‘رحمان صاحب، اگلی ملاقات تک خدا حافظ‘

امام ثقلین - بی بی سی اردو سروس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

‘نہاری مل جائے تو کیا کہنے!’

یہ لاہور کے کوئی کھابے کھانے والے شخص کی بات نہیں ہے، بلکہ یہ بظاہر ایک سنجیدہ، اور کافی حد تک ایک بور موضوع والی شخصیت، آئی اے رحمان کا ذکر ہے۔

اکثر لوگ انھیں انسانی حقوق کے علمبردار اور خطے میں امن کا داعی کی حیثیت سے جانتے ہیں۔ یہ بہت ہی سنجیدہ موضوعات ہیں۔

پاکستان اس وقت انسانی حقوق کی زیادہ خلاف ورزیاں کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ گذشتہ برس جنسی فرق روا رکھنے والے 155 ممالک کی فہرست میں پاکستان 153ویں نمبر پھر کھڑا تھا۔

اور جنوبی ایشیا میں اگرچہ حالیہ ماحول میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان امن کی پو پھوٹنے کے امکانات ہیں لیکن تصادم کے بادل بھی چھائے منڈلا رہے ہیں۔

مزاحمت اور رقص و سرود

انڈیا کی انسانی حقوق کی ایک معروف شخصیت ٹیسٹا سِتلواد، جنھوں نے گجرات میں مسلم کُش فسادات کی وجہ سے مودی سرکار کی مخالفت مول لی، آئی اے رحمان کی حسِ مزاح کا ایک واقعہ یاد کرتی ہیں جس نے محفل کو زعفران بنا دیا تھا۔

غالباً یہ دسمبر 1996 کا واقعہ ہے جب انڈیا اور پاکستان کے عام شہریوں کی رابطے کی غیر سرکاری تنظیم، پاکستان انڈیا پیپلز فورم فار پیس اینڈ ڈیموکریسی کے تیسرے کنونشن کا اجلاس ہو رہا تھا۔

ایک انڈین صحافی نے رحمان صاحب کے خطاب کے دوران سوال کیا کہ وزیرِ اعظم آئی کے گجرال کی ‘حکومت نے 100 پاکستانیوں کو انڈیا کے کئی شہروں میں نان رپورٹنگ ویزا جاری کیا ہے۔ اس کے عوض پاکستان کی طرف سے کیا ملے گا؟’

رحمان صاحب نے کچھ دیر خاموش رہے، ہال میں چاروں جانب نظر دوڑائی۔ انھیں شرارت سوجھی اور ان کی آنکھوں میں ایک چمک آئی اور اُس صحافی کو جواب دیتے ہوئے کہا ‘کیا آپ انڈینز کو اندازہ ہے کہ فوجی آمریت میں آزاد جمہوریت سے جُڑے رہنے کا مطلب کیا ہے؟’

رحمان صاحب نے اپنے ہی سوال کے جواب میں بظاہر سنجیدگی سے کہا ‘اس کا مطلب جیل جانا اور زندگی کو خطرے میں ڈال کر مزاحمتی رقص و سرود اور فن کی محفلوں کو آباد کرنا ہے۔’

یہ جواب دے کر چند لمحے خاموش رہے، پھر وہ مسکرا دیے۔ سامعین نے اس ذومعنی فقرے کا کچھ توقف کے بعد لطف اٹھایا اور پورا ہال مسکراتے ہوئے تالیوں سے گونج اٹھا۔

وہ دبے ہونٹوں کی مسکراہٹ میں سخت بات کہہ دیتے۔ ان کے کسی بھی دوست کو کوئی ایسی واقعہ یاد نہیں ہے جب وہ غصے میں ہوں یا کسی کو چڑچڑے نظر آئے ہوں۔

ٹیسٹا کہتی ہیں کہ رحمان صاحب ایک ناقابلِ شکست جرات، فکر کی گہرائی اور اِس سے بڑھ کر ایک متحرک حسِ مزاح کے مالک تھے۔

آئی اے رحمان

Getty Images

انڈیا پاکستان میں عوامی رابطہ

رحمان صاحب سنہ 1984 میں پاکستان انڈیا پیپلز فورم فار پیس اینڈ ڈیموکریسی کے قیام کے وقت اس کے بانی شریک چیئرمین منتخب ہوئے تھے۔ اس فورم کا ایک چیئرمین پاکستان سے ہوتا تھا اور ایک انڈیا سے۔

یہ فورم انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنرل ضیا کی حکومت کے بعد ‘ٹریک ٹو ڈپلومیسی’ (غیر سرکاری سفارت کاری) کا پہلا قابلِ اعتبار پلیٹ فارم تھا جس نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری کی نئی داغ بیل ڈالی تھی۔

اس سے قبل سنہ 1990 میں وہ انسانی حقوق کی رہنما مرحومہ عاصمہ جہانگیر کے ساتھ ہیومن رائیٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کے بانی ڈائریکٹر بنے جس سے وہ آخر وقت تک وابستہ رہے۔

رحمان صاحب کو سنہ 2004 میں میگسے سے ایوارڈ فار پیس سے نوازا گیا تھا۔ گزشتہ تیس برس سے ان سے وابستہ رہنے والے صحافی عدنان عادل کہتے ہیں کہ اس ایوارڈ کے ساتھ ملنے والی رقم کی بدولت وہ اپنا ذاتی مکان تعمیر کرسکے۔

اس سے قبل وہ لاہور کے ٹیمپل روڈ پر کرائے کے ایک فلیٹ میں رہتے تھے۔

انسانی حقوق کا دفاع

پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیم، ایچ آر سی پی کی مطابق، رحمان صاحب حال ہی میں ایذارسانی و دہشتگردی پر اذیت رسانی کے خلاف عالمی ادارے (او ایم سی ٹی) کے قائم شدہ ورکنگ گروپ کے رکن تھے۔

پاکستان میں اقلیتیوں کے حقوق کے تحفظ کے عوامی کمیشن کے سرپرست اعلیٰ کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔

وہ ان چند لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے 1971 میں بنگلہ دیش (تب مشرقی پاکستان) میں فوجی کارروائی کی مخالفت کی تھی۔ اُس وقت مشرقی پاکستان میں فوجی ایکشن کی حمایت کرنا حب الوطنی قرار دیا جاتا تھا۔

جب جنرل ضیا الحق کی فوجی حکومت کے دوران شہری آزادیوں صلب ہوئیں تو احتجاج کی وجہ سے ملازمت سے برخاست ہوئے اور قید کردیا گیا۔

صحافتی کیریئر

ان کا انتقال نوے برس کی عمر میں ہوا۔ اور اس میں ستر برس کے صحافتی زندگی بے داغ کیریئر کے دوران انھوں نے فلم، ادب، سپورٹس، سیاست اور انسانی حقوق جیسے موضوعات پر کئی مقالے لکھے۔ انھوں نے فلمی نقاد کی حیثیت سے صحافت کا آغاز کیا تھا۔

جبری گمشدگیوں کی مخالفت، سزائے موت اور جبری مشقّت، یا عورتوں، بچوں، اور مذہبی و لسانی اقلیتوں کے حقوق کے لیے نہ صرف قلم اٹھایا بلکہ عملاً سرگرم بھی رہے۔

آئی اے رحمان نے سنہ ساٹھ کی دہائی سے پاکستان میں اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ اُن کے ابتدائی دور کے دوستوں میں ظفر اقبل مرزا (زِم) تھے جو بعد میں ‘لاہوری’ کے نام سے کالم لکھتے رہے اور پھر انگریزی روزنامہ ڈان کے لاہور کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر بنے۔

لندن میں مقیم بائیں بازو کے دانشور پروفیسر امین مغل کہتے ہیں کہ پاکستان ٹائمز اور ٹرسٹ کے اس وقت کے اردو اخبار امروز سے وابستہ طاہر مرزا، شفقت تنویر مرزا، کراچی کے سلیم عاصمی، عبداللہ ملک اور حمید اختر ان کے دوستوں میں شامل تھے۔

مغل صاحب کہتے ہیں کہ رحمان کو یحیٰ خان کے زمانے میں صحافیوں ایک ہڑتال میں شریک ہونے کی وجہ سے پاکستان ٹائمز سے نکال دیا گیا تھا۔ رحمان صاحب کئی ماہ تک بے روزگار رہے۔

بعد میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے زمانے میں فلم انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان کے ایک جریدے کا آغاز ہوا تھا جس کا رحمان صاحب کو ایڈیٹر بنا دیا گیا لیکن وہ پھر پاکستان ٹائمز چلے گئے۔

لیکن جب اسی دور میں بائیں بازوں کے انگریزی ہفت روزہ ویو پوائنٹ کا آغاز ہوا تو رحمان صاحب اس سے وابستہ ہو گئے۔ جب سنہ 1988 میں بے نظیر بھٹو کی حکومت بنی تو انھوں نے رحمان صاحب کو پاکستان ٹائمز کا ایڈیٹر ان چیف اور حسین نقی کو ایڈیٹر بنا دیا تھا۔

آئی اے رحمان

Getty Images

سندھ میں ایم آرڈی کی تحریک

آئی اے رحمان تحریک بحالیِ جمہوریت کے دوران ویو پوائینٹ میں کام کرتے تھے۔ امین مغل کے مطابق سنہ 1983 میں جب خیر پورناتھن شاہ میں فوجی فائرنگ سے درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے تو اُس وقت پنجاب کے دانشوروں اور صحافیوں نے ایک احتجاجی خط لکھنے کا پروگرام بنایا۔

امین مغل کے مطابق الطاف احمد قریشی (جو اب پیپلز پارٹی کے رہنما ہیں) مرحوم صفدر میر (زینو کے نام سے کالم لکھتے تھے)، رحمان صاحب اور مرحوم شفقت تنویر مرزا نے اس مشترکہ خط کے لکھنے کی ذمہ داری ان (امین مغل) کو دی۔

‘میں نے ایک قدرے نرم مسودہ تیار کیا تاکہ اس پر زیادہ سے ہم خیال دانشور دستخط کریں۔ لیکن جب شام کو مسودے پر غور کیا گیا تو دوسرے لوگوں کی رائے تھی کہ یہ مسودہ بہت نرم ہے۔ اس لیے اُس مسودے میں تبدیلی کا کام آئی اے رحمان کو دیا گیا۔’

‘رحمان نے مسودے کو تبدیل کرتے ہوئے سخت زبان استعمال کی۔’ پروفیسر امین کے مطابق رحمان نے لکھا کہ ‘سندھ کے عوام حریت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔’ اس مسودے پر کئی دستخط ہو گئے، کسی نے اعتراض نہیں کیا۔

امین مغل کے بقول جب یہ مسودہ دستخط کے لیے روزنامہ مشرق کے اُس وقت کے ایڈیٹر ضیا الاسلام انصاری کے پاس گیا تو اُس نے اعتراض کیا کہ یہاں ‘حریت’ کا لفظ ہے جس کی وجہ سے وہ دستخط نہیں کریں۔ اِس وجہ سے یہ خط کئی لوگوں کی برطرفی کا باعث بنا تھا۔

چلتے پھرتے انسائیکلوپیڈیا

عدنان عادل جنھوں نے رحمان کے ساتھ مختلف حیثیتوں میں کام کیا، ویو پوائینٹ سے لے کر ایچ آر سی پی میں، کہتے ہیں کہ وہ بہت قاموسی (انسائیکلوپیڈک) شخصیت کا حامل تھے۔ ‘وہ کسی بھی موضوع پر بہترین مقالہ لکھ سکتے تھے۔’

‘ویو پوائینٹ میں وہ صبح صبح آتے اور جو بھی انھیں موضوع دیا جاتا اس پر ایک آدھ گھنٹے میں ہزار الفاظ کا انگریزی میں ایک آرٹیکل لکھ دیتے تھے۔ وہ خالد احمد (صحافی) کی طرح بہت ہی سہولت اور تیزی سے آرٹیکل لکھتے تھے۔’

جب سینیئر صحافی عزیز صدیقی کا انتقال ہوا تو اُن کی روایتی تجہیز و تکفین ہوئی۔ مولوی صاحب نے نماز جنازہ پڑھائی، قبر میں قبلہ منہ لٹایا گیا۔ یہ سب باتیں مولوی صاحب کے لیے عجوبہ سے کم نہیں تھیں۔

مولوی صاحب نے الگ لے جا کر رحمان صاحب کو کہا کہ وہ تو یہ سمجھ رہا تھا کہ یہ کسی دہریے کا جنازہ ہے۔ ‘پر آپ تو ہم جیسے ہی ہیں۔’ اس پر رحمان صاحب نے مزاح کے انداز میں کہا ‘میں تو آپ سے بھی ایک قدم آگے ہوں۔’

رحمان صاحب روایتاً احراری نظریات کے حامی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد کٹر مذہبی تھے۔ لیکن بہت روادار اور مل جل کر رہنے والی ثقافت کے امین تھے۔

آئی اے رحمان

Getty Images

حکومت اور اپوزیشن ایک پیج پر

ایچ آر سی پی کے سیکرٹری جنرل حارث خلیق نے کہا کہ آئی اے رحمان جیسے قومی دانشور کا متبادل ڈھونڈنا ناممکن ہے۔ ‘وہ بے آوازوں کی آواز بنے اور ستم زدوں کے لیے امید کی کرن ثابت ہوئے۔’

حارث خلیق کہتے ہیں کہ اگرچہ حکومت رحمان صاحب کے نظریات پر عمل نہیں کرتی ہے، تاہم انھیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی ہے کہ انھیں خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی ایک پیج پر ہیں۔

رحمان صاحب کے مزاح پر بات کرتے ہوئے حارث خلیق نے کہا کہ ‘ایک دو ماہ پہلے کی بات ہے کہ انھوں نے مجھے یاد دلانا تھا کہ میں کافی عرصے سے ایچ آر سی پی کے دفتر نہیں آیا ہوں۔ اصل وجہ تو کووڈ تھا اور میں اسلام آباد میں رہتا ہوں جب کہ ایچ آر سی پی کا دفتر لاہور میں ہے۔’

‘تاہم رحمان صاحب نے فون کرکے کہا کہ بھئی آپ نے تو لاہور کو پِنڈ (گاؤں) سمجھ لیا ہے۔ میں نے کہا وہ کیسے؟ تو بولے جب پنڈ کا لڑکا پڑھ لکھ کر شہر چلا جاتا ہے تو صرف عید بقرا عید پر ہی گھر آتا ہے۔’

حارث خلیق کہتے ہیں کہ رحمان صاحب بذلہ سنج شخص تھے۔ جہاں وہ علم و فضل اور عمل کے لحاظ سے بڑی شخصیت تھے وہیں وہ اپنی گفتگو میں شائستگی کا اعلیٰ میعار بھی برقرار رکھتے تھے۔

‘جب کبھی لوگ ان کی ذات کا مذاق اڑاتے وہ پھر بھی مشتعل نہیں ہوتے تھے۔ انھوں نے فکری یا سیاسی اختلافات کو کبھی بھی ذاتی عنا میں تبدیل نہیں کیا۔ وہ مخالف اور دوست سب کا احترام کرتے۔’

وضع داری

رحمان صاحب کو نہاری کھانے کا بہت شوق تھا۔ عدنان عادل ان کے لیے کبھی کبھار لوہاری میں اپنے گھر کے قریب ریسٹوران سے نہاری خرید کر لے جایا کرتے تھے۔ ایک دن جب وہ نہاری لے کر گئے تو رحمان صاحب ناشتہ کر چکے تھے۔

رحمان صاحب نے پہلے تو کہا کہ ‘آپ بچوں کے ساتھ کھا لیں، میں تو سیر ہو چکا ہوں۔’ لیکن تھوڑی دیر بعد آئے اور نہاری کھانے کے لیے شامل ہوگئے۔ ‘ممکن ہے وہ وضع داری میں نہاری کھانے میں شامل ہوگئے ہوں۔’

رحمان صاحب کے کئی دوست ایک بات پر متفق ہیں وہ یہ کہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ وہ اپنے سماجی میل جول کے لیے بھی وقت نکالتے تھے۔ شادی بیاہ، موت و بیماری وہ ہر موقع پر اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے ملنے جاتے تھے۔

‘نان مسلم اور الحمد للہ’

انسانی حقوق کی تنظیم ایچ آر سی پی کی سابق چیئرپرسن، کراچی سے تعلق رکھنے والی زُہرہ یوسف کہتی ہیں کہ رحمان صاحب عموماً گیسٹ سپیکر کے طور پر کراچی آتے تھے اور ان کے پاس وقت ہمیشہ وقت کم ہوتا تھا۔

‘لیکن ہم حیران ہوتے تھے کہ اتنا کم وقت گزار کر جب وہ کراچی سے واپس لاہور چلے جاتے تو کئی لوگ بتاتے کہ رحمان صاحب سے ملاقات ہوئی تھی، یا وہ ہمارے گھر تشریف لائے تھے۔’

اُن کی حسِ مزاح کے بارے زُہرہ یوسف کہتی ہیں کہ ایک بار رمضان کے دنوں میں رحمان صاحب میرے ساتھ کسی سے ملنے جا رہے تھے۔ جب منزلِ مقصود پر پہنچے تو شام کا وقت ہو چکا تھا۔

‘میں نے اپنے ڈرائیور سے کہا اب تم جا کر کھانا کھا لو۔ رحمان صاحب نے ساتھ ہی کہا کہ جاؤ بیٹا افطاری کر لو۔ میں نے کہا کہ یہ نان مسلم ہے۔ تو مسکرائے اور دھیمے سے کہا “الحمدُ اللہ!”‘

خراجِ تحسین

ایچ آر سی پی کی چیئرپرسن حنا جیلانی نے آئی اے رحمان کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے جو میراث چھوڑی ہے وہ انسانی حقوق کا دفاع کرنے والوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

‘(اس میراث سے) انسانی حقوق، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے احترام کی قدر پیدا ہوئی ہے بلکہ جن عناصر کو انہوں نے تنقید کا ہدف بنایا ان پر بھی یہ باور ہوا کہ ان کا کردار سماج کے انتہائی پسے ہوئے طبقوں کے لیے کس حد تک نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔’

امریکہ میں مقیم سینیئر صحافی اور دی نیوز آن سنڈے کی بانی ایڈیٹر بینا سرور کہتی ہیں کہ ‘عاصمہ جہانگیر کے بعد یہ انسانی حقوق کا دفاع کرنے والوں کے لیے دوسرا بڑا صدمہ ہے۔’

‘لیکن دونوں ہی اتنے خوش مزاج شخصیات تھے کہ ان کو یاد کرتے ہی ان کے چہروں پر مسکراہٹ اور آنکھوں کی چمک یاد آجاتی ہے۔’

اسلام آباد کے ممتاز صحافی اور تجزیہ نگار ضاالدین احمد کہتے ہیں کہ انھیں رحمان صاحب کے ساتھ اکھٹا کام کرنے کو موقع نہیں ملا، لیکن وہ ان کو انسانی حقوق اور خطے میں امن کی کوششوں میں اپنا رہنما تسلیم کرتے ہیں۔

دی فرائیڈے ٹائمز کی ایڈیٹر آئمہ کھوسہ کہتی ہیں کہ انھیں رحمان صاحب کے ساتھ مختلف اجلاسوں میں ملنے کا موقعہ ملا ہے۔ ‘آج کے دور میں انسانی حقوق کے دفاع کی وہ بہت بڑی شخصیت تھے۔’

‘اگلی ملاقات تک خدا حافظ’

ٹیسٹا سِتلواد کہتی ہیں کہ وہ اور ان کے والدین اتُل اور سیتا دونوں رحمان صاحب کے ساتھ خطے میں امن کے حامی تھے۔ ‘آج اُن کی شرارت بھری مسکراہٹ اور چمکتی آنکھوں کو یاد کر آنکھوں میں آنسو اُمڈ آئے ہیں۔’

رحمان صاحب اور ٹیسٹا دونوں کو نورمبرگ کا انسانی حقوق کا ایوارڈ سنہ 2003 میں مشترکہ طور پر دیا گیا تھا۔

ٹیسٹا کہتی ہیں ‘رحمان صاحب، اگلی ملاقات تک خدا حافظ۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18960 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp