مردوں کو جنسی تشدد پر اکسانے والی عورتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے وزیراعظم صاحب نے بالآخر جنسی جرائم کے بنیادی عوامل کا سراغ لگا لیا ہے۔ انہوں نے یہ تہلکہ خیز انکشاف قومی ٹیلیویژن پر ایک خاتون صحافی کے سوال کے جواب میں کیا۔ انہوں نے اس راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ان تمام جرائم کی بنیاد عورتوں کی فحاشی ہے۔ وزیراعظم صاحب کی جوانی کا زیادہ حصہ چونکہ یورپ میں گزرا ہے ، اس لئے وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یورپ اور امریکہ میں جتنے بھی جنسی جرائم ہوتے ہیں وہ سب عورتوں کی فحاشی کی وجہ سے ہی ہوتے ہیں۔ ورنہ یورپ اور امریکہ کے مرد تو بے چارے اپنے جنسی اعضاء ہی گھر میں چھپا کر رکھتے ہیں، مبادہ ان پر فحاشی میں ملوث کسی عورت کی نظر پڑ جائے اور ان کے اعضاء ہی ناکارہ ہو جائیں۔

اب یہ بات تو صاف ہے کہ جب عورتوں کے ننگے پن اور فحاشی کی تاب یورپ کے کافر مرد نہیں لا سکتے تو ہمارے مومن حضرات تو ویسے ہی برداشت کے معاملے میں بہت کمزور ہوتے ہیں۔ وہ بے چارے مجبور ہو کر عورتوں کی عزت لوٹ بیٹھتے ہیں۔ مطلب قصور تو سارے کا سارا ان عورتوں کا ہے جو ایسے مومن مردوں کو عزت لوٹنے پر اکساتی ہیں۔

بے شک اس عمل میں کچھ حصہ شیطان کا بھی ہوتا ہے لیکن آپ سب تو جانتے ہیں کہ عورت اور شیطان کی دوستی تو جنت کے زمانے سے شروع اور مضبوط ہے۔ ہو سکتا ہے کہ بعض کم عقل حضرات یہ اعتراض اٹھائیں کہ پاکستان میں جنسی تشدد کا شکار بننے والی زیادہ تر عورتوں نے تو معقول سے بھی زیادہ کپڑے پہن رکھے تھے تو وہاں عریانی اور فحاشی کا سوال کہاں سے آ گیا؟ تو ان کے لئے عرض ہے کہ یہ سب عورتیں اتنی چالاک اور ہشیار ہوتی ہیں کہ سات پردوں میں رہ کر بھی عریانی اور فحاشی کا مظاہرہ کر گزرتی ہیں۔ رہا سوال ان چھوٹی چھوٹی بچیوں اور بچوں کا جو جنسی تشدد کا شکار ہوئے تو ان کی بات آگے چل کر کریں گے۔ پہلے ذرا واپس وزیراعظم صاحب کی جوانی اور یورپ کے بارے میں۔

وزیراعظم صاحب جو اپنی جوانی کے زمانے میں زیادہ وقت یورپ میں گزارتے تھے تو انہیں گرمیوں کے موسم میں گھر والا غسل خانہ دستیاب نہیں ہوتا تھا۔ اس لئے وہ مجبوراً دریاؤں اور سمندروں کے ساحل پر نہانے جایا کرتے تھے۔ کچھ نوجوان لڑکیاں پورے پانچ فیصد لباس پہن کر ان کے ساتھ نہایا کرتی تھیں۔ تو انہی زمانوں میں موصوف نے دیکھا تھا کہ کیسے تقریباً تقریباً ننگی عورتوں کو دیکھ کر مرد ان پر ٹوٹ پڑتے، ان کی عزتیں لوٹ لیتے اور اکثر کو تو بعد میں قتل بھی کر دیا کرتے تھے۔

مگر یہ یورپ اور امریکہ کا کافر میڈیا ایسا ہے کہ ایسی کوئی خبر اخبار یا ٹیلیویژن پر آنے ہی نہیں دیتا۔ یورپ اور امریکہ میں آج کل بھی ایسا ہی ہو رہا ہے اور آج کل بھی وہاں کا کافر میڈیا ایسے جنسی جرائم کی کوئی خبر خاص طور پر اسلامی ممالک تک پہنچنے نہیں دیتا۔ مگر وزیراعظم صاحب کو سب خبر ہے کیونکہ ان ناہنجار، بے شرم عورتوں کے درمیان وزیراعظم صاحب کے جاسوس بھی موجود ہیں۔

آئیے اب ذرا ان چھوٹے چھوٹے بچوں کی طرف جو لگاتار نہ صرف یہ کہ جنسی تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں بلکہ بعد میں قتل بھی کر دیے جاتے ہیں۔ تو جیسا کہ وزیراعظم صاحب نے انکشاف کیا ہے کہ بے چارے کمزور اعصاب کے مومن حضرات کو ایسے جرائم پر اکسایا جاتا ہے تو یہ بات سو فیصد سے بھی زیادہ درست ہے۔ آپ ایسے تمام بچوں کی لاشیں ذرا غور سے دیکھیں۔ وہ سب نہایت معصوم ہوتے ہیں اور ان کی یہی معصومیت حملہ آور کو حملہ کرنے پر اکساتی ہے۔

کچھ لوگوں کا یہ جو الزام ہے کہ چھوٹے بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے اور بعد میں قتل کر دینے والے اکثر مومنین کا تعلق مدرسوں سے ہوتا ہے تو یہ بھی سارا سچ نہیں ہے۔ مدرسوں کا تعلق ایسے جرائم میں صرف اتنا ہی ثابت ہو سکا ہے کہ ان بے چارے مجرموں پر بھی ان کے بچپن کے زمانے میں اس نوعیت کا پیار نچھاور کیا گیا تھا۔ تو وہ کمزور مومن حضرات ان بچوں سے بدلہ لے کر صرف اپنا حساب ہی درست کرتے ہیں۔

وزیراعظم صاحب کو ممکن ہے ایسا کوئی تجربہ نہ ہوا ہو کیونکہ وہ مدرسوں کی تعلیم سے فیض یاب ہی نہیں ہو سکے ورنہ بچپن میں تو وہ بھی بہت معصوم اور خوبصورت تھے۔ خوبصورت تو وہ ماشاء اللہ اب بھی بہت ہیں اور ہزاروں لڑکیاں آج بھی ان پر مرتی ہیں مگر ان میں سے کسی لڑکی یا عورت پر فحاشی کا الزام نہیں لگایا جا سکتا۔

لیکن 1947ء میں تقسیم کے وقت خاص طور پر متحدہ پنجاب کی عورتوں نے جو فحاشی پھیلائی تھی، اسے کیسے فراموش کیا جا سکتا ہے؟ کون بھول سکتا ہے کہ دونوں اطراف کی عورتوں نے آزادی ملنے کی خوشی میں ایسی ایسی فحش حرکات کیں کہ مخالف مذاہب کے مرد خود پر قابو نہ رکھ سکے اور انہوں نے مجبور ہو کر مخالف مذاہب کی عورتوں کے ریپ کیے ، انہیں خنجروں، کرپانوں اور تلواروں میں پرویا اور ان کے دودھ پیتے بچوں کو سنگینوں پر اچھالا مگر انہیں اس قدر طیش دلایا گیا تھا کہ ان کا غصہ ٹھنڈا ہونے میں ہی نہیں آ رہا تھا۔

لیجئیے، پورے کالم میں ہم نے ان فحاشی پھیلانے والی عورتوں کا ماتم کر لیا۔ اب آخر میں مجھے وزیراعظم صاحب کی عقل پر تھوڑا سا رو بھی لینے دیجیے کہ آخر میں بھی انسان ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
رشی خان، جرمنی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *