عورتیں کر سکتی ہیں مگر نہیں کریں گی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مرد اس معاشرے میں اپنی طرف سے جو کر سکتے ہیں ، وہ کرتے ہیں۔  مردوں کا جس کو دل چاہے اس کی گڈی چڑھا دیتے ہیں اور جس پر دل کرتا ہے طعن و تشنیع کر کے حقائق کو اس گہری کھائی میں گرا دیتے ہیں جہاں ان کی اپنی سوچ گھوڑے بیچے سو رہی ہوتی ہے۔

اس میں وہ لوگ سب سے آگے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ عورت کا مطلب پردہ، فتنہ اور صنف نازک ہے۔ جن لوگوں نے یہ سوچ رکھا ہے کہ عورت اور مرد اس معاشرے میں ایک ہی درد رکھتے ہیں تو جناب چھوٹا سا سوال ہے کہ کیا احتلام اور ماہواری کا درد ایک جیسا ہوتا ہے؟ ہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ پدرشاہی نے مرد ذات کو بھی نہایت نقصان پہنچایا ہے اور اس کے باوجود بھی مرد ذات نے پدر شاہی کو اوڑھنا بچھونا بنا کر عورت کی زندگی کو عذاب بنا کر رکھا ہوا ہے۔

بات کرتے ہیں ان کاموں کی جو مردوں کو لگتا ہے کہ اگر عورتیں نہیں کر سکتیں تو ہم مرد بھی نہیں کر سکتے، ایسا نہیں ہوتا اور یہاں تو بالکل نہیں ہوتا۔  آپ کس جہاں کی بات کر رہے ہیں۔  ہمیں وہاں کا پتہ دے دیں۔ میں اپنی تحریروں میں اپنی زندگی سے جڑے واقعات کو اس لیے لکھ دیتی ہوں کیونکہ میرے پاس اس کو لکھنے کا ”کانسینٹ“ ہے۔ مجھے پتہ ہے کہ میں نے کیا ”محسوس“ کیا اس وقت اور اس کو میں کیسے لوگوں کی آگاہی کے مقصد کے تحت لکھ سکتی ہوں۔ تو محترم قارئین میں لکھوں گی اس سے فرق نہیں پڑتا کہ ”لوگ کیا کہیں گے؟“

میں اپنے دفتر میں سی سی ٹی وی کیمرے کی اسکرین کو دیکھ رہی تھی ایک دن اور جو دیکھا وہ یہ تھا کہ ایک صاحب بہت ہی شان سے اپنی گاڑی سے اترے۔ انہوں نے اپنی ٹانگوں کے درمیان اتنی کھجلی کی کہ جتنی کی جا سکتی تھی۔ ان کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں تھا کہ وہ کیمرے کے نظر میں ہیں، ان کے پاس سے خواتین دو بار گزر چکی ہیں ، بچے گزر رہے ہیں ، مرد بھی گزرے مگر وہ مرد تھے نا، ان صاحب کے قریب سے کوئی عورت سیٹی بجا کر نہیں گزری ، کسی مرد نے گالی نہیں دی۔

کچھ دن بعد دفتر کے باہر اسی جگہ میں کھڑی تھی اور اپنے لیے کریم کی گاڑی کا انتظار کرتے ہوئے ایک سگریٹ لگا لیا، انسان سارا دن کا تھکا ہارا خود کو تروتازہ کرنے واسطے اگر سگریٹ لگا لے تو اس میں کسی کا کیا جاتا ہے؟ لیں جناب میں نے سگریٹ کیا لگایا ، میں نے تو سائرن بجا لیا ہو جیسے ”آبیل مجھے مار“ کا ۔ دفتر کے ساتھ والے گیٹ سے ایک شریف مرد نکلے اور کہا کہ ”ہمیں بھی تو پلا“ ۔ میں یہاں لکھتی چلوں کہ اس وقت میرے ساتھ ہمارے دفتر کا ڈرائیور بھی کھڑا تھا۔

جب میں نے اس شریف مرد کو مکمل نظر انداز کرتے ہوئے ایک کش لگایا تو میرے کانوں میں آواز آئی کہ وہ شریف مرد ہمارے ڈرائیور صاحب کو کہہ رہا تھا کہ ”اس سے سگریٹ ہی لے دے“ ، یہ وہ لمحہ تھا جب مجھے اور ڈرائیور صاحب کو وہ غصہ آیا جسے لکھنا مشکل ہے مگر میں نے اسے اشارہ کیا اور ہم دونوں واپس اندر چلے گئے۔

آپ اگر عورت ہیں اور بس اڈے پر کھڑی ہو کر ایک سگریٹ لگا لیں تو یہ لوگ آپ کا پہلا کش بھی حرام کر دیں گے ۔ آس پاس سے کوئی مرد لائٹر مانگے گا، کوئی نمبر، کوئی گالی دے کر گزرے گا تو کوئی سامنے ٹک شاپ سے ایک سگریٹ خرید کر لائے گا سلگائے گا اور عین آپ کے سامنے کھڑے اپنی قمیض اٹھاتے ہوئے ایک ہاتھ کمر پر رکھ کربہت ہی ٹور کے ساتھ یہ جتائے گا کہ میں تجھے دیکھ رہا اور جو تم کر رہی ہو یہ کوئی شریف عورت نہیں کر سکتی۔  لہٰذا اگلی سگریٹ یا تو میرے ساتھ کھڑی ہو کر پینے پڑے گی تمہیں یا پھر میں جو تمہیں ہراساں کر رہا ہوں ، اسے انجوائے کرو۔

میں اسلام آباد سے ملتان کا سفر کر رہی تھی۔ میرے ساتھ ایک خاتون اور مرد کولیگ تھے ۔ ہم تینوں اپنی ہی گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔ براستہ موٹروے سفر کرتے ہوئے ہم نے چکوال کے قریب چائے پینے کو گاڑی روکی۔ ہم نے کہاکہ  باہر کھڑے ہو کر چائے پی جائے، چائے آئی ایک کولیگ کو اس وقت فون آیا اور وہ فون پر بات کرتے ہوئے مجھ سے دس قدم دور چلی گئیں اور جو دوسرے کولیگ تھے ، وہ واش روم چلے گئے۔  میں اکیلی گاڑی کے پاس کھڑی چائے پی رہی تھی کہ ایک بہت بھاری ہاتھ پیچھے کی طرف سے میری ٹانگوں کے درمیان کسی نے ایسے چھوا اور ہاتھ نکالا اور مجھے لگا کہ کسی نے میرے اندر سے گوشت ہی کھینچ لیا ہے۔ میں ابھی بھی لکھتے ہوئے وہ لکھ نہیں پا رہی جو میں نے محسوس کیا ، سانس جیسے بند ہو گئی کسی نے جیسے حلق چیر دیا ہو،  آواز ایک ہزار میل دور سے کھینچتے ہوئے میں اتنا ہی کہہ پائی کہ یہ کیا کر رہے ہو؟ اور وہ حیوان موٹر بائیک پر پھرتی سے بیٹھا کک لگائی اور یہ کہہ کر بھاگ گیا کہ ”کپ ادھر پہنچا دینا“۔

میں اپنی حالت کو سنبھال بھی نہیں پا رہی تھی اور یہ بھی نہیں سمجھ پا رہی تھی کہ ایک لمحے میں میرے ساتھ ہو کیا گیا۔ میں نے کولیگز کو بتانا چاہا مگر میری آواز میں صرف درد تھا جو مجھے بولنے تک نہیں دے رہا تھا۔ اس وقت میں نے ایک بار پھر سے یہ بھی محسوس کیا کہ آپ کی مرضی کے بغیر جب کوئی آپ کو چھوتا ہے تو آپ کس کرب سے گزرتے ہی۔ ں اس لمحے دل کرتا ہے کہ سب کچھ برباد ہو جائے اس حیوان کا اور پھر بھی وہ درد کم نہ ہو پائے جو اس نے آپ کو آپ کی مرضی کے بغیر چھو کر دیا ہے۔

ہم میں سے کتنی ہی عورتیں ہیں ، اس معاشرے میں جب ان کو حمل ٹھہر جائے اور وہ بچہ پیدا نہ کرنا چاہیں تو وہ اپنی مرضی سے حمل ختم کروا سکتی ہیں؟

ہم میں سے کتنی ہی ایسی عورتیں ہیں جن کو کام کی جگہوں پر جنسی ہراسانی صرف اس لیے برداشت کرنا پڑتی ہے کہ ان کے گھر کا چولہا جلتا رہے؟

ہم میں سے کتنی ایسی عورتیں ہیں جن کو شوہر کے گھر والوں کی خدمت صرف اس لیے کرنا پڑتی ہے کہ کہیں اس کے ہاتھ میں طلاق کا رقعہ نہ پکڑا دیا جائے؟

ہم میں سے کتنی عورتیں ہیں جن کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شہر سے باہر نوکری کر کے اپنا مستقبل اپنے ہاتھوں سے بنا سکیں؟

ہم میں سے کتنی عورتیں ہوں گی جنہوں نے کبھی کسی شام تیار ہو کر اس فکر سے آزاد ہو کر باہر گھومنے گئی ہیں کہ شام کا کھانا بھی پکانا ہے؟

ہم میں سے کتنی عورتیں ہیں جن کو اپنے سن یاس کے بارے میں معلومات ہوتی ہے؟ اور پھر ان معلومات کی بناء پر ہم عورتیں اپنی مرضی کے مطابق کوئی فیصلہ کر سکتی ہیں؟

ہم میں سے کتنی عورتیں ہیں جن کو اپنے گھروں میں وراثت کے حق پر بات کرنے دی جاتی ہے؟
ہم میں سے کتنی عورتیں ہیں جن کے شوہروں نے بچہ پیدا نہ کرنے لیے اپنی نس بندی کروائی ہو؟

ہم میں سے کتنی عورتیں ہیں جو رات کے وقت محفوظ سفر کر سکتی ہوں؟
ہم میں سے کتنی عورتیں ہیں جن کی سیاست میں شمولیت ہے اور اس کو معاشرہ قابل قدر جانتا ہو؟

ہم میں سے کتنی عورتیں ہیں جو کسی سیاسی پارٹی کی رکن ہونے کی حیثیت سے اپنی پارٹی کے لیڈر کے موقف کو چیلنج کر سکتی ہوں؟

ہم میں سے کتنی عورتیں ہیں جو کسی سیاسی پارٹی کی لیڈر ہوں؟
ہم میں سے کتنی عورتیں جن کی گواہی آدھی نہیں مانی جاتی؟

ہم میں سے کتنی عورتیں ہیں جو اپنے طاقتور اور پدرشاہی خاندان سے لڑ کر زندگی کو اپنے اصولوں کے مطابق جی رہی ہوں؟

ہم میں سے کتنی عورتیں ہیں جو کہیں بھی کسی شہر میں اپنی مرضی سے ایک ہفتہ گزار آئیں اور ان کی واپسی پر ماں باپ کی عزت پامال نہ ہوئی ہو؟

ہم میں سے کتنی عورتیں ہیں جو نوکری کرتی ہیں اور اپنی کمائی کے پیسوں کا حساب نہ دیتیں ہوں؟
ہم میں سے کتنی عورتیں جنہوں شوہر پر کسی بھی قسم کا تشدد کیا ہو؟
ہم میں سے کتنی عورتیں ہیں جن کو شوہر کو تین بار طلاق کہہ دینے پر شوہر کی طرف مکمل آزادی مل جاتی ہے؟

ہم میں سے کتنی عورتیں ہیں جو طلاق چاہتی ہیں اور ان کو شفاف عدالتی نظام کے تحت بغیر کسی دشواری کے اپنے فیصلے پر پورا اختیار ہوتا ہے؟

ہم میں سے کتنی عورتیں ہیں جن کے ساتھ معاشرہ اس بات پر کھڑا ہو کہ طلاق مسئلے کا حل ہے کوئی بدنامی کا سہرا نہیں ہے؟

ہم میں سے کتنی عورتیں ہیں جنہوں نے اپنے بھائیوں کو غیرت کے نام پر قتل کیا ہو؟

ہم میں سے کتنی عورتیں ہیں جن کے بھائیوں نے برقعہ اس لیے پہنا ہو کہ ان کی بہنوں کو برقعہ اچھا لگتا ہے؟

یہ جو اوپر لکھا گیا ہے اس کا موازنہ کریں اور سوچیں کی کتنے فیصد عورتیں پاکستان میں اس ایک ایک حقیقت کے بارے میں یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ ان کو یہ سب کرنے دیا جاتا ہے یا ان کے مردوں نے یہ سب ان کے لیے ہونے دیا؟

سوچیے اور غور کیجیے کہ عورتیں کیا نہیں کر سکتیں اور کیوں نہیں کرتیں جبکہ انسانی برابری کا اصول یہی ہے کہ صنفی تعصب اور صنفی امتیاز سے ہٹ کر شخصی آزادی کو فروغ دیتے ہوئے جیا اور جینے دیا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *