یونیورسٹی آف لاہور میں محبت کی یادگار قائم کی جائے
لاہور یونیورسٹی میں ایک نوجوان کی طرف سے اپنی محبوبہ کو بھری محفل میں گلے سے لگانے کے واقعے کے بعد مختلف اطراف سے تبصروں کی بھرمار ہو گئی ہے۔ ہر کوئی اس واقعے کے بارے میں اپنی اپنی سوچ کے مطابق بات کر رہا ہے۔ چند ایک نے اس محبت کے ایونٹ پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسانا شروع کردیے ہیں۔ جب کہ ایک طبقہ اس واقعے کو بے راہ روی کے طور پر لے رہا ہے
دوسری طرف یونیورسٹی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دونوں کو گھر واپسی کا ٹکٹ تھما دیا۔ یونیورسٹی والے بڑے کٹھور ثابت ہوئے۔ انہوں نے عشق اور محبت کے سچے اور کھرے جذبے کی لاج نہیں رکھی۔ اور اس معصوم جوڑے کو چاچا کیدو بن کر ایک دوسرے سے جدا کر دیا۔ اب دونوں پیار کے پیاسے آپس میں مل بھی پائیں گے کہ نہیں۔ یہ ایک دکھ بھرا سوال ہے۔
بدقسمتی سے ان بیچاروں کو اس بات کی سمجھ ہی نہیں آئی کہ وہ کس بے درد اور ظالم معاشرے میں اس قسم کی حرکت کر بیٹھے ہیں۔ لاہور کا ظالم سماج بجائے ان کی قدر کرتا۔ ان کو پھولوں میں لاد دیتا اور ان کی ستائش اور حوصلہ افزائی کرتا۔ دونوں کو بے عزت اور رسوا کر کے رکھ دیا ہے۔ اس جوڑے نے سسی پنوں، ہیر رانجھا، شیریں فرہاد اور دیگر عشق و محبت کی لازوال داستانوں کو اپنے اس بے مثال جذبے سے زندہ جاوید کر دیا اور بہت سے ایسے لڑکوں اور لڑکیوں کو ایک نیا راستہ دکھا دیا ہے جن کے سنگدل والدین اولاد کی محبت میں رکاوٹ ڈالنے کی جسارت کرتے ہیں، اور ان کو مرضی اور آزادی کے ساتھ اپنا ہم سفر تلاش کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ وہ اب تعلیمی اداروں اور پبلک پلیسز میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھام سکتے ہیں۔ بلکہ انہیں ایک دوسرے کے ساتھ لپٹنے سے بھی کوئی نہیں روک سکے گا۔
میری ایک خواہش ہے کہ اس جگہ پر جہاں نوجوان لڑکی نے اپنے محبوب کو دو زانو ہو کر محبت بھرے انداز میں پھول پیش کیے۔ اس کے بعد لڑکے نے بڑے جذباتی انداز میں بھینچ کر اسے گلے سے لگا لیا۔ وہاں پر ایک محبت کی یادگار قائم ہونی چاہیے۔ جہاں ہر سال محبت کے طلب گار اپنے روشن مستقبل کے فیصلے کریں اور ایک دوسرے کو گلے بھی لگائیں اور پھول بھی پیش کریں۔ ہمارے ملک میں بہت زیادہ تعداد میں عشق اور پیار کے دیوانے لڑکے اور لڑکیاں اس کار خیر میں حصہ ڈالنے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔
درحقیقت موجودہ دور کے بچے بڑے رومانٹک اور جذباتی قسم کی سوچ کے مالک ہیں۔ اس نفسانفسی کے دور میں پیار اور محبت کی شمع روشن کرنا بڑے دل گردے کا کام ہے۔ لیکن آفرین ہے اس باکمال جوان جوڑے پر جنہوں نے محبت کا دیا جلا کر دوسروں کے لئے ایک مثال قائم کر دی ہے۔
ایک طرف آج کل کی نوجوان نسل ہے جو سارے زمانے کی پروا کیے بنا سر بازار ایک دوسرے سے لپٹ جاتی ہے۔ اور ایک وہ پرانے زمانے کا دقیانوسی دور تھا جب میاں بیوی ایک دوسرے کا نام لینے میں بھی شرم محسوس کیا کرتے تھے۔ جب شوہر کو پانی کی طلب ہوتی تو بیوی سے کہتا۔ ”ارے او منے کی اماں! ذرا پانی کا گلاس تو دینا“ ۔ اسی طرح بیگم صاحبہ اپنے شوہر کو بڑے ادب سے اور شرما کر مخاطب کرتیں۔ ”نکے کے ابا! دفتر سے واپسی پر ایک پاؤ مسور کی دال تو لیتے آئیے گا“ دوسری طرف دادی اماں پان کی گلوری منہ میں ڈالتے ہوئے بہو یا بیٹی کو ڈانٹتے ہوئے کہتیں۔ ”ارے او نگوڑی بھیا کے سامنے دوپٹے کا پلو سیدھا کر کے بیٹھ۔“
پرانے زمانے میں خواتین ٹوپی والا برقعہ اوڑھ کر بازار کا رخ کیا کرتیں۔ اس وقت لوگ بھی بڑے سادہ لوح ہوا کرتے تھے۔ ریپ، ہراسمنٹ، اغوا اور اس قسم کے دوسرے واقعات کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔ میاں بیوی اپنے بزرگوں کے سامنے ایک چارپائی بیٹھنا بھی بے ادبی سمجھتے تھے۔ کیسا بیک ورڈ اور دقیانوسی قسم کا زمانہ تھا۔ نہ کوئی موج مستی اور نہ ہلہ گلہ اور نہ کوئی ٹھمکے اور بریک ڈانس جیسا آج کل چند آزاد خیال عورتیں اور لڑکیاں یوم خواتین پر بازاروں میں کر رہی ہوتی ہیں۔
کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایک ایسا وقت بھی آئے گا۔ جب جوان لڑکیاں چست جینز، ٹائٹس اور بغیر بازو کی شرٹ پہن کر بازاروں، پارکوں اور یونیورسٹیوں میں پرانے زمانے کے سادہ لوح اور دقیانوسی سوچ رکھنے والوں کا منہ چڑاتی پھریں گی۔
اسی طرح زمانہ بدلتا گیا اور ملک بھی آگے بڑھتا رہا۔ خواتین کے لباس بھی فیشن کے مطابق تبدیل ہوتے چلے گئے۔ ہمارے حکمرانوں کی بھی اپنی اپنی ترجیحات تھیں۔ جنرل ضیاء کا دور صنف نازک کے لئے بڑا کٹھن رہا۔ انہوں نے بیچاری عورتوں کو پردے کا پابند کر دیا تھا لیکن جنرل مشرف نے ملک کو ایک نئے سانچے میں ڈھال دیا۔ دراصل وہ ہلے گلے، موج مستی اور ڈانس پارٹی کے بڑے رسیا تھے۔ ان کے دور حکومت میں موبائل انڈسٹری کو بڑا فروغ حاصل ہوا۔ اس کے علاوہ نت نئے ٹی وی چینلز کی بھرمار ہوتی چلی گئی۔ موصوف کے ذہن پر بھارت کے ساتھ دوستی اور روابط بڑھانے کا خبط بھی سوار تھا۔ ان کے دور میں انڈین ٹی وی چینلز کے ساتھ ساتھ بھارتی فلموں کی بھی بھرمار ہو گئی۔
ہماری نوجوان نسل کو اور کیا چاہیے تھا۔ جیسے خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے ویسے ہی وہ پڑوسی ملک کے رنگ میں رنگتے چلے گئے۔ پاکستانی صنف نازک ویسے بھی نقالی کرنے میں کسی سے پیچھے نہیں رہتی۔ لہٰذا انہوں نے ”اندھے کو کیا چاہیے دو آنکھیں“ کے مصداق انڈین ڈرامہ اور فلم ایکٹریسز کی طرح کے فیشن کو اپنانا شروع کر دیا۔ نوجوان لڑکیوں کے ڈریسز ماڈرن اور مختصر ہوتے چلے گئے۔ ان کو نہ اپنے مذہب کا خیال رہا اور نہ یہ سوچنے کی زحمت گوارا کی کہ ان کی اور ہماری ثقافت میں کتنا واضح فرق ہے۔
اگر ہم پاکستانی بحیثیت قوم یورپ، جاپان، فرانس اور دیگر مغربی اور ایشیائی ممالک کا جدید ٹیکنالوجی میں مقابلہ نہیں کر سکتے اور ڈسپلن، ادب، تہذیب، تعلیم اور تمدن کے میدان میں ان کے ہم پلہ نہیں ہو سکتے، کم از کم ان جیسے مغربی ڈریس تو پہن سکتے ہیں۔ چلو کچھ تو ان جیسا کر سکتے ہیں۔ ہماری صلاحیت اور ٹیلنٹ جتنا ہو گا بس اتنا ہی کریں گے۔ ہماری نوجوان نسل کچھ اور کر سکے یا نہیں مگر فیشن کی تقلید کرنے میں بڑی مہارت رکھتی ہے۔
وہ جس طرح اپنے والدین کی دقیانوسی سوچ سے الرجک ہے۔ ویسے ہی پیار، عشق اور محبت کے معاملے میں بڑی حساس بھی ہے۔ وہ اپنے جیون ساتھی کو حاصل کرنے کے لئے اپنے والدین، خاندان اور رشتے داروں کی پروا کیے بناء ہر حد تک جا سکتی ہے۔ آنے والا دور مشرقی اقدار اور خاندانی روایات کے لئے بڑا کٹھن ثابت ہو سکتا ہے۔ خدا خیر کرے۔


