور پر قبول ہے اور نہ ہی عمرانہ کے طور پر۔ میں اس پر قدرت کی صناعی دیکھتا ہوں اور یہی چیز میرے ادب کے لئے نئی نئی فنتاسیوں کو جنم دے جاتی ہے۔

یعنی وہ ہے ایک پراسرار ترین مخلوق۔
رائیڈرز ہیگڑز کی ’شی‘ کی طرح۔ ایک چونکادینے والی حقیقت۔ ’

’جسم۔‘ جسم سے جسم تک۔ وہ ایک آگ ہے، شرارہ ہے۔ وہ اپنی خوبصورتی ، اپنے جمال سے آپ کو ’بھسم‘ کر دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

تو آپ اپنی کہانیوں میں اس عورت کو کیوں نہیں تلاش کرتے! ’

میرے ساتھ مشکل یہی ہے کہ میں عورت کے لئے ہمدردی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ میرے سامنے اسے دیکھنے اور محسوس کرنے کے لئے دوسرے فریم بھی ہیں۔ میں عورت کو صرف مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔ وہ مجھے فنتاسی کے لئے اتنی مناسب معلوم ہوتی ہے کہ یہ نام آتے ہی کسی دوسری دنیا کی مخلوق یا جنت کے دروازے یا ’پری لوک‘ کا تصور سامنے آ جاتا ہے۔ وہ محبت بھی کرتی ہیں اور ایسی محبت کہ اس کی محبت کے آگے نہ صرف سجدہ کرنے کی خواہش ہوتی ہے بلکہ آپ سو بار مر کر سو بار زندہ ہو سکتے ہیں۔

وہ ایک نہ ختم ہونے والا ’اسرار‘ ہے۔ اس کی خوبصورتی آپ الفاظ میں قید نہیں کر سکتے۔ اس کا خوبصورت جسم آپ کے سارے تصورات سے زیادہ شیریں اور غیر یقینی حد تک آپ کے الفاظ کو کھوکھلا اور بے معنی بناتا ہے، کیونکہ وشوامتر کی اس مینکا کو آپ الفاظ کے ذریعہ باندھ ہی نہیں سکتے۔ یعنی، عورت ہر بار میرے لئے طلسم ہوشربا کی ایک ایسی ساحرہ بن کر آتی ہے، جسے پلٹ کر دیکھنے والا انسان پتھر کا ہو جاتا ہے۔ ناقابل یقین، حسن کا مجسمہ اور تخلیقی محرکات کے لئے ایک بیش قیمت تحفہ۔

وہ ندی بھی ہے اور نہیں بھی ہے۔ کوئی سونامی لہر، کوئی جوار بھاٹا، کوئی سیلاب شرارہ، سیلاب، جھومتا گاتا آبشار۔ وہ سب کچھ ہے اور نہیں بھی ہے۔ وہ ایک کبھی نہ ختم ہونے والی ’پری کتھا‘ ہے۔ وہ دنیا کی ساری غزلوں، نظموں سے زیادہ خوبصورت اور ’پراسرار بلا‘ ہے۔ جو آج کی ہر تلاش و تحقیق کے ساتھ نئی اور پراسرار ہوتی چلی جاتی ہے۔

’عورت‘ ۔ کائنات میں بکھرے ہوئے تمام اسرار سے زیادہ پراسرار، خدا کی سب سے حسین تخلیق۔ یعنی اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ وہ عورت کو جان گیا ہے تو شاید اس سے زیادہ شیخی بگھارنے والا یا اس صدی میں اتنا بڑا جھوٹا کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا ۔ عورتیں جو کبھی گھریلو یا پالتو ہوا کرتی تھیں۔ چھوٹی اور کمزور تھیں۔ اپنی پراسرار فطرت یا مکڑی کے جالے میں سمٹی، کوکھ میں مرد کے نطفے کی پرورش کرتیں۔ صدیاں گزر جانے کے بعد بھی وہ محض بچہ دینے والی ایک گائے بن کر رہ گئی تھیں۔

مگر شاید صدیوں میں مرد کے اندر دہکنے والا یہ نطفہ شانت ہوا تھا یا عورت کے لئے یہ مرد آہستہ آہستہ بانجھ یا سرد یا محض بچہ پیدا کرنے والی مشین کا محض ایک پرزہ بن کر رہ گیا تھا۔ عورت اپنے اس احساس سے آزاد ہونا چاہتی ہے۔ شاید اسی لئے اس ناول کا جنم ہوا۔ یا اس لئے کہ عورت جیسی پراسرار مخلوق کو ابھی اور کریدنے یا اس پر تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم نے ابھی بھی مہذب دنیا میں اسے صرف پاک ناموں اور رشتوں میں جکڑ رکھا ہے۔

ماں، ماں ہوتی ہے۔ بہن کی ایک پاکیزہ اور مقدس دنیا ہوتی ہے۔ بیوی کی دنیا ایک الگ دنیا ہوتی ہے۔ یہ سب صرف پاکیزہ رشتے اوڑھے ہوتی ہیں، عورت کا جسم نہیں۔ ان رشتوں میں کہیں جسم کا تصور نہیں آتا (ممکن ہے، بیوی کے رشتہ میں آپ اس جسم کو تلاش کرنے کی کوشش کریں لیکن حقیقت یہ ہے کہ عورت سے بیوی بنتے ہی اس میں شردھا اور تقدس کے پھول بھی کھل اٹھتے ہیں) ۔ وہ تصور جو اچانک ’عورت‘ کہتے ہی، آپ کے آگے ایک خواب رنگوں والے اندر دھنش کی خوبصورتی بکھیر دیتا ہے۔ اس لئے عورت کے نام کے ساتھ ان پاکیزہ رشتوں کا تصور نہیں آتا۔ صرف دل کو لبھانے والا جسم، یعنی ایک ایسا جھنجھنا کر بجنے والا جسم، جس کے صرف خیال سے آپ کسی ہوائی گھوڑے پر سوار ہو جاتے ہیں۔ حقیقت میں عورتوں سے متعلق بڑی بڑی باتیں کرنے کے باوجود ہم وہیں ہوتے ہیں۔ اپنی تنگ نظری کا دھواں پیتے ہوئے۔

”عورت“ ۔ ہزاروں برسوں کے اس سفر میں کہاں کھو گئی ہے عورت؟ پہلے بھی کہیں تھی یا نہیں؟ قدیم گرنتھوں میں دروپدی، کنتی، سیتا، ساوتری، پاروتی، دمینتی، شکنتلا، میتری وغیرہ۔ عزت سے پکاری جانے والی، الفی کے آخر تک لکس کا عریاں اشتہار کیسے بن گئی؟ یا وہ اشتہار نہیں بنی۔ ’لرل‘ اور ’لکس‘ کے اشتہاروں سے آگے نکل کر اور بھی مورچے سنبھالے ہیں اس نے۔ کہا جائے تو ایک پڑاؤ W W F بھی ہے۔ آنے والے وقت میں کہاں کھو گئی یہ عورت؟

’خدائے ستار
عصمتوں کو ہزار پردے میں رکھنے والے
صفات میں تیری عدل بھی ہے
تو پھر میرے اور میرے محرم کے بیچ
تفریق کا سبب کیا؟ ’
۔ عشرت آفریں

ادب تحریر کرنے والی عورتوں کے لئے ایسے سوال کوئی نئے نہیں ہیں کہ اے خدا، اگر تو انصاف پسند ہے تو مرد اور عورت کے درمیان اتنا فرق کیوں؟ اسی لئے آج کی عورت جب اڑان کے لئے اپنے پر کھولتی ہے تو کبھی کبھی ’جوناتھن سی گل‘ کی طرح اپنے دائرے کو توڑتی ہوئی آگے بڑھ جاتی ہے۔ ہم اسے کسی بھی نام سے پکاریں لیکن آخر اسے ایسا کرنے کا حق بھی ہم نے ہی دیا ہے۔

یہ مت بھولیے کہ صدیوں کے ظلم اور مردوں کی غلامی سے نجات کے بعد ، اپنی آزادی کا استعمال کرتے ہوئے وہ اپنی ایک نئی دنیا بھی بنا سکتی ہے۔ اس نئی دنیا کو تنگ نظری کی آنکھوں سے مت دیکھیے۔ وہ اڑنا چاہتی ہے تو اڑان کے نتیجے میں کچھ ’حادثے‘ بھی ہو سکتے ہیں۔ مگر یہاں سب سے اہم بات یہی ہے کہ وہ اب اپنی اڑان کے لئے مکمل طور پر آزاد ہے۔ میرے لئے یہ کوئی چونکنے والی بات نہیں تھی کہ صدیوں سے استحصال کا بوجھ اٹھاتی عورت اپنے وجود، اپنے جسم اور اپنے حقوق کی لڑائی لڑتے ہوئے کہاں کہاں لہولہان یا شکست کا سامنا کر سکتی ہے یا پھر کہاں کہاں وہ مردوں کو شکست دے سکتی ہے۔

عورت: خوف سے مکالمہ اور احتجاج

اور بالآخر وہ ایک دن
اپنے مذہب کے خلاف چھیڑیں گی جہاد
جس مذہب نے قید کر دیا تھا انہیں
ایک بند، گھٹن اور حبس سے بھرے
اندھیرے کمرے میں
۔ صمدیزدانی (سندھی شاعر)

عورت نام آتے ہی گھر کی چہار دیواری میں بند یا قید، پردے میں رہنے والی ایک ’خاتون‘ کا چہرہ سامنے آتا ہے۔ اب سے کچھ سال پہلے تک مسلمان عورتوں کا ملا جلا یہی چہرہ ذہن میں محفوظ تھا۔ گھر میں موٹے موٹے پردوں کے درمیان زندگی بسر کر دینے والی یا گھر سے باہر خطرناک برقعوں میں اوپر سے لے کر نیچے تک خود کو چھپائے ہوئے۔ عرصہ پہلے پارٹیشن پر لکھی ہوئی کسی مشہور ’ہندو افسانہ نگار‘ کے ایک افسانے میں ایسی ہی ایک برقعہ پوش خاتون کا تذکرہ ملتا ہے۔ ”ہم انہیں دیکھ کر ڈر جایا کرتے تھے۔ کالے کالے برقعہ میں وہ کالی کالی ’چڑیل‘ جیسی لگتی تھیں، تب ہم سڑکوں پر شاپنگ کرتی ان عورتوں سے صرف ڈرنے کا کام لیا کرتے تھے۔“

وقت کے ساتھ کالے کالے برقعوں کے رنگ بدل گئے۔ لیکن کتنی بدلی مسلمان عورت یا بالکل ہی نہیں بدلی۔ قاعدے سے دیکھیں، تو اب بھی چھوٹے چھوٹے شہروں کی عورتیں برقعہ تہذیب میں ایک نہ ختم ہونے والی گھٹن کا شکار ہیں۔ لیکن گھٹن میں بغاوت بھی جنم لیتی ہے اور مسلمان عورتوں کی بغاوت کی لمبی داستان رہی ہے۔ ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ ’مذہب کے اصولوں اور قوانین کو زندگی سے تعبیر کرنے والی‘ صوم وصلوٰۃ کی پابند عورت نے ایک دن اچانک بغاوت یا جہاد کے لئے بازو پھیلائے اور کھلی آزاد فضاء میں سمندری پرندے کی طرح اڑتی چلی گئی۔

’فرہنگ آصفیہ‘ میں بغاوت کا لفظی معنی نافرمانی اور سرکشی کا آیا ہے۔ نافرمانی کی پہلی کہانی دنیا کے پہلے انسان یا پہلے پیغمبر حضرت آدمؑ کی بیوی حضرت حوا سے شروع ہو جاتی ہے۔ اللہ نے سب سے پہلے آدم کو پیدا کیا اور پھر آدم کی تنہائی ختم کرنے کے لئے ان کی پسلی سے حضرت حوا کو پیدا کیا۔ جنت میں سب کچھ کھانے پینے کی آزادی تھی، لیکن ایک درخت کے بارے میں حکم تھا کہ اس کا پھل کبھی مت چکھنا۔ ’نافرمانی‘ کی پہلی روایت یہیں سے شروع ہو جاتی ہے۔ عورت پیدائش کے وقت سے ہی اپنی تجسس کو دبا پانے میں ناکام رہی ہے۔ اس کے اندر سوالوں کی ایک ’دنیا‘ پوشیدہ ہوتی ہے۔ حضرت آدمؑ نے لاکھ سمجھایا۔ لیکن آخرکار حضرت حوا نے ’گندم‘ توڑ کر کھا ہی لیا اور اسی نافرمانی کے نتیجے میں آدمؑ اور حوا کو جنت سے نکالا گیا اور وہ دنیا میں آ گئے۔

دنیا کے دروازے آدمؑ اور حواکے لئے کھل چکے تھے۔ وہ آپس میں مل کر رہنے لگے۔ حضرت حوا جب پہلی دفعہ حاملہ ہوئیں، تو ایک بیٹے اور ایک بیٹی کی ایک ساتھ پیدائش ہوئی۔ بیٹے کا نام ’قابیل‘ اور بہن کا نام ’اقلیمہ‘ رکھا گیا۔ دوسری دفعہ جب حاملہ ہوئیں، تو ایک بیٹا ’ہابیل‘ اور بہن ’یہودا‘ کی پیدائش ہوئی۔ شریعت کے مطابق ایک پیٹ کی بیٹی کو دوسرے پیٹ کے بیٹے سے رشتۂ ازدواج میں منسلک کرنا تھا۔ یعنی شریعت کے مطابق ’قابیل‘ کی شادی ’یہودا‘ کے ساتھ اور ’ہابیل‘ کی ’اقلیمہ‘ کے ساتھ طے پائی تھی۔

یہ کیسی افسوسناک بات ہے کہ دنیا کے پہلے قتل کی وجہ بھی ایک عورت ہی بنی۔ پہلا قتل ایک عورت کے نام پر ہوا تھا۔ قابیل پہلی لڑکی یعنی اقلیمہ سے پیار کر بیٹھا۔ اس طرح عورت کے نام پر ’ہابیل‘ کو اپنی جان گنوانی پڑی۔

شریعت کا فرمان جاری کرنے والے اور اس پر عمل کرنے والے مولویوں نے ہر بار مذہب کی حفاظت کی آڑ لے کر عورت کو اپنے پیر کی جوتی بنانے کی کوشش کی ہے۔ مسلسل ظلم، بیویوں کے ساتھ نا انصافیوں کا رواج، آزادی سے کچھ قبل تک بیوی کی موجودگی میں ’داشتہ‘ رکھنے اور کوٹھوں پر جانے کا رواج، اس بارے میں اپنی مردانگی کی جھوٹی دلیلیں، شہزادوں، نوابوں اور مہاراجاؤں کے ہزاروں لاکھوں قصوں میں عورت نام کی چڑیا سچ مچ مردوں کی بے محابا خواہشات کی تکمیل کے لئے کھیتی بن گئی تھی۔ مرد عورت کی ’زمین‘ پر ہل چلا سکتا تھا، رولر چلا سکتا تھا۔ زمین کو چاہے تو زرخیز اور چاہے تو بنجر بنا سکتا تھا۔ وہ مرد کی ’کھیتی‘ تھی اس لئے اسے بولنے کا کوئی حق نہیں تھا۔ مرد اس کا کسی بھی طرح کا استعمال کر سکتا تھا۔

مسلم معاشرے نے عورت کو وہیں اپنایا، جہاں وہ مجبور تھی، جہاں اسے مارا پیٹا یا سزا دی جا سکتی تھی۔ جہاں مرد عورتوں کو ’حلال‘ کر کے جبراً ان کے مالک بن سکتے تھے۔ ایسا نہیں ہے کہ دوسرے معاشروں میں یہ عورت راحت و آرام کی سانس لے رہی تھی۔ یہ عورت ہر جگہ بندشوں میں گھری ہوئی تھی۔ مذہب کی بیڑیاں توڑ کر عورت جب چیخی، تو اس کی چیخ سے آسمان میں بھی سوراخ ہو گیا۔ دیکھا جائے تو عورت ہر جگہ قید میں تھی۔ تبھی تو سیمون دبوار کو کہنا پڑا۔ ’عورت پیدا نہیں ہوتی، بنائی جاتی ہے۔‘

سیمون دبوار کی آپ بیتی کا ایک واقعہ یاد آ رہا ہے۔ قاہرہ کے ایک سیمینار میں بولتے ہوئے سیمون نے مردوں پر عورتوں کے لئے حاکمانہ، زمیندارانہ اور ظالمانہ رویہ اختیار کرنے کا الزام لگایا۔ وہاں تقریب میں شامل مردوں نے سیمون کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ عورتوں کی نابرابری ان کے مذہب کا حصہ ہے اور قرآن میں اس کا ذکر ہے اور مذہب کا قانون دنیا کے ہر قانون سے اوپر ہے۔

یہاں میں صرف ایک مثال دینا چاہوں گا۔ صرف یہ دکھانے کے لئے کہ دیگر ملک یا معاشروں میں بھی شروع سے ہی عورت کی یہی حالت رہی ہے۔ انگریزی ناول ایسی مثالوں سے بھرے پڑے ہیں۔ ایم جی لیوس کا مشہور ناول ’دی میک۔‘ جب 1796 میں شائع ہوا، تو ادبی دنیا میں ہلچل مچ گئی۔ دنیا بھر کے عیسائی طبقے میں اس ناول پر نا اتفاقی کی فضا پیدا ہو گئی۔ پادریوں نے خاص اعلان کیا کہ یہ ناول خریدا جائے نہ پڑھا جائے اور نہ ہی گھر میں رکھا جائے۔

’دی میک‘ میں عورتوں کو ’نن‘ بنانے والی رسم کے خلاف جہاد چھیڑا گیا تھا۔ مذہبی پادریوں کے، عورتوں کے جسمانی استحصال کے ایسے ایسے قصے اس کتاب میں درج تھے کہ دنیا بھر میں اس کتاب کی ہولی جلائی گئی۔ سچ تو یہی ہے، جیسا کہ سیمون دبوار نے کہا تھا۔ ”عورتیں پیدا نہیں ہوتیں بنائی جاتی ہیں۔ وہ ہر بار نئے مردانہ سماج میں نئے نئے طریقے سے ’ایجاد‘ کی جاتی رہی ہیں۔“

کیا یہ بند بند سے معاشرے کا احتجاج تھا، یا مسلم مردانہ سماج سے صدیوں میں جمع ہونے والی بوند بوند نفرت کا نتیجہ۔ یہ مذہب کا کرشمہ تھا یا صدیوں قید میں رہنے والی عورت اور اس کی گھٹن کا نتیجہ۔ برسوں سے گھر کی چہار دیواری میں قید عورت کو آخر ایک نہ ایک دن اپنا پنجرا تو توڑنا ہی تھا۔ دیکھا جائے تو یہ بغاوت کے تیور معاشرے میں کم وبیش جنم لیتے رہے تھے۔

نبیوں کی روایت میں حضرت محمد ﷺ آخری نبی ﷺ ہیں۔ یعنی ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ لیکن بہت بعد میں قرۃ العین طاہرہ نام کی ایک عورت نے اعلان کیا کہ میں ”نبیہ“ ہوں۔ اللہ نے یہ کہا ہے کہ مرد پیغمبر نہیں آئیں گے۔ یہ کہاں کہا گیا ہے کہ عورت پیغمبر نہیں آئیں گی۔ نتیجہ میں قرۃ العین طاہرہ کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ اردو کے مشہور نقاد سجاد حیدر یلدرم کو کہنا پڑا۔ ”میں حشر کا قائل نہیں، مگر حشر کا منتظر ضرور ہوں۔ میں قرۃ العین طاہرہ کے قاتلوں کا حشر دیکھنا چاہتا ہوں۔“

دراصل عورت اب عورت کے گندے ماضی سے لڑ رہی تھی۔ عورت تاریخ پر چابک برسا رہی تھی۔ وہ صدیوں میں سمٹے ان پہلوؤں کا جائزہ لے رہی تھی، جب جسمانی طور پر اسے کمزور ٹھہراتے ہوئے مردانہ سماج میں اس پر ظلم وستم ایک ضروری مذہبی فریضہ بن چکا تھا۔

یہ بھی دیکھنے کی بات ہے کہ دراصل بغاوت کی بیار زیادہ تر وہیں بہہ رہی تھی، جہاں بندشیں تھیں۔ دم گھٹنے والا معاشرہ تھا۔ شاید اسی لئے تقسیم کے بعد کے پاکستان میں حکومت کرنے والے علماء اور ملاؤں کے خلاف عورتوں نے بغیر خوف اپنی آواز بلند کرنا شروع کی۔ کہاں ایک طرف پردہ نشینی کا حکم اور کہاں دوسری طرف دھکا دھک سگریٹ پیتی ہوئی، الفاظ سے تلوار کا کم لیتی ہوئی عورتیں۔

دراصل نئے اسلامی معاشرے میں نوکر شاہی اور سیاست کا جو گھناؤنا کھیل شروع ہوا تھا، وہاں مرد صرف اور صرف ظالم حاکم تھا۔ عورت نئی اسلامی جمہوریت میں، مذہب کا سہارا لے کر پیر کی جوتی بنا دی گئی تھی، درد بھرے انجام کو پہنچی عورتوں کی اسی کہانی پر تہمینہ درانی نے اپنی آپ بیتی لکھنے کا فیصلہ کیا۔ پاکستانی سیاست کے اہم ستون مصطفے ٰ کھر نے سیاست اور مذہب کے درمیان ہم آہنگی قائم کرتے ہوئے اپنی بیویوں کے ساتھ ایسے ظلم کیے کہ آج کے مہذب سماج کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ تہمینہ کی آپ بیتی ’مائی فیوڈل لارڈ‘ نے پاکستان کے سیاسی ادبی حلقے میں ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ یہ عورت کے ظلم وستم کی داستاں تو تھی ہی۔ لیکن عورت اب بھی اپنے وجود کے لئے مرد کو نیچا دکھانے پر اتر آئی تھی۔

بقول سلویا باتھ:
’میں تو شبدوں کی پہیلی ہوں۔
ایک ہاتھ
ایک طلسمی گھر
ایک تربوز
جو لڑھک رہا ہو
ایک سرخ پھل ہاتھی دانت، صندل کی لکڑی
وہ ریزگاری
جو ابھی ابھی تازہ، ٹکسال سے نکلی ہو،
میں ایک رشتہ ہوں
اسٹیج ہوں، گائے کا بچھڑا ہوں
میں نے سنہرے سیبوں کا بھرا تھیلا کھایا ہے
اور اب میں
اس ٹرین میں سوار ہوں
جو کہیں رک نہیں سکتی ”

یہاں کون ہے جس کے پاس درد کی ان صداؤں کو سننے کے لئے وقت ہے۔ یہاں کی ہر عورت ’سیمون دبوار‘ ہے، جسے درد بھری آواز میں آخر کار یہی کہنا ہوتا ہے، عورت پیدا کہاں ہوتی ہے۔ وہ تو بس بنائی جاتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply