مائی لولی پاپ… مائی لولی پاپ
مجھے تھوڑی دیر کے لئے یقین نہیں آیا کہ گلو کیا کہہ رہا ہے، کس دنیا کی بات کر رہا ہے۔ مگر اس کے چہرے کی سنجیدگی چیخ چیخ کر اپنی سچائی کا اعلان کر رہی تھی۔ ارے صاحب، بہت سے لوگوں کا یہی کام ہے۔ وہاں پر اپنا الطاف تو بہت دنوں سے یہی کر رہا ہے، بڑے بڑے مال دار عرب لے جاتے ہیں، کھلاتے ہیں، پلاتے ہیں اور اگر کچھ زیادہ ہی انہیں خوش کر دیا تو پیسے بھی تھوڑے زیادہ مل جاتے ہیں۔ تو کافی دنوں تک اپنا یہی سلسلہ چلتا رہا۔
وہیں پر الطاف نے یہ ٹیلیویژن اور آئس کریم والی ترکیب سکھائی تھی۔ ہوتا کیا تھا کہ ہفتے میں ایک رات تو عرب شیخوں میں گزرتی تھی اور باقی دن بڑے بڑے ہوٹلوں میں یا ڈسکوز میں لڑکیوں کی تلاش میں۔ سوچتا تھا کہ زندگی ابوظہبی، کویت میں خراب ہی کر دی کیونکہ اب ہر کام میں مزا آنے لگ گیا تھا۔ ادھر لطیف کی کوئی خبر ہی نہیں تھی۔ جو کاغذات اس نے منگوائے وہ بہت پہلے بھیج چکا تھا مگر کوئی جواب اس کا نہیں آیا تھا۔ میں نے پھر فون کیا تو کہنے لگا کہ تھوڑا صبر کرو، کوشش کر رہا ہوں مگر کوئی چڑیا پھنس نہیں رہی۔
پھر ایک دن اس کا خط ملا کہ پیرس پہنچ جاؤں۔ پیرس میں یہ لوگ کوٹلی دی ماں میں رہتے تھے۔ لطیف کے سسرال کے لوگ تھے۔ وہ لوگ وہاں پر کپڑوں کا کاروبار کرتے تھے۔ وہاں لطیف سے تفصیل سے بات ہوئی۔ وہ کہنے لگا کہ تمہارے پاسپورٹ پر ایسی مہر لگ چکی ہے کہ کوئی ماں باپ اپنی لڑکی دینے کو تیار نہیں ہے، کیونکہ تمہاری شادی کو یہ انگریز لوگ شادی نہیں مانیں گے بلکہ یہی کہیں گے کہ شادی تم نے انگلینڈ میں داخل ہونے کے لئے کی ہے۔ لڑکیاں بہت ہیں مگر مسئلہ اب ایسا پیدا ہو گیا ہے کہ فی الحال سلجھانا مشکل ہے۔ ”
پھر اس نے بتایا کہ پیرس والے لوگ میری مدد کریں گے، فی الحال پیرس میں ہی ٹک جاؤ۔ وہ بڑے اچھے لوگ تھے۔ سب لوگوں نے مل کر میرے لئے کچھ رقم جمع کی، کچھ الطاف نے بھیجی۔ ملا کر قسطوں پر ویگن لے لی اور پیرس کے اردگرد کے علاقوں میں لگنے والی مارکیٹوں میں میں اپنی دکان لگانے لگ گیا۔ کام نیا تھا مگر مشکل نہیں تھا۔ تھوڑے ہی دنوں میں سارے ڈھنگ سیکھ گیا۔
ساتھ ہی وہاں پر کام کرنے کا پرمٹ بھی مل گیا۔ جب پیسے جیب میں آ گئے تو الطاف کے سکھائے ہوئے الفاظ پھر کام آنے لگے اور زندگی مزے سے گزرنے لگی۔ ہفتے میں چھ دن کام اور پھر ہفتے کی شام سے شراب، ڈسکو اور لڑکی نہیں بلکہ لڑکیاں۔ مگر حمید صاحب چکر خراب ہو گیا۔ ایک لڑکی تھی فلوریا۔ ارے کیا لڑکی تھی جیسے ہی دکھائی دی دل میں اتر گئی۔ فوراً ہی دوستی ہو گئی مگر تھی بڑی پاگل۔ باتیں خوب کرتی تھی ہاتھ لگانے نہیں دیتی۔ مطلب یہ کہ سیریس ہو گئی تھی۔
ادھر مسئلہ آن کا آ پڑا تھا۔ اب تک جہاں جہاں کوشش کی ہے ناکام نہیں ہوا ہوں۔ بس تو جناب شادی کا وعدہ کرنا پڑا۔ ادھر شادی کا وعدہ کیا تو سمجھ لیں میری ہی ہو گئی۔ میں اسے لے کر ایک ہفتے کے لئے جرمنی چلا گیا۔ خوب گھوما، بڑی عیاشی کی، مگر جب واپس آیا تو کچھ دنوں بعد وہ کہنے لگی کہ ماں بننے والی ہوں، جلدی شادی کرو۔ میں نے سمجھایا کہ یہ ماں واں والی باتیں بے کار کی باتیں ہیں، ابارشن اس ملک میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
مگر اس نے کہاں ماننا تھا۔ الٹا روز روز یہی کہتی تھی کہ شادی کرو۔ مسئلہ جب خاصا سیریس ہو گیا تو پھر میں نے دوستوں سے مشورہ کیا کیونکہ شادی تو میں نے کرنی نہیں تھی۔ اب سوچتا ہوں کہ کر ہی لیتا تو اچھا تھا۔ مگر سب لوگوں نے یہی کہا کہ یہاں سے چلے جاؤ تو اچھا ہے۔ یہ لڑکی کچھ ٹیڑھی ہے، مسئلہ بنا دے گی۔ اصل میں ایسا کبھی کسی کے ساتھ ہوا نہیں تھا، اس لئے میں غلط مشوروں کا شکار ہو گیا۔ وہ تو بعد میں پتہ لگا کہ کرنا کچھ نہیں تھا لڑکی سے ملنا جلنا بند کر دیتا، کچھ دنوں بعد خود ہی بھول جاتی مگر میں ایسا گھبرایا کہ سارا سامان وغیرہ بیچ باچ کر جمع شدہ رقم کے ساتھ فیری پکڑ کر سیدھا آئرلینڈ پہنچ گیا۔
ڈبلن اچھی جگہ ہے اور لوگ بھی بڑے اچھے ہیں، ادھر کچھ پاکستانی لوگوں کا کام بھی ہے۔ ان لوگوں نے پھر مدد کی اور یہاں بھی پیرس والا کام چل نکلا۔ میں جب پیرس میں پریشانی میں تھا تو مجھے پتہ لگا کہ میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے مگر خود اس وقت اتنا پریشان تھا کہ زیادہ توجہ نہ دے سکا، مگر بعد میں بڑا رونا آیا پر اتنی ہمت نہ ہو سکی کہ واپس چلا جاتا۔ اور اب، اب تو ڈبلن میں فٹ ہو گیا ہوں، تین سال ہو گئے ہیں اس ملک میں، نہ جانے کتنی لڑکیوں سے دوستی کی ہے، کتنوں سے دوستی توڑی ہے، ہر ایک کی قسمت ہے۔ کوئی صرف ڈسکو لے جانے پر ہی راضی ہو جاتی ہے، کسی کو ہفتہ دو ہفتہ گھمانا پڑتا ہے اور زیادہ مہنگی ہوتی ہے تو اسپین، اٹلی، ہالینڈ، بلجیئم، سویڈن لے جانا پڑتا ہے۔ الطاف کے سکھائے ہوئے جملوں کا جادو ہے حمید صاحب، جو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ ”
اس روز مجھے گلو پر بڑا غصہ آیا۔ اس سے زیادہ تو اپنے اوپر آیا تھا کہ ایسے شخص کو اپنا اتنا وقت دیا تھا۔ خواہ مخواہ دھوکے میں تھا کہ بے چارہ وطن سے دور پریشانیوں میں گھرا ہوا ہے، بات کرنا اچھا ہے، ملنے جلنے سے خوش ہو جاتا ہے تو میرا کیا جاتا ہے، مگر سارے نیک خیالات بھاپ کی طرح اڑ گئے تھے۔ میں اس سے کہتا کیا۔ کچھ کہنا بے کار تھا، صرف اتنا ہی کہہ سکا کہ ”ابھی بھی بہت دور نہیں گئے ہو گلو۔ وقت نے کافی کچھ دے دیا ہے۔
دولت ابھی اور ملے گی، شاید دو، تین، تیس سال اور گزر جائیں۔ ابھی بھی وقت ہے، ملتان واپس چلے جاؤ، وہی ملتان جہاں حسین آگاہی، صرافہ بازار اور چوک بازار ہے۔ جہاں کی گلی گمنگران والی میں شاہی قلفی والا اپنی چھوٹی سی دکان میں دو سو روپے کی قلفی بیچ کر خوشی خوشی گھر چلا جاتا ہے، جہاں کی دن بھر کی دھول مٹی میں لتھڑا ہوا چہرہ جب ٹیوب ویل کے ٹھنڈے ٹھنڈے پانی سے دھلتا ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے انسان پھر سے پیدا ہو گیا ہے۔
جہاں فلوریا ہے نہ سوزن، نہ لولی پاپ ہے نہ آئس کریم، جہاں برگد کا بوڑھا درخت ہے اور اس کی ٹھنڈی چھاؤں ہے۔ اگر ابھی نہیں جاؤ گے تو کچھ سال کے بعد تم کو مراکش جانا پڑے گا یا ڈبلن کی کونیلی برج کے اوپر اپنی لمبی سی گاڑی روکو گے، وہاں کھڑے ہوئے کسی بلجیئم، ہالینڈ یا پاکستانی لڑکے سے سر نکال کر پوچھو گے ”ہومو؟“ اور وہ کہے گا کہ ”ہاں“ اور تمہارے ساتھ چلا آئے گا۔ یہی انجام ہے تمہارا۔ ”
میری لولی پاپ میری لولی پاپ


