احمد رشدی اور وحید مراد کا پاس عہد ” تمہارے بنا ہم، بھلا کیا جئیں گے“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

روایت کے مطابق پانچوں دوستوں کی یہ انتھک کوشش مسلسل جاری و ساری رہی کہ ان کی یہ نغماتی تخلیق، ایسی ہو کہ اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے۔

اس تخلیق کا سب سے پہلے خیال، سازوں اور سروں سے دوستی رکھنے والے نوجوان ذہن میں بیدار ہوا۔ پھر اسے نوجوان فلم ساز اور اداکار کو سنایا گیا جس نے اسے نہ صرف پسند کیا بلکہ اسے فوری طور پر الفاظ کے قالب میں ڈھالنے کا کہا۔ یوں ایک اور نوجوان کی تخلیقی اور تخیلی صلاحیت کو یہ چیلنج دیا گیا کہ وہ اپنے تصورات سے ایسے الفاظ تراشے جو اس دل موہ لینے والی دھن میں، چھپی نغمگی (اور خیال) کو زبان دے سکیں۔

تخلیق اور تخلیق کاروں کی یہ ہم خیالی اور ہم آہنگی تکمیل سے تب دوچار ہوئی جب اسے ایک خوبصورت نوجوان آواز کا روپ دیا گیا اور اس طرح وہ خوب صورت اور دلنشیں نغمہ تخلیق پایا جس کی کشش اور مقبولیت آج چالیس پچاس برس گزر جانے اور فلم بینوں اور موسیقی کے شائقین کے مزاج میں تبدیلی کے باوجود، ابھی تک قائم و دائم ہے۔

یہ اس اعتبار سے، اس تخلیق کا آدھا حصہ کہا جا سکتا ہے کیوں کہ سلور سکرین پر منظر بھی اتنی ہی اہمیت کا حامل ہوتا ہے اور یہی اس تخلیق کی بے مثال کامیابی کی وجہ بنی کہ سکرین پر اسے ایک اور نوجوان ذہن (پرویز ملک) نے اپنی ہدایت کاری سے اتنا ہی قابل دید بنا دیا جتنا یہ صوت و آہنگ میں یکتا تھا۔

ہر چند کہ احمد رشدی اور وحید مراد اپنے اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز مختلف انداز سے کر چکے تھے مگر اس بارے میں دو رائے نہیں کہ فلم ارمان جو 1966 میں ریلیز ہوئی، ان دونوں کے ملاپ کا سنگ میل ثابت ہوئی، جس میں ایک طرف مسرور انور کی تحریر اور سہیل رعنا کی موسیقی سے آراستہ اس نغمے ( اکیلے نہ جانا، ہمیں چھوڑ کر تم ) کی شاندار تخلیق ( اور لاجواب فلم بندی ) نے، اور دوسری طرف اس فلم کے اتنے ہی مدھر دوسرے شاہکار نغموں نے ہماری سکرین پر آواز اور انداز کے اس بے مثال اشتراک کا لوہا، فلم بین اور ناقدین سب سے منوا لیا۔

یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اس فلم کی تاریخی کامیابی اور اسے پاکستان کی پہلی پلاٹینیم جوبلی کا اعزاز دلانے میں، اور دوسری خوبیوں کے علاوہ، اس کی مسحورکن موسیقی اور سریلے نغموں کا پورا پورا ہاتھ ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس سے قبل ہیرا اور پتھر، کنیز اور کچھ دوسری فلموں میں بھی احمد رشدی اور وحید مراد کا اشتراک ہو چکا تھا مگر ارمان کے ایک سے بڑھ کر ایک، پانچ دلکش اور سپرہٹ نغموں نے یہ مہر ثبت کر دی کہ ان دو فنکاروں کا یکجا ہونا، بلاشبہ، سونے پہ سہاگہ کے مترادف ہے۔

اس احساس کو 1967 میں ریلیز ہونے والی مزید کچھ فلموں نے اور بڑھاوا دیا کہ ان دونوں کا ملاپ سکرین کو حسین تر بنا دیتا ہے۔ اس احساس کو بڑھانے میں فلم انسانیت، ماں باپ، اور بالخصوص دیور بھابھی اور دوراہا نمایاں طور پر قابل ذکر ہیں۔ دوراہا، باوجود اس کے کہ ارمان کی طرح کامیابی حاصل نہ کر سکی مگر احمد رشدی اور وحید مراد کا ملاپ اس فلم میں بھی ارمان ہی کی طرح دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس فلم میں رشدی کے گائے چار ناقابل فراموش گانے اور اس پر وحید مراد کی بے ساختہ اداکاری نے واقعتاً سکرین پر چار چاند لگا دیے۔ یہی صورت فلم دیور بھابھی کی ہے ، جس میں فیاض ہاشمی کی شاعری پر دونوں فنکاروں نے جس مہارت کا مظاہرہ کیا، اس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔

پھر ان دو فنکاروں کا جب جب ملاپ ہوا، دیکھنے والوں کو لازم و ملزوم کی ترکیب صحیح طور پر سمجھ آنے لگی۔ اک نگینہ سے عندلیب تک، خلش سے انجمن تک، بے وفا سے پھول میرے گلشن کا تک اور محبت زندگی ہے سے جب جب پھول کھلے تک احمد رشدی اور وحید مراد، ہر فلم میں اپنی مثال آپ کا نمونہ دکھائی دیتے ہیں۔

احمد رشدی اور وحید مراد میں ایک قدر مشترک یہ بھی تھی کہ جس طرح احمد رشدی تمام ہیروز کے لئے ایک کامیاب پلے بیک سنگر بننے کی اہلیت رکھتے تھے، اس طرح وحید مراد کو یہ اعزاز حاصل رہا کہ وہ خود کو ہر گلوکار کی آواز میں بخوبی ڈھال لیا کرتے تھے۔ اس فہرست میں مہدی حسن، مسعود رانا اور مجیب عالم سے لے کر رجب علی، اخلاق احمد۔ اے نیر۔ محبوب چوہان، اسد امانت علی، سبھی شامل ہیں۔

ادھر احمد رشدی نے محمد علی، ندیم، کمال، علاء الدین ، اعجاز، حبیب، شاہد، غلام محی الدین کے لئے متعدد مقبول نغمے گائے جنہیں بے حد پذیرائی ملی۔ ان میں محمد علی کی فلم جیسے جانتے نہیں، محبت اور آگ قابل ذکر ہیں جبکہ ندیم کی فلم سنگدل، چھوٹے صاحب اور فسانۂ دل میں اس ملاپ نے خوب رنگ جمایا۔ اداکار کمال کی متعدد فلمیں بشمول آشیانہ، جوکر اور نئی لیلی نیا مجنوں احمد رشدی کی گائیکی کا یادگار نمونہ کہی جا سکتی ہیں۔

تاہم اس بارے میں بھی کسی کو اختلاف نہیں کہ جب احمد رشدی اور وحید مراد یکجا ہو جاتے تو یوں لگتا جیسے آواز و انداز یک جان ہو۔

ایور گرین ہیرو ندیم، خود اس با ت کا کئی موقعوں پر اقرار کر چکے ہیں۔ کچھ برس پہلے ”اے ٹریبیوٹ ٹو احمد رشدی“ سے مخاطب ہو کر بھی انھوں نے اپنے خیالات کا اظہار یوں کیا کہ ”ہماری فلم انڈسٹری میں جو سب سے اچھے گانے گوائے اور پکچرائز کروائے، وہ ٹیم تھی، سہیل رعنا، مسرور انور، وحید مراد، پرویز ملک اور احمد رشدی۔ اس ٹیم نے ایسے ایسے گانے دیے ہیں جو ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ وحید نے جس طریقے سے ان کے گانے پکچرائز کرائے ہیں، شاید ہی اس طرح سے کسی اور نے گانا پکچرائز کرایا ہو۔ ہی واز اے گریٹ پرفارمر“

اسے اتفاق کہیے کہ احمد رشدی اور وحید مراد دونوں کی آخری پرفارمنس ایک ہی فلم ( ہیرو ) میں پیش کی گئی اور یوں یہ اس ملاپ کا آخری نقش ثابت ہوا۔

یقیناً ہماری فلمی تاریخ میں 1983 کا سال ہمیشہ دکھ اور صدمے سے یاد کیا جائے گا کہ اس سال کے پہلے حصے میں ( گیارہ اپریل کو) احمد رشدی ہم سے جدا ہوئے اور سال کے دوسرے حصے میں ( چھبیس نومبر کو) وحید مراد نے اس دنیا سے منہ موڑ لیا۔

اس طرح ارمان فلم کے اس مقبول ترین نغمے کے یہ خیالی الفاظ، ان فنکاروں کے گہرے اور دیرینہ تعلق کے حوالے سے حقیقی معنوں میں سچ ہوتے دکھائی دیے :

اکیلے نہ جانا، ہمیں چھوڑ کر تم
تمہارے بنا ہم، بھلا کیا جئیں گے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *