موسم خوش رنگ: زندگی سے مکالمہ کرتی تحریریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شاہد صدیقی کی کتاب ”موسم خوش رنگ“ زندگی کے شدتوں اور حدتوں بھرے موسموں کی داستان ہے۔ جس میں تاریخ ہر جملے میں زندہ اور لطیف پیرائے میں اس طرح بیان کی گئی ہے کہ قاری صدیوں کا سفر ایک جست میں طے کر لیتا ہے۔ وہ خوبصورت اسلوب کے ساتھ ساتھ مشکل سے مشکل موڑ، بنا بھولے بھٹکے پار کر لیتے ہے۔ معاصر صورت حال کا تجزیہ ایسے انداز میں کیا گیا ہے کہ جیسے کوئی قصہ گو رات کے کسی پہر میں سامعین کے لیے ان دیکھے جہانوں کے در وا کر دے۔

ساتھ ہی پند و نصیحت کا ایسا انداز کہ سننے والے، سر دھنتے ہوئے ماضی کے مزاروں سے حال کی روشنی کی کنجی برآمد کر لیتے ہیں۔ ”موسم خوش رنگ“ کی تحریروں کو کالم کی صنف میں رکھ کر لکھا اورپڑھا گیا ہے لیکن وہ اپنے اندر ہیئت اور اسلوب کا ایک ایسا انوکھا تجربہ ہے جس کی داد دیے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔

کالم، صحافت کی کڑی ہے لیکن یہاں کالم ایک داستان، افسانہ اور شعریت سے پر اسلوب کا منبع بن کر قاری کو قرات کی انوکھی لذت سے آشنا کرتا ہے۔ ان تحریروں میں اسلوب کی پرکاری نے افسانوی عناصر پیدا کر دیے ہیں۔ ”ٹیکسلا : باز گشت“ ایک ایسی تحریر ہے جس میں ”وقت“ ایک کردار کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔ جس کی ایک مثال ذیل میں درج اقتباس میں دیکھی جا سکتی ہے:

”آج سیڑھیاں چڑھتے ہوئے مجھے احساس ہوا وقت کتنی تیزی سے گزر جاتا ہے اور جاتے جاتے چیزوں کی ترتیب بھی بدل جاتا ہے۔ آج ایک طویل عرصے کے بعد میں یہاں آیا ہوں“ (1)

ایک اور کالم میں بھی وقت کے حوالے سے رقمطراز ہیں:

”لگتا ہے دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ بدل گیا۔ وقت واقعی نٹ کھٹ بچے کی طرح ہوتا ہے، جہاں سے چیز اٹھاتا ہے وہاں واپس نہیں رکھتا“ (2)

جیسے کہ کتاب کے ذیلی عنوان میں اس بات کا اشارہ موجود ہے کہ یہ زندگی کی پیشانی پر لکھی ہوئی تحریریں ہیں، اس لیے ان میں خیالی مرقعے نہیں ہیں۔ بلکہ حقیقت کو ایسے رنگ سے پیش کیا گیا ہے کہ یہ سارے کردار کبھی حقیقت کبھی افسانہ بن کر ہم سے مکالمہ کرتے اور مستقبل کا لائحہ عمل ترتیب دینے میں معاونت کرتے ہیں۔ جولیاں کے مقام پر کھڑے ہو کر مصنف ایک ایسے تجربے سے گزرتا ہے جہاں ماضی ہزاروں سال کی مسافت طے کر کے حال کے پل میں ڈھل جاتا ہے۔ مصنف کی یہ تحریر ایسے انداز میں شروع ہوتی ہے جس میں ایک ناول کے پلاٹ کا بھرپور امکان موجود ہے اور ایک مختصر افسانہ بھی اسے کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا، اس کو ایک علمی نثر پارے کے طور پر ڈھالتے ہوئے صحافتی رنگ برقرار رکھنا ایک منفرد تجربہ ہے۔

ٹیکسلا کی تہذیب کی بازیافت کے بعد مصنف اپنے اس خیال میں قاری کو شامل کر لیتا ہے کہ جو تاریخ کے اوراق میں ہی نہیں بلکہ ہمارے اردگرد بھی اپنے ٹھوس نشانات کے ساتھ حقائق موجود ہیں ان کو تو سنبھال لیں۔ تاکہ ان کو کھنڈرات میں ڈھل کر صرف باقیات بن جانے سے بچایا جا سکے۔ ایسا ہی ایک تجربہ انہیں ”صادق گڑھ“ دودھیا محل بہاولپور کی مرتی ہوئی تاریخ کا نوحہ لکھنے پر مجبور کرتا ہے۔ اس تحریر میں بھی صادق محل جامد سے زیادہ ایک متحرک شے یا کردار بن کر مصنف سے مکالمہ کرتا ہے۔ ذیل میں درج اس اقتباس سے شاہد صدیقی کی ان تاریخی مقامات کی اہمیت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے:

”ایک عرصے سے یہ دودھیا محل میرے خوابوں میں آتا تھا۔ مجھ سے پوچھتا تھا مجھے دیکھنے نہیں آؤ گے؟ ہر بار میں اسے ٹال دیتا تھا لیکن اس بار وہ میرے خواب میں آیا تو اس کے لہجے میں اداسی تھی۔ اس نے ہمیشہ کی طرح مجھ سے پوچھا: مجھے ملنے نہیں آؤ گے؟ میں نے کہا: آج کل بہت مصروفیات ہیں، کام سمٹ جائیں تو ضرور آؤں گا۔ وہ بولا: ٹھیک ہے تم مصروف ہو لیکن ایسا نہ ہو کہ بہت دیر ہو جائے اور تم آؤ تو میں باقی نہ رہوں۔ میری آنکھ کھلی تو میری سانس تیزی سے چل رہی تھی۔ اس دن میں نے تہیہ کر لیا کہ مجھے اپنے خوابوں کے محل کو ضرور دیکھنا ہے۔“ (3)

اس کالم میں بھی افسانوی عناصر بدرجۂ اتم موجود ہیں۔ افسانے میں قاری کو براہ راست مصنف اپنے مدعا میں شامل نہیں کر سکتا۔ اس تحریر کی خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں کہانی کی چاشنی برقرار رکھتے ہوئے، صحافیانہ انداز میں سماجی مسائل کی نشاندہی بھی کی گئی ہے:

”اس محل سے جڑی تاریخ سے آگاہ ہوتے۔ لیکن ایک ہم ہیں جو اس نادر روزگار اور فن تعمیر کے شاہکار دودھیا محل کو اپنی آنکھوں کے سامنے گرتا دیکھ رہے ہیں۔ تاریخ کو اپنی آنکھوں کے سامنے مرتا دیکھ رہے ہیں۔ مجھے شکستہ ٹیرس پر کھڑے ناصر کاظمی یاد آ جاتا ہے جس نے کہا تھا “ہم سا بے درد کوئی کیا ہو گا “ (4)

”دریائے سندھ، ہنڈ اور تاریخ کا سفر“ گزرے وقتوں میں گندھارا کے دارالحکومت کی داستان ہے۔ شاہد صدیقی کا چھوٹے چھوٹے فقروں میں کیا گیا تبصرہ، تاریخ کے روایتی تصور کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔ وہ بادشاہوں اور قلعوں کی داستان سناتے ہوئے، وقت کے ہاتھوں مسمار ہو نے والے کھنڈرات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

” کوئی زمانہ ہو گا جب اس قلعے کے آس پاس پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا ہو گا، اور اب یہ عوامی گزرگاہ ہے۔ یہی تاریخ کا سبق ہے، طاقت کے مراکز بدلتے رہتے ہیں لیکن تاریخ کے اس سبق کو زور آور کم ہی سمجھتے ہیں“ (ص : 48)

شاہد صدیقی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے صرف واقعاتی تسلسل کا سہارا نہیں لیتے بلکہ وہ ماضی سے حال کا سفر طے کرتے ہوئے ایک ہی جست میں قاری پر جہان معنی وا کر دیتے ہیں۔ جس میں سوال ہی سوال ہیں، جن پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہوئے مصنف، قاری کو اپنا ہم خیال بنا لیتا ہے۔ چند ساعتوں سے چند سطروں کے اس سفر میں قاری کے خیالات اور روایتی تصورات میں دراڑیں پڑنے لگتی ہیں۔ اس عمل کو اگر جادوئی حقیقت نگاری کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔

سقوط ڈھاکہ کی یاد ہر باشعور پاکستانی کے دل و دماغ پر حزن و یاس کی ایک کیفیت پیدا کر دیتی ہے۔ شاہد صدیقی کے بچپن میں ہونے والی اس سیاسی و سماجی تبدیلی کے اثرات ان کی شخصیت ہر نمایاں ہیں۔ خواہ وہ تاریخ کا باب ہوں یا ڈھاکہ ایئر پورٹ پر گزاری جانے والی چند ساعتیں، وہ ان میں اپنے بچپن اور عہد جوانی کے یار دوستوں کے قہقہوں کی گونج سننے کی حسرت کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن بطور مؤرخ ان کا نقظۂ نظر غیر جانبدارانہ ہے۔ جہاں وہ انڈیا کی مداخلت کا ذکر کرتے ہیں وہیں وہ اکثریتی جماعت کے مینڈیٹ کو رد کیے جانے کا حوالہ بھی دیتے ہیں۔ مکتی باہنی اور شیخ مجیب کو ایک سیاسی حوالے سے پیش کرتے ہوئے اس اجتماعی المیے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”ایک ایسا درد جس کی کسک تمام عمر ہمارے ساتھ رہے گی۔ معاشرے کے ہر طبقے کی اس دکھ میں ساجھے داری تھی۔ ادیب اور شاعر زیادہ حساس ہوتے ہیں ، چنانچہ اس سانحے کی گونج پاکستانی ادب میں دیر تک سنائی دیتی رہی“ (5)

فیض احمد فیض نے ڈھاکہ کے ایئر پورٹ پر ایک تخلیقی تجربہ کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ اب یہ خون کے دھبے آسانی سے نہیں دھلیں گے، اور پل میں اپنوں سے اجنبی بن گئے۔

”میں سوچنے لگا، یہ ملنا بھی کیا ملنا تھا، لیکن بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے آپ کا محبوب منظر آپ کے سامنے ہوتا ہے لیکن آپ اس کا حصہ نہیں بن سکتے، آپ اسے صرف محسوس کر سکتے ہیں چھو نہیں سکتے“ (6)

شاہد صدیقی کا ایک کالم جس میں وہ مانچسٹر یونیورسٹی میں ایک پاکستانی طالبہ زینب سے ملاقات کے واقعے کا ذکر کرتے ہیں، اگر اس کا عنوان ویسپرنگ ہلز (Whispering Hills) کر دیا جائے تو اسے اردو کا ایک بہترین افسانہ بھی کہا جا سکتا تھا۔

زینب کے کردار کو اس قدر خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے کہ ایک مختصر تعارف کے باوجود وہ قارئین کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ ایک شخصی واقعے سے وہ بہاولپور کی اجلی دوپہر اور پھر وہاں سے صادق محل کے اردگرد پھیلی اداسی اور موت کا راج اور اس محل سے جڑے تاریخی واقعات اور ایک لینڈ مافیا کا ذکر انتہائی باریکی اور صحافتی تجزیاتی انداز میں آگے بڑھتے ہوئے اپنی بات قاری کے دل و دماغ تک پہنچانے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔

”آج مجھے بہاولپور سے واپس جانا ہے، لیکن زینب نے ویسپرنگ ہلز (Whispering Hills) جانے کو کہا تھا، کچھ دیر پہلے ہی میں یہاں آیا ہوں۔ کیسی پرفضاء جگہ ہے۔ لان میں سرما کی دوپہر کی اجلی دھوپ پھیلی ہے۔ مجھے زینب کا خیال آ گیا، میں سوچنے لگا:زینب کی زندگی بھی سردیوں کی دھوپ کی طرح تھی۔ بہت قیمتی، لیکن بہت مختصر۔ پتا ہی نہیں چلا اور دن تمام ہو گیا“ (7)

شاہد صدیقی تاریخ کا ایک اور صفحہ پلٹتے ہوئے اودھم سنگھ اور جنرل ڈائر تک کا ذکر اپنے کالم، ”جلیانوالہ باغ کا شعلۂ آزادی“ میں کرتے ہیں۔ وہ انگریز کے مظالم کے خلاف مزاحمت کرنے اور بے گناہ انسانوں کے قتل عام کا بدلہ لینے والے اودھم سنگھ کا ذکر اس کردار کے شایان شان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”جلیانوالہ باغ میں اس روز قیامت کا سماں تھا، ہر طرف چیخ پکار تھی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے بچے، بوڑھے اور جوان فرنگیوں کی گولیوں سے کٹے ہوئے درختوں کی طرح گر رہے تھے۔ اس کے دل میں نفرت اور غصے کا طوفان امڈ آیا تھا۔ اس نے جلیانوالہ کی خون آلود مٹی کو مٹھی میں بند کیا اور اپنی پوری قوت جمع کر کے چیخ کر کہا تھا:میں اس خون ناحق کا بدلہ لوں گا۔ اس کا نام اودھم سنگھ تھا۔“ (8)

پوری دنیا اپنے ہیروز پر فلمیں بنا کر، نصاب تعلیم کا حصہ بناتے ہوئے یا کسی بھی طریقے سے نسل نو تک ان کی شجاعت کی داستانیں ان کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے پیش کرنے میں مصروف عمل ہے۔ اس حوالے سے ہمسایہ ملک بھارت کی کاوشیں بھی قابل ذکر ہیں جس نے بھگت سنگھ سے لے کر اودھم سنگھ تک سب ہیروز کی بے دریغ قربانیوں کو قصۂ پارینہ نہیں بننے دیا۔ (صرف یہی نہیں بلکہ انہوں نے آزادی کے بعد بھی کسی بھی میدان زندگی میں نمایاں خدمات سر انجام دینے والوں پر بھی فلمیں بنائی ہیں) ۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارا الیکٹرانک میڈیا (فلم، ڈراما ) کسی اور ہی ڈگر پر رواں ہے۔ ایسے میں شاہد صدیقی کا قلم ان داستانوں کو پاکستان کی سر زمین سی جڑی بہادری کی، قربانیوں کی، اور تاریخ کی ان مٹ داستانوں کو رقم کرتا ہے تاکہ وہ نوجوان نسل، اپنی تاریخ کے اہم باب فراموش نہ کر دیں۔

”جلیانوالہ باغ کا خون رنگ لے آیا اور ادھم سنگھ کا آزاد وطن کا خواب پورا ہو گیا۔ 1974ء میں ادھم سنگھ کا جسدخاکی لندن سے بھارت لایا گیا اور اس کے بدن کی راکھ ستلج کی لہروں کے حوالے کر دی گئی۔ انہی لہروں کے حوالے جن میں بھگت سنگھ، ادھم سنگھ اور ان کے ساتھیوں کو یاد کرتے رہیں گے، جنھوں نے اپنی جوانیاں صبح آزادی کے لیے قربان کر دیں“ (9)

تاریخ کے صفحات پلٹتے ہوئے وہ اپنے قائد کی صلاحیتوں، ان کی شبانہ روز کاوشوں، ان کی دیانت داری کا ذکر کرتے ہوئے ان کے آخری ایام کا ذکر اس قدر محبت اور سرشاری سے کرتے ہیں کہ قاری خود کو فاطمہ جناح اور قائداعظم کے دوش بدوش پاتا ہے۔ پھر اس قیامت خیز لمحے کا ذکر آتا ہے جب ایک بہن بے بسی سے خراب ایمبو لینس میں بے یار و مددگار قائداعظم کے پاکستان کی ایک مصروف شاہراہ پر بیٹھی ہے۔ شاہد صدیقی تاریخ کے اس باب پر سوال اٹھاتے ہوئے لکھتے ہیں:

”شام کو اپنے لان میں کتاب پڑھتے ہوئے یا چہل قدمی کرتے ہوئے وہ اکثر سوچا کرتے: اگر قائد شروع میں کراچی آنے پر رضامند ہو جاتے تو کیا ہوتا؟ اگر نواب آف بہاولپور کو تار اسی روز چلا جاتا تو کیا ہوتا؟ اگر تار کا جواب 3 دنوں کے بجائے چوبیس گھنٹوں میں آ جاتا تو کیا ہوتا؟ اگر ایمبولینس میں خرابی نہ ہوتی تو کیا ہوتا؟ ایک دوسری ایمبولینس وقت پر آ جاتی تو کیا ہوتا؟ وہ ایک آفتاب تھا جو ڈھل گیا، لیکن اس کی حدت ہمارے جذبوں میں اب بھی زندہ ہے، تا ابد رہے گی۔“ (10)

شاہد صدیقی سیاسی اور نظریاتی حوالے سے مزاحمت کے قائل ہیں۔ ان کی تحریروں میں ایسی شخصیات کا انتخاب کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ جبر کے آگے سر جھکانے والوں کو اپنا ہیرو نہیں سمجھتے۔ وہ بقول فیض:

؎ جس دھج سے کوئی مقتل کو گیا وہ شان سلامت رہتی ہے

کے مصداق دار پر جھول جانے والے اودھم سنگھ سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو اوران کی نڈر بیٹی جس نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا کہ ”تم کتنے بھٹو مارو گے، ہر گھر سے بھٹو نکلے گا“ کے حامی ہیں۔ شاہد صدیقی پاکستانی سیاست کے ان دو روشن بابوں کا ذکر بڑی عقیدت سے کرتے ہوئے ان کے معمولات زندگی ، ان کا نظریۂ سیاست اور ان کے مطالعہ کے شغف تک ہر پہلو بڑی باریکی سے بیان کرتے ہوئے ایک سوشل سائینٹسٹ کی طرح، ماحول کے شخصیت سازی میں کردار کو پیش کرتے ہیں۔ وہ نو ڈیرو کی اس بالکونی پر کھڑے ہو کر سوچتے ہیں:

”آسمان پر تاحد نظر تارے بکھرے ہوئے تھے۔ بے نظیر نے آسمان کی طرف دیکھا اور اپنے قریب کھڑی ناہید خان سے کہا: ناہید دیکھو تاروں کے نیچے میرا نوڈیرو کتنا خوبصورت لگ رہا ہے۔ آج اسی چھت پر کھڑے میں نے آسمان کو دیکھا۔ سورج ڈوب رہا تھا، آسمان پر شفق کی سرخی پھیل رہی تھی اور یہاں سے کچھ فاصلے پر اپنی مٹی سے عشق کرنے والی بے نظیر ہمیشہ کی نیند سو رہی تھی۔ وہ سندھڑی کی سوندھی مٹی تھی جو یہاں کی خاک میں مل کر امر ہو گئی تھی۔ (11)

کالم:بے نظیر بھٹو: دلوں کی حکمران۔ ص 140

شاہد صدیقی اپنی زمین سے جڑا ہوا ادیب ہے، جو اپنے اردگرد پھیلے گلی کوچوں اور صحراؤں دریاؤں سے باتیں کرتا ہے۔ ایسے میں وہ اپنی جنم بھومی راولپنڈی اور اس سے جڑی یادوں، باتوں اور تاریخ کو کیسے فراموش کر سکتا ہے۔ یوں تو وہ راولپنڈی کی کہکشاں کے چمکتے ستاروں کو اپنا سلام عقیدت پیش کرتا ہی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ تاریخ کے کئی باب پھر سے کھول دیتا ہے تاکہ وقت کی دیمک ہمارے حافظوں سے اس کو چاٹ نہ لے۔

ایسی ہی ایک کہانی اپنے چونکا دینے والے عنوان ”جب راولپنڈی ڈوب رہا تھا“ کے ساتھ ”موسم خوش رنگ“ کا حصہ ہے۔جس میں 26 مارچ 1925ء کو ایک ایسے بحری جہاز کے افتتاح سے لے کر 23 نومبر 1939ء میں اس کے دوسری جنگ عظیم میں جرمنوں کے ہاتھوں تباہی کی داستان بیان کی گئی ہے۔ لیکن اس مختصر تحریر میں عالمی طاقتوں کا جنگی جنون اپنے سیاسی تجزیے کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ اس جہاز کی داستان جس نے بمبئی سے لندن اور لندن سے بمبئی جاتے ہوئے زندگی سے بھرپور کئی قہقہے سنے ہوں گے ۔ اب مسافر جہاز سے جنگی جہاز بن کر تباہی کے دہانے پر کھڑا تھا۔ ایسے میں شاہد صدیقی، کیپٹن ایڈورڈ کینیڈی کے وہ الفاظ رقم کرنا نہیں بھولتے جس میں ہتھیار ڈالنے کی بجائے اپنے اڑھائی سو عملے کے ساتھ لڑنے کو ترجیح دیتے ہوئے کہتا ہے کہ :ہم ان دونوں جہازوں کے ساتھ لڑیں گے، وہ ہمیں زیادہ سے زیادہ ڈبو دیں گے۔ اور قصہ تمام ہو جائے گا۔ الوداع ”

مصنف اس امر سے بخوبی آگاہ ہے کہ یوں بہادری سے سمندر میں ڈوبنے والے ہی تاریخ میں امر ہو تے ہیں۔

مٹی کی سوندھی مہک کے شیدائی خوشونت سنگھ بھی شاہد صدیقی کی تحریر کا موضوع بنا۔ یہ تحریر اپنے اندر ایک ایسی کشش رکھتی ہے کہ قاری خود کو ہڈالی کی گلیوں میں، سکول میں لگے شیشم کی نرم شاخوں میں خود کو گھرا پاتا ہے۔ ایک بڑا ادیب، اہم سیاست دان، عالمی بڑے اداروں کا طالب علم، تاریخ اور تخلیق کا اہم حوالہ جب اپنے گاؤں کی سر زمین پر قدم رکھتا ہے تو اس کے دل کی حالت کیا ہوتی ہے۔ اس کی عکاسی شاہد صدیقی اس انداز میں کرتے ہیں:

” اس نے شیشم کے اس درخت کو دیکھا جس کی چھاؤں میں وہ دوستوں کے ہمراہ کھیلا کرتا تھا۔ پھر اس کے ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے، اکہتر سالہ خوشونت سنگھ ہچکیاں لے لے کر رونے لگا۔ اس نے وصیت کی تھی کہ مرنے کے بعد کہ مجھے میرے گاؤں ہڈالی میں دفنایا جائے۔ اس کی راکھ کو ہڈالی لایا گیا ”۔ (12)

شاہد صدیقی اس واقعے کا ناظر اس بوڑھے شیشم کے درخت کو بناتے ہیں جس کی شاخیں خوشونت سنگھ کی خوشبو سے آشنا تھیں۔ وصیت کے مطابق اس کی راکھ کو سکول کی دیوار کے سیمنٹ کے ساتھ ملا کر، اس سرزمین کا حصہ بناتے ہوئے خوشونت سنگھ کے نام کی تختی کو نصب کر دیا گیا۔ شیشم کا درخت اس مانوس مہک پر چونکتے ہوئے شالی کو تلاش کرتا ہے جو اس کی چھاؤں میں پہروں کھیلا کرتا تھا۔

شاہد صدیقی کے موضوعات کا انتخاب انہیں ایسے قبیل سے جوڑتا ہے جو مزاحمت کے استعارے ہوں۔ وہ ان کرداروں کا ذکر کرنا نہیں بھولتے جو زندگی کو زور بازو سے بدلنے اور حالات کا مقابلہ کرنے کو ہر دم تیار رہتے ہوں۔ ایسے میں وہ ان ادیبوں کا ذکر کرنا کیسے بھول سکتے ہیں جو ایک نظریاتی جنگ کا حصہ رہے ہوں یا ہوں۔ سرائیکی وسیب کے مسائل پر اپنے دکھوں کا اظہار کرنے والے، رفعت عباس اور شاکر شجاع آبادی ہوں، اصغر مال کالج کی شان یوسف حسن ہوں یا فن اور نظریے کی گھلاوٹ والی شاعری کے خالق آفتاب اقبال شمیم ہوں، شاہد صدیقی کا قلم ان سے اپنی والہانہ محبت کا اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔

یوسف حسن کے ایک شعر کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے سماجی امتیازات کے خاتمے کے خواب کا ذکر کرتے ہیں۔ لیکن انسان ابھی بھی وقت کے کئی پاٹوں میں، کئی طبقوں میں اور کئی تفرقات کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے:

ہم بھی پربت کاٹتے ہیں اور مٹی چاٹتے ہیں
ہم بھی تیرے کنبے میں شامل ہیں اے دریا
( یوسف حسن)

آفتاب صاحب کی شاعری میں فن اور نظریہ گھل مل کر اس کے آمیزے کو دو آتشہ کرتے ہیں۔ معاشرے میں زور آوروں اور بے بسوں کی تفریق میں اپنی وفاداری کے حوالے سے آفتاب اقبال شمیم کی پوزیشن بڑی واضح ہے۔ وہ دکھ کے زرد قبیلے سے خون کے رشتے سے جڑے ہوئے ہیں جو نہ جانے کب سے صبح فردا کی تلاش میں ہے۔ شاید کچھ لوگ ایک نیم آفریدہ دنیا میں پیدا ہوئے ہیں، ایک نامکمل منظر کی نامکمل شناخت کرنے کے لیے اور ان کی ساری زندگی اسرار کے سمندر میں تیرتے، اوجھل ہوتے اور ابھرتے ہوئے جزیروں کی تلاش میں گزر جاتی ہے۔ (13)

شاہد صدیقی ایک ماہر لسانیات بھی ہیں، اس لیے وہ زبان اور ادب کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔ ان کا ایک کالم ”مزاح اور صنفی امتیازات“ ان سٹیریو ٹائپس کو بھی موضوع بناتا ہے جو مزاح کے پردے میں عورت کو تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں۔ بیویوں پر پھبتیاں، ان کو کم عقل اور کاہل دکھانا یہ مزاحیہ شاعری کا ایک عام موضوع ہے۔ لیکن ایک لسانیات کے ماہر کے طور پر ڈاکٹر صاحب جانتے ہیں کہ الفاظ کا انتخاب کس طرح اذہان پر قابض ہو کر سوچ کے زاویے محدود کر دیتا ہے۔ اس لیے وہ طرح کے جملوں کو قابل مذمت سمجھتے ہیں جو کسی بھی طرح کے صنفی امتیاز کو فروغ دیں۔

شاہد صدیقی تاریخ کے اہم واقعات اور مقامات کا ذکر کرتے ہوئے ماضی کے پاکستان کی سر زمین سے اٹھنے والے آزادیکے متوالوں کا حوالہ دیتے ہوئے ”عام آدمی“ کو فراموش نہیں کرتے کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ اسی کے دم سے بادشاہ اور امراء  کے محلات کے ستون مضبوط ہوئے ہیں۔ انہی کے شانوں پر ملکی سیاست اور معیشت کا دار و مدار ہے۔

ان کا ایک کالم ایسے سیلف میڈ لوگوں کی داستان حیات کی جھلکیاں بھی دکھاتا ہے۔ جن کی ساری زندگی ایک گھر بنانے کی تگ و دو میں گزر جاتی ہے۔ اور جب ان کو وہ چھت نصیب ہوتی ہے تو اس وقت ان کے پاس اس میں قیام کرنے کا وقت محدود ہو چکا ہوتا ہے۔

مصنف انہی مزاحمت کے رنگوں کا ایک حوالہ اپنے ایک کالم ”لال بینڈ:مزاحمت اور آگاہی کا سفر“ میں بھی کرتے ہیں۔ انسانی حقوق کے ان علم برداروں میں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے لکھتے ہیں:

”ایک دن کمزوروں کو ان کے حقوق ملیں گے ، ایک دن آئے گا جب ہمارے معاشرے میں تنگ نظری، انتہا پسندی، عدم رواداری اور غیر منصفانہ تقسیم کا خاتمہ ہو گا۔ لال بینڈ کی گانوں کی پہلی سی ڈی کا نام ’امید سحر‘ تھا۔ اس کی مقبولیت اس بات کی دلیل ہے کہ موسیقی، شاعری اور گائیکی کا امتزاج معاشرے میں شعور اور آگاہی کے لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ دو روز پہلے اسلام آباد میں اس کی پر فارمنس تھی، اس نے پیغام بھیجا تھا: ملاقات ضروری ہے۔ میں ایک طویل عرصے کے بعد اسے دیکھ رہا تھا۔ درمیان میں کتنے ہی مہ و سال گزر گئے تھے۔ اس کے بالوں میں سفیدی اتر آئی تھی لیکن اس کا جذبہ ویسا ہی جوان تھا۔ کہتے ہیں : سچی محبت کو کبھی زوال نہیں آتا۔ (14)

شاہد صدیقی زندگی کی بیتی بہاروں کی یادوں کو سمیٹے اپنی تحریروں میں نئے ذہنوں کو جھنجھوڑتے اور گئے زمانوں کی بازیافت کے عمل میں مصروف ہیں۔ لیکن وہ وقت کے ہاتھوں زمانوں کی دست برد اور مٹی میں مٹی ہو نے والوں کی داستان اس طرح رقم کرتے ہیں کہ وہ سارے کردار ہمارے اردگرد اپنے ہو نے کا احساس دلانے لگتے ہیں۔ وہ دریاؤں کی لہروں پر لکھی تاریخ کو شہر بھنبھور کے تپتے صحراؤں میں بکھری عشقیہ داستانو ں کو پڑھنے اور سننے کی دعوت دیتے ہوئے مسلسل لکھتے ہوئے ایک ذمہ دار ادیب کا فریضہ بخوبی سر انجام دے رہے ہیں۔ ان بجھتے چراغوں کے قصے لکھ کر وہ ان کی روشنی کو دوام بخشنے کے لیے کوشاں ہیں۔ وہ ماضی کی یادوں کے سہارے حال کی راہیں متعین کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply