اعتراض مادری زبانوں کے میلے پر نہیں، شفافیت پر ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل ادبی، صوفی اور لاہوتی میلوں کا انعقاد زور و شور سے ہو رہا ہے۔ میلوں کا انعقاد، فنڈنگ اور پبلیسٹی بھی ایک فن ہے جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔

کچھ دن پہلے میں نے سندھ حکومت کے مالی تعاون سے مادری زبانوں کے ادبی میلے پر ایک کالم لکھ کر اپنی رائے کا اظہار کیا جس کے جواب میں انڈس کلچر فورم کے بانی نہایت ہی محترم ندیم نیاز صاحب نے مجھ پر اپنے جوابی مضمون میں یہ الزامات لگائے کہ میں ان کے مادری زبانوں کے ادبی میلوں پر خواہ مخواہ ہی تنقید کرتا ہوں اور کبھی کوئی مثبت رائے اور تجویز پیش نہیں کرتا اور اگر میرے پاس کوئی ثبوت ہے تو میں اسے پیش کروں۔

تو میں بتاتا چلوں کہ میں ہمیشہ جائز تنقید کے ساتھ ساتھ تجاویز بھی پیش کرتا آیا ہوں جو شاید آپ کی نظر سے نہ گزری ہوں۔

میرا پہلا اعتراض کہ اس میلے میں ہر دفعہ صوبہ سندھ سے چند مخصوص افراد کو ہی کیوں بلایا جاتا ہے جن کا لسانیت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

میں ہر دفعہ یہ تجویز دیتا رہا ہوں کہ اپنی شاعری کے ترجمے چھپوانے سے بہتر ہے کہ آپ ناپید ہونے والی مادری زبانوں میں کتابیں چھپوا کر لوگوں میں تقسیم کریں تاکہ ان ناپید ہونے والے زبانوں کو محفوظ کر کے بچایا جا سکے۔

میرا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ سندھ حکومت کے محکمۂ ثقافت کے سائیں نے تو فنکاروں کو تو کہہ دیا ہے کہ بغیر فائلر بنے کسی بھی فنکار کو ایک پھوٹی کوڑی نہیں ملے گی مگر لاکھوں کی فنڈنگ لینے والی این جی اوز رجسٹرڈ ہوں یا نہ ہوں، اپنا آڈٹ کرواتی ہوں یا نہیں اس کی کوئی پروا نہیں ، بس چند گروپس کو ہی فنڈنگ دی جاتی ہے۔

میرا تیسرا اعتراض کہ سائیں سرکار کے مالی تعاون سے ہونے والے یہ میلے صرف اسلام آباد، کراچی اور حیدرآباد تک ہی کیوں محدود ہیں؟ نصیر آباد، خیرپور اور گھوٹکی جیسے چھوٹے شہروں میں ہونے والے لٹریچر فیسٹیولز سائیں کی دعا سے کیوں محروم رہتے ہیں؟

چوتھا اعتراض کہ کیوں سندھ حکومت کے تعاون سے ان ادبی میلوں کی فنڈنگ پر ایک طرف سائیں سرکار کی اس کاوش کی، کچھ ادبی حلقے تعریف کرتے نہیں تھکتے تو دوسری طرف کئی ادبی اور دانشور حلقے ان لاہوتی میلوں اور سندھ فیسٹیول سمیت سندھ حکومت کی فنڈنگ سے ہونے والے میلوں پر سوالات اٹھاتے نظر آتے ہیں کہ یہ سرکاری سرپرستی والے میلے کارپوریٹ کلچر کی نذر ہو چکے ہیں جن کو صرف شغل میلہ ہی کہا جا سکتا ہے کیونکہ ان میلوں سے ثقافت کی خدمت کم اور فنڈ دینے اور لینے والوں کی خدمت زیادہ ہو رہی ہے۔

جس کی تازہ مثال محمکۂ ثقافت کے ڈی جی منظور قناسرو سمیت کئی فرنٹ مینوں کی میگا کرپشن کیس میں گرفتاری اور جن کی جائیدادوں کے تانے بانے سائیں کی طرف جڑتے نظر آتے ہیں۔ پھر منو بھائی کا سوال تو جائز بنتا ہے کہ ویں کنالاں دی کوٹھی وچ ویں پیجارو تے چالی کتے پنجی نوکر دس کنیزاں کتھوں آئیاں۔

سائیں سرکار کے مالی تعاون سے ہونے والا لاہوتی میلہ نشے پنگوں اور خواتین طالبات کے ساتھ بدسلوکی کی وجہ سے سوشل میڈیا پر خاصی تنقید کی زد میں رہا۔

لاہوتی میلے کا نعرہ تھا کہ ماحولیاتی آلودگی کو ختم کریں گے مگر حیرت کی بات یہ کہ وزیر ثقافت سندھ سردار شاہ کی شاعری سے شروع ہونے والے اس میلے کے اختتام تک ماحولیاتی آلودگی پر ایک شعر تک نہ پڑھا گیا بلکہ فضاء کو مزید دھواں دار کر کے آلودگی کو بڑھانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی گئی۔

اسلام آباد میں وزارت ثقافت سندھ اور دیگر کے تعاون سے منعقد کردہ مادری زبانوں کے ادبی میلوں کے جشن، کورونا، سائنس، موسیقی، کلیات، خراج تحسین، آئین، پاکستانی زبانوں، نوادرات کی نمائش اور ڈانس کے جشن تک محدود رہے تو پھر اس طرح کے میلے تو لوگ ورثہ اسلام آباد میں بھی ہوتے ہی رہتے ہیں۔

میرا اگلا اعتراض یہ ہے کہ زبانوں کی ترویج اور ترقی کے حوالے سے سندھ سمیت پورے ملک میں درجنوں ادارے موجود ہیں ان کی مالی معاونت کیوں نہیں کی جاتی تاکہ مادری زبانوں کی ترقی و ترویج اور بچاؤ کے لیے بہتر اقدامات کیے جا سکیں۔

میرا کہنا یہ ہے کہ ان مادری زبانوں کے میلے میں زبانوں پر کام کرنے والے ان سینکڑوں ماہرین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کیوں ان پر سیشنز نہیں کیے جاتے جن میں سرفہرست آئیوٹویا کمیٹی کے اراکین رائے بہادر نارائن، جگن ناتھ، خان بہادر مرزا صادق علی بیگ، میاں محمد، قاضی غلام علی ٹھٹوی سمیت ڈاکٹر ارنسٹ ٹرمپ، سر بارٹل فیئر، بھیرو مل ایڈوانی، مخدوم ابوالحسن، مرزا قلیچ بیگ، جی دولت رام، ڈاکٹر نبی بخش بلوچ، سائیں جی ایم سید، ایم ایچ پنور، علی نواز حاجن جتوئی جیسے اہم نام شامل ہیں۔

میلے کی فنڈنگ، آڈٹ اور اس میلے میں مادری زبانوں اور لسانیت کے ماہرین کو کم وقت اور اہمیت دینے اور مادری زبانوں کے اہل تجربہ کار لوگوں کو نہ بلانے کے حوالے سے جب بھی میلے کی انتظامیہ سے سوال کیا جاتا ہے تو ہمیشہ یہ جواب سننے کو ملتا ہے کہ فنڈنگ اور آڈٹ کے حوالے سے وہ صرف اپنے ڈونرز کو جواب دہ ہیں اور میلے میں زبانوں کے ماہرین کے حوالے سے خواہ مخواہ کا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔

جہاں تک ثبوت کی بات ہے تو ثبوت کے طور پر انڈس کلچرل فورم کی بانی ممبر فضہ قریشی کا سندھی زبان میں انڈس کلچرل فورم کو لکھا گیا خط مختصراً ترجمے کے ساتھ پیش کرتا ہوں۔

”جناب ندیم نیاز صاحب و دیگر جب سندھ گریجویٹ کی اجارہ داری کو چھوڑ کر انڈس کلچرل فورم کو ایک روشن خیال آزاد فورم بنایا تاکہ ہم زبان اور ثقافت کی خدمت کر سکیں مگر چند ہی راگ رنگ کی محفلوں کے بعد پتہ چل گیا کہ یہ صرف چند اشخاص کا فورم ہے جن کو صرف اپنا ذاتی مفاد عزیز ہے اور یہ بھی سندھ گریجویٹ کی بی ٹیم ہی لگتی ہے۔ یہ فورم صرف ایک دوسرے کے ذاتی مفاد اور اپنوں کو نوازنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ یہ چند لوگوں کا ادارہ ہے جہاں پر ہمیں استعمال کیا جا رہا ہے ہم تو سمجھتے تھے کہ ہم اسلام آباد میں اپنی مادری زبانوں اور ثقافت کی خدمت کریں گے مگر یہاں تو کوئی اور ہی کام جاری ہے۔

سندھی میں کہاوت ہے کہ مال کمائے فقیر اور لاٹھیاں کھائے بندر۔ یہاں پر صرف جناب ندیم نیاز صاحب ہی ہیں جو بورڈ اور جنرل باڈی میں ایک ہی زبانوں کے ماہر اور دانشور ہیں ہم تو سمجھو بندر ہیں۔ جناب چیئرمین صاحب کا دل بھی چیئرمین نیب کی طرح پہاڑ جیسا بڑا ہے اور انہیں، نہ ہی کسی کو سننے کی عادت ہے۔ انہوں نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے میلے میں اپنے ذاتی دوستوں کا سلسہ جاری رکھا ہوا ہے۔ انگریزی میں ایک کہاوت ہے کہ

You scratch my back & I will scratch yours!

مادری زبانوں کے میلے میں سب نے دیکھا کہ ان کے ذاتی دوست احباب اور من پسند لوگ ہی شریک ہوتے آ رہے ہیں۔ اور اسی وجہ سے مجھ سمیت کئی لوگ استعفی دے رہے ہیں۔ یہ ادارہ ایک این جی او ہے جسے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اگر جنرل باڈی میں مہمانوں کے لیے طے ہوتا ہے نور نبی کا نام ، تو قرعہ اندازی میں نام بخاری صاحب کا نکل آتا ہے کیوں کہ وہ ٹھہرے آپ کے دوست۔ ایک ہی وقت میں وہی لوگ لسانی ماہر ہیں اور دانشور، ادیب بھی۔ ایک سیشن میں اگر وہ اسپیکر ہوتے ہیں تو دوسرے میں ماڈریٹر بھی۔ ہر دفعہ کہا جاتا ہے کہ میلے میں نئے لوگ بلوائے جائیں مگر غلطی سے پرانے ہی ٹکرا جاتے ہیں کیوں کہ جناب چیئرمین صاحب نے اپنے صوابدیدی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے نام تبدیل کر لیے ہوتے ہیں۔

جناب چیئرمین صاحب میلے کے پرنٹنگ کے کام سمیت ہر کام اپنے خاص بندوں کو دیتے ہیں۔ ایک مرتبہ انہوں نے 45 لاکھ کا اوپن سوسائٹی فاونڈیشن کا پروجیکٹ جمع کروایا اور کسی کو پتہ ہی نہ چلا۔ پہلی دفعہ جب اس منصوبے لیے اسٹاف رکھا گیا تو جناب صاحب خود سے ہی نام لکھ کر لے آئے جس میں پروجیکٹ ڈائریکٹر آپ جناب خود دوسرا اسٹاف ممبر بھائی اور تیسرا روحانی بھائی۔‘‘

نہایت ہی محترم ندیم نیاز صاحب یہ کرپشن اور اقربا پروری کے الزامات فضہ قریشی صاحبہ سمیت کئی اندر کے لوگ ہی لگا رہے ہیں جو انڈس کلچر فورم میں آپ کے ساتھ کام کر چکے یا کر رہے ہیں۔

ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہماری کسی بھی کوتاہی کے سبب کسی بھی زبان کا وجود ختم نہ ہو پائے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری زبانوں کا وجود بھی اسی طرح قائم و دائم رہے جس طرح دنیا کی دوسری زبانوں کا وجود قائم ہے۔

باقی رہی سائیں سرکار کی سیاحت اور ثقافت سے پیار کی باتیں تو اس کا منہ بولتا ثبوت سندھ کے آثار قدیمہ اور ساحتی مقامات ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ موہن جو داڑو، بھمبور، عمر کوٹ، کوٹ ڈیجی قلعہ، ستیوں کا آستانہ ان تمام مقامات کی حالت زار دیکھنے والی ہے۔

سائیں سرکار کے سرپرستی میں سندھی ثقافت صرف سندھی ٹوپی اور اجرک تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply