تاریخی حقائق اور پیریڈ پارٹی
انسانی زندگی پیدائش سے موت تک مختلف مدارج طے کرتی ہے۔ ان تبدیلیوں پر خوشی اورغمی کے اظہار کے لیے ہر دور میں انسان مختلف رسوم و رواج اپناتا رہا ہے۔ وہ جب مذہب کے تصور سے آشنا نہیں ہوا تھا اس وقت بھی اپنے مردوں کو دفناتا تھا اور کچھ رسوم ادا کرتا تھا۔ یہی رسوم بعد میں مذاہب کی بنیاد بنیں۔ قدیم حجری دور میں مبہم اور درمیانی دور میں اس کی واضح نشانیاں ملتی ہیں۔ پنتیس سے پینسٹھ ہزار سال قبل مسیح کی عراق کے ’کھف شاندر‘ نامی غاروں میں ملنے والی قبروں میں پھولوں کے اثار بھی ملے ہیں۔
بعد کی قبروں میں لاش کے قریب ہیگوشتکے ٹکڑے، ہڈیاں اورشکاریآلاتواوزارقرینے سے سجے پائے گئے ہیں۔ اسی طرح بچے کی پیدائش پر بھی مختلف رسوم کا پتا ملتاہے۔ حاملہ عورتوں کے قدیم حجری دور کے ایسے فرازی مجسمے ملتے ہیں جو چٹانوں پر ابھرے ہوئے ہیں اور جن میں جنسی اعضا کو خصوصی طور پر واضح کیا گیا ہے۔ ان میں حمل و پیدائش کے متعلق رسوم کاشائبہ ہوتاہے۔ بہت بعد میں جب انسانی تہذیبین پروان چڑھنا شروع ہوئیں تو یہ رسوم جشن کی شکل اختیار کر گئیں۔ اب جینے مرنے کے ساتھ انسانی زندگی میں وقوع پذیر ہونے والی دیگرتبدیلیوں پر بھی رسوم کا آغاز ہوا۔ بائبل میں ہے ”اسحاق ؑبڑا ہوتا گیا۔ جب اس کا دودھ چھڑایا گیا تو ابراہیم ؑنے اس کے لئے بڑی ضیافت کی۔“
انسانی زندگی سے جنسیات کو نکالا ہی نہیں جاسکتا۔ اس کی وجہ سے نسل انسانی قائم ہے۔ بارہ تیرہ سال کی عمر میں لڑکے اور لڑکی کے جسم میں بہت سی تبدیلیاں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ قد بڑھ جاتا ہے۔ لڑکے کی آواز بھاری ہو جاتی ہے۔ لڑکی کے سینے پر ابھار آنے لگتا ہے۔ موئے عانہ اور زیر بازو بال بھی دکھائی دینا شروع ہو جاتے ہیں۔ لڑکوں کے منہ پر بھی بال اگنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان مواقع پر بھی مختلف علاقوں میں طرح طرح سے خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے۔
پانی پت کی پہلی جنگ میں بابر نے اپنی فوج میں جذبہ جہاد کو ابھارنے کے لئے تمام نشوں سے توبہ کر لی (افیون کے علاوہ ) ۔ شراب کے برتن توڑ دیے گئے۔ فتح کے بعد ہمایوں کی پہلی مرتبہ داڑھی مونڈھنے کی رسم ادا کی گئی اور اس رات اس جشن میں بابر نے پھر سے شراب پینا شروع کر دیا اور باقی فوج کو بھی پینے کی اجازت دے دی گئی۔
ختنے کی رسم بھی جوانی کے آغاز کا ہی اشارہ تھا۔ آسٹریلیا کے آبائی باشندوں میں جوانی کی پہلی نشانی کے ظاہر ہوتے ہی ختنے کیے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی چھاتی، کندھوں، بازؤں اور کولھوں پر بھی چیرے دے کر ریت سے بھر دیے جاتے ہیں۔ تاکہ زخموں کے نشان بڑے بڑے بنیں۔ لڑکیوں میں پہلی ماہواری پر ہی سرین پرتیز دھار آلے سے لائنیں لگائی جاتی ہیں اور اس کے اپنے ہی خاندان کا کوئی لڑکا ملاپ کر کے اس کا کنوارہ پن ختم کرتا ہے۔
اس کے بعد وہ ان تما م لوگوں میں گھل مل جاتی ہے جن میں سے کوئی ایک مستقبل میں اس کا خاوند بن سکتا ہے۔ اس سے ملتی جلتی رسوم افریقہ، جزائر غرب الہند اور امریکہ کے ریڈانڈین قبائل میں بھی پائی جاتی ہیں۔ ان کی ادائیگی کے بعد ہی لڑکے اور لڑکی کو جوان تسلیم کیا جاتا ہے اور انہیں قبیلے کی ذمہ داریاں سونپ دی جاتی ہیں۔
ولیمے کا جشن لڑکے اور لڑکی کے کامیاب جنسی ملاپ کا اعلان ہے۔
جوانی کے آغاز پر لڑکیوں اور لڑکوں کے ساتھ ان کے ماں باپ کے ذہنوں میں عجیب طرح کے خوف اور وسوسے پائے جاتے ہیں۔ ان جسمانی تبدیلیوں کے ساتھ ایک نامعلوم اضطراری کیفیت بچوں کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ انہیں نئے نئے سوالات اور مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے ماں باپ بھی اسی کیفیت سے گزررہے ہوتے ہیں۔ والدین کو سب سے زیادہ خوف جنسی مسائل اور کجروی کا ہوتا ہے۔ کہتے ہیں کہ لکھنو کے نواب اپنے بچوں کو ادب آداب سکھانے کے لئے طوائفوں کے پاس بھیجا کرتے تھے۔ لیکن یہ فقرہ کچھ نامکمل ہے اگر اس میں ادب آداب سے پہلے ’جنسی‘ لگا دیا جائے تو پھر اس کا مفہوم زیادہ واضح ہوتا ہے۔ مہدی جوان ہوا تو اس کے باپ منصور نے اور لیو ٹا لسٹائی کے بھائی کو اس کے باپ نے جوان ہونے پر کنیزیں دیں تاکہ وہ جنسی کجرویوں کا شکار نہ ہو جائیں۔
لڑکیوں میں ہم جولیوں کی نسبت ماہواری شروع ہونے میں دیر ہو جائے تو پریشانی اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ لڑکیاں اور ان کے والدین ایام کے آغاز کا بڑی بے صبری سے انتظار کرتے ہیں۔ وہ بلوغت کے لئے سخت بے چین ہوتے ہیں۔ ان حالات میں جوانی کی پہلی نشانی نظر آنے پر ان کا ایک بہت بڑا خوف ختم ہو جاتا ہے۔ یہ خوف اس پریشانی سے زیادہ ہوتا ہے جو کہ ماں باپ کو شادی کے بعد ان کی بیٹی کے حاملہ نہ ہونے پر ہوتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ لڑکے اور لڑکی کی جوانی کے مسائل حل ہونے پرخوشی مناتے ہیں۔ اگر کوئی آج جوانی کے آغاز کا جشن منانا چاہتاہے تو وہ بھی آزاد ہے۔ کسی کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔


