اپنے آپ میں مگن آٹسٹک بچے اور ہمارا رویہ
مدرز ڈے 2011
”یہ وہ بچے ہیں جو ’امی آپ کا ڈھیر سارا شکریہ‘ کہنے سے قاصر ہیں۔ ماؤں کے لئے یہ انتہائی تکلیف دہ ہوگا۔ بیشتر مائیں رنجیدہ ہوجاتی ہوں گی کہ انہیں مدرز ڈے پر کوئی چھوٹا سا تحفہ یا چند پھول بھی نہیں ملتے۔ میں کبھی بھی ان ماؤں کا کرب پوری طرح سمجھ نہیں پاؤں گا۔ لیکن مجھے یہ ضرور علم ہے کہ یہ تمام بچے جو ایک دفعہ دل بھر کے اپنی ماؤں کا شکریہ ادا نہیں کر سکتے۔ جو اپنی امی کا ہاتھ تھام کر کہہ دینا چاہتے ہیں کہ ہمیں آپ سے بے پناہ محبت ہے اور آپ ہمارے لئے جو کچھ کرتی ہیں ہم اس سب کے لئے بے حد شکرگزار ہیں لیکن یہ کر نہیں سکتے۔ میں بھی ایک ایسا ہی بچہ ہوں۔ میں تو ایک اتنا سا ’تھینک یو‘ بھی نہیں کہہ سکتا۔ کیسی بد نصیبی ہے اور کیسا ظلم ہے“
(جاپانی آٹسٹک بچے ناؤکی ہیگا شیڈا کی کتاب سات دفعہ گر کر آٹھویں بار کھڑا ہونا سے اقتباس)
پہلا منظر: سپر اسٹور پر ایک چھ سالہ بچہ والدین سے سنبھالے نہیں سنبھل رہا۔ وہ ان کی گرفت سے نکل کر مارکیٹ سے باہر بھاگ جانا چاہتا ہے۔ وہ ماں کو دھکا دیتا ہے اور باپ کے بازو میں ناخن گاڑ دیتا ہے۔ آپ سوچتے ہیں کہ ان والدین کو بچے پالنے اور تربیت دینے کی بالکل تمیز نہیں۔
دوسرا منظر: اس دفعہ بچہ کافی بڑا ہے شاید اٹھارہ یا بیس سال کا۔ آپ خود سے کہتے ہیں لاحول و لا قوة کیسی گستاخ اور ناخلف اولاد ہے۔ یقیناً والدین کے گناہوں کی سزا ہے۔ شکر ہے میرے بچے ایسے فرمانبردار ہیں جیسے چابی سے چلنے والے کھلونے ہوں۔
غالباً ہم میں سے اکثر کے ذہن میں آٹسٹک کا یہی تصور ہے۔ حالانکہ یہ بے ترتیبی کا سپیکٹرم ہے۔ جس طرح دھنک میں دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں بالکل مختلف رنگ ہوتے ہیں اسی طرح ہر آٹسٹک بچہ دوسرے آٹسٹک بچے سے مختلف ہوتا ہے۔ ان تمام میں چند علامات مشترک ہو سکتی ہیں جیسے :
نام لے کر پکارنے پر کوئی رد عمل نہ ظاہر کرنا
بات کرتے ہوئے آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کے بجائے مسلسل نظریں پھیرے رکھنا
کوئی ذائقہ، خوشبو یا آواز پسند نہ آنے پر بری طرح مضطرب ہوجانا
بار بار ایک ہی قسم کی حرکات کی تکرار کرنا بالخصوص ہاتھوں کو اوپر نیچے مارنا، یا انگلیاں کھول بند کرنا۔ آگے پیچھے بے اختیار ڈولتے رہنا۔

دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل میں شریک ہونے کے بجائے پورے انہماک سے اپنی سرگرمی میں مصروف رہنا۔
بار بار وہی الفاظ یا فقرے دہرانا
بالکل احساس نہ ہونا کہ دوسرے کیا سوچ رہے ہیں یا محسوس کرتے ہیں
خود اپنے احساسات کا اظہار کرنے میں دشواری محسوس کرنا
روزانہ ایک بے لچک روٹین پسند کرنا اس میں ذرا سی تبدیلی پر بے قابو ہوجانا۔ کھلونوں یا جوتوں کو ایک ترتیب میں رکھنا اور ذرا بے ترتیبی پر برافروختہ ہوجانا۔ اسکول جانے کے لئے ہمیشہ ایک ہی راستہ اختیار کرنا
کچھ موضوعات اور سرگرمیوں میں انتہائی دلچسپی ظاہر کرنا۔
کوئی کام کرنے کا کہنے پر بہت پریشان ہوجانا
دوست بنانے میں دشواری محسوس کرنا یا تنہا رہنے کو ترجیح دینا۔
الفاظ کے صرف لغوی معنی سمجھنا۔ سادہ محاورے سمجھنے سے بالکل قاصر ہونا۔
آٹسٹک بچوں کا خاندان پر اثر
گھر کے ایک بچے میں آٹزم کی تشخیص صرف اس بچے کی نہیں بلکہ پورے گھرانے کی زندگی میں بھونچال برپا کر دیتا ہے۔ والدین صدمہ یا سوگواری کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔ کچھ کے لئے یہ تشخیص اطمینان کا باعث بنتی ہے کہ ایک بے نام کیفیت کو نام مل گیا۔ اچھی خاصی تعداد خود کو ہی مورد الزام ٹھہراتی ہے۔
آٹزم ایک عمر بھر ساتھ چلنے والی کیفیت ہے۔ والدین ایک شدید سٹریس سے دوچار ہوتے ہیں۔ یہ سٹریس رشتۂ ازدواج کی بنیادوں کو ہلا سکتا ہے۔ والدین کے دل پر ہمہ وقت بوجھ سا رہتا ہے کہ بچہ کے مخصوص اظہار کی وجہ بھوک، پیاس، حاجت، درد، اضطراب ہے یا کچھ اور۔
معاشی بوجھ کا اندازہ اس سے لگائیں کہ امریکہ میں ہر آٹسٹک بچے پر آنے والا خرچہ سالانہ ساٹھ ہزار ڈالر ہے۔ آٹسٹک بچوں کے اہل خانہ سے رشتہ دار، عزیز و اقارب کنارہ کشی کرلیتے ہیں یا والدین خود اپنی سماجی زندگی محدود کرلیتے ہیں۔ ان والدین کے دوسرے بچے یہ احساس لئے پرورش پاتے ہیں کہ انہیں اتنی توجہ نہیں دی جا رہی جتنی آٹسٹک بچے کو ملتی ہے۔ وہ اپنے اس بھائی/ بہن کو اپنے لیے شرمندگی کا باعث بھی سمجھتے ہیں۔
آٹزم اور پاکستان
پاکستان میں آٹزم کے حوالے سے کئی خیراتی و معلوماتی ادارے اور شخصیات فعال ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے منسلک محققین جویریہ فرخ اور گلناز انجم نے بھی ایک بہت معلوماتی سروے کیا ہے جو پچھلے سال ہی بین الاقوامی جرائد میں شائع ہوا۔ ان کی پیشگی اجازت سے کچھ نکات درج ذیل ہیں۔
اس سروے میں آٹسٹک بچوں کی نگہداشت کرنے والی جو مائیں شریک ہوئیں وہ تعلیم یافتہ اور متمول گھرانوں سے تھیں۔
سروے کے آغاز میں بتایا گیا ہے والدین اپنے اس سٹریس کے تدارک کے لئے کئی مختلف تدابیر اختیار کر سکتے ہیں جن میں مسائل سے فراریت، انکار اور مذہب میں پناہ تلاش کرنے سے والدین کا سٹریس، ٹینشن اور ڈپریشن مزید بڑھ جاتا ہے۔ مذہبی افراد ہر دکھ اور بیماری کو من جانب اللہ سمجھ کر قبول کرتے ہیں جس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ بیماری کی وجوہات کی تلاش اور مدد حاصل کرنے کے بجائے وہ صرف بچے کا تن ڈھانپ کر اور پیٹ بھر کر سمجھتے ہیں کہ فرض پورا ہوا۔
پاکستانی ثقافت میں معذوری کو کسی گناہ کی سزا سمجھ لیا جاتا ہے بالخصوص ذہنی معذوری تو کلنک کا ٹیکہ بن جاتی ہے۔
پاکستان کے شماریاتی بیورو کے مطابق یہاں آٹسٹک سپیکٹرم کے اشاریے بہت زیادہ ہیں۔ اندازہ ہے کہ ساڑھے تین لاکھ بچے اس صورتحال سے دوچار ہیں۔
اس سروے میں شریک خواتین کے جوابات سے یہ بات سامنے آئی کہ وہ ابتدا میں عمر کے حساب سے بچے کی نشو و نما میں تاخیر کے دوسرے اسباب تلاش کرتی رہیں۔ انہیں اس مرض کے متعلق قطعی کوئی آگہی نہیں تھی۔ متعدد ماؤں کو الزام تراشی کا سامنا کرنا پڑا۔ مشورے دیے گئے کہ وہ ”گناہ کرنا چھوڑ دیں“ ، ”یا تم نے بہت بڑی غلطی کی ہوگی، والدین کی نافرمانی کی ہوگی یا ممکن ہے ایام ماہواری میں سیکس کیا ہو“
ان خواتین کی رائے میں مغربی ثقافت میں ہماری نسبت زیادہ برداشت ہے۔ کچھ مائیں اپنے بچوں کے ساتھ ترقی یافتہ ممالک ہجرت کرنے کا سوچ رہی ہیں۔
ایک حقیقت یہ بھی سامنے آئی کہ ڈاکٹر سمیت صحت کے عملے کا شعور بھی ناقص پے۔ اکثر کی سوچ پر روایتی فکر کے گہرے سائے ہیں۔
برطانوی پاکستانی اور آٹزم
”برطانوی ثقافتی اقدار سے نا آشنائی، انگریزی زبان سے ناواقفیت اور غربت وہ وجوہات ہیں جن سے پاکستانی بچوں میں آٹزم کی بروقت تشخیص اور طبی مداخلت میں رکاوٹ ہوتی ہے“
”سروے میں شریک تمام ماؤں کی ترجیحی زبان اردو تھی۔ ان کے خیال میں ڈاکٹر نے تشخیص کرنے میں جلد بازی سے کام لیا“
”ہمارا کلچر بہت خراب ہے۔ انہیں پتہ بھی ہوتا ہے کہ بچہ بیمار ہے پھر بھی وہ تکلیف دہ فقرے کسنے سے باز نہیں آتے“ ایک ماں
(حوالہ: ثنا رضوی۔ جرنل آف ریسرچ ان سپیشل نیڈز)
” آٹزم کو قبول کرنے میں مذہبی عقائد کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ عقیدہ والدین میں ہمت، امید اور یہ خیال بیدار رکھتا ہے کہ آخر کار سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ عقیدوں کا نظام والدین اور خاندان کی دماغی صحت پر منفی اثرات بھی مرتب کر سکتا ہے مثلاً کچھ سمجھتے ہیں کہ بچے پر جن کا سایہ ہے۔ اور عاملوں، باباؤں کو مدد کے لئے پکارتے ہیں۔ یوں تشخیص رد ہوجاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچے اور والدین بالخصوص ماں کی ذہنی صحت مسلسل گرتی چلی جاتی ہے۔
والدین میں آگہی کی کمی سے کچھ والدین سمجھتے ہیں کہ صبح شام دعاؤں سے بچے کی تمام بیماریاں ازخود رفع دفع ہوجائیں گی۔ اس طرح اصل تشخیص کو ردی کی ٹوکری میں ڈال کر اسکول اور دیگر اداروں کی پیشہ ورانہ رائے کو بچے سے امتیازی سلوک کہا جاتا ہے۔
عبادت گاہوں میں آٹسٹک بچوں کے ساتھ کوئی خاص مہربانہ سلوک نہیں کیا جاتا۔ مذہبی رہنما والدین کو مسلسل آٹزم کی تشخیص قبول نہ کرنے کی ترغیب دیتے رہتے ہیں۔
(حوالہ: آٹزم وائس یوکے )





