مائی لولی پاپ… مائی لولی پاپ
یو آر مائی ٹیلی ویژن
یو آر مائی فریج
یو آر مائی آئسکریم
یوآر مائی لولی پاپ
یو آر مائی مون
بار میں جا کر بیٹھا تھا کہ یہ آواز آئی اورمیں سمجھ گیا کہ گلو کسی لڑکی کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے اور اب وہ یہی کہے گا کہ میرا ٹیلی ویژن مجھے دنیا دکھاتا ہے اور تم نئی دنیا کی طرح ہو، تم فریج اس لئے ہو کہ اس کے سرد خانے میں میں نے اپنا دل رکھ دیا ہے، تم آئس کریم اس لئے ہو کہ میں تمہیں لولی پاپ کی طرح ہلکے ہلکے چوس چوس کر اپنے جسم و جان میں اتار لوں گا اور جب غم ستائے گا پریشان ہوں گا تو اس ملک میں جہاں چاند نکلتا ہی نہیں، تمہیں سامنے رکھ کر دیکھا کروں گا تمہاری پوجا کروں گا، تم ہی سب کچھ ہو میرا۔ میرا چاند تم ہو، میرا سورج، میرا ٹیلی فون۔
پھر یہ بے وقوف لڑکی ہنسے گی۔ بات تو ہنسنے ہی کی ہے۔ مگر گلو یہ کہتا ہے کہ ہنسے گی پھر پھنسے گی۔ اور اس لئے تھوڑی ہنستی ہے کہ بات ہنسنے کی ہے۔ وہ تو اس لئے ہنستی ہے کہ اس طرح سے کون بات کرتا ہے۔ اس جگہ پر اپنے بارے میں اتنی غلط فہمی میں مبتلا کرا دینا بھی ایک آرٹ ہے اور ہر آرٹ کی طرح اس کی بھی قیمت ہے اور قیمت کچھ زیادہ بھی نہیں، صرف چند دنوں کا ساتھ۔ پھر وہ اپنی راہ اور ہم اپنی راہ، کسی ٹیلی ویژن، کسی آئس کریم، کسی فریج، کسی چاند کی تلاش میں۔
میری اس کی ملاقات محض اتفاق ہی تھی۔ اس روز میں گیلوز بار میں بیٹھا ہوا ہارپ کے پائنٹ پی رہا تھا۔ عام طور پر میں پیتا نہیں ہوں مگر جب وطن یاد آ رہا ہو تو پھر پینی ہی پڑتی ہے۔ بھولنے کے لئے پینا ضروری ہے، یہ کسی کا کہا ہوا سنہرے الفاظ میں لکھنے کے قابل جملہ نہیں ہے بلکہ برسوں کے پینے پلانے کے تجربے کا نتیجہ ہے۔ جب بار بند ہونے میں گھنٹہ بھر رہ گیا تو گلو آیا تھا۔ اس نے تو مجھے نہیں دیکھا کیونکہ وہ جس لڑکی کے ساتھ آیا تھا اس کے ساتھ کچھ زیادہ ہی مصروف تھا۔ میں تھوڑے تھوڑے سرور میں ضرور تھا لیکن رنگوں کے فرق کو بھولا نہیں تھا۔ ایک نظر میں ہی بھانپ گیا تھا کہ یہ اپنا ہے، وطنی ہے۔ وہ آ کر میرے قریب ہی بیٹھا تھا۔ وہ لوگ گنیس پی رہے تھے سیاہ خالص آئرش بیئر، سچ کی طرح ترش اور قلندر کی طرح مست۔
اس کے ساتھ جو لڑکی تھی کچھ خاموش تھی اور گلو ہی کی آواز زیادہ آ رہی تھی۔ آوازوں سے کچھ اندازہ ہوا کہ وہ اپنی محبت کا یقین دلانے کی کوشش کر رہا تھا۔ وعدے نبھانے کی قسمیں کھا رہا تھا اور ساتھ چلنے کی باتیں کر رہا تھا، مگر بات صرف یہاں تک رہتی تو شاید میں بھی سن کر دوسرے کان سے اڑا دیتا، لیکن یکایک بڑی رومانی سی آواز میں وہ بولا تھا ”تم تو میرا ٹیلی ویژن ہو، ارے حسینہ میری جان، تم میرا فریج ہو۔ میری آئس کریم کی طرح ملائم، میری لولی پاپ کی طرح کھٹی میٹھی اور میرے کھوئے ہوئے چاند کی طرح مکمل۔
اور بولتے بولتے بیچ میں دو تین الفاظ اردو کے بھی بول گیا تھا تو مجھے یقین ہو گیا تھا کہ آدمی بھی اپنا ہی ہے۔ بڑا دل چاہا کہ اٹھ کر اس کی ٹیبل پر بیٹھ جاؤں، ایک دو شعر سناؤں، ایک آدھ گندا لطیفہ سنوں، پنجابی میں ایک گالی وہ بکے اور ایک گالی میں بکوں، مگر پھر رکنا پڑا۔ ایک ایسے وقت جب کوئی کسی لڑکی سے ایسی بات کر رہا ہو اس کا مطلب ہوتا ہے مجھے تنگ نہ کرو، مجھے میرے حال پر چھوڑ دو۔ جب بار بند ہوگ یا اور گلاس خالی ہو گیا تو وہ اٹھا تھا۔ لڑکی کی کمر میں اس کا ہاتھ تھا اور لڑکی نے اسے زور سے تھاما ہوا تھا۔ جب وہ مڑا تو اس کی نظر مجھ پر پڑ گئی۔ وہ مسکرایا، مجھے آنکھ ماری، دروازے سے باہر نکل گیا تھا۔
ایک دن میں نے اسے پھر دیکھا تھا۔ اسٹیفن گرین کے شروع میں ہی ایک بار ہے بیڈیز، وہاں سے کسی اور لڑکی کی کمر میں ہاتھ ڈالے نکل رہا تھا، اس دن پھر مجھے اس کی آنکھ کی مار کھانی پڑی تھی اور میں دل ہی دل میں ہنس دیا تھا۔
اگلے ماہ عید تھی اور عید کے دن جب میں ڈبلن کی واحد مسجد سے عید کی نماز پڑھ کر نکل رہا تھا تو میں نے اسے دیکھا۔ وہ بھی دوسرے دروازے سے باہر آ رہا تھا۔ مجھے دیکھ کر پہلے تو اس نے آنکھ ماری، پھر عید مبارک کہہ کر گلے لگ گیا تھا۔ اس روز میں اس کے فلیٹ پر گیا، چھوٹا سا فلیٹ تھا، لورہچ اسٹریٹ کے بالکل بیچ میں۔ وہ یہاں کپڑوں کا کام کرتا تھا، فورڈ کی ایک ویگن اس کے پاس تھی اور آئرلینڈ کے مختلف شہروں میں لگنے والی مارکیٹوں میں اپنے اسٹال لگایا کرتا تھا۔ ”فرصت کے وقت میں وہی کرتا ہوں جو آپ دیکھ چکے ہیں“ یہ کہہ کر اس نے مجھے پھر آنکھ مار دی تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ آنکھ مارنا اس کی عادت بن چکا ہے۔
اس کے بعد ہم کئی دفعہ ملے تھے۔ اس کے پاس وقت کم ہوتا تھا مگر پھر بھی جب بھی وہ ملتا تھا اچھے طریقے سے ملتا تھا۔ کبھی گھر لے جاتا کہ آج گوشت اچھا پکایا ہے کھا لو، اچھے کباب بنائے ہیں کھا لو، آج چاول پکے ہیں کھا لو اور میں ہمیشہ بغیر ٹالے ہوئے چلا جاتا تھا کیونکہ ہاسٹل میں آئرش کھانوں کے سوا کچھ ملتا ہی نہیں تھا اور روز روز آئرش کھانا ایسا ہی ہے جیسے آئی آر اے کے ہاتھوں انگریز فوجیوں کا شکار بننا۔ اس سے گپ شپ بھی ہوتی رہتی۔
اسے آئرلینڈ آئے ہوئے تین سال ہو گئے تھے اور ملک چھوڑے ہوئے پانچ سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا تھا۔ کپڑوں کے کام میں پیسہ بہت ہے مگر خوشی نہیں، جب بھی ملتا تھا آنکھ مارنے کے بعد دوسری ضروری بات وہ یہی کرتا تھا۔ ملک واپس نہیں جا سکتا تھا کیونکہ بقول اس کے ”عادتیں خراب پڑ چکی ہیں۔ نئی نئی لڑکیوں کے بغیر اداس ہو جاتا ہوں۔ اپنے ملک میں تو پاگل ہو جاؤں گا۔“ ایک دن وہ اپنا گھر یاد کر رہا تھا تو میں نے کہا تھا کہ ”بھائی واپس کیوں نہیں چلا جاتا ہے تو کہنے لگا واپس جا کر کروں گا کیا؟ یہاں کپڑوں کے بازار میں تین چار سو پونڈ ہفتہ کماتا ہوں، وہاں تین چار سو روپے مہینہ کماؤں گا۔ گاؤں چلا جاؤں اور زمین پر ہی کام کروں تو روپیہ تو کم ہے سکون بہت ہے۔ مگر عادت خراب پڑ چکی ہے۔ اس کا کیا کروں۔“
”ارے یار، اگر یہ کپڑے ہی بیچنے تھے تو آئے کیوں تھے؟ تکلیف کیا تھی جو خوامخواہ اپنا گاؤں چھوڑ کر اس ملک میں ذلیل ہو رہے ہو؟ ذلیل تو خیر نہیں ہو رہے ہو اچھی شرابیں پی رہے ہو۔ گوری لڑکیوں کے ساتھ گزارا کر رہے ہو اور پونڈ کما رہے ہو اور کیا چاہیے تمہیں؟ خوشی کیسی؟ خوشی تمہارے لئے یہی خوشی ہے۔“ میں نے کچھ نصیحت اور کچھ طنز کے انداز میں اس سے کہا۔
”چاہیے تو کچھ نہیں، مگر سکون نہیں ہے۔ پیسہ بہت ہے میرے پاس، مگر گھر یاد آتا ہے۔“ اس نے میری بات کا جواب دیا۔ ہماری جان پہچان، جان پہچان ہی رہی دوستی نہ بن سکی، مگر اکثر اس سے ملاقاتیں ہوتی رہیں، وہ ملتا پابندی سے تھا، آ کر پاکستانی اخبار لے جاتا تھا۔ خاص طور پر جب ملتا تھا اپنے گاؤں کی، ملتان کی اور لاہور کی بات کرتا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے گھر کی یاد بری طرح سے ستاتی رہتی ہے اسے، اور یہی وجہ تھی کہ میں بھی اپنی طرف سے کوشش کرتا تھا کہ اسے زیادہ سے زیادہ وقت دوں، ملوں تو محبت سے ملوں۔ اسکالر شپ پر آئے ہوئے اسٹوڈنٹ کے پاس دینے کو زیادہ کچھ ہوتا نہیں۔ سننے کو کان ضرور ہوتے ہیں اور میں سنتا تھا، اس لئے وہ اکثر سنانے کو آ جاتا تھا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


