مائی لولی پاپ… مائی لولی پاپ
ایک روز غالباً ہفتے کا دن تھا، شام کے وقت ہوسٹل میں کھانے کو دل نہ چاہا تو ایک ترک کی دکان سے ڈونر کباب خریدنے چلا گیا تھا۔ ڈیڑھ پونڈ کا یہ کباب اتنا ہوتا ہے کہ آدمی کا پیٹ بھر جاتا ہے۔ جیسے ہی میں ٹرینٹی کالج کے سامنے سے نکلا تو مجھے گلو مل گیا تھا۔ مجھے دیکھ کر اس نے گاڑی روک دی پھر میں اس کے گھر چلا گیا تھا۔
”ارے آج کوئی لڑکی نہیں ہے تمہارے ساتھ۔ بڑا ہی خراب چھٹی کا دن گزار رہے ہو میاں۔“ میں نے اس سے پوچھا۔
”بس یار آج کچھ گھپلا ہو گیا۔ گھڑی بند ہو گئی تھی جس کا مجھے خیال نہیں رہا۔ مارک اسپنسر کے سامنے جس لڑکی سے ملنا تھا، وہ دو گھنٹے انتظار کر کے چلی گئی۔ لہٰذا بوریت ہی بوریت ہے۔“ اس روز میں نے اس سے پوچھ ہی لیا ”بھائی یہ ٹیلی ویژن، آئس کریم، لولی پاپ والی بات سے یہ لڑکیاں کیسے پھنسا لیتے ہو، مجھے تو سخت حماقت والی بات لگتی ہے یہ تو۔“
وہ ہنس دیا تھا ”آپ لڑکی جو نہیں ہو حمید صاحب! اگر لڑکی ہوتے تو آپ کو بھی پھنسا لیتا۔“ اس نے آنکھ مارتے ہوئے کہا تھا۔ پھر خود ہی کہنے لگا ”حمید صاحب دنیا کے سترہ ملکوں کا ٹھپا میرے پاسپورٹ پر لگا ہوا ہے۔ چار پانچ ملکوں تک تو مجھے ہوش ہی نہیں تھا، باقی ملکوں میں یہ فارمولا میرا چلتا رہا ہے۔ جہاں بھی گیا ہوں کامیاب ہی رہا ناکام نہیں ہوا۔“
بات میں دلچسپی تو پیدا ہو ہی گئی تھی، میں نے پوچھ لیا یہ سترہ ملکوں میں کیا کرتے رہے۔
”ارے حمید صاحب اپنے گاؤں سے تو لڑ کر بھاگا تھا۔ باپ کہتا تھا کام کرو یا پڑھائی کرو، میں کہتا لاہور جاؤں گا۔ بات بہت بڑھ گئی۔ ایک دن گھر سے کچھ روپے چرا کر لاہور بھاگ گیا اور مزدوری شروع کر دی۔ جہاں رہتا تھا وہاں جوہر آباد کا ایک بندہ رہتا تھا لطیف، ہم دونوں نے مل کر طے کیا کہ کراچی چلتے ہیں۔ کراچی جا کر معاملہ خراب ہو گیا۔ وہاں ایک کارخانے میں مزدوری کر لی، وقت اچھا ہی گزر رہا تھا کہ میرا باپ کسی نہ کسی طرح سے تلاش کرتا ہوا منگھو پیر کے علاقے میں ہم لوگوں کے گھر پہنچ گیا جہاں میں دوسرے لوگوں کے ساتھ رہ رہا تھا۔
آج بھی روتا ہوں دل ہی دل میں کہ اگر ان کے ساتھ واپس ملتان چلا جاتا تو خود ہی اپنی زمینوں پر کام کرتا۔ گھر میں بیل بھی تھے، ٹریکٹر بھی۔ گاؤں کی ہی کسی لڑکی سے شادی ہو جاتی۔ نہ میں اس کو ٹیلی ویژن کہتا نہ چاند پکارتا نہ وہ لولی پاپ ہوتی نہ اسے آئس کریم کی طرح کھا جاتا۔ وہ میری بیوی ہوتی صرف بیوی اور میں خوش رہتا۔ ”
اس کے ساتھ ہی اس کا گھر آ گیا تھا۔ فلیٹ میں جا کر سب سے پہلے تو میں نے پکا ہوا سالن گرم کرنے کو رکھ دیا اور اس نے ہارپ کی دو بوتلیں کھولیں اور ایک مجھے پکڑا دی۔ دو گھونٹ بھر کر کہنے لگا ”تو حمید صاحب! باپ میرا واپس چلا گیا، ناراض ہو کر۔ میں نے بھی کوئی خیال نہیں کیا کہ اب تو کراچی میں ہی رہنا ہے، مگر کراچی چھوڑنا پڑ گیا۔ ہوا کیا کہ ابوظہبی کے لئے مزدوروں کی بھرتی ہو رہی تھی۔ میں اور میرا دوست لطیف دونوں ہی بھرتی ہو کر ابوظہبی پہنچ گئے۔
بڑی بلڈنگیں بن رہی تھیں وہاں پر اس وقت اور پاکستان کے بہت سے لوگ مزدوری کر رہے تھے۔ پیسے اچھے ملتے تھے، مگر زندگی نہیں تھی، صبح سے شام تک کام۔ عربی کوئی کچھ کہتا تو نہیں تھا مگر دیکھتا ایسے تھا جیسے ہم ان کے غلام ہوں۔ گھر والوں کو پتہ ہی نہیں تھا کہ میں کہاں ہوں۔ پھر عید آئی تو میں نے بھی ایک کارڈ سب کی دیکھا دیکھی گھر کے پتے پر ڈال دیا۔ فوراً ہی میرے باپ کا خط آیا کہ اس ملک میں مزدوری ہی کر رہے ہو گے، اتنی محنت اپنی زمینوں پر کرو تو نہ جانے کہاں سے کہاں پہنچ جاؤ۔
عید کارڈ کا جواب بھی مجھے چڑھا کر دیا گیا تھا۔ سخت غصہ آیا تھا باپ کا خط پڑھ کر اور اس روز یہی غصہ تھا جس کی وجہ سے سائٹ پر دوسرے مزدور سے جھگڑا ہو گیا تھا۔ وہ تو بعد میں پتہ لگا تھا کہ وہ بے چارہ اپنی بیوی کے خط کا غصہ لئے بیٹھا تھا، تو ہوا کیا کہ وہاں سے ہو گئی چھٹی۔ مگر خدا کی شان حمید صاحب، ابوظہبی میں بیٹھے بیٹھے ہی ایک نوکری کویت کی مل گئی اور میں وہاں سے کویت پہنچ گیا۔ یہ کام تھا ایک آفس میں پیون کا۔
آفس ایک پاکستانی کا ہی تھا، ایک کویتی کے ساتھ مل کر اس کا کام تھا۔ پیسے اچھے تھے اور کام بھی کوئی زیادہ نہیں تھا اور میں سوچ رہا تھا کہ میں تھوڑے سے پیسے اور جمع کر لوں تو پھر واپس ہی چلا جاؤں لاہور۔ کراچی، ابوظہبی، کویت دیکھ لیا تھا، آنکھیں کافی کھل گئی تھیں۔ اپنا گاؤں دنیا کی سب سے اچھی جگہ کی طرح یاد آ رہا تھا کہ لطیف کا خط برمنگھم سے آیا تھا جہاں اس نے کسی پاکستانی لڑکی سے شادی کر لی تھی، کام کر رہا تھا اور خوب عیاشی سے زندگی گزار رہا تھا۔
پھر میرا بھی دماغ خراب ہو گیا کہ یورپ تو دیکھ ہی لوں۔ جمع کی ہوئی رقم سے ٹکٹ کٹایا اور پہنچ گیا سیدھا لندن ائرپورٹ پر۔ ائرپورٹ والوں نے بڑا تنگ کیا۔ نہ میرے سوٹ پر توجہ کی نہ ٹائی دیکھی اور نہ ہی وہ ڈالر جو میں نے اپنے بٹوے میں رکھے ہوئے تھے۔ دو گھنٹے تک میرا انٹرویو لیتے رہے، میں جو کہتا رہا وہ اپنے رجسٹر پر لکھتے رہے اور پھر کہنے لگے تم انگلینڈ میں داخل نہیں ہو سکتے۔ دوسرا ایک جہاز مراکش جا رہا تھا اس میں بٹھا کر مراکش پہنچا دیا۔ ”
باتوں کے دوران سالن اور چاول دونوں ہی گرم ہو چکے تھے۔ میں نے دونوں دیگچیاں لا کر ٹیبل پر رکھ دیں۔ کھانے کے ساتھ اس کی بات کا سلسلہ بھی چل نکلا۔ ”تو صاحب، ملتان کا نکلا ہوا بندہ مراکش پہنچ گیا۔ وہ لوگ کچھ نہیں دیکھتے ہیں، صرف ڈالر دیکھتے ہیں اگر پیسہ ہے تو اہلاً و سہلاً، پیسہ نہیں تو ویزا نہیں۔ تو جناب مراکش میں میرا ٹورسٹ ویزا لگ گیا۔ مراکش پہنچ کر میں نے لطیف کو فون کیا بھائی اپنے ساتھ تو یہ ہو گیا ہے۔ وہ کہنے لگا کہ تمہارے لئے کوئی لڑکی تلاش کرتے ہیں۔
بس اب یہی طریقہ رہ گیا ہے۔ میں تم کو خط لکھوں گا جلدی ہی۔ میں اس کے خط کا انتظار کرنے لگ گیا۔ ادھر ڈالر اس طرح خرچ ہونے لگے جیسے حرام سے کمائے ہوں۔ ہر چیز مہنگی ہے وہاں پر، زندگی گزارنا بہت مشکل ہے۔ وہاں میری ملاقات ایک اور پاکستانی الطاف سے ہوئی اور ہم دونوں دوست بن گئے۔ آپ یقین نہیں کرو گے وہ وہاں پر کیا کر رہا تھا۔ مجھے جب اس نے بتایا تھا تو مجھے یقین نہیں آیا، مگر جب مجھے بھی وہی کچھ کرنا پڑ گیا تو اس روز احساس ہوا تھا کہ پانی سر کے اوپر سے گزر چکا ہے، رہا کچھ بھی نہیں سوائے گلو کے جس کا سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔
تو پھر ایسا ہوا کہ پیسے سارے ہی ختم ہو گئے۔ جہاں رہ رہا تھا وہاں سے نکلنا پڑا۔ سامان جا کر الطاف کے کمرے میں ڈال دیا اور شام کے وقت جب سورج ڈوبنے والا تھا شیخ الاحمر کے چوراہے پر جا کر ہم دونوں کھڑے ہو گئے۔ تھوڑی دیر میں ہی ایک لمبی سی سیاہ گاڑی آئی، ایک بوڑھے سے عربی نے سر نکال کر پوچھا خول؟ اور الطاف نے سر ہلا کر جواب دیا ”خول“ ساتھ ہی کار کا دروازہ کھل گیا اور میں کار میں بیٹھ گیا۔ یہ آغاز تھا۔ رات بھر اس عربی کے ساتھ رہنا پڑا اور بقول الطاف کہ میری طرح کے مضبوط جوان تو بہت کماتے ہیں اس شہر میں۔ مجھے تو اس رات اتنے پیسے مل گئے تھے کہ ہفتہ آرام سے گزر گیا۔ ”
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


