2020 کی عالمی وبا سے ہماری اینڈوکرائن پریکٹس کیسے متاثر ہوئی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


(میرے حالیہ مضمون ”ہمدرد عورت اور بے گھر آدمی“ کے لیے کچھ پڑھنے والوں کی طرف سے یہ فیڈ بیک ملی کہ اس میں بہت سارے خیالات ایک جگہ جمع ہیں اور اس میں ربط موجود نہیں ہے۔ اس کے بعد میں نے اس میں کچھ رد و بدل کی ہے۔ اس مضمون کی ایڈیٹنگ میں لینہ حاشر کی مدد کا شکریہ۔ )

14 مارچ 2020 پر جب ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے عالمی وبا کا اعلان کیا تو کچھ ہفتوں کے لیے کلینک میں آنے والے مریضوں کی تعداد میں شدید کمی واقع ہوئی۔ اس کے بعد ٹیلی میڈیسن کا رجحان بڑھا۔ قوانین میں تیزی سے تبدلیاں کی گئیں اور مختلف انٹرنیٹ کے ذرائع سے مریضوں کو ان کے گھروں میں ہی دیکھنا ممکن بنا۔

کورونا کی وبا کی وجہ سے تمام کانفرنسیں کینسل ہو گئیں۔ ہر میٹنگ آن لائن ہونے لگی۔ اپنے گھر یا آفس سے کانفرنس کو زوم یا اور کسی آن لائن پلیٹ فارم کے زرئیے اٹینڈ کرنا نہایت مشکل کام ہے۔ وہ بڑے ہالوں میں اپنے پروفیسروں سے لیکچر سننے یا اپنے کولیگز سے بات چیت کرنے سے بالکل مختلف محسوس ہوتا ہے۔ اب یہ گفتگو چیٹ روم کی طرح کی بات چیت میں بدل گئی ہے۔ شروع میں کچھ سیکھ رہے تھے، کچھ مختلف بھی تھا لیکن اس پورے سال کے گزرنے کے بعد سب لوگ ہی اس طرح کی کانفرنسوں سے تنگ آ چکے ہیں۔ اس سے ہمیں یہ اندازہ ہوا کہ انسانوں کے درمیان رابطہ کس قدر اہمیت رکھتا ہے۔

آج اینڈوکرائن سوسائٹی کی 2021 کانفرنس (Endocrine society 2021 ) کے بعد میرا کلینک میں پہلا دن تھا۔ صبح میری نرس نے کہا کہ اتنے دن بعد آپ کا چہرہ دیکھ کر اچھا لگا۔ میں نے کہا، ”آدھا چہرہ!“ پھر ہم ہنس پڑے۔ 2020 کی وبا کے بعد میڈیسن کی ہر فیلڈ اور عام زندگی میں دنیا بھر میں ماسک (facial masks) پہننے کا رواج بڑھا ہے جو کہ خوش آئند ہے۔ فلو کی شرح کافی کم ہو گئی۔ ماسک سے چہرے چھپانے سے جہاں سانس اور بات چیت کے ذریعے لوگوں کے درمیان انفیکشن پھیلنے کا خطرہ کم ہوا ہے وہاں انسانوں کی ایک دوسرے سے کمیونیکیشن (Communication) میں رکاوٹ بھی پیدا ہوئی ہے۔

ڈاکٹر البرٹ مہرابین کی تحقیق بتاتی ہے کہ انسانوں کے درمیان گفتگو میں الفاظ محض 7 فیصد حصہ بٹاتے ہیں اور بقایا کمیونیکیشن چہرے کے تاثرات اور باڈی لینگوج (Body language) سے ہوتی ہے۔ ماسک پہننے سے متعلق کوئی کچھ بھی باتیں کرتا رہے، تمام سائنسی ڈیٹا سے ہم یہی دیکھ رہے ہیں کہ یہ انسانوں کی صحت کے لیے بہتر ہے۔

عالمی وبا کے دوران دنیا کے مختلف ممالک کے درمیان کمیونیکیشن میں اضافہ ہوا اور تعلیم کے میدان میں نئے دروازے کھلے۔ اینڈوکرائن کی روٹیشن بھی آن لائن ہونے لگی۔ آج صبح کے مریضوں کو دیکھنے کے بعد ہماری انٹرنیٹ پر اینڈوکرائن کی کلاس ہوئی جس میں مختلف ممالک کے اسٹوڈنٹ ڈاکٹر شامل ہیں۔ کوئی انڈیا سے، کوئی کوریا، کوئی روس اور کوئی مصر سے۔ یہ سب ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں تو مجھے سن کر بہت اچھا لگتا ہے۔ آج ایک انڈین ڈاکٹر نے اپنے بھتیجے کا کیس پیش کیا جو تھائیرائڈ گلینڈ کے بغیر پیدا ہوا تھا۔

جیسا کہ ہم جانتے ہیں تھائیرائڈ گلینڈ تمام جسم کے درست طریقے سے کام کرنے میں نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ اگر کسی کا تھائیرائڈ بہت زیادہ ہارمون بنائے یا بہت کم تو دونوں حالات میں بیماری پیدا ہوتی ہے۔ باقی اسٹوڈنٹس نے علامات سے نہ صرف اس کو بالکل درست تشخیص بھی کر لیا بلکہ نہایت ہمدردی سے اس کے بارے میں سوالات پوچھے۔ ایک لمحے کو بھی ایسا محسوس نہیں ہوا جیسے وہ مختلف ملکوں سے تھے۔ میڈیکل سائنس تمام دنیا میں ایک جیسی ہے۔ 2020 کی عالمی وبا نے بھی ہمیں یہی سبق سکھایا کہ انسان کس طرح ملکی حدود سے بالاتر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ انسانیت ملکوں کی تقسیم سے بالاتر ہے۔

رابعہ کی گولڈن گرلز سیریز کے لیے تبصرہ :

ہیلو رابعہ، آپ کی گولڈن گرلز سیریز کے لیے اپنا مضمون بھیج رہی ہوں۔ امید ہے کہ آپ اسے ایک مفید اضافہ پائیں گی۔ آپ نے صنفی تعصبات (Gender discrimination) اور خواتین کے استحصال کے خلاف لکھا ہے۔ میں یہ سمجھتی ہوں کہ بچوں کو صنفی، نسلی یا مذہبی لحاظ سے مختلف گروہوں میں بانٹنے سے ان کی ذہنی نشو و نما متاثر ہوتی ہے اور وہ دیگر انسانوں کو ایک منفرد انسان کے بجائے ایک گروپ کا حصہ بنا کر دیکھنے لگتے ہیں۔ ان افراد میں نارمل تعلقات مشکل ہوتے ہیں کیونکہ ان کے ذہن میں ایک دوسرے کا خاکہ حقیقت پر مبنی ہونے کے بجائے خیالی ہوتا ہے۔

کسی ایک انسان کو تکلیف دینا یا دکھ میں دیکھنا مشکل کام ہے لیکن یہی کام ایک گروہ کے ساتھ زیادہ باآسانی کیا جا سکتا ہے۔ کتاب کاسٹ میں ولکرسن کے مطابق بالکل اسی طرح جیسے ایک کالے کو اذیت دینا یا اس کو چیخیں مارتے دیکھنا ایک شخص کے طور پر ناقابل برداشت ہو سکتا ہے لیکن جہاں تمام معاشرے نے اس بات کو قبول کر لیا ہو کہ کالے کم درجے کے انسان ہیں اور اسی طرح کے سلوک کے حق دار ہیں تو پھر ان کے ساتھ اس طرح تشدد کرنا ایک نارمل سی بات بن جاتا ہے۔

جہاں صنف کی بنیاد پر دو گروہ بنا کر ان کو الگ رکھا جائے (Gender segregation) تو اس سے بھی کافی مسائل کھڑے ہوتے ہیں۔ اس طرح ان گروہوں میں موجود افراد ایک دوسرے کو ایک فرد کے طور پر دیکھنے یا سمجھنے کے بجائے خیالی توقعات کے ساتھ دیکھنے لگتے ہیں۔ یہ گروہ بندی مصنوعی ہے۔ چونکہ دنیا میں دو صنفیں نہیں اور انسانوں کی خصوصیات ملتی جلتی ہیں۔ ڈاکٹر سہیل نے اپنے ایک مضمون میں جیناتی سے لے کر سماجی دائروں تک صنفی امتیازات آسان زبان میں بیان کیے تھے۔

وہ سب کو پڑھنا چاہیے تاکہ ان کو معلوم ہو کہ دنیا میں محض دو صنفیں نہیں ہیں جن میں سے ایک کا مقصد بچے پیدا کرنا اور دوسرے کا مقصد جنگ لڑنا ہے۔ اور نہ ہی جسم کے اعضاء کا صنف سے ضروری تعلق ہے۔ یہ پدرانہ سماج کی بنائی ہوئی مصنوعی تقسیم ہے جس سے صرف خواتین کا ہی نہیں بلکہ تمام انسانوں کا استحصال ہوتا ہے۔ کافی لوگ صبح شام کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ وہ خواتین کی عزت کرتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت میں عزت کرنا بہت دور کی بات ہے، وہ اس بات سے بھی قطعاً لاعلم ہیں کہ خواتین کی عزت کرنے کا کیا مطلب ہے؟ اسی لیے یہ اہم ہے کہ لوگ ایک دوسرے سے بات کریں اور دوسرے انسانوں کی بات سنیں۔ ان کی زندگی کے تجربات اور ان کے احساسات سمجھنے کی کوشش کریں۔ اسی طرح ہم خود کو اس بنیادی انسانی ہمدردی سے جوڑ پائیں گے جو اس وقت غائب دکھائی دیتی ہے۔

خواتین کی ہراسانی سے پیدا ہونے والی بدحالی اور غربت

خواتین کی ہراسانی سے متعلق امریکہ میں بھی پہلے اس طرح ضوابط موجود نہیں تھے جیسے اب ہیں۔ دیگر ممالک میں بھی وقت کے ساتھ قانون اور معاشرے میں اس سدھار کی اشد ضرورت ہے۔ ایک ہفتہ کلینک نہ جائیں تو چھٹی کے بعد پہلا دن اس محاورے کو ثابت کر دیتا ہے کہ سر منڈواتے ہی اولے پڑے۔ اسی لیے کل رات ایک گھنٹے کے لیے آ کر میں نے اپنے آفس کے پودوں کو پانی دیا، فون میسج سنے، کچھ دواؤں کے ری فیل کیے اور میز پر جمع فارم بھرے۔

پیر کے دن جو بھی مریض آنے والے تھے، ان کے چارٹ بھی دیکھے۔ ایک ہفتہ بھی چھٹی پر جائیں تو اس سے پہلے اور بعد ہم میں سے مزید کام نچوڑا جاتا ہے۔ ایک ساتھ تین چار کام ساتھ میں کرنے پڑیں تو انسان خود کو مفلوج محسوس کرتا ہے۔ میں اس بلڈنگ میں پچھلے دس سال سے کام کر رہی ہوں۔ چوبیس گھنٹے میں جب چاہے آ کر یہاں اپنا کام کر سکتی ہوں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب تک میں اپنے آفس سے نکلوں تو یہاں کام کرنے والے تمام لوگ گھر جا چکے ہوتے ہیں۔

لیکن مجھے کبھی یہاں اکیلے خوف محسوس نہیں ہوتا۔ اسی لیے اپنے کام پر دھیان دے سکتی ہوں۔ جہاں خواتین کی ہراسانی عام ہو وہاں کوئی کام درست طریقے سے نہیں ہو سکتا ۔ اسی لیے ملک میں اس قدر بدحالی ہے۔ بنگلہ دیش اسی لیے ترقی کر رہا ہے کہ وہاں خواتین میں تعلیم کی شرح بڑھی ہے اور وہ ہر میدان میں کام کر رہی ہیں۔

ڈاکٹر منعم سمیع نے کہا کہ ”ہمارے معاشرے میں یہ بات بھی بہت عام ہے کہ ہم اپنے بیٹوں کر بلاجھجک بیرون ممالک میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے بھیج دیتے ہیں۔ لیکن جب بیٹی کی اعلیٰ تعلیم کی باری آتی ہے یہ سوچ کر یہ خیال رد کر دیتے ہیں کہ یہ تو لڑکی ہے اور پھر اس کی عزت کا خیال آ جاتا ہے کہ باہر جا کر تنہا کیا کرے گی اور اس کو شادی کے بندھن میں باندھ دیتے ہیں۔ جبکہ جس طرح بیٹے کو باہر پڑھنے بغیر سوچے سمجھے بھیجا جا سکتا ہے اگر بیٹی کو بھی اتنا ہی بھروسا دیا جاتا تو آپ کی اگلی نسلیں سنور جاتیں۔ جو بھروسا بیٹے پر کیا وہی اپنی بیٹی کو بھی دیں۔“

جب ہم اسٹوڈنٹس تھے تو ایک مرتبہ میں ٹلسا میں اوکلاہوما یونیورسٹی کی لائبریری میں بیٹھی پڑھ رہی تھی۔ وہاں پڑھتے ہوئے مجھے نیند آ گئی۔ جب میری آنکھ کھلی تو لائبریری بند ہو چکی تھی اور سب لوگ جا چکے تھے۔ میں نے لائبریرین کی ڈیسک پر رکھے فون پر زیرو کا بٹن دبایا اور کہا کہ سیکیورٹی بھیج دیں۔ انہوں نے آ کر دروازہ کھول دیا اور میں گھر چلی گئی۔ جہاں امن اور سکون اور حفاظت ہو، وہیں پر ملک کے شہری دنیا کی تعمیر پر توجہ دے سکتے ہیں۔ جہاں بدتمیزی اور بدتہذیبی چل رہی ہو، وہاں کوئی کام ٹھیک سے نہیں ہو سکتا ۔

ڈاکٹر فریال مرتضیٰ نے کہا کہ ”ہم سب اپنی زندگی میں کئی موقعوں پر صنفی اور نسلی امتیاز کے شکار ہوئے ہیں۔ لیکن اس تمام صورت حال کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ یہ ہمارے معاشرے میں اس قدر عام ہے کہ اس کو نارمل حالات سمجھ لیا گیا ہے اور ہم سب نے ان حالات کو درست کرنے کے بجائے ان کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔“

ڈاکٹر زہرہ سہیل کے مطابق ”کراچی اور بقایا پاکستان میں اس طرح خواتین ڈاکٹر بغیر خوف اور جھجک کے گورنمنٹ ہسپتالوں میں آ جا نہیں سکتیں اور بغیر رکاوٹوں کے کام نہیں کر سکتیں جس طرح امریکہ میں کر سکتی ہیں۔ ان خواتین ڈاکٹروں کے لیے کام کا مناسب ماحول نہ ملنے کی وجہ سے بیماری اور موت عام ہیں۔ عام افراد اس بات سے لاعلم ہیں کہ ان کے گھورنے، بدتمیزی کرنے اور خواتین کو ہراساں کرنے سے کس طرح تمام ملک میں لوگوں کی زندگیاں خراب ہو رہی ہیں۔“

جو آدمی خواتین کی تعلیم اور ان کی ملازمت کے خلاف بات کرتے ہیں وہ اصل میں خود نالائق ہوتے ہیں جو مقابلے سے بھی گھبراتے ہیں اور اپنا بوجھ بھی خود نہیں اٹھا سکتے۔ اس کے لیے وہ فوراً آپ کو مذہبی دائرہ دکھا دیں گے۔ ان کی تعلیمات کے مطابق اگر خواتین گھروں میں مقید رہیں، خود زندگی میں ترقی نہ کریں اور اپنی زندگیاں اپنے خاندان کے لیے قربان کریں تو ان کو مرنے کے بعد جنت مل سکے گی۔ ان خیالات پر یقین رکھتے ہوئے کئی نسلوں نے پریشانیاں بھی اٹھائی ہیں اور اس کی وجہ سے ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہوئی ہے۔

میرے خیال میں خواتین کو اب یہی کہنا شروع کرنا چاہیے کہ جنت آپ رکھ لیں، کیش ادھر کر دیں۔ دنیا کہاں سے کہاں نکل گئی۔ ہر کوئی اپنی زندگی میں جدوجہد اور کام میں مصروف ہے۔ جو لوگ خود اپنی زندگی میں ناکام اور ناخوش ہوتے ہیں وہی دوسرے لوگوں کی ٹوہ میں لگتے ہیں، ان کے معاملات میں ٹانگ اڑاتے ہیں اور بلاوجہ نکتہ چینی میں مصروف ہوتے ہیں۔

خواتین کے درمیان دوستی اور ہمکاری کے ذریعے دنیا کی بہتری

پدرانہ سماج بنیادی وسائل کے لیے خواتین کو دوسری خواتین کے مقابل کھڑا کرتا ہے۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں تمام انسانوں کو تعلیم، تربیت اور حقوق میسر ہوں، وہاں ان کو ان بنیادی انسانی وسائل کے لیے دوسرے انسانوں کے استحصال کی ضرورت نہیں رہتی۔ کل رات ایک جاننے والی خاتون جو نارمن ہسپتال میں کام کرتی ہیں، ٹیکسٹ میسجز (Text messages) بھیج رہی تھیں کہ ان کی بچی کا وزن پچھلے چھ ماہ میں بیس پاؤنڈ کم ہو گیا ہے اور وہ سارا دن پیشاب کرتی رہتی ہے۔

میں نے ان سے کہا کہ صبح آ جائیں تو میں اس کو ان مریضوں کے درمیان دیکھ لوں گی۔ انہوں نے کہا کہ نہیں آپ بہت مصروف ہیں، ہم اپوائنٹمنٹ بنا لیں گے۔ میں نے ان سے کہا کہ علامات کچھ ارجنٹ لگ رہی ہیں، آپ تین ماہ انتظار نہیں کر سکتیں۔ اس کو میں نے آج صبح دیکھا۔ اس بچی کو ٹائپ ون ذیابیطس ہے۔ ان کو انسولین کے پین دیے اور مستقل شوگر چیک کرنے والا آلہ (CGM۔ continuous glucose monitor) بھی۔ چونکہ یہ خاتون خود ہسپتال میں کام کرتی ہیں، انہوں نے نہ صرف ذیابیطس کی علامات پہچان لی تھیں بلکہ مجھ سے اپنی جان پہچان استعمال کر کے بروقت اپنی بچی کا علاج کرنے میں کامیاب ہوئیں۔

اس کے علاوہ مجھے ان کو بقایا مریضوں کے درمیان دیکھنے میں اس لیے مشکل نہیں ہوئی کیونکہ ان کو زیادہ سکھانا یا بتانا نہیں پڑا۔ جس کی وجہ سے میرا وقت بچ گیا۔ ان کو پہلے سے معلوم تھا کہ انسولین کا پین کیسے استعمال کرنا ہے اور سی جی ایم کیسے لگانا ہے۔ ذیابیطس کی تعلیم کی کلاس میں ریفر کر دیں، انہوں نے کہا۔ وہ ریفرل میں نے بھیج دیا ہے، میں نے انہیں جواب دیا۔

میڈیکل فیملی ہسٹری کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ یہ بچی ان کی سوتیلی بیٹی ہے۔ اس سارا وقت وہ اس کے آنسو صاف کرتی رہیں اور اس کی ڈھارس بندھائی۔ اس قصے سے کئی سبق ملتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ ضروری نہیں کہ سوتیلی ماں ایک چڑیل ہی ہو سکتی ہے۔ اس لیے بلاوجہ اپنی سوتیلی ماں کو چڑیل سمجھنا اور بقایا افراد کو بھی یہ یاد دلانے کی کوشش کرتے رہنا کہ وہ سگے سوتیلے میں فرق یاد رکھیں، سوائے انسانوں کی زندگی کو مزید مشکل بنانے کے کچھ نہیں دیتا۔

جیسے جیسے انسانی زندگی طویل ہو رہی ہے اور شادیاں ہمیشہ کے لیے نہیں رہتیں، ان بدلتے ہوئے خاندانوں میں مناسب رشتے اور تعلقات بنا کر لوگ اپنی زندگی خوشگوار طریقے سے گزار سکتے ہیں۔ دنیا میں سیلاب، زلزلے اور طوفان بھی انسانوں کی زندگی مشکل کرتے ہیں۔ قدرتی آفات سے نبٹنا ہی مشکل ہے ، اس لیے مزید خیالی مشکلات کھڑی کرنے میں ہاتھ نہ بٹائیں تو ہی بہتر ہے۔

دوسرا سبق اس میں یہ ہے کہ ملک کی آدھی آبادی خواتین ہیں۔ یہ بچی، اس کی ماں اور میں بھی۔ خواتین کو سبزیاں سمجھ کر باپوں، بھائیوں اور شوہروں کے اوپر لادنے سے کس کا فائدہ نکلتا ہے؟ ان لوگوں کا بھروسا بھی کیا ہے؟ خود تک کو تو سنبھال نہیں سکتے، خواتین کو خاک سنبھالیں گے؟ یہی وجہ ہے کہ اپنا موزہ خود ڈھونڈنے یا روٹی خود گرم کرنے کے بے ضرر پوسٹروں پر اتنا ہنگامہ ہو گیا۔ زندگی کا بھی کچھ پتا نہیں ہوتا۔ جب ہمارے والد جوانی میں ایک حادثے کا شکار ہو کر چل بسے تو ہماری چوبیس سالہ ماں چار بچوں کے ساتھ اکیلی رہ گئی تھیں۔

اس تجربے سے ہم نے بہت جلدی سیکھ لیا تھا کہ آدمیوں کو اصلی یا نقلی خدا نہ سمجھیں، بلکہ اپنی طرح کا انسان ہی سمجھیں تو بہتر ہے۔ ہم سب کی ویب سائٹ پر رائٹ ونگ تبصرے دیکھتی رہتی ہوں۔ یہ شتر مرغ کی طرح ریت میں سر دبانے والے افراد ہیں۔ ان کے خیالات کو پڑھنا کہ خواتین کا کیا کردار ہونا چاہیے یا ان کو زندگی میں کیا کرنے کا اختیار ہونا چاہیے وہ بالکل غیر ضروری اور وقت کا زیاں ہیں۔ ان میں سے کئی وہ تمام کام خود کر چکے ہیں جن پر تنقید ہو رہی ہے اسی لیے وہ اس کے ذکر سے بھڑک اٹھتے ہیں۔ اس لیے میرا گولڈن گرلز کے لیے یہی مشورہ ہے کہ آپ ان سے انفرادی مباحثے پر وقت برباد کرنے کے بجائے اپنے راستے پر چلتی رہیں۔ ان کو چھوڑ کر آگے نکل جائیں۔

جب فارغ آدمی خواتین اور بچیوں کی زندگی مشکل بناتے ہیں تو ان تمام کاموں میں رکاوٹ کھڑی ہوتی ہے جو یہ خواتین نہیں کر پائیں گی۔ اس سے یہ خود اپنے پیروں پر کلہاڑی مارتے ہیں۔ ایک دن ان کو ہارٹ اٹیک ہوتا ہے اور ان کے گرد کسی میں اتنی تعلیم نہیں ہوتی کہ مدد کر سکے۔ جہاں خواتین خوف و ہراس میں زندگی گزاریں تو وہ اپنی تعلیم میں اضافہ کرنے اور اپنی پروفیشنل زندگی میں ترقی کرنے کے بجائے واقعی ایک سبزی بن جاتی ہیں جس کو اپنی اور اپنے بچوں کی بقاء کے لیے چڑیل کی طرح سوتیلی ماں بننا پڑتا ہے۔

آج کی نسل کی خواتین کا المیہ یہ ہے کہ ان کو تعلیم بالغاں پر بہت کام کرنا ہے کیونکہ یہ کام کئی نسلوں سے چل تو رہا ہے لیکن وقت کا ساتھ نہیں دے پا رہا ہے۔ اب بھی خلیج باقی ہے۔ اسی لیے ان آدمیوں کو روڈ کے بیچ میں کھڑی گاڑی کی طرح دھکے مار کر آگے کھسکاتی جائیں، سدھار نے کی کوشش کرتی رہیں اور جہاں مزید بہتری نہ ہو پائے تو چھوڑتی جائیں۔ اس طرح وہ آگے والیوں کے لیے ذرا سی بہتر شکل میں ہوں گے۔ اور ایسا ہوتا بھی ہے۔

وہ آپ کے لیے خود کو نہیں سدھاریں گے کیونکہ پدرانہ سماج نے ان کو سینہ کوٹ کر کنگ کانگ بننا سکھایا ہے۔ جھک کر اپنی غلطی تسلیم کر کے معافی مانگنا نہیں سکھایا ہے۔ ہمیں اس دن کے خواب کو زندہ رکھنا ہے جب تمام آدمی خود کو بہتر بنائیں گے اور اپنے اردگرد افراد کو تکلیف دینے کے بجائے دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانے پر کام کریں گے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ لوگ لکھتی رہیں تو کچھ پڑھنے والوں کو سمجھ آنا شروع ہو جائے۔

قوم پرستی اور مذہبیت کی تعلیم سے تخلیق ہوئے ذہن کا تجزیہ

حال ہی میں ایک صاحب کا بلاگ پڑھا جس میں انہوں نے ملک میں خواتین کی شرح 64 فی صد بتائی جو کہ غلط ہے اور تمام افراد کو چار خوبصورت خواتین سے شادیاں کرنے کا مشورہ دیا۔ یہ سادہ لوح وہ انسان ہیں جن کو یہ ابھی تک سمجھ میں نہیں آیا کہ پدرانہ نظام گاجر اور لکڑی کے نظام میں یہ گاجر دکھا کر ان کی طرح کے بہت سارے افراد کو مرواتا ہے۔ دسیوں، بیسیوں یا ہزاروں خوبصورت خواتین صرف سلطان کے حصے میں آتی ہیں جس کو بننے کی کوشش میں کتنے ہزاروں افراد اپنی جان کھو چکے ہوتے ہیں۔

ان سادہ لوح افراد کو میں ایک اصلی واقعہ بتانا چاہتی ہوں۔ کچھ سال پہلے میں ڈیلاس گئی تھی۔ وہاں میں اور میرے رشید ماموں انڈو پاک بنگلہ اسٹور میں گئے اور گھوم پھر کر گروسری خرید رہے تھے۔ میرے ماموں ایک صاحب سے بات کرنے لگے۔ انہوں نے مجھ سے کہا، لبنیٰ! تم ان صاحب کو جانتی ہو؟ میں نے ان کو دیکھا۔ شکل تو جانی پہچانی لگ رہی ہے لیکن معلوم نہیں یہ کون ہیں۔ یہ ٹی وی ڈراموں کے مشہور اداکار ہیں۔ ان اداکار صاحب نے کہا کہ میں نے ’آخری چٹان‘ میں مجاہد کا رول کیا تھا۔

جب بھی آپ اپنے ذہن میں سوچ رہے ہوں کہ تلوار اٹھا کر بیاباں میں نکل جائیں گے اور دنیا فتح کر لیں گے جہاں سب بھائیوں کو چار خوبصورت بیویاں ملیں گی تو یہ سمجھیے کہ یہ ایک ڈھونگ، ایک ڈرامہ ہے اور کچھ نہیں۔ آپ کے مجاہد ہیرو ڈیلاس کے ایک گروسری اسٹور میں آلو گوبھی خرید رہے ہیں۔ خدا کے لیے خیالی دنیا میں رہنے کے بجائے انسانوں کے لیے اصلی دنیا میں رہنے کی کوشش کریں۔

صنفی تعصبات کی وجہ سے نوجوان خواتین میں مایوسی

دنیا کے تمام انسان برابر ہیں کا یہ مطلب نہیں کہ ہر دو انسان بالکل ایک جیسے ہیں۔ اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ تمام انسانوں کو بنیادی تحفظ، تعلیم، صحت اور اپنی پسند کی زندگی گزارنے کا حق ہے۔ انڈیا میں 23 سالہ عائشہ نے ناکام شادی کے بعد نہر میں کود کر جان دی۔ یہ اس کی موت کو گلے لگانے کی عمر نہیں تھی۔ اس کے سامنے ساری زندگی پڑی تھی۔ یہ وہ معصوم بچیاں ہیں جو اس پدرانہ نظام کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں جہاں لڑکیوں کو اپنی پسند اور مرضی سے تعلقات کی اجازت نہیں۔

ان حالات میں تمام خاندان کی رضامندی اور بہت سرمایہ کاری سے جو تعلق قائم کیا جائے اس کی ناکامی ضرورت سے زیادہ بڑی محسوس ہوتی ہے۔ 23 سال کی عمر تک ان کو دو چار تعلقات کا تجربہ ہونا چاہیے۔ تعلقات سے انسان سیکھتا ہے۔ اس سے اچھے برے میں فرق معلوم کرتا ہے۔ ہم بچپن سے یہی سیکھتے ہیں کہ اگر ہم اچھے بچے بنیں گے، محنت کریں گے اور ایمانداری سے کام کریں گے تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ تعلقات میں ایسا نہیں ہوتا۔

ڈاکٹر سہیل کے مطابق ہم صرف اپنے پچاس فیصد پر ہی سو فیصد کام کر سکتے ہیں۔ خود کو دوسرے افراد کی غلطیوں کی سزا مت دیں۔ ان کو وقت سکھا دے گا۔ جذبات، احساسات کتنے ہی تکلیف دہ ہوں، ہمیشہ قائم نہیں رہتے۔ آپ جیسا بھی محسوس کر رہی ہیں، یہ احساس بالآخر گزر جائے گا۔ میری چھوٹی بہن سائیکائٹرسٹ ڈاکٹر زوبیہ مرزا کے مطابق ”خودکشی ایک عارضی مسئلے کا مستقل حل ہے۔“

خواتین لیڈر

ہم دیکھ رہے ہیں کہ مختلف اداروں میں خواتین لیڈروں کی تعداد میں آہستہ آہستہ اضافہ ہو رہا ہے۔ خواتین لیڈروں کو دو اقسام میں بانٹ سکتے ہیں۔ ایک وہ جو پدرانہ سماج کی پراڈکٹ ہوتی ہیں اور اس کے ایجنڈے کو اپنے ذاتی مفاد کے لیے آگے بڑھاتی ہیں اور دوسری وہ جو اپنا ذہن استعمال کر کے دنیا کو سدھارنے میں اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ یہاں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ یہ بائیں بازو کی خواتین لیڈران کس طرح دنیا کو ایک مختلف اور ہمدردانہ نظر سے دیکھتی ہیں۔

اس طرح ہم شاید یہ سمجھنے میں کامیاب ہو پائیں کہ طاقت مل جانے کا یہ مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کے ساتھ وہی کرتے رہیں جو ہوتا آیا ہو۔ اس سیکشن میں میری فرانسس سے کی گئی گفتگو کا ذکر کروں گی۔ میری فرانسس میرے ساتھ لنچ کرنے آئیں۔ انہوں نے سوپ دو پیالوں میں ڈالا اور بولیں، ”یہ ایک میں اس بے گھر آدمی کے لیے لے جاؤں گی جس نے مین اسٹریٹ پر درختوں کے بیچ اپنا ٹینٹ بنایا ہوا ہے۔ جب فروری میں درجۂ حرارت خطرناک حد تک گر گیا تھا تو ہم لوگ اس کے پاس گئے اور اس کو ہوٹل کا فری کمرہ دلایا۔

“ اوہ! میں نے کہا کہ اگر آپ ایسا نہ کرتیں تو وہ مر گیا ہوتا۔ شدید سردی کی لہر سے کئی لوگ مر گئے تھے۔ کہنے لگیں کہ کونے کے ریستوران کا مالک اس کو مفت میں روز کھانا دیتا ہے اور میں اس کے لیے بیس ڈالر کا نوٹ چھوڑ گئی تھی جو انہوں نے اس کا نام لکھ کر ایک پرچی کے ساتھ سامنے دیوار پر چپکا دیا تھا۔ اگلے ہفتے میں واپس گئی تو وہ وہیں تھا۔ میں نے پوچھا کہ کیا مائکی پورا ہفتہ نہیں آیا؟ انہوں نے کہا کہ وہ آیا تھا۔

یہ ایک مختلف نوٹ ہے۔ اچھا! میں نے کہا اس کا مطلب ہے کہ اور لوگ بھی اس کے لیے پیسے چھوڑ جاتے ہیں۔ ہاں، میری فرانسس نے کہا کہ وہ سگریٹ پیتا ہے اور شراب بھی۔ سوپ میرے غلط پائپ میں جاتے بچا۔ جب آپ کو معلوم ہے کہ وہ شراب پیے گا اور سگریٹ پیے گا تو پھر آپ اس کے لیے بیس ڈالر کیوں چھوڑ جاتی ہیں؟ یہ سن کر میری فرانسس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ بولیں، نہ اس کے پاس گھر ہے، نہ اس کا کوئی خاندان ہے، نہ ہی اس کے پاس کوئی راحت کا سامان ہے۔

ایک یہی راحت اس کی زندگی میں رہ گئی ہے کہ سگریٹ پی لے اور شراب پی لے۔ ان کی بات سن کر میں غور میں پڑ گئی اور اس امریکی پولیس نظام کے بارے میں سوچنے لگی جس میں کالوں پر گولیاں برسانا اور بے گھر افراد کی پناہ گاہوں کی توڑ پھوڑ کرنا شامل ہیں۔ آخر یہ بے گھر لوگ کہاں جائیں؟ اسی پدرسری اور ہٹ دھرمی سے امریکی حکومت پچھلی کئی صدیوں سے مستقل ایک جنگ کے بعد دوسری جنگ کرتی آئی ہے۔

اس قصے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ایک خاتون کس نظر سے انسانوں کو دیکھتی ہیں۔ کس طرح یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر مسئلے کو سزاؤں سے سلجھایا نہیں جا سکتا ہے۔ اگر ہر نظام کے اندر خواتین لیڈر ہوں تو وہ دنیا کے مسائل کو بم گرا کر نہیں بلکہ تعمیر کر کے حل کریں گی۔ اس سے تمام دنیا کے لوگوں کی زندگی بہتر ہو گی۔

میری فرانسس ایک مقامی رضاکار ہیں جن کو انسانی حقوق کی آرگنائزیشن کی طرف سے ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ ماحولیات کی تباہی کے خلاف ان کی خدمات قابل تحسین ہیں۔

میری فرانسس سے میں نے آج کے مضمون کا ذکر کیا اور ان سے پوچھا کہ آخر لوگوں کا کیا مسئلہ ہے جو کچھ سمجھنا نہیں چاہتے؟ انہوں نے کہا کہ یہ آدمی بلاوجہ خود کو اعلیٰ درجے کا انسان محسوس کرتے ہیں اور ان کو لگتا ہے کہ جب چاہیں خواتین کو توجہ دیں اور جب چاہیں نہ دیں۔ جیسے خواتین کم تر انسان ہیں، دوسرے درجے کی شہری ہیں۔ لیکن وہ زندگی میں بڑی غلطی کرتے ہیں۔ ان آدمیوں کو سمجھنا بہت مشکل کام ہے! یہ کہہ کر انہوں نے اپنا وہ قہقہہ بلند کیا جس کے لیے میری فرانسس مشہور ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply