ڈاکٹر شیر شاہ سید کے جنم دن پر ’دل چارہ گر‘ کا تحفہ

26 مارچ، ڈاکٹر شیر شاہ کا جنم دن، کیا اس تاریخ کو پیدا ہونے والے ان ہی عادت و اطوار، خصوصیات کے حامل ہوتے ہوں گے جیسے ہمارے شاہ صاحب ہیں۔ کون سا وقت، کون سی دعا، کون سا برج، کون سا ستارہ کون سا سیارہ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سورج نہ ستارہ، برج نہ سیارہ، شبھ گھڑی نہ دعا۔ ڈاکٹر عطیہ ظفر سی ماں، اور سید ابو ظفر سے باپ جن بچوں کے حصے میں آئیں تب ایک ایک بچہ انسانیت اور خدمت خلق کی ایسی تصویر بن جاتا ہے کہ ایک جہاں ان کی صلاحیتوں سے فیض یاب ہوتا ہے۔ والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد نیک ہو، خوب ترقی کرے اور ان کا نام روشن کرے۔

لیکن یہ ڈاکٹر شیر شاہ اور ان کے بہن بھائیوں کی خوش نصیبی ہے کہ قدرت نے انہیں ایسے والدین عطا کیے جو نیک تھے، جنہوں نے خوب ترقی کی اور اولاد کا نام روشن کیا۔ ڈاکٹر شیر شاہ اور ان کے بہن بھائیوں نے ایسے ہی گھرانے میں آنکھ کھولی جہاں انہیں آگے بڑھنے کے لیے اپنے ہی گھر میں بلند اخلاق کے حامل عزم و ہمت کے چلتے پھرتے ماڈل میسر آ گئے۔ اپنے مشاہدے اور تجربے سے جانا کہ انسانی فطرت والدین کی فطرت سے ہم آہنگ ہوتی ہے۔ تھوڑا بہت حالات بھی انسان کی پرورش و تربیت کرتے ہیں لیکن ماں باپ کی شخصیت، تربیت، اخلاق اور افکار بچے کی شخصیت کا حصہ بھی ضرور بنتے ہیں۔ مسیحائی شاہ صاحب کے گھرانے کا طرۂ امتیاز ہے۔

گوہر، جن سے ہماری دوستی ’ہم سب‘ کے طفیل ہوئی۔ اور ڈاکٹرشیر شاہ سے ملاقات گوہر کے طفیل۔ ہزاروں ہیں، جو شاہ صاحب کو دوست کہنے میں بجا طور پر فخر محسوس کرتے ہیں، لیکن جنہیں شاہ صاحب دوست کہہ دیں ان کی تو لاٹری نکل آتی ہے۔ گوہر تاج ان ہی میں سے ایک ہیں۔ اور ہمارے لیے ایک عزاز کہ ہم شاہ صاحب کے دوستوں کے دوست ہیں۔

شیر شاہ صاحب کی شخصیت کی طرح ان کی تحریر بھی سادہ، پرخلوص اور انسان دوست۔ ’دل چارہ گر‘ جب فضلی سنز سے منگوائی تب ایک ہی نشست میں ساری پڑھ ڈالی تھی۔ جب ذکر خیر شاہ صاحب کا ہو تو تحریر کا ہر لفظ مقناطیس ہو جاتا ہے، آپ کی نظریں کتاب ختم کیے بغیر کہیں اور نہیں دیکھتیں۔ ان کے دوستوں نے ان کی زندگی اور کام کے کتنے پرت کھولے ہیں، اور ابھی کتنے باقی ہیں، خدا معلوم۔ اس کتاب میں شامل مضامین پڑھ کر اور شاہ صاحب سے مل کر محض ایک شخصیت سے ملنے کا تأثر نہیں ابھرتا، بلکہ ایسا لگتا ہے آپ کسی اسکول میں داخل ہو کر کئی مضامین ایک ساتھ پڑھ رہے ہیں۔ اخلاقیات، سماجیات، حیاتیات، معاشیات، دینیات، بشریات، سائنس، تاریخ، حالات حاضرہ، بین الاقوامی تعلقات، تہذیب، ثقافت، ادب، آرٹ، موسیقی، غرض ہر جاندار سے جڑے مضمون سے آپ استفادہ کر سکتے ہیں۔

اب تبصرے کا خیال آیا تو دوبارہ ایک ایک مضمون پڑھا۔ ان کے چاہنے والوں اور دوستوں کے ان کے بارے میں احساسات، خیالات اور ان کے کام کی نہ ختم ہونے والی تلخیص بھی شاہ صاحب کی طرح دل پذیر ہے۔ اس کتاب میں شامل زاہدہ حنا نے اپنے ایک مضمون ’طبیب اور ادیب‘ میں شاہ صاحب کے افسانوں کے چند فکری جملے لکھ کر قاری کو ان کی تحاریر پڑھنے کے لیے مائل ہی نہیں بے تاب کر دیا ہے۔

آصف فرخی اپنے مضمون میں کمال محبت اور بے ساختہ انداز سے ان کے افسانوں کے اقتباسات پیش کرتے چلے گئے ہیں۔ آصف فرخی پارکھ تھے اور ان کی تحریروں کے کس قدر مداح تھے، اس کی جھلک ان کے مضمون ’ایک اور شیر شاہ‘ میں نظر آتی ہے۔

عبداللہ کہیر نے اپنی خوب صورت تحریر ’پچیسویں گھنٹے کا افسانہ نگار‘ میں جیسے شاہ صاحب کے لیے اپنا دل نکال کر رکھ دیا ہے۔

اقبال خورشید اور شاہ صاحب کی ملاقات کا احوال کیا ہے، گویا سوانحی خاکہ ہے، سفری داستان ہے، ان کی شخصیت کا نچوڑ ہے۔ یہ ایک نہایت خوب صورت تحریر ہے۔ ایسی کئی کمال تحریریں، اس باکمال شخصیت کی زندگی اور ان کے کارناموں کا احاطہ کرتی ہیں۔ یہ کتاب پڑھیے اور شاہ صاحب جیسی نابغۂ روزگار شخصیت کی لمبی عمر کے لیے دعا کیجیے۔

گوہر تاج کی اس تالیف و مرتب کردہ کتاب کی معاونت ارم اقبال نقوی نے کی ہے۔ ارم اقبال بڑی خلیق، قلم دوست و انسان دوست ہیں۔ اس کتاب میں مذکورہ شخصیات کے مضامین کے علاوہ شاہدہ حسن، مہناز رحمن، ڈاکٹر شاہین ظفر، احفاظ الرحمٰن، سیدہ عابدہ رضوی، ڈاکٹر تاج تبسم، ڈاکٹر نگہت شاہ، شیما کرمانی، مرزا یاسین بیگ، مرزا علی اطہر اور دیگر قابل قدر شخصیات کے مضامین کے ساتھ ساتھ ان کے خاندان کا باتصویر تعارف بھی شامل ہے۔

اس کتاب کے ہر مضمون میں شاہ صاحب کی شخصیت، تحریروں اور ان کی گراں قدر خدمات کا تذکرہ بڑے احترام اور محبت سے کیا گیا ہے۔ مسیحا کو دار پر چڑھانے سے کار مسیحائی رکتا نہیں، پنپتا ہے۔ نیک نیتی اور محنت سے انسانیت کے لیے کام کیا جائے تو انسان کے اندر رحم و کرم، عفو و درگزر کی صفات پیدا ہوتی ہیں۔ وہ انسانوں کے شر سے اپنے اور دوسروں کے بچاؤ پر قدرت حاصل کر لیتا ہے۔

شیر شاہ دکھ، کرب، تکلیف، اذیت ڈھونڈتے ہیں، خود کو مبتلا کرتے ہیں، دوسروں کو آزاد کرتے ہیں، ذرا آرام آتا ہے تو دوسروں کو پیغام دینے کی خاطر درد کو رقم کرتے ہوئے پھر تڑپتے ہیں اور دوبارہ کسی زخم خوردہ کو تلاش کرنے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ اچھا چلو زخم دیکھ لیا، بھر دیا، سہہ لیا پر حساب بھی نہیں دیتے۔ دوسرے تو مخالفت میں ان کے کام نہ گنوائیں لیکن ان کی یادداشت اس معاملے میں خاصی کمزور ہے۔ خود کے نام، کام، انعامات اور کامیابیوں کا تذکرہ آپ ان سے کبھی نہیں سنیں گے۔ ایسے بے غرض، بے لوث آدمی کے مماثل اگر کوئی ہے تو وہ ڈاکٹرشیر شاہ سید ہی ہیں۔

سو آپ ان کا ساتھ دیں نہ دیں، اپنے حصے کی شمع روشن کریں نہ کریں۔ اپنے گھر، محلے اور دفتر میں کتاب سے دوستی کا پرچار ضرور کریں۔ انسان دوستی کی طرف پہلا قدم کتاب دوستی ہے۔ اور کتاب دوستی کے لیے ’دل چارہ گر‘ سے بہتر تحفہ اور کیا ہو سکتا ہے۔ یہ خیال ہماری ذہین دوست کے گوہر تاج کے دماغ میں آیا، اور اس خیال کی عمل شکل ہمارے سامنے اس کار فلاح کی صورت میں موجود ہے۔ ’دل چارہ گر‘ کو نوید ہو کہ اس کتاب سے ہونے والی آمدنی کوہی گوٹھ میں قائم اسپتال کے لیے مختص کر دی گئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words